اداریہ
Blog Single

اداریہ:

ہارس سےہارس پاورتک کاسفر

نیزہ بازی ایک تاریخی کھیل ہے جِس میں گھوڑے کو سدھایاجاتاہے- جب گھوڑے کو سدھانے کا عمل شروع کیاگیا تو ان کے استعمال کاآغازنقل وحرکت سےہوا- آج جدیدتحقیق سےانسان کاگھوڑوں کوسدھانےکا عمل کتنا پرانا ہے؟ جاننےکےلئےقدیم گھوڑوں کےملنے والےمنہ اوردانتوں کے حصوں پرتحقیق کی جارہی ہےکہ گھوڑا جوتےجانےکےدوران جومنہ اوردانتوں  میں نشان پڑھتےہیں وہ گھوڑوں میں کتنےپرانےموجودہیں- سدھانےکےعمل کےدوران گھوڑےکی خدادادصلاحیتیوں،وفا،دلیری اورپُرخطرحالات میں ساتھ نبھانےکی صلاحیت کی بدولت انسان اورگھوڑےکی قربت بڑھنےلگی- اسی لیےقرآن مجیدنےگھوڑےکی وفاداری اورجان نثاری کوبیان کرنےکےبعدانسان کواس کےمقابل ناشکراقراردیاہے-

تسخیرکرنےکی صلاحیت، قوت کا اظہاراورغلبےکی جبلت نےاِنسان کو  جنگ و جدل کی جانب دھکیلا،  جبکہ لوہے کی دریافت اور اس کو ہتھیارمیں ڈھال لینےکےباعث  انسان دوسری انسانی بستیوں کو اپنا غلام اورمطیع بنانےکےعمل میں مشغول ہو گیا- اسی زمانے سے جب انسان نےلوہےکوتلوار، تیر، پھالے، خنجراورنیزےکی صورت میں ڈھالنا شروع کیا  تو فوج کے ہر اول دستے انہی ہتھیاروں سے لیس ہوکردشمن پراپنی دھاک بٹھاتےاوردُشمن کی صفوں کوچیرتےہوئےآگےنکل جاتےاورگھوڑوں کی پھرتی، سواروں کی صلاحیت  اور نیزوں کی انی جتنی تیز ہوتی اسی رفتار سےیہ سواردستےدشمن کی صفوں کوچیرتے،  روندتے، تہہ تیغ  وسناں کرتے،میمنہ و میسرہ کوتہہ وبالاکرتےعقب کی جانب پسپا ہونےپرمجبورکرتےاورکسی فوج کےمیدان چھوڑجانےکےبعدیہی دستے شکست خوردہ فوج کا تعاقب کرتےتاکہ دوبارہ پلٹ نہ پائیں- جنگ وجدل کےاس ماحول میں اپنی مہارت اوردھاک بٹھانے کےلئےامن کےدنوں میں بھی گھڑ سواری اورنیزہ بازی منعقد کی جاتی جس میں رتھ دوڑبھی شامل ہے-

اسی طرح تاریخ کی اوراق گردانی بتاتی ہےکہ عرب معاشرےمیں میلوں اورعوامی محفلوں میں گھڑسواراپنےفن کا مظاہرہ کرتے جس میں عکاظ کا میلہ بڑی اہمیت رکھتاتھا- گھڑسواری شروع سےہی راجے، مہاراجے، بادشاہ اور شہنشاہوں کی مرکزنگاہ رہی ہے- بعد ازاسلام گھڑسواری اور گھوڑے پالنےکواسلام کی شان وشوکت سے تعبیر کیا گیایوں اسلام میں پوری تابانی کےساتھ دورامن میں مسلمان اپنی حفاظت اوراغیارپراپنی دھاک بٹھانےکےلئےبحکم قرآن گھوڑوں کی تیاری، مستعدی اور جمعیت کے ساتھ اپنی طاقت کا اظہار کرتے- یہ وہ زمانہ تھاجب اسلامی سلطنت دنیا کےطول و عرض میں پھیل رہی تھی مسلمان فوج کے گھڑ سواردریاؤں اورسمندروں کی گہرائی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئےدشت کےدشت اپنےگھوڑوں کےسموں تلےروندچکےتھے- پہاڑوں کےسلسلے، مثل رائی ان کے سامنے بے حیثیت ہوچکےتھے، زمین  جیسے ان سواروں کے سامنے سکڑ سی گئی تھی- اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پیچھے اُن کا جذبہ ایمانی کارفرماتھا لیکن ان سواروں کی مہارت سے انکار بھی ممکن نہیں-

جنگ کےطورطریقےبدلے،نیزہ بردارسواروں کی جگہ سنگینوں(بندوق جس کے آگے خنجر لگا ہوتا ،کہ بارود یا گولی کے خاتمے کے بعد دوبدولڑائی و جنگ میں مثل نیزہ کام آتی)نےلےلی- یوں گھڑ سواراپنےنیزوں کےساتھ کھیل کے میدان میں ہی رہ گئے اور اس کھیل نے ثقافت کےساتھ ایسا تال میل بنا لیا- اس کھیل نےبتدریج یوں ترقی کی کہ آج تقریباہربراعظم میں نیزہ بازی کاکھیل کسی نا کسی صورت میں تھوڑےبہت فرق کےساتھ منعقدہوتاہےجن میں سواربغیرکسی صنفی امتیازشمولیت اختیارکرتےہیں-

اسی طرح آج دنیامیں جہاں بھی لیفٹ ہینڈ ٹریفک ہے وہ انگلینڈ میں ہونے والے قدیم گھڑ سواری اور جنگی کھیل سے متاثر ہے کیونکہ اس میں سواربائیں بازوسے گھوڑا قابو کرتا تھا اور دائیں ہاتھ میں ہتھیا ر پکڑ کر روڈ کے بائیں جانب دوڑتا تھامزید جبکہ دائیں طرف سے گھوڑے پرسوارہونا مشکل ہےآج بھی سائیکل اورموٹر بائیک پربھی  بیٹھنےکےلئےبائیں طرف کوآسان تصورکیاجاتاہے-

گھڑسواری کی مندرجہ بالاخصوصیات کےعلاوہ گھڑسواری جسمانی اورنفسیاتی  لحاظ سےسوارپرکئی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے-بے شک گھڑ سواری نوجوانوں میں احساس کمتری ختم کرتی ہے اورخود اعتمادی کو بڑھاتی ہے-آگے بڑھنے کا حوصلہ اورجرت پیدا کرتی ہےجس سےخوف اورڈرجیسی خامیوں  کاخاتمہ ہوتاہے- اسی سلسلےمیں ماضی میں ہمیں گھڑ سواری کےکھیل کےساتھ بہت سی تربیت کااہتمام بھی نظرآتاہےجن میں شمشیرزنی، گھڑسواری، نیزہ بازی اور تیر اندازی شامل تھی مزیدجبکہ اس  لیکن کھیل کا مقصد سپاہیوں کو برے وقت کے لئے تیار کرنا ہوتاتھا-

آج دنیا میں کئی کھیل منعقد کئے جاتے ہیں لیکن  گھوڑےپرکھیلےجانےوالےکھیل کو کھیلوں کابادشاہ اور بادشاہوں کاکھیل کہا جاتا ہےجسےدنیاپولوکےنام سےگردانتی ہےاورسواری میں شاہی سواری اور بادشاہوں کی سواری جبکہ سوارکوشاہسوار سےموسوم کیا جاتاہےکیوں نہ ہوکہ اس کےسموں کی آواز، لق ودق ریگستان ہوکہ وسیع میدان یاپھرپتھریلے راستےہوں شیر کی دھاڑ سےکم نہیں- گھوڑا، اپنی دھاڑکےساتھ رفتارمیں اس درجہ کی تیزی اورتسلسل  رکھتاہےکہ آج بھی وقت کوگھوڑےکےساتھ تشبیہ دیاجاتا ہےکہ یہ گھوڑےکی طرح رکتانہیں جبکہ گھوڑااپنی طاقت میں یوں منفردکہ،آج ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی انجن کی پاور کو ہارس پاورکہاجاتا ہے- بالفاظ دیگر دنیا ہارس ٹوہارس پاورکی طرف چل پڑی ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ