نیزہ بازی اورورلڈ ریکارڈ کےحوالےسےنواجوان ریسراوررائیڈر، سلطان بہادرعزیز کاخصوصی انٹرویو
ٹیم کیپٹن: آل پاکستان سلطان نیزہ بازی ٹورنامنٹ
تعارف : صاحبزادہ حاجی سلطان بہادرعزیزصاحب کا تعلق جنوبی ایشیاء کےمشہورصوفی بزرگ اورمیدانِ تصوف کی طرہ امتیاز شخصیت حضرت سلطان باہوؒکےخانوادےسےہے- سلطان بہادرعزیزایک خوب رونوجوان ہیں- صوفیانہ خاندان سے تعلق کی بدولت تحرک، مجاہدہ اورمستعدی کی زندگی گزارنا ورثہ میں ملا،اسی روش کو اپناتے ہوئے سلطان بہادر عزیزنےبہادرانہ کھیل اپنارکھےہیں- وہ نہ صرف آف روڈریسنگ کی مہارت رکھتے ہیں اور بہت سی پوزیشن اپنے نام کر چکےہیں بلکہ گھڑ سواری کےمیدان میں بھی پیش پیش ہیں- اب تک نیزہ بازی کےبہت سے ملکی مقابلوں میں شرکت کرچکےہیں اورانعام اپنےنام کئےہیں مزیدجبکہ عالمی سطح پر بھی اپنےفن شہسواری کےجوہردیکھائے ہیں اورپاکستان کوایوارڈدلوایاہے-
نیزہ بازی کی تاریخ کے بارے میں وثوق سے کچھ کہناممکن نہیں البتہ گھوڑے کی پھرتی، تیز رفتاری اور انسان کے اشاروں کوسمجھ لینےکی صلاحیت کےبدولت انسان اور گھوڑے کی رفاقت میں اضافہ ہوااور گھوڑے کو سواری اور جنگ میں دشمن کے خلاف لڑنےکےلئےاستعمال کیا جانےلگااورامن کےدنوں میں بھی گھڑ سواری اور نیزہ بازی کی مشقیں جاری رکھی جاتیں جن میں شہہ سوار اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے- وقت کے گزرنے کےساتھ، سامانِ حرب اوراندازِحرب بدلتےرہے، گھوڑے میدانِ جنگ کی زینت کی بجائے کھیل کے میدان کی رونق بنے –جیسےجنگ کے دنوں کےعلاوہ عام دنوں میں گھڑ سوارمعمول کے مطابق کھیل کےمیدان میں اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے تھے انکی یہ اہمیت ماند نہ ہو سکی اوریوں گھڑسواروں کی ان معمول کی مشقوں نےمکمل کھیل کاروپ ڈھال لیا-
برصغیرپاک وہندمیں اسلام نےاپنےاوائل میں جب سےاپنی کرنیں بکھیریں توسندھ جوباب الاسلام کہلاتاہےمحمدبن قاسم کی افواج اور فتوحات سے حلقہ بگوش اسلام ہوا ، لیکن محمود غزنوی کی آمد کے ساتھ بہت سے علماء اور مشائخ تشریف لائے جنہوں نے یہیں سکونت اختیار کی اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا شعار بنایا- جس طرح تصوف میں صوفی کےلئے باشریعت ہوناشرط اؤل ہےاس اصول کواپناتےہوئےان صوفیاءو مشائخ نےآپﷺکی سنت اوراحکام الہی کے عین مطابق اپنے تھان پرگھوڑوں کو باندھااوراگر آج پاکستان کےطول وعرض میں دیکھیں تو یہ جان جائیں گے کہ بہت سے اولیائے کاملین کے مزارات پورے پاکستان میں مرجع خلائق ہیں جہاں عموما اور پنجاب میں خصوصا عرس کے مواقع پر نیزہ بازی کے مظاہرے کئے جاتے ہیں-
اس بات کا تاریخی پس منظر اگر جانا جائے تو معلوم ہو گا کہ اولیائے کاملین چونکہ تحرک اور مستعدی کی زندگی گزارتے تھے تو اس سلسلے میں جہاں انہوں نے تازی داری کے شوق کو اپنایا وہیں اپنےآپ کوچاق وچوبندرکھنےکےلئےاس کھیل یعنی نیزہ بازی اور گھڑسواری کےشغف کوبھی اپنائےرکھا- اسی لئےآج نیزہ بازی کےبہت سےکلب یاتواولیائےکاملین کےآستانوں سےمنسلک ہیں یاان کےنام سےمنسوب ہیں اورآج پاکستان کاجوسب سےبڑاکلب ہےوہ سلطان باہوؒ کی خانقاہ سےہےجوکہ ہماراکلب ہےاور" محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب" کے نام سےموسوم ہے-
اس کلب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کےکلب کے سوار بین الاقوامی بشمول نیزہ بازی ورلڈ کپ میں شرکت کر کےنمایاں پوزیشن حاصل کر چکےہیں، جبکہ اس کھیل کی مزیدترقی وتدریج کےلئےاس کلب نےدیگرپاکستانی باقی کلبز کےساتھ مل کرنیزہ بازی کی نئی تاریخ رقم کی ہےاورچھ کامیاب عالمی ریکارڈزبنائے ہیں جس سے نیزہ بازی کے کھیل میں پاکستان کاپرچم مزیدسر بلندہوگااور ملک پاکستان کواس کھیل میں نمایاں مقام ملےگا-
نیزہ بازی کوپاکستان کےحوالے سے دیکھاجائےتوموسم بہارمیں پاکستان کےطول وعرض میں اس کھیل کے ایونٹ سجائے جاتے ہیں جہاں عوام اپنے ذوق وشوق کی تکمیل کےلئےآتےہیں- ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہےکہ نیزہ بازی کا کھیل صرف پاکستان اور پنجاب میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے 30سے زیادہ ممالک میں کھیلا جاتا ہےجن میں آسٹریلیا ، ساؤتھ افریقہ، انگلینڈ ، عمان ،قطر ، یو اے ای وغیرہ نمایاں ہیں اور نیزہ بازی کا ورلڈ کپ بھی منعقدکیا جاتاہے-
الغرض! گھڑسواری سنتِ نبویﷺ، سنتِ شبیری، بادشاہوں کی سواری، ایک تاریخی، ثقافت اورعالمی کھیل ہےجسےپورےپاکستان اوربالخصوص پنجاب میں بہت پذیرائی حاصل ہےاس کھیل کی برصغیر میں ایک تاریخی حیثیت ہے جس کےباعث یہ ہماری ثقافت کاجزوہے-