روئیداد بین الاقوامی چولستان500 آف روڈ ریلی2022ء پاکستان کی سب سے بڑی، پرانی اور مقبولیت پکڑتی چولستان آف روڈریلی
Blog Single

روئیداد بین الاقوامی چولستان500 آف روڈ ریلی2022ء

پاکستان کی سب سے بڑی، پرانی اور مقبولیت پکڑتی چولستان آف روڈریلی

ملک حسن احمد ایڈووکیٹ

پاکستان کا قدرتی حسن

قدرت نے جہاں پاکستان کو ہرےبھرے علاقہ جات سے نوازا ہے تو وہاں ہی مختلف نوعیت کے ریگستان کی خوبصورتی بھی اپنی مثال آپ ہے، پاکستان میں کئی طرح کے صحرا موجود ہیں جن میں چولستان، تھر، تھل اور خاران کا صحرا شامل ہے- کوئی صحرا سفید رنگ کی ریت توکچھ بھوری رنگت کے ٹیلوں پر مشتمل ہیں-

صحرائے چولستان

چولستان ہماری ثقافتی تہذیبی روایات کے عکاس ہونے کی بدولت نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہے، چولستان کی اپنی ہی ایک نرالی دنیا ہے ایسی دنیا جہاں پہنچ کر دل کی اجڑی بستی آباد ہو جاتی ہے، چاندنی راتوں میں چولستان میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاروں اطراف نور پھیلا ہوا ہے غروب آفتاب کا منظر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے صحرا آنکھیں بند کر رہا ہے، چولستان کا صحرا بہاولپور ڈویژن کے اضلاع بہالپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان پر مشتمل ہے چولستان بہاولپور سے جنوب مغرب میں کم وبیش 30کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے جس کا رقبہ سولہ ہزار مربع کلومیٹر ہے- یہ علاقہ صحرائے تھر جنوب مشرق میں بھارتی ریاست راجھستان اور مغرب میں سندھ سے جا ملتا ہے، صحرائے چولستان جیسے خوبصورت خطے اپنی پہچان آپ ہیں- پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں موجود صحرائے چولستان کو مقامی آبادی روہی کے نام سے پکارتی ہے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید نے اپنی شاعری میں اس خطے مو روہی کا نام دیا- لفظ چولستان ترکی لفظ چول سے لیا گیا ہے جس کے معنی صحرا کے کے ہیں بہاولپور کا یہ صحرا اپنی تہذیب وثقافت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اس وسیع و عریض صحرا میں عظیم الشان قلعہ اور باقیات ابھی بھی موجود ہیں، پاکستان کا دوسرا بڑا صحرا ہے، درجہ حرارت کے حوالے سے چولستان سب سے گرم ترین صحرا ہے جہاں درجہ حرارت 50ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے-

پاکستان، صوبہ پنجاب، ضلع بہاولپور میں موجود صحرائے چولستان کو روہی کے نام بھی جانا جاتی ہے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید نے اپنی شاعری میں اس خطے مو روہی کا نام دیا

علاقائی خصوصیات اور پس منظر

تاریخی حوالہ سے اگر بات کی جائے تویہ صحرائے چولستان کئی قلعوں پر مشتمل تھا جو کہ 1000قبل مسیح کا پتہ بتاتے ہیں ان تمام قلعوں میں قلعہ دراوڑ جو کہ آج بھی قائم ہے،یہ قلعہ بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے 49کلومیٹر کی مسافت پر ہے،یہ قلعہ 40برجوں پر مشتمل ہے اس قلعہ میں کافی تعداد میں سرنگیں تھیں جو کہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئیں- صحرائے چولستان میں خودرو جھاڑیاں، تیلےسرکانے سروٹ اور مختلف طرح کے نباتات بکثرت ہوتےہیں، صحرائےچولستان کے ٹیلوں کی اونچائی 200فٹ تک ہے- آندھیوں میں ٹیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سرکتے ہیں اور مختلف شکلیں اختیار کر لیتے ہیں، چولستان میں پانی کی قلت رہتی ہے مقامی لوگ پانی کے حصول کےلئے جوہڑوں کا رخ کرتے ہیں اور ساتھ اپنے جانوروں کا چارہ تلاش کرتے ہیں، یہاں کی آمدن کا بڑا ذریعہ جانوروں سے ہی حاصل ہوتاہے- لوگ گائے بکریاں بھیڑیں پال کر زندگی بسرکرتے ہیں- تاہم سردیوں کے موسم میں مختلف اقسام کی دستکاریاں اور مٹی کے برتن بنائے جاتے ہیں اس اعتبار سے بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ بہت مشہور ہے-

چولستان آف روڈ ریلی

روہی کے نام سے معروف چولستان اپنے اندر پاکستان کا سب سے بڑا ریسنگ ٹریک سموئے ہوئے ہے- اوائل میں یہ ٹریک اتنا طویل نہ تھا تاہم ہر سال اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، چولستان میں قلعہ دراوڑ کے قریب ہر سال ہونے والی پاکستان کی سب سے بڑی آف روڈ ریلی پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ چولستان جیپ ریلی علاقہ کی ثقافتی پہچان بنتی جا رہی ہے، چولستان جیپ ریلی کا میدان گزشتہ 16برس سے بلا ناغہ سج رہا ہے، چولستان جیپ ریلی پہلی مرتبہ 2005ءمیں شروع کی گئی ہر سال اس ریلی میں ہر طرح سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، نہ صرف جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لئے بلکہ پورے پاکستان سے شائقین کی بڑی تعداد اس ایونٹ میں شریک ہوتی ہے- چولستان ریلی میں نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر کے ریسرز بھی ریس میں حصہ لیتے ہیں، چولستان آف روڈ ریلی کی کامیابی میں ٹی ڈی سی پی کا بڑا کردار ہے- 2005ءمیں ٹی ڈی سی پی چولستان ریلی کا آغاز کیا جو کہ ابھی تک چلتی آ رہی ہے، ریس کے دنوں میں چولستان کے صحرا میں مختلف جگہوں پر لگے خیمے خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں- بالخصوص رات کے وقت صحرا میں روشن برقی قمقمے ایک منفرد منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں ایک اندازہ کے مطابق 3لاکھ کے قریب شائقین اس ریلی کو دیکھنے آتے ہیں جسمیں ہر سال اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے-

17ویں چولستان آف روڈ ریلی2022

امسال 8سے 13فروری چولستان ریلی کا انعقاد کیا گیا- پاکستان بھر سے 140کے قریب مرد و خواتین ریسرز نے اپنی قسمت آزمائی کی- ریس ٹریک کی کل لمبائی تقریباً 500کلو میٹر تھی یہ ریس چار دنوں پر مشتمل تھی جس میں  پہلا دن گاڑیوں کی جانچ پڑتال، دوسرے دن  کوالیفائنگ راؤنڈ کے ریس والے دن  کس ترتیب سے گاڑیاں نکلیں گی-  تیسرے دن پری پیئرڈکلاس کی گاڑیوں کی ریس  ہوتی ہے اور یہ کیٹگری دو دن ریس کرتی ہے ایک تیسرے دن اور دوسرا پانچویں دن جبکہ چوتھے دن اسٹاک کیٹگری ریس کرتی ہے- پاکستان کا طویل ترین ٹریک ہونے کی وجہ سے مشکل ترین ٹریک ہے- گرمی کی شدت سوار اور سواری دونوں کےلیے آزمائش اور بڑے امتحان کا سبب بنتی ہے ریس چار لوپ پر مشتمل ہوتی ہے- ہر لوپ کا ٹریک اور اس کے حساب سے حکمت عملی مختلف ہوتی ہے- جس کے لئے ریسر نہ صرف خود بلکہ ساتھ ساتھ گاڑی کو بھی تیار کرتا ہے ٹریک کا زیادہ حصہ سیدھا ہے جسکی وجہ سے سپیڈی ہے جو ریسر کی مہارت، حوصلہ اور گاڑی کی پاور کا امتحان لیتا ہے-

ٹیگنگ وہیکل انسپکشن ڈے

9فروری کی صبح 9بجے گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیگینگ اور ٹیکینکل انسپکشن کے علاوہ ڈرائیور اور کو ڈرائیور کا میڈیکل چیک اپ مکمل کیا گیا، انتظامیہ کی ٹیکنکل ٹیم کی زیرنگرانی یہ کام مکمل کیا گیاجس میں ہر طرح سے گاڑیوں کے خواص چیک کئے جاتے ہیں اور انہیں ریسنگ کے اصولوں کے مطابق پرکھا جاتا ہے- جس میں گاڑی کی تمام تر حفاظتی آلات کو دیکھا جات ہے اور جو گاڑی طے کردہ قانون پر پوری نہیں اترتی وہ ریس میں حصہ نہیں لے سکتی، 9فروری کی شام ٹی ڈی سی پی ریسٹ ہاؤس میں ڈرائیوز میٹنگ کا انعقادکیا گیا جس میں ریسرز کو ریس کے اصول و ضوابط کے متعلق اگاہ کیا گیا، ریس کے حوالہ سے حکمت عملی اور دیگر امور سے آگاہ کیا گیا-

ریس کے پہلے دن گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیگینگ اور ٹیکینکل انسپکشن کے علاوہ ڈرائیور اور کو ڈرائیور کا میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے

کوالیفائنگ ڈے

10فروری کی صبح 9بجےدلوش سٹیڈیم کےقریب کوالیفائنگ راؤنڈکاانعقادکیاگیا- کوالیفائنگ راؤنڈ ریس ڈے کے لئے گاڑیوں کو لائن اپ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے جو گاڑی پہلے ٹریک مکمل کرے گی- ریس ڈے میں اس ترتیب سے ہی وہ گاڑی لائن اپ ہو گی یعنی جو گاڑی کم وقت میں کوالیفائنگ مکمل کرے گی فائنل ریس میں وہی گاڑی پہلے ریس کے لئے روانہ ہوگی-

پری پیئرڈ کلاس ریس ڈے ون

11فروری کی صبح 9بجے دلوش سٹیڈیم سے پری پیئرڈ کلاس کی ریس کے پہلے راؤنڈ کا آغاز ہوا- پہلے راؤنڈ کا ریس ٹریک تقریباً 231کلومیڑ تھا جسکی سٹیج بریک جام گڑھ تھی، پرو کلاس ریس ڈے انتہائی دلچسپ تھا چونکہ تمام مشہور ریسرز نے ریس میں حصہ لیا- انتہائی کٹھن مقابلہ دیکھنے کو ملا- ریسرز نے اپنی ڈرائیونگ کی مہارت کے جوہر دکھائے- تقریباً 40سے زائد گاڑیاں اس کیٹگری میں ریس کے لئے شامل تھیں-

سٹاک کیٹگری ریس ڈے

12فروری کی صبح 9بجے پروڈکشن کلاس کی ریس کا آغاز ہوا جس میں تقریباً 100کے قریب ریسرز نے حصہ لیا- پروڈکشن کلاس کا ریس ٹریک 243کلومیٹر پر مشتمل تھا جسکی سٹیج بریک بجنوڑ کے مقام پر تھی-

پری پیئرڈ کلاس سیکنڈ راؤنڈ

13فروری پری پیئرڈ کلاس کی ریس کا دوسرا راؤنڈ تھا- دوسرے راؤنڈ میں ریس ٹریک 243کلومیٹر تھا- دوسرے راؤنڈ میں انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا- کئی ریسر کامیاب ٹھہر ے اور کئی ریس ٹریک مکمل نہ کر سکے- یہاں بتاتا چلوں پاکستان کے معروف ریسر صاحبزادہ سلطان کی گاڑی میں پہلے راؤنڈ میں فنی خرابی بنی جس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری- گاڑی ٹھیک کرنے کے بعد ریس ٹریک مکمل کیا جبکہ دوسرے راؤنڈ میں صاحبزادہ سلطان سب سے کم ٹائم میں ریس مکمل کرنے والے ریسر بنے-

13فروری کی رات ٹی ڈی سی پی ریسٹ ہاؤس میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد کی گئی- اس موقع پر ڈویژنل کمشنر کیپٹن (ر) محمد ظفر اقبال، کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیاء اور سیکرٹری ٹورازم اسد فیاض نے شرکت کی جنہوں نے جیتنے والے ریسرز کو میڈل اور نقد انعامات دیئے-

چولستان ریلی کا ایونٹ انتہائی دلچسپ اور جوش جذبہ سے بھر پور تھا- دھول اڑاتی گاڑیاں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی نظر آئیں- چولستان آف روڈ ریلی کے موقع پر آف روڈ ریسنگ کے علاوہ دیگر ثقافتی پروگرامز بھی کئے گئے، یہ ایونٹ علاقہ مکینوں کے لئے کسی عید کے موقعہ سے کم نہ تھا، جسکا انتظار لوگ سارا سال بے چینی سے کرتے ہیں- اس طرح کے ایونٹ کا مقصد نہ صرف پاکستان کے لوگوں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے سامنے چولستان کے صحرائی حسن اور ثقافتی خوبصورتی کو سامنے لانا ہے- ایسے ایونٹ نئے آنے والے ریسرز کو اپنا ٹیلنٹ اور پاکستان کا خوبصورت چہرا دکھانے کا بہتر ین موقعہ فراہم کرتے ہیں، چولستان کے ایونٹ کو کامیاب کرنے میں جہاں مقامی لوگوں کا تعاون تھا وہیں  ضلعی انتظامیہ، ٹی ڈی سی پی، پاک آرمی اور پولیس کے نوجوانوں کی کوششیں کارفرما تھیں-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ