پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کا بڑھتا رجحان اور جدوجہدِصاحبزادہ سلطان
Blog Single

پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کا بڑھتا رجحان اور جدوجہدِصاحبزادہ سلطان

محمد رضوان

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پاک فوج کی کاوشوں سے دہشت گردی کا قلع قمع ہو چکا ہے، عام و خاص اپنی جلترنگ میں واپس آ رہے ہیں، شکوک کے سیاہ بادل چَھٹ چکے ہیں ، قوم میں پُر امید بہار آ چکی ہے ، رنگ اپنے جوبن پر ہیں ، ایسا ماحول جہاں ترقی کے لئے سازگار ہوتا ہے وہیں کھیلوں کے میدان بھی سج جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کھیلوں کے میدان آباد ہورہے ہیں- انہی کھیلوں میں ایک آف روڈ نگ بھی ہےجس کی وساطت سے کھلے چٹیل میدانوں، ویران بیابانوں، خشک صحراؤں اور خاموش پہاڑوں کو بارونق بنایا جارہا ہے- اَن چُھوئے مناظر کیمروں کی آنکھ میں محفوظ ہو کر عوام تک پہنچ رہے ہیں- ریس کے دنوں میں کثیر تعداد میں شائقین و ریسرایسے علاقوں کا رخ کرتے ہیں ، وہاں طویل قیام کرتے ہیں تو وسیع پیمانے پر خریداری ہوتی ہے جس سے مقامی لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ مالی فائدہ بھی پہنچتا ہے- ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف تہذیب و ثقافت، رنگ و نسل، زبان و بیان، طرزِ زندگی، لب و لہجہ سے جب گفت و شنید اور قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو دونوں فریقین کی قومی یکجہتی، ہم آہنگی وہم شناسی میں اضافہ ہوتا ہے- گمنام علاقوں کو میڈیااور سوشل میڈیا کے ذریعے نام ملتاہے، پسماندہ علاقوں کو عروج ملتاہے علاقائی مشکلات و مسائل صاحب ثروت اور صاحب اقتدار تک پہنچتے ہیں- باسیوں کا خالص پن اور مہمان نوازی آنے والوں کا دل موہ لیتی ہے اور بارِ دیگر آنے کی جستجوقائم رہتی ہے-

پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کا آغاز تو کافی عرصہ پہلے ہوچکا تھا ،کئی سپوت اس کی ترویج و مقبولیت میں اپنی طرف سے بھرپور کاوش کررہے تھے- جہاں اس پودے کی آبیاری میں میر نادرمگسی،رونی پٹیل ، سرفراز دھانجی جیسے نابغہ روزگارریسر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھےتو وہیں اس کھیل میں خواتین ریسر کےلئےذریعہ ترغیب بننے، معاون و مددگاری میں، "تشنہ پٹیل" ماں کی ممتا فراہم کررہی تھیں جس سے خصوصاً خواتین میں مذکورہ کھیل کا جنون بڑھنے لگا- واضح رہے کہ تشنہ پٹیل کو پاکستان آف روڈ ریسنگ میں پہلی خاتون ریسر ہونے کا اعزازبھی حاصل ہے-

2014ء سے قبل پاکستان میں دو ہی جیپ ریلیاں منعقد ہورہی تھیں" چولستان جیپ ریلی" اور "جھل مگسی ڈیزٹ چیلنچ"جن میں چیدہ چیدہ ریسر ز حصہ لیتے تھے- میڈیا کی نظر التفات بھی نہ ہونے کے برابر تھی- ریلیز کی مقبولیت اور ریسرز کی شمولیت میں اضافہ 2015ء سے ہونا شروع ہوا اور ہوتا چلا جارہا ہے جس میں واضح ونمایاں کردار ٹیم سلطان کا ہے-

ریس کامیدان اور صاحبزادہ سلطان

آف روڈ ریسنگ میں "صاحبزادہ سلطان " کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں پاکستان کے مایہ ناز ریسرز میں آپ کا منفرد مقام ہے- آنکھوں میں حیاء، ہونٹوں پہ تبسم، لہجے میں مٹھاس، لفظوں میں شیرینی، گفتار دلبرانہ اور انداز جداگانہ ہیں، غرض جو ایک بار ملا گرویدہ ہوگیا-

خمار ِ بادہ ، خرامِ آھُو،نگاہِ نرگس ، نوائے بُلبُل

کسی نے اِن کا پتہ جو پوچھا ،تو ہم تمہاری مثال دیں گے

دماغ میں خیال اُبھرا، دل میں ارادہ بنا، آنکھوں میں خواب سجے، بچپن سے گھڑ سواری کا دلدادہ، جب ہوا ریس پر آمادہ تو بنا صحرا کا شہزادہ

2014ء چولستان جیپ ریلی دیکھنے"صاحبزادہ سلطان "کا اتفاق ہوا، رنگا رنگ گاڑیاں قریب سے دیکھیں، ماہر ریسرز سے گفت و شنید ہوئی، ریس کے اصول و ضوابط کا مطالعہ کیا، آف روڈ ریس کی مہارتوں کا جائزہ لیا، گاڑی کی تیاری اور ٹریک کی دشواری کو جانچا، دماغ میں خیال ابھرا، دل میں ارادہ بنا، آنکھوں میں خواب سجے بچپن سے گھڑ سواری کا دلدادہ جب ہوا ریس پر آمادہ تو بنا صحرا کا شہزادہ-

پاکستان میں آف روڈ ریلیز کے فروغ وترویج میں" صاحبزادہ سلطان" کی کاوشیں ناقابلِ فراموش ہیں- ذیل میں کی گئی کاوشوں کا مختصر اً جائزہ لیتے ہیں:

صاحبزادہ سلطان:گھوڑے کی سپاٹ سے گاڑی کی سیٹ تک

(ایسی ڈیزئن کرنی ہے کہ ایک طرف گھوڑا ہو اور دوسری طرف گاڑی، جیسے ایک تصویر پہلے بنائی گئی تھی گاڑی کی اڑتی ریت سے گھوڑے نکل رہے ہیں)

صاحبزادہ سلطان اپنے کئی انٹریوز میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ خاندانی روایت کے تحت بچپن سے ہی گھڑسواری کی تربیت دی جاتی ہے- اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی کثیر تعداد آج بھی آپ کے اصطبل کی زینت ہے- اس تھان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے یہاں ایک ایسا گھوڑا بھی ہے جس کے کندھے پہ پیدائشی طور پر اسم محمدﷺ کندہ ہے- گھوڑا رکھنا سنتِ نبویﷺہےاوریہاں گھوڑوں کی تکریم کا بچشم عیاں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے- پاکستان کے بہترین تازی داروں میں آپ کا شمار ہوتا ہے- نیزہ بازی کے میدان میں آپ کے والد گرامی ؒنے"محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب آف پاکستان"متعارف کرایا جومعیار،مقداراورنظم وضبط کے لحاظ سے اپنا خاص نام و مقام رکھتا ہے-(کلب اور اصطبل کی تصویر لگائی جائے)

صاحبزادہ سلطان نے نیزہ بازی کے کئی میدانوں میں"گھوڑے دوڑائے" نیزے سے کِلے اکھاڑ ے اورفتح و نصرت کے جھنڈے گاڑھے- صاحبزادہ سلطان نے مختلف علاقوں سے گھڑسواروں کو دریافت کیاپرخلوص انداز سے معاونت و تربیت کی یہی وجہ ہے کہ مذکورہ کلب کے کئی سوار عالمی سطح پہ "پاکستان ٹیم "کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر تےچکے ہیں- واضح رہے کہ سلطان صفدرعلی (صاحبزادہ سلطان کے معاون ڈرائیور)کا شمارجہاں ایک معروف و بہترین معاون ڈرائیور کےطورپر ہوتا ہے وہیں پاکستان کے بہترین شہوارہیں بلکہ وہ"پاکستان نیزہ بازی ٹیم" کےکپتان بھی ہیں- کمر کی تکلیف آڑے آئی تو صاحبزادہ سلطان کو گھڑسواری سے دستبرداری اختیار کرنا پڑی، طبیب نے گھوڑا دوڑانے سے منع کردیا- (صفدر سلطان صاحب کی انٹر نیشنل نیزہ بازی والی کوئی تصویر ہو یا جہاں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں)

 گھڑسواری سے مماثل صحت مندانہ کھیل جیپ ریلی میں شمولیت کی صورت اپنایا- شہسوار، سوار ہوا گھوڑے کی بجائے گاڑی میں، گھوڑے کی سپاٹ سےگاڑی کی سیٹ سنبھالی، ہاتھوں کی مضبوط گرفت لگام سے اسٹیرنگ پرہوئی، پاؤں رکابوں سےہٹاتو ایکسلیٹر پہ آٹھہرا، ہنہناہٹ کی جگہ ہارن سننے کو ملا، پہلے گھوڑے کا دل ہانپتا تھا اب انجن کانپتا ہے، پسینہ سواری کی بجائے سوار کو آنے لگا، چنگاریاںسموں کی بجائے گاڑی کے سائیلنسر سے نکلنے لگیں، دھول سموں سے نہیں ٹائروں سے اڑنے لگی-

صاحبزادہ سلطان نے نیزہ بازی کے کئی میدانوں میں"گھوڑے دوڑائے" نیزے سے کِلے اکھاڑ ے اورفتح و نصرت کے جھنڈے گاڑھے

2014ء میں چولستان ریلی کا مشاہدہ کرنے کے بعد 2015ء میں سجا چولستان کا میدان ، تو بطورریسر شامل ہوئے "صاحبزادہ سلطان"، گاڑی تھی" نسان"- اس ریس میں پہلی بار شرکت کی گاڑی میں فنی خرابی کے باعث کئی بار رکنا پڑا اسکے باوجود ہمت و حوصلہ برقرار رکھا، ٹریک مکمل کیا اور پانچویں نمبر پر رہے- مذکورہ سال جھل مگسی کے پرُ خطر ٹریک پربھی "ٹیوٹا ویگو" پر قسمت آزمائی کی اور بی اسٹاک میں دوسرے نمبر پر رہے- آنکھوں میں چمک، دھیمہ لب و لہجہ، بازوؤں میں پھرتی،دل ہمت و ولولہ سے لبریز، دماغ صلاحیتوں سے بھرپور، مضبوط اعصاب اور جارحانہ اندازِ ریس کےمالک خوبرو جوان "صاحبزادہ سلطان" کاچولستان جیپ ریلی 2016ءمیں مایہ ناز ریسر کے ساتھ کانٹے دار مقابلہ ہوا جس میں فاتح قرار پائے "ٹیوٹا ٹکومہ" کی دھول ناقابل ِ حصول ثابت ہوئی اس طرح ریس کو نیا ریسر اور صحرا کو نیا سلطان ملا- اتنے کم وقت میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کر کے صاحبزاہ سلطان جہاں ماہر ریسرز کی توجہ کا مرکز بنے وہیں شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا-

2015ء میں سجا چولستان کا میدان، تو بطورریسر شامل ہوئے "صاحبزادہ سلطان"، گاڑی تھی"نسان"

ریسنگ ٹیم کا قیام: ٹیم سلطان

کسی بھی کھیل میں ٹیم کا اہم کردار ہوا کرتا ہے- فرد واحد کے لئے گاڑی بنانا، ٹریک پر لانا، برق رفتاری سے چلانا، ٹریک کی گتھیاں سلجھانا، یقیناً کٹھن و دشوار کام ہے- ٹیم میں سب مل کر کام کرتے ہیں اور آخر میں فتح کاسہرا پوری ٹیم کے سر سجتا ہے ، ایک مکینک سے ریسرتک سب کا میابی ٹیم ورک میں ہوتی ہے- معاون ڈرائیوربھی فتح و نصرت میں ناصر ہوتا ہے جس کے سہارے، جہاں ریسر کو اشارے، وہیں شائقین کو نظارے دیکھنے کو مل رہے ہوتے ہیں- ریس سے کئی دن قبل ریسرز کا وسیع صحراؤں، چٹیل میدانوں اور بلند وبالاپہاڑوں پر قیام کئی دنوں پر محیط ہوتا ہے جس کے لیے رہائش گاہ اور سر پر سائبان کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے عارضی کیمپ لگائے جاتے ہیں- گاڑی کی تزئین و مرمت کے لئے مکینیکل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جوٹریک کی دشورایوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑی تیار کرتی ہے اور دوران ریس گاڑی میں تکنیکی خرابی کی صورت میں معاونت کرتی ہے-

معاون ڈرائیور کے سہارے، جہاں ریسر کو اشارے ،وہیں شائقین کو نظارے دیکھنےکو مل رہے ہوتے ہیں

صاحبزادہ سلطان نے پاکستان آف روڈ ریلیز میں پہلی بار ٹیم کا تصور قائم کرتے ہوئے "ٹیم سلطان " کی بنیاد رکھی- ٹیم سلطان ایک رجسٹرڈ ٹیم ہے جس نے نظم و ضبط ویونیفارم کی روایت قائم کی- ٹیم سلطان ایک وسیع سائبان اور زرخیز درخت کی صورت ہے جس کی کئی ذیلی شاخیں ہیں جو باہم مربوط ہیں، جیسے ٹیم سلطان کے ریسرزکی ٹیم، جن میں صاحبزادہ سلطان، صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز، صاحبزادہ فخر سلطان، راشد گوریا، راجہ ضرار، ملک بابر اعجاز، عابد گردیزی، خضر مہے، خالد خان، اربازخان  اورنبیل ارشدشامل ہیں- ٹیم سلطان کے اس شعبے میں آئے دن اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے- اسی طرح دیگر شعبہ جات میں ڈاکٹرز کی ٹیم، ٹیکنیکل ومکینیکل ٹیم، کیمپنگ ٹیم، آرام وطعام کے لئے انتظامیہ ٹیم، ہارس پاور میگزین ٹیم، سوشل میڈیا ٹیم اورمیڈیا ٹیم شامل ہیں(تمام ٹیمز کی تصاویر ایڈ کریں تو زیادہ بہتر ہے)- ٹیم کے تصور کی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج پاکستان آف روڈ ریسنگ کمیونٹی میں ہمیں مختلف ناموں سے جگمگ جگمگ کرتی ٹیمیں اوران کے خوبصورت و مخصوص مونوگرام نظر آتے ہیں-

پُر خلوص میزبان: صاحبزادہ سلطان

صاحبزادہ سلطان ریسر ز کو یکجاو متحد کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں، ریسرز کو اپنے ہاں پُرجوش و خوش دلی سے مدعو کرتےہیں، سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے آنے والےریسرز کو اپنے تجربات سے ریس کی مہارتوں، ٹریکس کی بجھارتوں، گاڑی بنانے، ریس میں دوڑانے سے متعلق پُرخلوص مشوروں سے مستفید کرتے ہیں- اکثر کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کی معاونت کرنا، اچھے مشورے دینا، تجربات کو شئیر کرنا، کھیل کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کرنا ہی موٹر اسپورٹس کے فروغ میں کارگر ثابت ہوتا ہے- صاحبزادہ سلطان کا ماننا ہے کہ ہم سب ایک ٹیم ہیں، ہم دوست ہیں، ہم بھائی ہیں، ہمارا واحد مقصد پاکستان کے پرچم کو کھیل کے اس میدان میں بلند سے بلند تر کرنا ہے- دنیائے عالم کو پاکستان کا خوبصورت چہرہ دیکھانے کے لئے اپنے حصے کی شمع جلانی ہےیہ پیغام دیناہے کہ ہم پُر امن، خوش اخلاق اورمہمان نواز لوگ ہیں- پاکستان میں کھیلوں کے لئے سازگار ماحول، پُرامن فضا اورخوبصورت میدان موجودہیں-

"صاحبزادہ سلطان " فریق کو رفیق، حریف کو حلیف ،مدِمقابل کو مقابل بٹھاکر" حلقہ یاراں" کی عمدہ مثالیں پیش کرتے نظر آتے ہیں- دوران ریس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے ریسرز، کیمپ میں کندھے سے کندھا لگائے، ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے، تحقیرکو توقیر، نفرت کو الفت، نفاق کو اتفاق، مخالفت کو مطابقت، اختلاف کو التفات، مقابلہ کو معانقہ میں بدل کر خوش گپیوں میں مگھن، دن بھر کی تھکن اتارتےہم مجلس، ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوتے ہیں اوریہی اس کھیل و کھلاڑیوں کی خوبصورتی ہے- یوں گماں ہوتا ہے جیسے انواع و اقسام کے پھولوں کا گلدستہ ہے-

چنددیگرکاوشیں

یوں تو صاحبزادہ سلطان کی آف روڈ ریسنگ میں شرکت ہی پاکستان موٹر اسپورٹس کے فروغ، اشاعت و ترویج کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئی کیوں کہ آپ کا حلقہ مریدین و مداحین بہت وسیع ہے– ملکی اور بین الاقوامی سطح پہ آپ کے گرویدہ لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہےیوں مداحین ِ سلطان، مذکورہ کھیل کے شوقینِ بنے- ہر ریس میں صاحبزادہ سلطان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ٹیم سلطان کی یونیفارم پہنے، سر پہ ٹیم سلطان کی کیپ پہنے، ہاتھوں میں ٹیم سلطان اور پاکستان کی جھنڈیاں تھامے اپنے محبوب ریسر کا استقبال کرتے دیکھائی دیتی ہے- جب سے اس کھیل کا حصہ بنے ہر مقابلے کو غیر معمولی اہمیت دی، ملک بھر میں ہونے والی تقریباًہر ریلی میں شرکت کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس علاقے اور ریلی کو پرموٹ کیا جاسکے- ( یہاں پر ایسی تصویر لگائی جائے جس میں ٹکومہ کے اردگردمداحوں نےکثیر تعداد میں جھنڈیاں پکڑ رکھی ہوئی)

 صاحبزادہ سلطان پاکستان کے پہلے عالمی آف روڈ ریسر ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں پاکستان کا پرچم سینے پہ سجائے پاکستان موٹر اسپورٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے "باھا چیمپئن شپ "میں دو بار حصہ لے چکے ہیں- جہاں دونوں بار دوسری پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کا پرچم دیارِ غیر میں سربلند کیا وہیں پاکستان موٹر اسپورٹس کو عالمی سطح پر بھی نمایا ں کرنے میں اپنا کردار ادا کیا- وہاں کے ریسرز سے گفت وشنید ہوئی تو پاکستان موٹراسپورٹس اور پاکستان کے خوبصورت صحراؤں اور دشورارگزار ٹریک کا تذکرہ و تعارف ہوا یقیناً دیار غیر کے کئی نامور ریسرز پاکستان کی سرزمین پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھانے ضرور آئیں گے-

صاحبزادہ سلطان نے مشہور پاکستانی اداکا ر فیروز خان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تاکہ شوبز سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں پاکستان موٹر اسپورٹس کے متعلق آگاہی فراہم کی جاسکے- واضح رہے کہ فیروز خان صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز کے ساتھ معاون ڈرائیور کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے پاکستان کی کئی ریلیز میں حصہ لے چکے ہیں- چونکہ فیروز خان نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پہ مداحین کی کثیر تعداد رکھتے ہیں تو پاکستان موٹر اسپورٹس کی ترویج کا یہ بھی بہت بڑا ذریعہ ثابت ہورہا ہے-(فیروزخان کی تصویر سلطان بہادر عزیز صاحب کے ساتھ معاون ڈرائیور کی تصویر لگائیں)

صاحبزادہ سلطان "سالانہ سلطان انٹر نیشنل نیزہ بازی ٹورنامنٹ" کے نام سے خوشاب اور خانیوال میں مقابلہ جات منعقد کرواتے ہیں- جس میں ملک بھر سے نامور سواروں کی کثیر تعداد حصہ لیتی ہے- مقابلہ کی درمیانی شب پرتکلف عشائیہ پیش کیا جاتا ہے جس کے دوران پاکستان میں ہونے والی ریلیز کی دستاویزی فلم حاضرین کو دیکھائی جاتی ہے تاکہ موٹر اسپورٹس کوترویج ملے- اس کی طرف رغبت بڑھے سواروں میں بھی اس کھیل کا شوق ابھرے- واضح رہے کہ ٹیم سلطان کےریسر "راجہ ضرار"نیزہ بازی کے میدان میں اچھے گھڑ سوار بھی ہیں- صاحبزادہ سلطان کی موٹیویشن نےانہیں ریسربھی بنادیا ابھی تک راجہ ضرار کئی ریلیز میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھا چکے ہیں- (راجہ ضرار کی گھڑسواری والی)

ہارس پاور میگزین کا اجراء

صاحبزادہ سلطان نے "ٹیم سلطان" کے پلیٹ فارم سے "ہارس پاور میگزین" کا اجراکیا- جوکہ پاکستان میں موٹر اسپورٹس کا پہلا اردو میں شائع ہونے والاماہانہ جریدہ ہے- جس میں موٹر اسپورٹس کےفروغ سےمتعلق مفید معلومات پر مبنی مضامین شائع ہوتے ہیں- مختلف گاڑیوں کے ریویوز، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ان کی اہمیت و افادیت، گاڑی کے مختلف پارٹس کے متعلق مفید معلومات، جیپ ریلیز کی روداد، ملکی اور بین الاقوامی ریسرزکی زندگی اور کارہائے نمایاں کی تفصیل، اورحفاظتی اقدامات کی اہمیت و افادیت کے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ دوران ریس ریسر خودکو محفوظ اور شائقین کو محظوظ کر سکیں-

"ہارس پاورمیگزین " کے مقاصد میں پاکستان کے خوبصورت چہرے کی دنیائے عالم کے سامنے زیبائش ونمائش، پاکستان کے پسماندہ علاقوں اور وہاں کے باسیوں کی زیست ِ ناتواں، مشکلاتِ زندگی، رہن سہن، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت کو قرطاس کی زینت بناکرخاص وعام کے سامنے لاناہےتاکہ گمنام علاقوں کو نام ملے- اس کے ساتھ آف روڈ ریلیز کو بطور ٹورازم متعارف کروا کر سیاحوں کی توجہ مبذول کروانا ہے- دراصل ہارس پاور میگزین موٹر اسپورٹس کی ترویج کے لیے ایک روشن قندیل ہے جو راستے کے پرپیچ و خارزاروں سے آگاہی فراہم کرتا ہے-

سوشل میڈیا

"ٹیم سلطان" کے پلیٹ فارم سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے توسط سے پاکستان کی خوبصورتی اور پاکستان موٹر اسپورٹس بلخصوص آف روڈ کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے کے لئے فیس بک پیج ، انسٹاگرام، ٹوئیٹراورٹک ٹاک اکاونٹ جبکہ یوٹیوب چینل بنائے گئے ہیں جن پر تصاویر اور ویڈیوز نشرکی جاتی ہیں- جو ریس کے دنوں میں سبک رفتاری سے ریس کی خبریں پھیلا کر شائقین کو ناظرین بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں- ہارس پاور کے نام سے ویب سائٹ بھی ڈیزائن کی گئی ہے جس پہ ہارس پاور میگزین کی برقی نقل (PDF) اورموٹر اسپورٹس کے حوالے سے مفید معلومات موجود ہیں-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ