دُنیا کی چند مشہور اور بڑی آف روڈ ریلیز کا بنیادی تعارف
Blog Single

دُنیا کی چند مشہور اور بڑی آف روڈ ریلیز کا بنیادی تعارف

عبدالباسط(یو ایم ٹی، لاہور)

سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانا تومعمول کی بات ہے مگر آف روڈنگ کرنا اور بے ہنگم راستوں پر ریس کرنا ایک آرٹ سے کم نہیں- جنگلوں، ریگستانوں، بیابانوں، صحراؤں اور پہاڑوں پر گاڑیاں دوڑانے والے یہ ڈرائیور خطروں کے کھلاڑی کہلاتے ہیں- جو گاڑیوں کواِن راستوں سے گزارتےاور دھول اڑاتے ہوئے اپنے فن کامظاہرہ کرتے ہیں- یوں تودنیا بھر میں بے شمار نیشنل اور انٹرنیشل آف روڈ ریلیز منعقد ہوتی ہیں جن میں نہ صرف لوکل بلکہ غیر ملکی ڈرائیور بھی شرکت کرتے ہیں- اس ضمن میں دنیابھر کی خطرناک، جان لیوا اور چیلنجز سےبھرپورمندرجہ ذیل ریلیز ہیں جِن سے لُطف اندوز ہونے کیلئے دُنیا بھر سے شائقین اور ڈرائیور شرکت کرتے ہیں-

باھا1000 (Baja-1000)

باھا1000کا شمار دنیا کی مشہور ترین اورپُر خطر ریسوں میں کیا جاتا ہے جو شمالی امریکہ میں میکسیکو کے باھا کیلیفورنیا جزیرہ نماPeninsula)) میں منعقد ہوتی ہے- باھا1000 ریس میں حصہ لینے والے ڈرائیور کو میکسیکو کے صحرا میں 1000 میل سے زیادہ کا سفر طے کرنا ہوتا ہے- باھاریس کی یہ خاصیت ہے کہ اس میں مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کو ایک ہی وقت میں ٹریک پردوڑانے کی اجازت ہوتی ہے- باھا1000میں جو گاڑیاں ریس میں شامل ہوتی ہیں ان میں ٹرک، کسٹم ریس کار، سٹاک کار، بگیز اور موٹرسائیکل شامل ہیں- اس ریس میں تماشائی اپنی ذاتی تفریح کیلئے ٹریک پر مختلف قسم کے جال بچھاتے ہیں تاکہ ریس سے مزید لُطف اندوز ہو سکیں- اِن رُکاوٹوں میں ٹریک پر گڑھے کھودنا، ڈھلوانیں بنانا، خطرناک رکاوٹیں بنانا اور دریا کے بہاؤ کو روکنے جیسی روکاوٹیں شامل ہوتی ہیں- اسی لیے ریسرز کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ جہاں تماشائیوں کا ہجوم ہو وہاں ٹریک پر چھپی ہوئی رکاوٹوں کی توقع رکھیں- انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک پر اس قسم کی رکاوٹیں ریس میں دلکشی پیدا کرتی ہیں اور ریسرز کی مہارت کا بھی بخوبی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے-

ریس میں تماشائی اپنی ذاتی تفریح کیلئے ٹریک پر مختلف قسم کے جال بچھاکرریس کو مزید لُطف اندوزبناتے ہیں جن میں ٹریک پر گڑھے، ڈھلوانیں اور خطرناک رکاوٹیں وغیرہ شامل ہیں- تبھی ریسرز جہاں تماشائیوں کا ہجوم ہو وہاں ٹریک پر چھپی ہوئی رکاوٹوں کی توقع ضروری سمجھتے ہیں-

ڈاکار ریلی(Dakar)

ڈاکار دنیا کی ایکسٹریم کار ریسز میں سب سے زیادہ مقبول ریس ہے- ڈاکار ریلی پہلے پیرس ڈاکار ریلی کے نام سے جانی جاتی تھی جوکہ فرانس کے دارالحکومت سے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار تک پھیلی ہوئی تھی- تاہم اس ٹریک کو زیادہ خطرناک ہونے کی وجہ سے جنوبی امریکہ میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اب یہ ریلی منعقد کروائی جاتی ہے- اس آف روڈ ریلی میں انتہائی رف ٹریک ہونے کی وجہ سے اکثر ریسرز کو دل کا دورہ بھی پڑ جاتا ہے- ریس کے حریفوں کو ٹیلوں، لمبے قد والے گھاس، کیچڑ کے جوہڑ، پتھروں اور غاروں سے گزر کر ریس کورس کے دوران ہر دن 500 میل کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے-

ایسٹ افریکن سفاری ریلی

دنیا میں چند چیزیں انتہائی مشکل ہیں جن میں سے ایک ایسٹ افریکن سفاری ریس میں گاڑی دوڑانا ہے- یہ ریلی ریسرز میں سفاری ریلی کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس ریس میں وہی ریسر حصہ لیتے ہیں جو خطروں کو گلے لگانا جانتے ہوں- افریکن سفاری ریلی کے 1000 کلومیٹر سے زیادہ کے ٹریک پر مختلف سٹیج بنے ہوتے ہیں، ہر سٹیج کی لمبائی تقریباً 60 کلومیٹر ہوتی ہے- اس سالانہ ریس میں لمبا، مشکل اور تپتی دھوپ سے دہکتا ہوا رف ٹریک ہوتا ہے- اس ریس میں حصہ لینے والے ڈرائیوروں کو خشک صحرا، افریقی جنگلوں اور تپتی ریت اور ہموار راہوں سے گزرنا ہوتا ہے- ریس کے دوران درجہ حرارت 50 ڈگری سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جو گاڑیوں کے انجن کو زیادہ گرم کر دیتا ہے- افریقہ کے تپتے صحرا میں اے سی کے بغیر گاڑی کو تیز رفتار کے ساتھ دوڑانا یقیناً خطروں کے کھلاڑی اور تجربے کار ریسرز کا ہی کام ہے- یہ ریس ٹریک ہر سال دُنیا کے طُول و عرض سےریسرز کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے-

دی آئزل آف مین ٹوریسٹ ٹرافی(The Isle of Man Tourist Trophy)

دی آئزل آف مین ٹوریسٹ ٹرافی موٹر سائیکلوں کی ایک ریس ہے- یہ ریس ہر سال جون میں “آئزل آف مین” نامی جزیرے پر منعقد ہوتی ہے- اس ریس کو خطرناک کہنا بھی شاید اِس کی عکاسی نہ کر سکے- یہ ریس اب تک 239 جانیں لے چکی ہے اور اسے دنیا کی سب سے زیادہ جان لیوا ریس مانا جاتا ہے- اتنا خطرناک اور جان لیوا ٹریک ہونے کے باوجود بھی موٹرسائیکل ریسرز پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتار موٹرسائیکلوں کے ساتھ حصہ لیتے ہیں- یہ ریس ٹائم ٹرائل اور سٹریٹ کورس (گلیوں میں ٹریک) کے ڈھانچےپر مشتمل ہے جس میں حصہ لینے والے ریسرز کو ایک ریسر کے 10 سیکنڈ بعداپنی ریس کا آغاز کرنا ہوتا ہے- حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی خطرناک اور جان لیوا ریس ہونے کے باوجود بھی اسکی ایک سینئر کیٹگری ہے-

رَین فوریسٹ چیلنج (Rainforest Challenge)

رین فوریسٹ ، ریسنگ ایونٹ منعقد کرنے والی ایک ملائشین (Malaysian) کمپنی ہے جو دُنیا کے طول و عرض میں بے شمار ریسز کا انعقاد کرتی ہے جِن میں رین فوریسٹ چیلنج، رین فوریسٹ گلوبل سیریز، رین فوریسٹ ٹرافی اور رین فوریسٹ ورلڈ سیریز شامل ہیں- رین فوریسٹ چیلنج کورین فوریسٹ چیلنج گرینڈ فائنل کے نام سے بھی جانا جاتا ہےجِس کا اِنعقاد1997ء سے ہر سال نومبر، دسمبر میں کیا جاتا ہے- یہ کمپنی مختلف ایڈونچر ایونٹس منعقد کروانے کے ساتھ مختلف فرنچائزز کو لائسنس بھی جاری کرتی ہے جو دُنیا کے مختلف ممالک میں ریسز آرگنائز کرتی ہیں- رین فوریسٹ کا شمار دُنیا کی ٹاپ ٹن مشکل ترین آف روڈ ریسز میں ہوتا ہے جِس میں 4*4 گاڑیوں کی طاقت، مضبوتی اور ڈرائیور کی ہمت کا امتحان ہوتا ہے- یہ ریس ایشیاء، یورپ، اوشینیا ریجن (Oceania) اور امریکہ کے براعظوں میں منعقد ہوتی ہے- جس میں دُنیا بھر سے نہ صرف ریسرز بلکہ شائقین کی بھی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے-

ایرز برگ روڈیو (Erzberg Rodeo)

یہ آسٹریلین موٹر سائیکل اینڈیوروایونٹ ہے- جِس میں بے شمار قسم کے موٹر سائیکل ریسنگ مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں جِن کا آغاز1995ء میں کیا گیا- یہ مقابلے مختلف قسم کے ٹریکس پر کروائے جاتے ہیں جِن میں ریتلی، کیچڑوالی اور پتھریلی زمین شامل ہوتی ہے- اِن مقابلوں میں بے شمار ٹیمیں شرکت کرتی ہیں جِن میں ریڈ بُل سرفہرست ہے- عام طور پر یہ ایونٹ چار دنوں پر مشتمل ہوتاہے اور مختلف طرز کی ریسز میں بائیک رائیڈرز اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں-

کنگ آف دی ہیمرز (King of the Hammers)

آف روڈنگ کی یہ ریس اپنی نوعیت کی ایک خاص ریس ہے جِس میں ہائی موڈیفائیڈ فور وہیل گاڑیاں اِستعمال کی جاتی ہیں- یہ ریس ڈیزرٹ ریسنگ (Desert Racing) اور راک کرالنگ (Rock Crawling) پر مشتمل ہوتی ہے جِس کا انعقاد امریکہ (جانسن ویلی، کیلیفورنیا) میں ہر سال فروری کے مہینہ میں کیا جاتا ہے- کنگ آف دی ہیمرز، پانچ ریسز پر مشتمل ایک سیریز ہے جِس کے مقابلےایک ہفتہ تک چلتےہیں- اِن ریسزمیں شمولیت کےلئےخاص گاڑی درکارہوتی ہےجِسےالٹرا 4وہیکل (Ultra 4 Vehicles) کے نام سے جاناجاتاہے-

موروکو ڈیزرٹ چیلیج (Morocco Desert Challenge)

مراکش ڈیزرٹ چیلنج کو دنیا کی مقبول آف روڈ ریلی گردانا جاتا ہے- اِس ریس کا آغاز موروکو (Morocco)اٹلانٹک اوشن (Atlantic Ocean) سے ہوتا ہے اورمیڈیٹیرئن سی(Mediterranean Sea)پراختتام ہوتا ہے جِس کے ٹریک کی لمبائی کم و بیش 3000 کلومیٹر ہوتی ہے- یہ ریس آٹھ مراحل (Stages)پر مشتمل ہوتی ہے- اِس کے علاوہ یہ ریس بہت سی ریسنگ کیٹگریز میں تقسیم کی جاتی ہے جِس میں کار، ٹرک، ایس ایس وی، بائیک/ کواڈ (Quad) اور ریڈکار شامل ہیں-

ویگاس ٹورینوریس (Vegas To Reno)

550 میل پرمشتمل اِس ریس کاشمارامریکہ کی بڑی ریسزمیں کیاجاتاہےجِس کاآغازایک ریمورٹ ایریابیٹی نیواڈا(Beatty Nevada)سے ہوا ہے- اِس ریس کی خوبصورتی اِس کے قوانین ہیں جِن کا اطلاق ہر صورت کیا جاتا ہے- اس کے مشکل ٹریک پر ڈرائیورکی مہارت کا جہاں امتحان ہوتا ہےوہیں گاڑی کے انجن کی طاقت اورفریم کی مضبوطی کوبھی پرکھاجاتا ہے- ریس کے دوران ڈرائیورکوجہاں اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھنا ہوتا ہے وہیں ریس کے اُصولوں کو بھی ذہن نشین رکھنا پڑتا ہے- اگر کہیں تھوڑی سی بھی غلطی ہو جائے اور ڈرائیور گاڑی کنٹرول نہ کر پائے تو پَلنٹی ڈال دی جاتی ہے- جِس کی وجہ سے جِیتی ہوئی ریس ہاتھ سے نِکل جاتی ہے-

ریلی ایچا دیس گزیلیس (Rallye Aicha Des Gazelles)

کم و بیش 2500 کلومیٹر پر مشتمل یہ ریس مراکش کے شہر میکنس (Meknes) سے سٹارٹ ہوتے ہوئے ایشورہ (Essaouira) کےاٹلانٹک کوسٹ (Atlantic Coast)پے ختم ہوتی ہے- اس کی عام طور پر تین کیٹگریز ہوتی ہیں جِن میں موٹر بائیک، ٹرک اور کراس اوور شامل ہیں- اِس کا ٹریک اِنتہائی خوبصورت اور دِلفریب سمجھا جاتا ہے جو کہ سمندر کے کنارے کے ساتھ ساتھ ریتلے، پتھریلے اور خاردار جھاڑیوں سےہوتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچتا ہے- اِس ریس ٹریک کو سب سے کم ٹائم میں فنش کرنے والا بھی کئی دفعہ ہارا تصور کیا جاتا ہے اگراُس نے دئیے گئے اُصولوں کو فالو نہ کیا ہو، پلنٹی کی وجہ سے ٹائم میں کٹوتی کر دی جاتی ہے-

اِ ن مندرجہ بالا ریسز کے علاوہ بھی کئی انٹرنیشنل ریسز ہیں جن کا انعقاد نہ صرف شائقین کو بلکہ ریسرز کوبھی اپنی جانب مائل کرتا ہے- پاکستان میں بھی آف روڈ ریلیز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے- پاکستان آہستہ آہستہ اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہو تا جارہا ہے جو ریسز منعقد کروا کے دوسرے ممالک کے ریسرز کی میزبانی کرتے ہیں- گزشتہ5 سالوں میں پاکستان نے آف روڈ ریسنگ میں بہت ترقی کی ہے یہاں منعقد ہونے والی ریلیز میں نہ صرف مُلکی بلکہ غیرملکی ریسرز بھی حصہ لیتے ہیں جِن میں گوادر، سرفرنگا، تھل اور چولستان ریلیز وغیرہ شامل ہیں- حال ہی میں ڈیرہ جات ریلی کا انعقاد ہوا جو کہ پاکستان کےریلی کیلنڈر میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے- دوسری جانب پاکستانی ریسرز دوسرے ممالک میں منعقد ہونے والی ریلیز میں بھی حصہ لےرہے ہیں جو کہ پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کے روشن مستقبل کی نویدہے- پاکستانی ریسرز کی دیگرممالک کے ریسرز کے ساتھ میل جول سے دنیا میں پاکستان آف روڈریسنگ کی مشہوری ہوگی جبکہ پاکستانی ریسرز بھی دیگر ممالک کے تجربات کا فائدہ اٹھائیں گے- پاکستان آف روڈ ریسنگ کے معروف چیمپئن صاحبزادہ سلطان محمد علی نے 2019ء میں دبئی انٹرنیشنل باھا ریلی میں حصہ لیا اور دوسری پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کے لیے ٹرافی جیتی- اس دوران انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ پاکستان میں منعقد ہونے والی ریلیز کو مزید بہتر بنا کر پاکستان کو ریلیز منعقد کروانے والے لیڈنگ ممالک کی فہرست میں لائیں گے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ