دوسری ڈیرہ جات آف روڈ ریلی2022ء
بیاباں میں گلستاں
محمدرضوان
چند برس پہلے خیبرپختونخواہ میں واقع ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات دیگرگوں تھے-یہاں کی فضا عموماً سوگوار، باسی غم زدہ و نوحہ کناں تھے، ہر طرف بد امنی اور انتشار کی کیفیت تھی، ڈیرہ " پھلاں دا سہرا " یہاں دہشت گردوں اورملک دشمن ناپاک عناصر کی آماجگاہ بنا ہوا تھا- آئے روز خودکش حملوں، قتل و غارت گری جیسی خبریں قرطاس کو سیاہ اور دلوں کو مغموم کرتیں- ہر طرف بدامنی، یاس و قنوطیت، خوف و حراس کی گھٹا چھائی ہوئی تھی- کئی کلیاں ناپاک ہاتھوں میں مسلی گئیں، کئی پھول ڈالیوں سے ٹوٹے، کئی گلشن ویران ہوئے، گلی کوچے، درو دیواروں پرلہوکے چھینٹے، گولیو ں کے نشان، ظلم وجبر کی کئی داستانیں مرقوم تھیں- یہاں کے باسیوں اورمحافظ اداروں کے بہادر سپوتوں نے ازسر نو اپنے لہو سے اس گلشن کی آبیاری کی- بلا شبہ شہدا کو"رسول ِ پاک ﷺنے بانہوں میں لے لیا ہوگا"- شہدا ملک و قوم کا سہاگ ہوا کرتے ہیں ان کے لہو کی تمازت اس سہاگ کی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے-
افواج پاکستان اور بلخصوص مقامی پولیس کی لازوال اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کی بدولت، ظلم کے سیاہ بادل چھٹ گئے- چہروں پرمسکراہٹ، ہونٹوں پہ تبسم، کھیتوں میں ہریالی، گلشن میں بہار آئی تو یہاں نقارہ امن بجا- گزشتہ سال ڈیرجات آف روڈ ریلی کے کامیاب انعقاد نے اس سال بھی شائقین و ریسر کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی- دشوار گزار ریتیلے، کھجوروں بھرے خوبصورت صحرا اور لوگوں کی مہمان نوازی نے ریسر کے جذبات کو ابھارا، جیت کی دبی خواہش انگڑائی لے کر بیدار ہوئی، دوسری ڈیرہ جات میں شرکت کے لئے دل میں نوخیز کلی پھوٹی تو ملک کے طول و ارض سےنامور ریسر کھنچے چلےآئے-
:دوسری ڈیرہ جات آف روڈ ریلی کی روداد
گزشتہ برس کے کامیاب انعقاد کے بعد پاکستان آف روڈ ریسنگ کیلنڈر میں ڈیرہ جات آف روڈریلی کا اضافہ ہوا جو کہ خوش آئندامرہے- اس مرتبہ4سے 6 مارچ 2022ء میں اس ریس کا انعقاد ہوا جس میں کئی نامور ریسر نے شرکت کرکے اس ریس کو کامیاب بنا یا-
:رجسٹریشن
3 مارچ بروز جمعرات کو "رتہ کلاچی اسٹیڈیم" ڈیرہ اسماعیل خان میں، رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا جس میں ریسرو معاون ریسر کے کوائف کا اندراج جبکہ گاڑیوں کی جانچ پڑتال، انجن پاور، گاڑی میں نصب حفاظتی آلات اور پرزہ جات کا بغور جائزہ لیا گیا- گاڑیوں پر ریلی نمبرز کیٹگری کے حساب سے آویزاں کئے گئے- ڈرائیورز اور معاون ڈرائیورکو ثقافتی تحائف پیش کئے گئے-
:شجرکاری
3مارچ 2022کو ہی "رتہ کلاچی اسٹیدیم" میں شجرکاری کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نامور ریسرز، سیاسی و سماجی شخصیات نے پاکستان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرنے کے لئے اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالا-
:بزمِ حلقہ یاراں (ڈرائیور و کو ڈرائیور میٹنگ)
اسی شام ڈرائیوراور معاون ڈرائیورکی بیٹھک سرکٹ ہاوس ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی جس میں ریس انتظامیہ کی طرف سےریس کے اصول و ضوابط کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا- دوران ریس دی گئی سہولیات، کوالیفائنگ راؤنڈمیں کس گاڑی نے کتنے بجےاورکس کے بعد اپنے جوہر دیکھانے ہوں گے اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیاگیا-
نامورریسرزمیر نادر مگسی، صاحبزادہ سلطان اور جام کمال نے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے "ڈیرہ جات "کے خوبصورت ٹریک، پرخلوص انتظامات اور خاص کر یہاں کی مہمان نوازی کی دل کھول کر داد دی-
میر نادر مگسیکا کہنا تھاکہ اگر ہم اس دوسری بار انعقاد پذیر ہونے والی ریلی کاپاکستان میں عرصہ دراز سے ہونے والی دیگر ریلیز سے موازنہ کریں تو کم وقت میں یہ بہت اچھی ریلی ہے- اگر اسی جذبہ کے ساتھ ہر سال یہ ریلی ہوتی رہی تو اس کا شماربھی پاکستان کی بڑی ریلیز میں ہونے لگےگاکیونکہ اس کا ٹریک اور یہاں کے لوگ جن کے لئے ہم آتے ہیں قابلِ تعریف ہیں-
صاحبزادہ سلطاننےاس موقع پرمقامی انتظامیہ، ضلعی اور صوبائی حکومت کے بھرپور تعاون، انتظامات و سہولیات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ امید کرتا ہوں کہ آئندہ سالوں میں بھی اس ایونٹ کا انعقاد ہوتا رہے گا-
جمال کمالنےکہاکہ اس ریس کوکامیاب بنانے کے لئے ضلعی و صوبائی حکومت نے جس دلچسپی کا مظاہر ہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے- اگر یہ دلچسپی اسی طرح برقرار رہی تو یہ ایونٹ اور بھی زبردست ہوتاجائے گا- یہاں ایک اچھی بات یہ ہے کہ پورے ٹریک پرریسرز کو سہولیات بہم پہنچانے کے لئے انتظامیہ کے لوگ موجود ہیں- ہم چاہتے ہیں کہ یہ ریلی مثال بنےتاکہ دیگر ریلیز میں بھی اسی طرح بے لوث جذبات اور پُرخلوص انتظامات دیکھنے کو ملیں- ہم امیدکرتے ہیں کہ آنے والے سال میں بھی اسی طرح ایونٹ کا انعقاد کیا جائے گا-
علی امین گنڈہ پورنےریسرزکی شرکت کوسراہتےہوئےکہاکہ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی پاکستان کےنامورریسرنےاس ایونٹ کوچارچاند لگادئیے ہیں- گزشہ سال کے کامیاب انعقادسےاس ایونٹ کو بھرپور پذیرائی ملی جس کی بنیادی وجہ مایہ ناز کھلاڑیوں کی شرکت تھی-
ہم نے بھرپور کوشش کی کہ آپ کو ایسی سہولیات ہوں جس کے بعد تحفظات نہ ہوں- ٹریک اور ایونٹ کو بہتر بنانے کے لئے ہم نے اپنے تجربات اور ریسرز کی مشاورت سے ٹریک میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں- میں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں تمام ریسرز کو کہ آپ پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاکر اس کھیل کو پرموٹ کررہے ہیں- اس کھیل میں بھی پاکستان کا ایک روشن نام بن چکا ہے- ہم گھوڑے پالنے، گھوڑوں کی گیم والےہیں اور مذکورہ کھیل کو مشکل تصور کرتے تھے لیکن اب اندازہ ہوا کہ ریس کرنا بھی جوئے شیرلانے کے برابر ہے- گھوڑے کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں جن کا خیال رکھنا ہوتا ہے لیکن گاڑی کے ہزاروں پُرزے جنہیں ہمہ وقت مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے- ریسرز کے تعاون و مشاورت سے یہ ایونٹ ہر سال بہتر سے بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے- امید کرتے ہیں کہ ہمارے انتظامات اور مہمانوازی سے آپ بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوں گے-
اس موقع پرفیصل امین گنڈہ پورنے ریسرز کی شرکت کوسراہاتے ہوئے کہا کہ ہم نے دن رات ایک کرکے اپنی ٹیم کےتعاون سے اس ایونٹ کےانتظامات کوبہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی- اس موقع پرانہوں نےکہاکہ میری کوشش ہوگی کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ریسنگ سکول قائم کیا جائے گا-
یحییٰ اخوانزدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ آپ لوگوں (ریسرز) نے شرکت کرکے اس علاقے کو عزت بخشی- زمانہ قدیم میں صحابہ کرام اور اولیاء عظام یہاں سے گزرے اور تاریخ لکھتے گئے- آنے والے وقت میں آپ لوگوں کی شرکت ڈیرہ اسماعیل خان کی تاریخ کو تابندہ رکھےگی- کمشنروڈپٹی کمشنرڈیرہ اسماعیل خان اور گنڈہ پور برادران کےبھرپور تعاون پر تہہ دل سے شکریہ اداکیا- فیصل امین گنڈہ پور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے موٹرسپورٹس اکیڈمی کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان میں جگہ دی- ہماری کوشش ہوگی کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے پشاور میں بھی اکیڈمی بنائی جائے تاکہ نوجوان نسل اپنے کرتب روڈپہ نہیں بلکہ اپنے جوہر محفوظ ماحول میں سیکھ کر دیکھاسکیں اورجان محفوظ اور خود محظوظ رہیں- موٹر اسپورٹس اکیڈمی بنانے میں ریسر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آپ کی مشاورت وتعان کی بھرپور ضرورت ہوگی تاکہ نوجوان ریسرز آپکے تجربات سے استفادہ کرسکیں- میرا یہ خواب ہے کہ اس کھیل میں بھی پاکستان کانام روشن کریں تاکہ بین الاقوامی ریلیاں یہاں انعقاد پذیر ہوسکیں- اس کھیل کو مزید پھلتے پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں- واضح رہے کہ یحییٰ اخوانزادہ صاحب( سابق کمشنر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان )ان دنوں پشاورمیں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں- گزشتہ برس پوری دلجمعی، ذاتی دلچسپی، انتھک کاوشوں، غیر متزلزل جذبہ، کے ساتھ اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لئے تگ ودو کرتے دیکھائی دئیے- اس بار ضلعی حکومت نے خصوصی طور پر اخوانزادہ صاحب کو پشاورسے ڈیرہ اسماعیل خان مدعو کیا تاکہ ریس کے انتظامات کے حوالے سے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتےہوئے بہتر سے بہتر کیا جائے جو کہ ضلعی حکومت کا خوش آئند اقدام تھا-
:انتظامات و سہولیات
اس بات کا اظہار کئی ریسرز کی جانب سے ہوا کہ دوسری ڈیرہ جات آف روڈ ریس کے انتظامات قابل ستائش و قابلِ تقلید ہیں- کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ٹریک پر1122 کی 7 گاڑیاں اور یارک میں سینئر ڈاکٹر کی ٹیم ہمہ وقت موجود رہی- ٹریک چونکہ آبادیوں میں سے بھی گزرتا تھا اور 7 مقامات ایسے تھے جہاں روڈ کراسنگ تھی- کسی بھی حادثے سے بچنے کےلئےپولیس کےشیردل جوان معمور تھے- جہاں سے ٹریک آبادیوں میں سے گزر رہا تھا وہاں مقامی لوگ ریسرز کی مہمان نوازی کرنے کو بے تاب نظر آتے- گاڑی خراب ہونے کی صورت میں ٹریک پر ریکوری کی سہولیات بھی موجود تھیں- ٹریک پر انتظامیہ کی جانب سے "ٹی" پوائنٹ بنائے گئے جہاں ریسرز کی مشروبات اور چائے سے تواضع کی جاتی-
:ٹریک
97کلومیٹر پر مشتمل ٹریک ریلی کے مطلوبہ معیار کو مدِ نظر رکھتےہوئے نہایت محنت سے بنایا گیا تاکہ ریسرز اور شائقین کو تفریح کے بہتر مواقع میسرہوں- گزشتہ برس کئی گاڑیوں کے لئے کڑا امتحان ثابت ہونے کی وجہ سے اس بار ٹریک میں پہاڑی سلسلے کو نظر انداز کیا گیا- ڈیرہ جات کا ٹریک بہت ہی خوبصور ت اور اپنے اندر کئی رعنائیاں سموئے ہوئے تھا- پاکستان کے کسی بھی دوسرے ٹریک کی بنسبت ڈیرہ جات کا ٹریک انتہائی خوبصورت ہے- ٹریک کا زیادہ تر حصہ سرسبزو شاداب گندم اور چنے کی فصلوں میں سےگزرتا تھاجواس کےحسن کودوبالاکررہا تھا- جہاں لہلہاتی فصلوں میں سرسراتی ہوا کانوں میں رس گھول رہی تھی وہیں سفید ریت پرسورج کی روشنی، ریت کے ذرات پر ستاروں کا گماں ہوتا- جبکہ کیکر، بیری اورکھجوروں بھرے صحرے میں پہاڑی کا خوبصورت نظارہ اور ٹریک کے پہلو بہ پہلو سی پیک روٹ جو ناظرین کوشائقین بنا رہا تھا- دھول اڑاتی قریب سے گزرتی گاڑیاں سی پیک پر رواں دواں گاڑیوں کو رک کر یہ دیدہ زیب نظارا کرنے پر اکساتیں تو ڈرائیورز کا پاؤں ایکسلیٹر سے ہٹ کر بریک پہ آجاتا- موبائل ہاتھ میں لیے ٹریک کے قریب آتے، ویڈیو اور تصاویر کی صورت میں دلکش نظارے کو محفوظ کرتے-
ٹریک پر سات مقامات ایسے تھےجہاں روڈ کراسنگ تھی جوکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بروقت مددپہنچانے کا بہترین ذریعہ تھا- روڈ کراسنگ پر ریسکیو1122 کی گاڑیاں اور پولیس کے نوجوان ہمہ وقت موجود تھے- ٹریک کی نشاندہی اور ریسرز کی حوصلہ افزائی کے لئے ٹریک کے کئی حصوں کو نامور ریسر کے نام سے موسوم کیا گیا-
کوالیفائنگ راونڈ
4مارچ کوباقاعدہ ریس کا آغاز کوالیفائنگ راؤنڈسے ہوا- پاک چائنہ اکنامک کوریڈور(سی پیک )پہ یارک انٹر چینج کے پاس خطرناک اور بل کھاتےموڑوں پرمشتمل 2 کلومیٹرکاصحرائی ٹریک بڑی مہارت سے بنایا گیا- جسے ڈرائیورزکی صلاحیت کا امتحان جسے کم سے کم وقت میں طے کرناتھا اور یوں اگلے دن اسی ترتیب سے ریس کےلئے روانہ ہوناتھا- کوالیفائنگ راونڈ دیکھنے کے لئے مردو خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی- کوالیفائنگ روانڈمیں حسب توقع کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا- اگر بات کریں پری پیئرڈ کیٹگری کی تو "زین محمود" نے سب سےکم وقت 01:05.43 میں فاصلہ طےکیا- "میر نادرمگسی" دوسرے نمبر پرجنہوں نےمقررہ فاصلہ 01:05.61میں طے کیا- "صاحبزادہ سلطان" 01:07.78کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے- اسی طرح عادل نعیم چوتھےاورشیراز قریشی پانچویں نمبر پر رہے-
اسٹاک کیٹگری کے ریسر ز جنہوں نے کم وقت میں مقررہ فاصلہ طے کیا ان کا احوال کچھ یوں ہے: عقیل احمدنے سب سے کم وقت 01:13.55 میں فاصلہ طے کیا اس طرح وہ پہلے نمبر پر رہے جبکہ "زہیب حسن"دوسرے نمبر پر جنہوں نے مقررہ فاصلہ 01:14.39میں طے کیا- "جیاند ہوتھ" 01:14.72کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے مزید "شکیل بھرچنڈی" چوتھے جبکہ "ربنواز جوئیہ "پانچویں نمبر پر رہے-
اسی شام کنڈی ماڈل فارم پر ریسرز اور دیگر معزز مہمانوں کے لئے پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا جہاں مرغن اورثقافتی کھانوں سے تواضع کی گئی- یہاں خوش گپیوں میں مگھن ریسرز کو دیکھا، ٹریک پہ مدمقابل،مقابل بیٹھے- ریس میں حریف، یہاں حلیف بنے بیٹھے- اس کھیل کی یہی خوبصورتی ہے کہ یہاں رقابت نہیں ہمرکابی ہے-
:ریس کا دوسرادن : اسٹاک کیٹگری
ریس کا دوسرادن (5مارچ) اسٹاک کیٹگری کے لئے مختص کیاگیا- ریسرجیت کا جنون، جوہردیکھانے کا جذبہ، حریف کو ہرانے کی حرص لئے میدان کار زار اور ٹریکِ دشوار گزار پر جانے کو بے تاب دیکھائی دے رہے تھے- دشوار گزار ٹریک پر کئی گاڑیاں رکنے پر مجبور، منزل سے محروم رہیں- اسٹاک کیٹگری کے نتائج کچھ یوں رہے :
اسٹاک 'اے' کیٹگری میں زہیب حسن نے میدان مارلیا، فواد زکوڑی دوسرے جبکہ شکیل برقی تیسرے نمبر پر رہے-
اسٹاک 'بی' کیٹگری میں بسم اللہ مگسی نے سب کوپیچھےچھوڑ دیا، ربنواز جوئیہ دوسرے جبکہ سلطان بہادرعزیز تیسرے نمبر پررہے-
اسٹاک 'سی' کیٹگری میں راشد عبداللہ فاتح رہے، جہانزیب امرانی دوسرے اوراعجاز نون تیسرے نمبرپررہے-
اسٹاک 'ڈی' کیٹگری میں شکیل بھرچنڈی ناقابلِ شکست رہے، فلک شیر بلوچ دوسرےجبکہ تاج خان مہر تیسرے نمبر پررہے-
پری پیئرڈ کلاس :ریس کا تیسرا اور آخری دن
آج ریس کا آخری دن، جہاں جیت کا جنون سر چڑھ کر بول رہاتھاوہیں شائقین کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا- ایڑیاں اٹھا کر، تالیاں بجا کر، نعرے لگاکراور اپنےمحبوب ریسرز کے ساتھ سیلفیاں بناکر کر اپنے موجودگی و دلچسپی کا بھر پور مظاہرہ کر رہے تھے- آج موسم دلنشین اور مزاج یار کی طرح رنگ بدلتا رہا- کبھی ٹھنڈی ہواکے جھونکے، گہرے بادل، ہلکی ہلکی بوندا باندی تو کبھی آنکھیں چندھیا دینے والی کڑاکے دار دھوپ- حسبِ روایت آج زبردست اور کانٹے دار مقابلہ ہوا جس کے حتمی نتائج کچھ یوں رہے :
'اے'پری پیئرڈکیٹگری
اے پریپیرڈ کیٹگری میں" میرنادرمگسی" کی پاور فل گاڑی کے ٹائروں سے اٹھنے والی دھول ناقابل حصول رہی- لیجنڈ نے97 کلومیٹر کا دشوار گزار ٹریک اپنی مہارت سے ایک گھنٹہ، چار منٹ اور چھتیس سیکنڈز(1:04:36 )میں طے کرکے چیمپئن آف ڈیرہ جات ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا- نامور نوجوان ریسر "زین محمود" نے مقرر فاصلہ ایک گھنٹہ، چار منٹ اور باون سیکنڈز (1:04:52)میں طے کرتے ہوئےدوسرا نمبر اپنے نام کیا- پاکستان کے مایہ ناز ریسر، ہنس مکھ، مضبوط اعصاب کےمالک "صاحبزادہ سلطان" نےمذکورہ فاصلہ ایک گھنٹہ، چھ منٹ اور پچیس سیکنڈز (1:06:25)میں طے کیا اور تیسرے نمبر پر رہے-
:'بی' پری پیئرڈ کیٹگری
"اسد حسن خان شادی خیل" ٹریک کی دشواریوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مذکورہ کیٹگری کے فاتح رہے جنہوں نے 97 کلومیٹر کا پرخطر ٹریک ایک گھنٹہ، بارہ منٹ اور بائیس سیکنڈز(1:12:22)میں عبور کیا- یہی فاصلہ "قاسم سیدھی نے ایک گھنٹہ، بارہ منٹ اورانتیس سیکنڈز (1:12:29)میں طے کیا اور دوسرے نمبر پررہے جبکہ "اویس خاکوانی" نے مقررہ فاصلہ ایک گھنٹہ،تیرہ منٹ اور اٹھائیس سیکنڈز (1:13:28)میں طے کیا اس طرح وہ تیسرے نمبر پر رہے-
:'سی' پری پیئرڈ کیٹگری
'سی'پریپیرڈ کیٹگری میں بھی شاندار مقابلہ دیکھنے کو ملا- اپنی کیٹگری میں سید ظہیر حسین نےکٹھن ٹریک پرگاڑی کی پاور اور اپنی صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے مقررہ فاصلہ ایک گھنٹہ، پندرہ منٹ اور اڑتالیس سیکنڈز(1:15:48)میں طے کرکے فتحیابی کا سہرا اپنےسر سجایا- حمل ہوتھ 97 کلومیٹرپر محیط ٹریک ایک گھنٹہ، انیس منٹ اور پینتیس سیکنڈز (1:19:35)میں عبور کرکے دوسرے جبکہ محمود مجید ایک گھنٹہ، بیس منٹ اورچھ سیکنڈز(1:20:06)کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے-
:'ڈی' پری پیئرڈ کیٹگری
حسبِ روایت " ظفر خان بلوچ "گاڑی بھگاتے، دھول اڑاتے، جذبوں کو جگاتے ہوئے ناقابل شکست رہے موصوف ایک گھنٹہ، پندرہ منٹ اور پچپن سیکنڈز(1:15:55) میں ٹریک مکمل کرکے فاتح رہے جبکہ دوسری پوزیشن" بیبرک مزاری "نے حاصل کی انہوں نے یہ فاصلہ ایک گھنٹہ، سولہ منٹ اور انچاس سیکنڈز(1:16:49) میں مکمل کیا جبکہ تیسری پوزیشن "عمر اقبال کانجو" نے حاصل کی ان کا ٹریک مکمل کرنے کا ٹائم ایک گھنٹہ، بیس منٹ اور ایک سیکنڈز(1:20:01)رہا-
وویمن کیٹگری
ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج کی وویمن کیٹگری میں نامورریسرشیراز قریشی کی صاحبزادی "ماہم شیراز نے چیمپئن کا ٹائیٹل اپنے نام کیا- ماہم شیرازنے مقررہ فاصلہ ایک گھنٹہ، اکیس منٹ اورنو سیکنڈز(1:21:09)میں طے کر کے پہلی جبکہ پلوشہ حیات خان نے ایک گھنٹہ، پچپن منٹ (1:55:00)میں ٹریک مکمل کرکے دوسری پوزیشن اوررخشندہ جبین ایک گھنٹہ، چھپن منٹ اورتینتیس سیکنڈز (1:56:33)میں مقررہ فاصلہ طے کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہیں-
اس کے علاوہ لوکل کیٹگری کے مقابلہ جات کا بھی انعقاد ہواجس میں مقامی لوگوں کو جوہر دیکھانے کا موقع میسر آیا- گزشتہ ڈیرہ جات میں ٹرک کی شرکت نے ڈاکار ریس کا نظارہ پیش کیا اس بار جس کی شدت سے کمی محسوس ہوئی-
مجموعی طورپرانتظامات، سہولیات، ٹریک اورمہمانوازی کے حوالے سے ایک زبردست ایونٹ تھا- دعا ہے ڈیرہ میں امن کا ڈیرہ رہےاور ڈیراجات ریس کا انعقاد ہوتا رہے- کیونکہ یہ امن کی، یہ موٹر اسپورٹس کی، یہ پاکستان کی جیت ہے، یہ پاکستان کےپُرامن ہونے کا ببانگِ دھل نقارہ ہے- رب ِ ذوالجلال میری ارض مقدس کو اندرونی لٹیروں، بیرون دشمنوں، ناپاک سازشوں، حسدوں کے حسد، شریروں کے شر، ظالموں کے ظلم سےہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے-آمین