فارمولا ون کے میدان کا روشن نام اور مسٹر چیمپئن لیوس ہملٹن کی زندگی پرنظر
عبدالباسط
بنیادی تعارف
1995ءمیں ہونے والی ایک ایوارڈ تقریب کے دوران لیوس ہملٹن کی ملاقات میکلیرن ٹیم کے باس رون ڈینس سے ہوئی، اُس وقت لیوس کی عمر محض 9 سال تھی- لیوس نے رون ڈینس سے آٹوگراف لیا اور کہا "میں لیوس ہملٹن ہوں" میں نے برطانیہ کی چیمپئن شپ جیت لی ہے اور اب میں آپ کی کاروں کے ساتھ ریس میں حصہ لینا چاہتا ہوں- اس موقع پر رون ڈینس نے انہیں فارمولاون کی ایک ٹیم کی سرپرستی کرنے اور مدد فراہم کرنے کی آفر کی- اس کے بعد ہملٹن نے مسلسل جدو جہد اور محنت جاری رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 13 سال کے دوران ایف-1 کا ٹائٹل 3 دفعہ اپنے نام کیا- ہملٹن بچپن میں اس وقت ہی کار ریسنگ سے منسلک ہو گئے تھے جب 1991ء میں انکے والد اینتھونی نے انہیں پہلی ریموٹ کنٹرول کار لے کر دی- ان کی عمر صرف 6 سال تھی کہ وہ ریموٹ کار ریسنگ میں قومی ریسنگ چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے- ان کی مہارت کو دیکھتے ہوئے انکے والد اینتھونی کو خیال آیا کہ کیا لیوس کی صلاحیتیں موٹر سپورٹس میں منتقل ہو سکتی ہیں-
کارٹنگ: کیرئیر کی ابتدا
لیوس نے 8 سال کی عمر میں کارٹنگ کا باقاعدہ آغاز کیا اور 2 سال کے بعد برطانوی کارٹنگ چیمپئن شپ اور ایس ٹی پی کارٹنگ چیمپئن شپ جیت لی- اسکے بعد انہوں نے فیوچر سیریز چیمپئن شپ، اسکائی ٹی وی کارٹ ماسٹر چیمپئن شپ اور فائیو نیشن چیمپئن شپ اپنے نام کی- بعد ازاں اگلے مرحلے میں جونیئر یاماہا میں ریس لگائی اور دوبارہ فیوچر سیریز کے چیمپئن بن گئے اور ساتھ ہی سپر ون سیریز بھی اپنے نام کی- لیوس پہلے نوجوان ڈرائیور تھے جو 13 سال کی عمر میں میکلیرن ایف ون کی ٹیم کا حصہ بنے- اسی سال انہوں نے جونیئر انٹر کانٹیننٹل اے کی سطح پر گریجویشن کیا اور ساتھ میکلیرن اور مرسیڈیز چیمپئن شپ میں دوسرے نمبر پر رہے- 1999ء میں جونیئر انٹر کانٹیننٹل میں کامیابی حاصل کی، وائس یورپین چیمپئن اور ٹرافی ڈی پومپوزا کے فاتح رہے اور اطالوی اوپن چیمپئن شپ میں چوتھا نمبر حاصل کیا- اسی سال انہوں نے انٹر کانٹیننٹل اے میں ایک اور ریس میں حصہ لیا اور اطالوی انڈسٹریل چیمپئن شپ اپنے نام کی- ایلف ماسٹرز اور اطالوی اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں بھی کامیابی حاصل کی- انکی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے برطانوی ریسنگ ڈرائیور کلب نے انہیں ایک "ابھرتا سٹار" کے طور پر اعزاز سے نوازا-
لیوس ہملٹن نے جتنی کامیابیاں زندگی میں اپنے نام کیں اور چیمپئن شپ کو حاصل کیا انہیں اپنے نام کی جگہ "مسٹر چیمپئن" کہاجائے توبجا ہوگا
فارمولا رینالٹ
لیوس ہملٹن کا موٹر اسپورٹس میں پہلا قدم کچھ خاص نہیں تھا کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی کار نہیں چلائی تھی، یہاں تک کے روڈ کار بھی نہیں- اس سلسلے میں انہیں ایک عام ٹیسٹ دیا گیا جس میں لیوس نے رینالٹ کو 3 لیپس کے بعد گرا دیا- لیکن ٹیم نے انہیں موقع دیا اور دوبارہ ساتھ رکھ دیا، یہ دیکھ کر لیوس پرجوش ہو گئے اور اس حادثے کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا- اس کے بعد برطانوی فارمولا رینالٹ ونٹر سیریز میں لیوس کو پانچویں پوزیشن حاصل ہوئی- اب کامیابیوں کا ایک نیا سفر شروع ہوا، انہوں نے سلور سٹون میں اپنی پہلی جیت حاصل کی اور پھر مسلسل کامیابیاں سمیٹتے گئے، اگلی 10 ریسوں میں سے ایک ریس کے علاؤہ باقی تمام اپنے نام کیں-
فارمولا تھری
سال2001ء لیوس ہملٹن نے برٹش فارمولا تھری چیمپئن شپ میں حصہ لیا جس کے بعد وہ اس سے دور رہے لیکن 2004ء میں فارمولا تھری میں دوبارہ انکی واپسی ہوئی- اس دفعہ برطانوی چیمپئن شپ کے بجائے انہوں نے یورو سیریز میں حصہ لیا اور نوریسنگ اسٹریٹ کے ٹریک پر پانچویں پوزیشن حاصل کی- 2004ء میں ہی لیوس نے بہترین ایف-3 سپر پرکس اپنے نام کیا اور گرینڈ پرکس میں سےایک ریس بھی جیت لی- 2005ء میں چیمپئن شپ اے ایم ایس میں شمولیت اختیار کی اور 20میں سے 15 ریسوں میں کامیابی حاصل کی- اسی سال میں مارلبورو ماسٹرز میں بھی کامیابی حاصل کی جو نیدرلینڈ میں ہوا اور ساتھ ہی موناکو ایف-3 گرینڈ پرکس ریس میں پول پوزیشن حاصل کی، وہ گرینڈ پرکس فرانس میں بھی پول پوزیشن کے چیمپئن بنےـ
میکلیرن 2007ء
ہملٹن نے میک لیرن 2007ء کے سیزن میں پہلی دفعہ حصہ لیا اور پہلی ہی ریس میں زبردست فتح اپنے نام کی جس کے بعد وہ ایک شاندار ابھرتے ہوئے اسٹار بن گئے- اپنی پہلی ریس میں ہی انہوں نے پہلا پوڈیم حاصل کیا جس کے بعد مونٹیریئل اور انڈیاناپولس میں لگاتار 9 ریسز تک اسے کامیابی سے جاری رکھاـ اس جذبے نے انہیں ورلڈ چیمپئن شپ میں 12 پوائنٹس تک لیڈ پر رکھا، لیکن یہ سیزن ایک سمت اختیار کر گیا- الانسو نے اعتراض اٹھایا اور میکلیرن پر فیراری کی غیر قانونی معلومات حاصل کرنے اور استعمال کرنے کا الزام لگا دیا، اس تنازے نے جلد ہی اسپائی گیٹ کا نام حاصل کر لیا- گرینڈ پریکس ہنگارین میں کوالیفائی کرتے ہوئے ہملٹن کے ساتھی ریسر الانسو نے شروع سے ہی ہملٹن کو فائنل کوالیفائنگ راونڈ تک روکنے کی کوشش کی، جس پر سٹیوارڈ نے الانسو پر جرمانہ عائد کیا اور لیوس کو پول پوزیشن سونپ دی- الانسو نے ڈینس کو دھمکی دی کہ اگر اسے ٹیم میں اعلیٰ پوزیشن نہ دی گئی تو وہ راز کو مزید کھول دے گا- ڈینس نے صاف انکار کر دیا جس پر الانسو اور ٹیم کا آپسی تعلق خراب ہو گیا- الانسو نے تمام راز کھول دیئے جس کی بنا پر ٹیم پر ایک بھاری جرمانہ عائد ہواـ
میکلیرن 2011ء اور مشکلات
2011ء سے قبل کے دو سے تین سال لیوس کے لیے اچھے نہ تھے، 2009ء کے سیزن کی پہلی دوڑ کے دوران جھوٹ بولنے پر انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا- لیوس اور انکی ٹیم کی غلطیوں کے باعث ہملٹن کو نتائج سے ڈسکوالیفائی کر دیا گیا- اس پر انہوں نے برملا میڈیا کے سامنے آکر اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اس غلطی پر معافی مانگی- اس کے بعد 2010ء میں وہ واپس آئے، ترکی اور کینیڈا میں اپنی جیت منوانے کے بعد تیسری جیت بیلجیئم میں حاصل کی- تاہم اس جیت کے بعد ہونے والے تصادم کی وجہ سے انہیں اٹلی اور سنگاپور سے واپس کر دیا گیا- اس سے اگلے سال 2011ء میں ویٹل نے فارمولا ون پر اپنی دھاک جما لی تھی، دوسری جانب ہملٹن نے چین میں اپنی تیسری ریس جیتی اور ویٹل کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے ریس اپنے نام کر لی-
میکلیرن سے مرسیڈیز کا سفر
لیوس ہملٹن کا میکلیرن کے ساتھ 5 سالہ معاہدہ تھا، 2012ءکے سیزن میں مختلف فتوحات حاصل کی لیکن یہ معاہدہ اختتام پذیر ہو گیا- وہاں سے ہملٹن کی ریس کی زندگی کا ایک نیا سفرمرسیڈیزکے ساتھ شروع ہوا- 2013ء میں وہ باقاعدہ مرسڈیز کے ساتھ منسلک ہوئے جو کہ ان کے لئے مفید ثابت ہوا- ہملٹن کی شمولیت کے بعد اسی سیزن میں مرسیڈیز نے 3 ٹائیٹل اپنے نام کیے جبکہ میکلیرن پانچویں نمبر پر رہی- مرسیڈیز کے ساتھ اپنے پہلے ہی سیزن میں 3 میں سے ایک فتح ہملٹن کے حصے میں آئی- اس کے بعد اگلے سال مرسیڈیز کی نئی جنریشن کی وی-6 ہائیبرڈ پر ہملٹن نے مکمل طور پر عبور حاصل کیا اور اس سیزن کا دوسرا اعزاز اپنے نام کیا- ہملٹن نے 2015ء میں چیمپئن رہتے ہوئے اپنے ہیرو آرٹن سینا کا ریکارڈ توڑ دیا- 12 ریسز میں سے ہملٹن نے 11 میں پول پوزیشن سے شروعات کی، اکثر کو فتح میں تبدیل کیا اور چیمپئن شپ میں فتح اپنے نام کی-
ایک نیا موڑ
مسلسل فتوحات کے بعد ہملٹن اچانک مرسیڈیز کے th4سیزن میں پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے- حیران کن طور پر ریس کے دوران ان کی گاڑی ٹریک سے اتر گئی اور وہ ریس کو مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے- 2017ء میں روزبرگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بہتر ساتھی ریسر ڈھونڈنا کافی مشکل تھا، تاہم ولیمز کو بہترین ساتھی سمجھ کر ہملٹن نے اپنے ساتھ شامل کر لیا- اس جوڑی نے اسپین میں ہونے والے سیزن کے ابتدائی نصف میں سخت مقابلہ کیا، لیکن بعد میں کافی مشکلات پیش آئیں- انہوں نے ہمت و مہارت کا مظاہرہ جاری رکھا اور آخر کار امریکہ میں ہونے والی چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کر کے چوتھا عالمی ٹائیٹل اپنے نام کیاـ اگلے سال بھی فتوحات کا یہ سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے اپنی چیمپئن شپ کا زبردست دفاع کیا- آذربائیجان میں ہونے والی ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کی- اس کے بعد مختلف فتوحات حاصل کیں اور ایک دفعہ پھر برازیل اور ابو ظہبی میں پانچویں عالمی چیمپئن شپ کو اپنے نام کیا-
کرونا وباء اور ہملٹن کی کامیابی
فیراری جو کہ مرسیڈیز کے مقابلے میں کافی تیز اور بہتر تھی، بوٹاس نے 2019ء کی پہلی ریس جیت لی جس پر ہملٹن کی بالادستی خطرے میں پڑ گئی- لیکن لیوس ہملٹن نے زبردست مہارت کا مظاہرہ کیا اور اگلی 2 ریسز میں فیراری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر کے سب کو حیران کر دیا- اس کے بعد روس اور میکسیکو میں بھی لیوس نے جیت اپنے نام کی- کرونا وباء کے دوران لیوس نے وہ ریکارڈ تور دیئے جو کبھی توڑے نہیں جا سکتے تھے- وباء کے باوجود 2020ء کے سیزن کے دوران ہملٹن نے نصف سے زیادہ فتوحات حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ کسی قسم کے حالات اور مشکل کے دوران بھی وہ روکنے والے نہیں ہیں-
گزشتہ سال اور لیوس ہملٹن
فارمولان ون کےسیزن 2021ء کی ریسزمیں سےبرازیل میں 14 نومبر ، قطر میں 21 نومبر اور سعودی عرب میں 5 دسمبر کو ریسز منعقد ہوئیں اور ان تینوں میں لیوس ہملٹن فاتح رہے- سال2021ء کی یہ دوسری ہیٹرک تھی- اس سے پہلے میکس ورسٹاپن نے ہیٹرک کی تھی- مزید فارمولا ون سیزن 2021ء میں کل 23 ریسز ہوئیں جن میں سے 8 لیوس ہملٹن نے جیتیں (ایک ہیٹرک کے ساتھ)-