پاکستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجوہات اور ان کا حل
Blog Single

 

پاکستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجوہات اور ان کا حل

ندیم اقبال

پرانے وقتوں میں انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ(Source to Destination) جانے کا پیدل سفر سالوں، مہینوں اور ہفتوں میں کرتا تھا- اُس کے بعدہاتھی، اونٹ اور گھوڑے؛ سواری کی زینت بنے حتی کہ کسی بھی جانور کوسدھا کر سواری کیلئے یاسفر میں استعمال کیا گیا- زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ سفر میں جدت آنے سے ذرائع سفر بھی جدید ہو تے چلے گئے جسکی بدولت فاصلے سمٹ کرچند گھنٹوں میں رہ گئے- جب ٹیکنالوجی پر انحصار کرلیا گیا توڈرائیورکم وقت میں زیادہ سے زیادہ سفرطےکرنے لگےجس وجہ سے وہ سفر کے ((Rules and Regulation کو کم تر جانتے ہوئے تیز رفتاری سےمنزل کیلئے رواں دواں نظر آئے- جب بھی ڈرائیورحدِسپیڈ تجاوز کر جائے تو حادثات جنم لیتے ہیں اور یہاں تک کہ وہ آخری منزل (یعنی موت) کو گلے لگا لیتاہے- پاکستان میں حادثات کی شرح ہر روز بڑھ رہی ہےتقریباً ہر پانچ منٹ بعدروڈ حادثہ میں ایک شخص جان کی بازی ہار جاتا ہے یا پھر زندگی بھر کیلئے معزور ہو جاتا ہے-

:پاکستان میں حادثات بڑھنے کے بہت سے عوامل ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ ذیل میں کیاگیا ہے

ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں سے سڑکوں کا خستہ حال ہونا، وہیکل رفتار میں تجاوز کرنا، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی تعمیر،گاڑی میں خرابی،اوورلوڈنگ، ٹریفک قوانین کی خلاف وزری، غلط اوورٹیکنگ، سگنل توڑنا، ڈرائیونگ قوانین سے لاعلمی، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور ایک مدت سےزائدٹائر وں کااستعمال، سردیوں میں شاہراہوں پردھند اور سموگ، سٹریس اور ایمر جنسی میں گاڑی ڈرائیور کرنا، دوران ِ ڈرائیونگ نیند کا آنا، سیٹ بیلٹ کے استعمال سے گریز، گاڑیوں میں ائیر بیگزکا نہ ہونا، یہ وہ اہم عوامل ہیں جن کی وجہ سےٹریفک حادثات پیش آتے ہیں لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے- زیادہ تر ٹریفک حادثات ڈرائیور کےغیر محتاط رویے کی وجہ سے پیش آتے ہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے-

:سڑکوں کی خستہ حالی

ملک میں اشیاءخُوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کیلئےسڑک کا پائیدار اور مضبوط ہونا بہت ضروری ہے جسکی وجہ سے بروقت منڈی میں سامان کی ترسیل ممکن ہے پاکستان میں ضلعی سطح پرموٹروے روڈ قابل تعریف ہیں لیکن اندرونِ شہر روڈ کا انفراسٹریکچر بالکل خستہ حال ہے- یہاں تک کہ نئی بنی ہوئی شاہراہوں میں بڑے بڑے شگاف کا پیدا ہونااور ایک حصہ خستہ حال یا زیر ِتعمیر چھوڑ دینا نئے ڈرائیور کیلئےاُسکی گاڑی کی تباہی کے ساتھ ساتھ زندگی کیلئے بھی خطرہ کا باعث بنتی ہیں-

:آور سپیڈاور روڈ ریس

انٹر نیٹ کی فراہمی سے جہاں لوگوں میں سپورٹس کے شوق کو پذیرائی حاصل ہوئی ہیں وہی لوگوں کے ذوق میں بھی آور سپیڈ کا رجحان بڑھنے میں دیکھا گیا ہے- گاڑی کی آور سپیڈ اپنی زندگی کو نقصان پہنچا نے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی کیلئےبھی خطرے کا پیش خیمہ بنتی ہے- ریس وہ واحد کھیل ہے جس میں ڈرائیور اپنی زندگی اور گاڑی کی پرواہ کیے بغیر جیت کیلئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے لیکن اس کھیل میں ڈرائیور کی زندگی کیلئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ گاڑی کیلئے بھی حفاظتی اقدامات مکمل کئے جاتے ہیں- لیکن عوام کو اس بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ روڈ پر حفاظتی اقدامات اور موت کا خوف کیے بغیرون ویلنگ اور ریس کرتے ہیں جہاں وہ دوسرے ڈرائیور اور گاڑیوں کیلئے باعث خطرہ ہیں وہی وہ پیدل چلنے والے شہری کیلئے بھی موت کا سبب بنتے ہیں-

:آور لوڈنگ 

پاکستا ن میں ہیوی وئیکلز جو سامان کو منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں اکثر حادثات کا بنتی ہیں-  جسکی وجہ آور لوڈنگ ہے- اس میں وہیکل مالکان کا کہنا ہے کہ جو لوگ سامان کو منتقل کرنے کیلئے وہیکل منگواتے ہیں اُن کی طرف سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ تمام سامان ایک وہیکل پر لوڈ کر دیا جائے جس وجہ سے زیادہ تر وہیکل آور لوڈ ہوتی ہیں- جس جگہ NHA (National Highway Authority) کےماتحت روڈہیں وہاں پر باقاعدہ کانٹے سےوزن کی پیمائش کی جاتی ہے اورآور لوڈ وہیکل کو سفر کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن عام شاہراہوں میں جو شہر کے اندر واقع ہیں آور لوڈ وہیکل سے روڈ کی خستہ حالی اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے -

: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی 

ٹریفک قوانین ڈرائیور کی حفاظت کیلئے بنائے گئے ہیں جس پرعمل کرناہرشہری اورہرسڑک استعمال کرنے والےشخص پرفرض ہے - یہ قوانین بہت سی جانچ پڑتا ل کے بعد بنائیں جاتے ہیں جس میں ڈرائیور اور وہیکل دونوں کی حفاظت کیلئے ضروری ہدایات بورڈ پرآویزاں کی جاتی ہیں- جس وقت ڈرائیورکو لائسنس جاری کیا جاتاہے اُس سے پہلے کلاسزمیں ٹریفک قوانین کے بارے میں پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہے- بدقسمتی سے پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں ڈرائیور لائسنس، بغیر کلاس اور ڈرائیونگ ٹیسٹ کے جاری کر دئیے جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ شخص اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے-

:دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال 

موبائل فون جہاں لوگوں سے رابطے کیلئے آسانی کا باعث ہے وہیں اس کاغلط استعمال موت کا سبب بھی بنتا ہے- ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر سال 16لاکھ حادثات ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے سے ہوتے ہیں- یہ ہر ڈرائیور کا حق بنتا ہے کہ دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال یا کال مت کرے، اگر سخت ضرورت ہے تو گاڑی کو پارک کر کے کال کی جائے جس سے وہ اپنی اور دوسرے لوگوں کی زندگی بچا سکتا ہے-

:دوران ڈرائیونگ حفاظتی اقدامات کا فقدان

ترقی یافتہ  ممالک میں موٹر سائیکل، کار، ہیوی وہیکل یا لائیٹ وہیکل حتی کہ سائیکل سوار کو بھی حفاظتی اقدامات کے بارے آگاہی ہوتی ہےکہ وہ کون سے حفاظتی اقدامات کر کے اپنی زندگی کی حفاظت کر سکتا ہےلیکن بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حفاظتی اقدامات پرتوجہ نہیں دی جاتی مثلاً سائیکل اور موٹرسائیکل سوار کیلئے دورانِ سفر ہیلمٹ کے استعمال سے اجتناب کرنا، سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا، وہیکل میں Anti-Lock Braking system اور Air Bagانسٹال نہ کروانا، آور ٹیک کرتے وقت وہیکل سگنل کا استعمال نہ کرنا، غلط اور ٹیک کرنا، گاڑی غلط پارک کرنا، مناسب سپیڈ کے استعمال سے اجتناب کرنا، سپیڈ میٹر پر نظر نہ رکھنا، وئیکل میں اے سی اور ہیٹر کابے دریغ استعمال کرنا، یہ وہ عناصر ہیں جن کو روکنے اور کم کرنے کیلئے حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے جس کو اپنا کرہم اپنی زندگی محفوظ بنا سکتے ہیں-

:دھندمیں اضافہ، نیند میں کمی اور نشے کے استعمال سے حادثات

سردیوں کی شدت سےدھند میں اضافہ  ہوجاتا ہے پاکستان میں بھی دھند ایک بڑی حد تک ٹریفک حادثات میں اضافے کا باعث بنتی ہےاورموسم سرمامیں کئی لوگ اپنی زندگی کی بازی دھند میں ہونے والے حادثات کی وجہ سے ہار جاتے ہیں یا پھر شدید زخمی ہو جاتے ہیں- کہا جاتا ہے کہ نیند آدھی موت ہے ڈرائیور مسلسل اور طویل سفر کی وجہ سے نیند پوری نہیں کر پاتے اورنیندپوری کیے بغیر ڈرائیونگ کرتے ہیں جس وجہ سےوہ اپنی اور دوسروں کی موت کا باعث بنتے ہیں- نشہ وہ لعنت ہیں جس سے نجات حاصل کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن ہیں بہت سےہیوی وہیکل ڈرائیور دوران ڈرائیونگ نشہ استعمال کرتے ہیں اور پھر وہیکل ڈرائیو کرتے ہیں جس سے اعصاب بے قابو ہوجاتے ہیں اور یوں حادثات واقعہ ہوتے ہیں-

:حادثات سے بچاو کیلئے حفاظتی تدابیر 

حادثات اللہ کی طرف سے موت کا ایک بہانہ ہے جس میں زیادہ تر ڈرائیور کی لاپرواہی بھی شامل ہے اس لیے ڈرائیونگ کے دوران احتیاطی تدابیر اور اقدامات ہمیں بہت سی اموات کے ساتھ ساتھ عمر بھر کی معذوری سے بھی بچا سکتے ہیں- سائیکل ڈرائیو کرتے وقت ہیلمٹ کا استعما ل عموماً اور موٹر سائیکل ڈرائیو کرتے وقت بالخصوص کرنا چاہیے سردیوں میں ان سواریوں کیلئے دستانوں اور سامنے آنے والی ونڈ سے بچاو کیلئے ٹرانسپیرنٹ پلاسٹک کااستعمال کیاجائے- گاڑی ڈرائیوکرتے وقت سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنایا جائے- اورٹیک کے دوران سگنلز کا استعمال کیا جائے- مزید شاہراہوں پر ٹریفک سگنل کی پابندی کی جائے-

:ٹریفک حادثات سے بچاؤ کیلئے حکومتی سطح پر اقدمات کی ضرورت

بڑھتی ہوئی عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے روڈ انفراسٹریچر میں مسلسل بہتر ی لانے کی ضرورت ہے- رکشہ ڈرائیونگ لائسنس ضروری قرار دیا جائے- ڈرائیور زکی ٹریننگ کیلئے مختلف Simulators  استعمال کیے جائیں اوراس دوران حادثات سے بچنے کی مختلف حکمت عملی کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے- ایسی گاڑیاں امپورٹ کی جائے جن میں Air Bag اور Anti-Lock Braking System موجود ہویا انسٹالیشن کی سہولت ہو- سگنل پر خود کار کیمرہ سسٹم انسٹال کیا جائے  اور اسکی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے- پبلک ٹرانسپورٹ پر عوامی سفر محفوظ بنایا جائے اور صرف اُن وہیکل کو سفری اجازت نامہ دیے جائیں جن وہیکل کی حالت درست ہو- اسکے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ریس کرتی گاڑیوں کیلئے ایک ایمرجنسی کال سنٹر بنایا جائے جس پر لوگ سفر ی تحفظات کے بارے آگاہ کر سکیں اور اُس پر فوری ایکشن لیا جائے- مزید برآں! شاہراہوں پر ہر سال فوگ لائن کو نیو کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دھند کی وجہ سےہونے والےٹریفک حادثات میں کمی لائے جا سکے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ