ڈیرہ جات میلہ :ڈیرہ میں امن کے ڈیرے
Blog Single

ڈیرہ جات میلہ :ڈیرہ میں امن کے ڈیرے

پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے موٹر سپورٹس بڑی تیزی سے پھل پھول رہا ہے، کچھ سال پہلے جہاں دہشت گردی کے ڈیرے تھے وہ ڈیرہ اب امن کا ڈیرہ بن گیا ہے، وہ ڈیرہ سے ڈیرہ جات بن کر پاکستان کی سب سے شاندار اور منظم ریلی کروا رہا ہے- ایسے علاقے جہاں ریلی تو درکنار ڈر و خوف کے باعث بازار میں جانا محال تھا وہاں 116 کلومیٹر کے طویل ٹریک پرآف روڈ ریلی منعقد کی گئی- دہشت گردی کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی تھا جن پر بہت سی قربانیوں اور کوششوں سے قابو پایا گیا اور ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج کے نام سے موسوم ریلی کے پرامن اور کامیاب انعقاد نے ثابت کردیا ہے- پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑسے اکھاڑپھینکا،یہاں انٹر نیشنل کرکٹ کی ازسرنو بحالی ہوئی،دیار ِاغیار سے کھلاڑی اور سیاح پاکستان میں پھر سے آنا شروع ہوئے جہاں دیگر کھیلوں میں ایک بار پھر جان پڑی وہیں جیپ ریلی کیلنڈر میں ہر سال اضافہ، نئے ٹریک اور علاقہ جات کا دریافت ہونا بھی خوش آئند ہے-

ڈیرہ جات آف روڈ ریلی انتظامات کے حوالے سے شاندار تھی جس کا ہر ریسرمعترف نظر آیا- جس طرح سے ڈیرہ جات 2021ء آف روڈ ریلی کا کامیاب ایونٹ ہوا اس کا سہرا صوبائی حکومت کےپی کے، محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا، لوکل گورنمنٹ، ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، پاک پولیس، ریسکیو 1122اور فوربائی فور کلب کے سر جاتا ہے- مزید امین بردارزنے اپنی خدمات سےایونٹ کو کامیاب کرنے میں اہم کردار ادا کیاجبکہ ڈیرہ کی عوام نے پُرجوش طریقے سے شرکت کرکےملک بھر سےآئے نامور ریسرز کی حوصلہ افزائی کی اور بے مثال میزبانی کی مثال پیش کی- مزیدپاکستان بھر سےآئے اس ایونٹ کی جان اور رونق یعنی ریسرز کی شرکت نے ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج کو چارچاند لگادیئے- اس کے ساتھ ہی اس احسن و خوبصورت کام کی ابتداء کرنے کا سہرا کمشنر ڈیرہ ڈویژن یحییٰ اخونزدہ کے سر سجتا ہے-

ڈیرہ جات ریلی اس پورےمیلے کا ایک حصہ تھا جو ڈیرہ اسماعیل خان کی حکومت(مقامی حکومت) کیطرف سےمنعقد کیا جارہا تھا لیکن کرورونا وباء کے بڑھتےکیسز کے پیشِ نظر حکومت نےدیگر روایتی و تاریخی کھیل کبڈی،نیزہ بازی،پہلوانی ،کشتی یا پھر اونٹوں کا شو، گھوڑا ڈانس اورگلوکاروں کا فن اس طرح کےایونٹ منسوخ کرکے اسے صرف آف روڈ ریلی تک محدود رکھا- آف روڈ ریلی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہےکہ اس کا ٹریک وسیع علاقے میں پھیلا ہوتا ہے ، کوئی خاص گروانڈ مختص نہیں ہوتا ، اس کھیل کا نظارہ اور لطف اندوز ہونے کے لئے ناظرین کے پاس پورا ٹریک موجود ہوتا ہےجوجہاں سے چاہے برق رفتار گاڑیوں کے پہیوں سے اڑتی دھول اور ریسرز کی مہارت کا چشم دید گواہ بنے- کسی مخصوص جگہ لوگوں کا جمع غفیر نہ لگنے سے مہلک وائرس (کرونا) سے بھی بچا جاسکتا ہے اور تفریح کا موقع بھی میسر رہتا ہے- دیگر کھیلوں کی نسبت آف روڈ ریلیز میں ماسک کا استعمال زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے ، ماسک کا استعمال گرد و غبار سے بھی محفوظ رکھتا ہے اس طرح حکومت کے فرامین  کی بجاآوری بھی ہوجاتی ہے-

شائقین اور ریسر ز اس ریلی کے نہ صرف گرویدہ نظر آئے بلکہ اسے ہر سال منعقد کروائے جانے کی بھی خواہش کا اظہار کیا- ڈیرہ جات میں جہاں مقامی لوگوں میں گرم جوشی تھی، وہیں موسم بھی گرم تھاکچھ ریسر ز کی جانب سے اس ریلی کے لیےدوستانہ ماحول کی طرح دوستانہ موسم میں ریلی کے انعقاد پر زور دیا گیا- مزید براں! ریسرز کی جانب سے اس ٹریک کو بڑھانے کی فرمائش کا اظہار بھی کیا گیا- خوبصورت درختوں کا ٹریک کے قریب ہونا دلکش ہونے کے ساتھ گاڑیوں کے لئے مشکل اور ریسرز کی مہارت کا امتحان ثابت ہوا- ٹریک کی تنگ دامنی اورٹیکنگ میں مشکلات کا باعث بنی -

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ