چند برس پہلے تک پاکستان کے جو علاقے دہشت گردی کی زد میں تھے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان کا نام نمایا ں نظر آتا تھا آئے روز دھماکوں کی خبریں اخبارات کے صفحات کو سیاہ کرتی تھیں گویا" روزاک سوگ چلاآتا ہے اخبار کے ساتھ " گولیوں کی گھن گرج اور دھماکوں کی خوف ناک آوازوں کا در و دیوار میں لرزہ طاری کرنا معمول تھا- ایمبولیس کے سائرن، زخمیوں کی آہ و بکاہ، خون میں لت پت لاشیں خوف و ہراس میں اضافہ کرتیں- ڈیرہ اسماعیل خان گویا رزم گاہ کا منظر پیش کررہا ہوتا- ہرآنکھ میں خوف و ہراس ، ہر چہرہ مرجھایا، ہر دل سہما، ہونٹ تبسم سےعاری، ڈر، خوف اور مایوسی کا راج ہوا کرتا تھا- گلیاں ویران، کوچہ و بازار سنسان ہوا کرتے- گھر سے نکلتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا- معلوم نہ تھاکہ "نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے"–لیکن ظلم کا خاتمہ اور ظالم کا کیفرکردار کو پہنچنا مقدر ہوا کرتا ہے-
افواج پاکستان اور ہماری سیکورٹی فورسسز کی انتھک کاوشوں اور حبّ الوطنی کے جذبے نے دشمن کی ہر سازش کوناکام بنایا اور دہشت گردی کے ناسور کو نیست و نابود کر دیا-ظالم کو شکستِ فاش ہوئی،مظلوم فتح یاب ہوا- قوم کے بیٹوں کی قربانیاں بارآور ہوئیں اور اسی کا ثمر ہےافواجِ پاکستان نے دہشت گردی پر کامیابی سے قابو پالیا- قوم کے سپوتوں نے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کیا اور ہمارے لئے کئی شہادتیں پیش کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ڈیرہ اسماعیل کی فضا اپنے پرامن ہونے کا اعلان کر رہی ہے- لوگ خوشگوار و پرسکون زندگی گزار رہے ہیں گلیوں میں زندگی کی چہل پہل ہے ، کوچہ و بازار بارونق ہیں، گولیوں کی گھن گرج کی بجائے بچوں کی کھکھلاہٹ ہے،ڈھول کی تھاپ پر لوگ بھنگڑے اور روایتی رقص کرتے نظر آئے- الحمداللہ-
جس کی تصدیق حالیہ"ڈیرہ جات جیپ ریلی" کے کامیاب انعقاد سے ملتی ہے- اس ریلی کے انعقاد نے پاکستان کے پُر امن ہونے کا ڈنکا بجایا- جی ہاں! جہاں دھماکوں اور گولیوں کی آواز کی بجائے فراٹے بھرتی گاڑیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، جہاں دھماکہ خیز مواد سے اٹھنے والا دھواں نہیں بلکہ گاڑیوں سے اٹھنے والی دھول تھی- اب پھولوں کا ایک اور مصرف تھا یہ پھول میتوں پر نہیں، آنے والے ریسرز اور ان کی گاڑیوں پر نجھاور کئے جارہے تھے - پانی زخمیوں کی بجائے مہمانوں کو پلایا جارہا تھا-
اگر ڈیرہ جات جیپ ریلی کے ٹریک کی بات کی جائے تواس کی انفرادیت یہ تھی کہ یہ ٹریک پاکستان کے تمام بڑے ٹریکس کی خصوصیات کا حسین امتزاج لئے ہوئے تھا- "صحرائے چولستان "جیسی ریت اور مٹی، تو کہیں "صحرائے تھل "جیسے ریتیلے ٹیلے، گند م، چنااور سرسوں کی لہلہاتی فصلیں،کہیں "جھل مگسی"جیسا سخت اور پتھریلا رستہ، تو کہیں "حب " جیسے دشوار گزارموڑ (ڈرفٹ)، کہیں "سیدھے ٹریک پر گاڑی کی تیزرفتاری "گوادر" کی یاد دلا رہی تھی- جہاں پہاڑ ی سلسلے سے گزرتا ٹریک " ایبٹ آباد "کی منظر کشی کررہاتھا وہیں پہاڑ کے دامن میں موجود ٹریک سکردو کے " سرفرانگا" کا منظر پیش کر رہا تھا- غرض یہ ایک مثالی ٹریک تھا جس میں پاکستان کے ہر ٹریک کی چیدہ چیدہ خصوصیات دیکھنے کو مل رہی تھیں اورٹرک کی شرکت نے "ڈاکار ریس " کی جھلک پیش کی-
ٹریک خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سنگین بھی تھا، گاڑی اور ڈرائیور دونوں کے لئے کڑا امتحان ثابت ہوا- ٹریک ایسا تھا جس پر ٹائر وں کی گرفت دشوار تھی- اکثر گاڑیاں اپنا سفر مکمل کرنے میں ناکام رہیں- کھجوروں بھرے اس صحرا میں، بیری اورکیکر ٹریک کی خوبصورتی کو چار چاند تو لگارہے تھے لیکن ان کاٹریک کےقریب ہونا ریسرز کی مہارت کا امتحان تھا- ٹریک کے پہلوبہ پہلو درخت محتاط ڈرائیونگ کے متقاضی تھے تھوڑی سی غفلت آپ کی ریس کا مزا کِرکِر اکرسکتی تھی- ٹریک کا کچھ حصہ سی پیک روٹ کے ساتھ ہونے سے گزرنے والوں کو شائقین بنانے میں کافی معاونت کر رہاتھا- سی پیک روٹ پرجگہ جگہ شائقین کا تانتا بندھا ہوا تھا- ٹریک میں جہاں بہت سی خوبیاں تھیں وہیں کچھ ریسرز ٹریک کے تنگ ہونے کا تذکرہ بھی کر رہے تھے-
پاکستان کے نامور ریسرز لیجنڈمیر نادرمگسی، چیمپئن صاحبزادہ سلطان، جارح مزاج جعفر مگسی، سرخیل رونی پٹیل، نوجوان زین محمود، تجربہ کار نعمان سرانجام، ماہرآصف فضل چوہدری، نقصان رساں فیصل شادی خیل، پختہ کار انس خاکوانی سمیت خواتین کیٹگری سے مستقل مزاج تشنہٰ پٹیل نے بھی شرکت کی- یقیناً ان احباب کے آنے سے ریلی کی رونق میں اضافہ ہوا- ریسرز نے اس ریلی میں شرکت کرکے خوشی محسوس کی- ریسرز اس علاقے کے نہ صرف گرویدہ دکھائی دیے بلکہ ڈیرہ جات جیپ ریلی کے سالانہ انعقاد کی خواہش کا برملا اظہار بھی کیا- کچھ ریسرز اس ریلی کے انعقاد کے لئے دوستانہ موسم کے خواہش مند نظر آئے اُن کا کہنا تھا کہ ایسے موسم کا انتخاب کیا جائے جو گاڑی اور ڈرائیورز کے لئے سود مند ہو-
"ڈیرہ جات جیپ ریلی" کا انعقاد پہلی دفعہ ہوا لیکن اس کے باوجود اس کے انتظامات بہت شاندار تھے- اکثر ریسرز کو یہ کہتےسنا کہ پہلی ریلی اس قدر منظم طریقےسے منعقد کرنا یقیناً بہت بڑی کامیابی ہے- ہر تقریب کے لئے علیحدہ سے گراونڈ سجایا گیا-کوالیفائنگ راؤنڈ کے لئے ایک نجی کالونی میں میدان سجا، ریس کا سٹارٹ سی پیک پہ موجود "یارک انٹر چینج" کے پہلوسےکیا گیا- ڈرائیور میٹنگ کا انعقاد کہیں اور توتقریبِ تقسیم ِ انعامات کا سٹیج ایک اسٹیڈیم میں سجایا گیا جہاں ڈھول کی تھاپ تھی، شہنائی کے سُر،تالیوں کی تال، سیٹیوں کی گونج تھی تو گھوڑا ڈانس نے سماں باندھااور آتش بازی نے شائقین کی خوشی کو دوبالا کردیا-
سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے پاک آرمی کے جوان ، ایف سی اہلکار اور خاص کر پولیس کےشیردل پورے ٹریک پہ جگہ جگہ موجود تھے- جن کا کام ریسرز کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عام گزرگاہوں ( جہاں جہاں سے ٹریک روڈ کراس کر رہا تھا ) کے پیشِ نظر مقامی افراد کو حادثات سے محفوظ رکھنا تھا- صبح سے لے کر شام تک اہلکار اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے- منتظمین کی کاوشیں قابلِ ستائش تھیں بلخصوص خیبرپختونخواہ گورنمنٹ، کمشنر یحییٰ اخوانذادہ، ڈپٹی کمشنر عارف اللہ، بابرخان، عمرامین گنڈہ پور اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے پوری دلجمعی اور دن رات کی تگ ودو سےاس ایونٹ کے شاندار انعقاد میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا-اس ریس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ مقامی افراد کو بھی ریس میں شمولیت کا موقع دے کر اُن کی حوصلہ افزائی کی گئی -
جہاں مذکورہ بالا شخصیات نظر آتی ہیں وہیں " صاحبزادہ سلطان " کا تذکرہ نہ کرنا ، ناانصافی ہوگا – جی ہاں! اس ایونٹ کی کامیابی میں صاحبزادہ سلطان صاحب کی کاوشیں ناقابلِ فراموش ہیں- ابھی ٹریک کی نشاندہی کی جارہی تھی اسی وقت سے صاحبزادہ سلطان یہاں موجود تھے، کہیں اپنے تجربے سے ٹریک کی نشاندہی کررہے تھے تو کہیں ٹریک کی چیکنگ کےلئے گاڑی دوڑارہے تھے، سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پہ اپنے مختلف انٹرویوز اور پیغامات کے ذریعے اس ریس کا تذکرہ اور اس ریس میں شرکت کے پیغامات بھی نشر کئے- اگر یہ کہاجائے کہ اکثرریسرز صاحبزادہ صاحب کی دعوت پہ اس ریس میں شریک ہوئے تو یہ بےجا نہ ہوگا- ریلی میں"ٹیم سلطان"کے مداحوں کی کثیر تعداد سر پہ ٹیم سلطان کی کیپ، ہاتھوں میں ٹیم سلطان کی جھنڈیاں، آنکھوں میں محبت، دلوں میں نیک تمنائیں اور زبانوں پہ " پاکستان پائندہ باد ،پاک فوج پائندہ باد "کے واشگاف نعرے بلند کرتے ٹریک کے اطراف میں نظر آئے-
مقامی افرادکی خوشی قابل دید تھی، ٹریک کے اطراف میں موجود لوگ نہ صرف محاورۃً بلکہ حقیقتاً گزرتی گاڑیوں پر پھول کی پتیاں نچھاور کر کے اپنی خوشی و شادمانی کا اظہار کررہے تھے- "ڈیرہ پُھلاں دا سہرا" یہ محاورہ یہاں کے باسیوں کی محبت و مہمان نوازی کی عکاسی کرتا ہے یہ محاروہ سُن تو رکھا تھا لیکن اس کا اصل مفہوم اس ریلی میں عیاں ہوا-
واضح رہے کہ ریس کا ٹریک "دامان " کے علاقہ میں بنایا گیا تھا ،یہاں پانی کڑوا ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہے- مقامی لوگوں سے گفتگو ہوئی جن کاکہنا تھا کہ قابلِ استعمال پانی تقریباً 800 ٖفٹ نیچے ہے- واٹر سپلائی برائے نام ہے، لوگ 10 کلومیٹر دورتک سے پانی لاتے ہیں- یہ لوگ پانی کی شدید قلت کے باعث ناصرف اپنے لئے بلکہ جانوروں کےلیے بھی پانی خریدنے پر مجبور ہیں- پانی کے اس بحران کے باوجود ٹریک کے اطراف میں موجود مقامی لوگ ہاتھوں میں مشکیزے لئے ہر گزرتی گاڑی میں موجود ریسر کو پانی پیش کرنے کی جستجومیں تھے- کہیں کوئی روٹی سے بھری چنگیر لئے کھڑا تھا تو کہیں چائے کا تھرمس اٹھائے، کہیں روایتی "قہوہ"سے بھری چینک تو کہیں فروٹ سے لدی طشتری، ہاتھ لہرا لہرا کر مہمان نوازی کا موقع مانگ رہے تھے-
چونکہ ٹریک کافی دشوار تھا اور اکثر گاڑیوں کے لئے ناقابلِ عبور ثابت ہوا، گاڑیاں خراب بھی ہوئیں ایسی صورت میں مقامی لوگوں نے ریسرز کو ہر ممکن سہولت ومدد بہم پہنچانے کی بھرپور کوشش کی ہرچند کہ یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ گاڑی خراب ہونے یا گاڑی کا ٹائر اترجانےکی صورت میں یا گاڑی کوکوئی حادثہ پیش آنے کی صورت میں کیا کرنا ہے لیکن پرُ خلوص انداز میں مدد کرنے کو ضرور پہنچ جاتے-
شائقین کی کثیر تعداد ٹریک کے اطراف میں موجود ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دور سے آتی گاڑی کی دھول کو دیکھنے کی کوشش میں تھی- ایسا محسوس ہوتا کہ یہاں جس نے پہلے گاڑی دیکھی اور آواز بلند کی کہ گاڑی آرہی تو وہ فاتح قرار پائے گا- اس ریس کو دیکھنے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے لوگوں نے شرکت کی- اس ریس کےدو فاتح ہیں ریس صاحبزادہ سلطان نے جیت لی ، جبکہ اپنی مہمان نوازی سے مقامی افراد نے دلوں کو جیت لیا-
مزید برآں! اس ریس کے کامیاب انعقاد نے پوری دنیاکو پاکستان کا پرُامن چہرہ واضح طور پر دکھایا، یہ پیغام دیا کہ ہم لٹیرے نہیں مہمان نواز ہیں، ہم دہشت گرد نہیں پُرامن لوگ ہیں- یہاں گولیاں نہیں گاڑیاں چلتی ہیں، یہاں دھماکوں کی نہیں" پاکستان زندہ باد" اور گاڑیوں کی فراٹے بھرتی آوازیں گونجتی ہیں، یہاں گاڑیوں کی دھول ہے" بارود" کا دھواں نہیں-