سحرانگیزپہلی ڈیرہ جات آف روڈ ریلی
Blog Single

ہر علاقے کی اپنی ثقافت، تہذیب،  روایات اور کھیل ہوتے ہیں- پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان بھی اپنےمنفردکلچر، ادّب اور روایات میں اپنی پہچان آپ ہے- جہاں عربی کھانے" ثرید" سے مہمان نوازی کی جاتی ہے تو وہیں مشہور حلوہ بھی پیش کیا جاتا ہے- ڈیرہ کی ثقافت اِس علاقے کو نمایاں کرتی ہے جبکہ کجھور اور پہاڑ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتےہیں- ڈیرہ اسماعیل خان کو جاتے چشمہ بیراج کا پانی جہاں انسان کو اپناگرویدہ کرتا ہے وہیں یہاں کے لوگوں کی سادگی بھی دل موہ لیتی ہے- اس کے ساتھ یہاں پر آف روڈریلی کا منعقد ہونا سونے پہ سہاگہ ہے-

زیادہ ترڈیرہ کا علاقہ زرخیز، نہری اور ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والاہے جبکہ کچھ بارانی اور یَک فصلی زمینیں بھی ہیں جہاں زیادہ تر چنے کی فصل کاشت کی جاتی ہے جِس کا سارادارومداربارانِ رحمت پر ہوتا ہے- جِس سال بارشیں بروقت ہوجائیں تو کسان خوشحال ہوتا ہے اور دور دور تک سبزےکی چادربچھی نظرآتی ہےجو کہ دَیکھنے والے کو اپنے سحرمیں جکڑ لیتی ہے- عام حالات میں ہر طرف ریت کے ٹیلے (ٹِبّے) نظر آتے ہیں جبکہ آبادی اور پانی کم ہے- یہاں پرصحرائی پودے اور جانور پائے جاتے ہیں- تاریخی اعتبار سے تھل کے لوگوں کا رہن سہن سادہ، فطرت کے قریب، بہت خوبصورت اور قدیمی ہے- جس طرح اس کے ایک طرف اونچے پہاڑاپنا رعب و دبدبہ جمائے ہیں اسکی دوسری طرف ریتلی زمین کی نرمی بھی اِنتہائی پُر سکون اور دلفریب ہے-

ڈیرہ اسماعیل خان کا علاقہ محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے- بدقسمتی سےبہت سی وجوہات کےباعث یہ علاقہ نظر اندازرہاہے- اس کاشمارپاکستان کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں میں نہیں کیا جاسکتا- یہ علاقہ حکومتی توجہ سے محروم اور بہت پسماندہ ہےجہاں بنیادی سہولیات کا فقدان نظر آتا ہے جبکہ کئی علاقے بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں- یہاں کے باشندے کسمپرسی کی زندگی گزاررہےہیں- ایسی صورت میں باسیوں کو تفریح کا میسر آنا کسی نعمت سے کم نہیں- تفریح کا سب سے اچھا اور بہترین ذریعہ کھیل ہیں جو ذَہنی، جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا حل تصورکیےجاتے ہیں اور انسانی صحت کے لئےبہت ضروری ہیں- ویسے تو ان علاقوں میں بہت سےکھیل کھیلےجاتےہیں لیکن دورِجدید میں آف روڑ ریس کاانعقاد ہونا خوش آئند ہےجویہاں کی ثقافت اور روایات کو ابھارنےاوردنیاسےمتعارف کروانےمیں اہم کرداراداکرےگا-

ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج

جیپ ریلی نسبتا ایک جدید کھیل ہے لیکن اس کو قدیم بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں یہ کھیل اونٹوں اور گھوڑوں پر کھیلا جاتا تھا جبکہ آج مضبوط، تیز رفتار اور جدید گاڑیوں کو وقت کے گھوڑے تصور کیا جاتا ہے- لوگوں کی دہلیز پر اس طرح کی تفریح فراہم کرنا قابلِ تحسین ہے-  آف روڈ  تفریح فراہم کرنے کے ساتھ دیگر علاقوں سے آئے لوگوں سے ملنے کا موقع بھی دیتاہےاور لوگوں میں بین الصوبائی رابطے پروان چڑھتے ہیں- جیپ ریلی واحد کھیل ہے جِس کا گراؤنڈ کئی کِلومیٹرز پر مشتمل ہوتا ہے- ایک عام آدمی کِسی بھی جگہ کھڑا ہو کر اِس کھیل سے لطف اندوز ہو سکتا ہے-

پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے موٹر سپورٹس  بالخصوص آف روڈبڑی تیزی سے پھل پھول رہا ہے،  جس میں ایک نئی ریلی کا اضافہ ہوا  ہے- جسے ڈیرہ جات آف روڈ ریلی کا نام دیاگیا- ڈیرہ اسماعیل خان المعروف ڈیرہ جات میں تین روزہ آف روڈریلی26، 27 اور 28 مارچ کو منعقد ہوئی جسے پاکستان آف روڈکا سب سے منظم ایونٹ کہنا غلط نہ ہوگا- ان انتظامات سے جس طرح سے ڈیرہ جات2021ءآف روڈ ریلی کا کامیابی سے اختتام ہوا اس کامیاب ایونٹ کے کامیاب انعقاد کا سہرا صوبائی حکومت کےپی کے، محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا، لوکل گورنمنٹ، ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، پاک پولیس، ریسکیو 1122اور فوربائی فور کلب کےسرجاتاہے- مزید امین بردارزکی خدمات نےایونٹ کو کامیاب کرنے میں اہم کردار ادا کیاجبکہ ڈیرہ کی عوام نے پُرجوش طریقے سے شرکت کی اور جس طرح ملک بھر سے آئے نامور ریسرز کی میزبانی اور حوصلہ افزائی کی وہ بے مثال اور لائق تحسین ہے- مزید اس ایونٹ کی جان اور رونق یعنی ریسرز کی شرکت نے ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج میں شرکت کرکے چارچاند لگادیئے- اس کے ساتھ ہی اس احسن و خوبصورت کام کی ابتداء کرنے کا سہرا کمشنر ڈیرہ ڈویژن یحییٰ اخونزدہ کے سر سجتا ہے-

وقت فوقتاریلی کے انتظامات کے حوالے سے ہر ایک ادارے کا سربراہ اپنے ادارہ سے متعلقہ معاملات کاجائزہ لینےآتے رہے جن میں وفاقی وزیر علی امین خان گنڈہ پورنے ٹریک پر انتظامات کا جائزہ لیا اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے بہترین انتظامات کو سراہا- ڈپٹی کمشنر عارف اللہ اعوان نےمختلف سرکاری ڈیپارٹمنٹس کے سٹال پر موجود سٹاف سے ملاقات کی جبکہ ضلعی پولیس سربراہ کیپٹن (ر) نجم الحسنین لیاقت نے سیکورٹی امور کا جائزہ لیا اس موقع پر ٹی ایم اوز اور ریسکیو 1122 کے افسران بھی موجود رہے-

ڈیرہ جات آف روڈچیلنج میں ریسکیو 1122 ڈیرہ اور پاکستان حلال احمرکی خدمات با لترتیب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر فضل منان اورزاہد جمیل کی نگرانی میں پیش پیش تھیں تاکہ گاڑیوں کے الٹنے، پھنسنے، پھسلنے، روڈ ایکسیڈنٹ اورکسی میڈیکل ایمرجنسی میں مدد بہم پہچا سکیں- ریسکیو 1122 ڈیرہ نے ڈیرہ جات آف روڈچیلنج تمام ٹریک پر دو کنٹرول روم اور 10 مختلف مقامات پرایمبولینسیں، فائیر وہیکلز، ڈساسٹر وہیکلز، ریکوری وہیکلز، فائیر بائیک اور محکمہ زراعت کے ٹریکٹر تعینات کئے جن پر تمام اہلکار اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے- اس کے علاوہ پاکستان حلال احمر سوسائٹی ڈیرہ اور ریسکیو1122 میڈیکل ٹیم نے سٹارٹنگ پوائنٹ اور مین ٹرننگ پوائنٹ پے ریس میں شریک ریسرز کی سہولت کے لیئے دو میڈیکل کیمپ بھی لگائے-

ریس ٹریک

کوالیفائنگ راؤنڈ سے اگلادوسرا دِن سٹاک کیٹگری کی گاڑیوں کےلئےہوتا ہے جبکہ تیسرا دن بڑی گاڑیوں یعنی پرپئیرڈ کلاس کا ہوتاہے- 116 کلومیٹر پر مشتمل ٹریک ریس کے مطلوبہ معیار کو مدِ نظر رکھ کر نہایت محنت سے بنایا گیا تاکہ ریسرز اور شائقین کو تفریح کے بہتر مواقع میسرہوں- ٹریک کے اطراف میں کھجور اور آم کے باغات، چنے کی سر سبز فصلیں، دشوارگزارراستےاس کے حسن میں اضافہ کر رہے تھے -

ٹریک منفردخصوصیت کا حامل تھا، اس کا کچھ حصہ ریتیلہ، کچھ پتھریلہ اور کچھ پہاڑوں کے ساتھ ساتھ، کچھ میدانی اور کچھ حصہ دریائی تھا- الغرض یہ ایک بہت ہی شاندار ٹریک تیار کیاگیا- یہ ایک مشتمل، دلکش اور کٹھن ٹریک تھا- صحرائی علاقے میں ریت کے ٹیلوں پر دوڑتی، موڑکاٹتی، ہوا سے باتیں کرتی اور دھول اُڑاتی گاڑیوں کو دیکھنے کامنظردیدنی تھاجس سےعلاقے کےلوگ خوب لطف اندوز ہوئے-

ٹریک کا آغاز پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خا ن سے ہواجورحمانی خیل، عبدالخیل سے ہوتا ہوا گلوئی کے مقام پر اختتام پذیر ہوا- شیخ بدین اور بلوٹ شریف کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان مغربی روٹ سی پیک یارک انٹرچینج سے رحمانی خیل تک 116 کلو میٹر کا حصہ شامل کیاگیا-

ڈرائیورزمیٹنگ

ریس سےایک دن پہلے شام کوڈرائیور میٹنگ سرکٹ ہاوس ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد کی گئی- جس میں حصہ لینے والےتمام ڈرائیورز اور کوڈرائیورزنے شرکت کی- جس میں ریس کا شیڈول اور قوانین و ضوابط بتائے گئےجبکہ اسی دن وہیں ریلی میں شامل ہونےوالی گاڑیوں کی انسپیکشن، ٹیگینگ اور رجسٹریشن کی گئی-

ریس کا پہلا دن :کوالیفائنگ

ریس کے پہلےروزیعنی کوالیفائنگ راؤنڈکو ایک نجی کالونی میں بڑے اہتمام سےمنعقدکیا گیا- کوالیفائنگ راؤنڈ کےلئےخطرناک موڑوں پر مشتمل 2 کلومیٹرکاصحرائی ٹریک بنایا گیا جسے ڈرائیورز نے انتہائی مہارت کے ساتھ کم سے کم وقت میں طے کرناتھا اور یوں اگلے دن اسی ترتیب سے ریس کےلئے روانہ ہوناتھا-

کوالیفائنگ راؤنڈمیں پری پیئرڈ کیٹیگری میں صاحبزادہ سلطان نے مقررہ ٹریک 1منٹ 53 سیکنڈ میں مکمل کرتے ہوئےاِسےاپنے نام کیا، زین محمود نے یہی فاصلہ ایک منٹ اور 54 سیکنڈ کے ساتھ کیا اور دوسرےنمبر پر رہے، آصف فضل چوہدری نے ایک منٹ 55 سیکنڈ کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ، جعفر مگسی نے ایک منٹ 56 سیکنڈ کیساتھ چوتھی جبکہ نادرمگسی نے 1 منٹ 57سیکنڈ کیساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی-

سٹاک رینکنگ میں صاحبزادہ فخرسلطان نے2 کلومیٹر کا فاصلہ ایک منٹ 55 سیکنڈ میں طے کیا اور پہلےنمبر پر رہے،جبکہ اسی فاصلہ کو تیمور خواجہ نے ایک منٹ 56 سیکنڈمیں مکمل کرکے دوسری اور راشد گورایانے ایک منٹ 58 سیکنڈ کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی-

سٹاک کلاس: ریس کادوسرادن

ریس کے دوسرے دِن زمین کو چیرتی گاڑیاں، ڈرائیوروں کا جنوں، ضلعی انتظامیہ کی نگرانی، پولیس کی چستیاں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قابل قدر تماشائی جوش و خروش سے موجودتھے- پاکستان بھر سے نامور ریسرز اور انکی گاڑیاں اڑان بھرنے کو مچل رہی تھیں جبکہ ماہر ڈرائیورز کی کارکردگی شاندار تھی- عوام منتظر تھے کہ تمام گاڑیاں ٹریک مکمل کریں تاکہ وہ حتمی نتائج سے آگاہ ہوسکیں جو کہ مندرجہ زیل رہے-

اسٹاک ' اے' کیٹگری میں جیاندہوتھ پہلے، بیبرک بلوچ دوسرے اور عقیل احمد تیسرے نمبر پر رہے-

اسٹاک ' بی' کیٹگری میں عزیز رفیق پہلے، سلطان بہادر عزیز دوسرے اور راشد گورایا تیسرے نمبر پر رہے-

اسٹاک ' سی' کیٹگری میں حسن جہاندیرپہلے، ملک بابر اعجازدوسرے اورسیدزاہد قیوم تیسرے نمبرپررہے-

اسٹاک ' ڈی' کیٹگری میں شکیل احمدپہلے، شاہ گل مزاری دوسرے اورفلک شیر بلوچ تیسرے نمبر پر رہے-

پری پیئرڈ کلاس :ریس کا تیسرا اور آخری دن

ریس میں ڈرائیورز نے کمال جوہر دکھائے اور دشوار گزار راستے کو ماہرانہ ڈرائیونگ سے عبور کرتے ہوئے ریس مکمل کی- ریلی میں جہاں نامور ڈرائیورز کی موجودگی لوگوں کے لئے خوشی کا باعث تھی وہیں ریلی کے شرکاء ماہرڈرائیورز کےدرمیان کانٹے دار مقابلے سے بھی لطف اندوز ہو رہے تھے-

ریلی کے حتمی نتائج کے مطابق پریپئرڈ ' اے' کیٹگری میں ریس کے سلطان صاحبزادہ سلطان نے116 کلومیٹرکامطلوبہ فاصلہ ایک گھنٹہ 22منٹ اور 33سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، زین محمودنےایک گھنٹہ 23منٹ اور07 سیکنڈمیں طے کر کے دوسری جبکہ میرنادر خان مگسی نےایک گھنٹہ 24 منٹ اور 15 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' بی' کیٹگری میں اویس خاکوانی نے مطلوبہ فاصلہ1 گھنٹہ30 منٹ 13سیکنڈمیں طے کر کے پہلی، سعودمجید نے 1گھنٹہ31 منٹ34 سیکنڈ میں طے کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ ناصرخان نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 10 منٹ59 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' سی' کیٹگری میں گوہرسانگی نے مطلوبہ فاصلہ 1 گھنٹہ35 منٹ 29 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، حمل ہوتھ نے 1 گھنٹہ37منٹ 51سیکنڈمیں طےکر کےدوسری، جبکہ محمود نے مذکورہ فاصلہ 1گھنٹہ38منٹ 04 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' ڈی' کیٹگری میں عمر اقبال کانجو نےمندرجہ بالا مذکورہ فاصلہ 1 گھنٹہ33 منٹ 56 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، امین اللہ شادی خیل نے 1 گھنٹہ 34منٹ55سیکنڈ میں طے کر کے دوسری اورشاہین اقبال نے یہ فاصلہ1گھنٹہ35 منٹ 15 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

وویمن کیٹگری

ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج کی وویمن کیٹگری میں نامورریسررونی پٹیل کی شریکِ حیات توشنہ پٹیل نے چیمپئن کا ٹائیٹل اپنے نام کیااوریوں وویمن کیٹگری میں میدان مار لیاجبکہ دوسری پوزیشن ماہام شیرازنے اورسلمیٰ مروت خان نےہوم ٹریک پر تیسری پوزیشن اپنے نام کی-

دیگرکیٹگریزکامقابلہ

اس ریلی نے کئی نئی چیزیں بھی متعارف کرائیں جو کہ خوش آئند بھی ہیں اور قابلِ تقلید بھی- ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج میں سٹاک، پری ی پیئرڈ اور وویمن کیٹگری کے ساتھ ساتھ کچھ مزید کیٹگری متعارف کروائیں گئیں جن میں لوکل کیٹگری، بائیکرز کیٹگری اور ٹرک کیٹگری شامل ہیں جو کہ خوش آئند اور قابلِ تقلید بھی ہے-

یہاں نہ صرف گاڑیوں میں بلکہ بائیک ریس میں بھی لوکل کیٹگری متعارف کرائی گئی جس میں مقامی لوگوں کو ریس میں شمولیت کا موقع فراہم کیا گیا- ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج میں موٹو کراس بائیک ریس کابھی انعقاد ہوا جس میں ہیوی بائیکرز نے شرکت کی اور پاکستان بھر سے آئے موٹر سائیکل سٹارزنے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا- موٹرسائیکل کی لوکل کیٹگری میں ابوبکر صدیق نے پہلی، شریف نے دوسری جبکہ حسن قریشی نے تیسری پوزیشن حاصل کی- اگر ہیوی بائیک کیٹگری کی بات کی جائے تو معین خان پہلے،ضیغم چوہان دوسرے اور محمد عدیل تیسرے نمبر پر رہے-

لوکل کیٹگری میں پہلی پوزیشن حمید الدین غزنی خیل نے حاصل کی جس کے کوڈرائیورکے فرائض محمد فرازنے سرانجام دیئے جبکہ دوسری پوزیشن سابق تحصیل ناظم عمر امین خان نے حاصل کی جن کے معاون ڈرائیور حمزہ شاہ تھے-

پاکستان میں پہلی بارکسی ریس میں ٹرک کی شمولیت نے ایک سماں باندھ دیا ، مرسیڈیز یونیموگ کاٹرک قدوقامت و جسامت کے لحاظ سے منفرد ہونے کی وجہ سے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا- ایک طرف گاڑیوں کی برق رفتاری جہاں شائقین کو محظوظ کررہی تھی وہیں دوسری طرف ٹرک کی سست روی سے" کچھوے و خرگوش "( کہانی) کی منظر کشی ہورہی تھی - ریس میں ٹرک کی شمولیت پر ٹریک پرکھڑے لوگوں نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ریلی "ڈاکار" کی یاد تازہ ہورہی ہے- امید کی جاتی ہے کہ اس ریس میں ٹرک کی شمولیت مثالی کردار ادا کرے گی اور پاکستان کی دیگر ریلیزمیں بھی ہمیں ٹرک کیٹگری دیکھنے کو ملے گی جوکہ ریس میں ایک خوبصورت اضافہ ہوگا-

تقریب انعامات

دریں اثناء ریلی کے تین روزہ آف روڈریلی کے کامیاب انعقادواختتام پرفاتحین کو انعامات اور ٹرافیزدینے کےلئےتقریبِ تقسیم انعامات رتہ کلاچی کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہوئی- اختتامی اور انعامات کی تقسیم کورنگا رنگ تقریبات سے سجایا گیا جس میں گھوڑاڈانس، انعامات اور آتش بازی شامل تھی- جس میں مختلف سماجی اور سیاسی کارکنان نے شرکت کی، تقریب میں پوزیشن حاصل کرنے والے ریسرزمیں وفاقی وزیر علی امین ، کمشنر ڈیرہ یحیی اخوانزادہ اور ڈپٹی کمشنر عارف اللہ اعوان نے شیلڈ، ٹرافی اور انعامات تقسیم کئے- اس موقع پر عوام کی کثیر تعداداسٹیڈیم میں موجود تھی اور شائقین کا جوش و جذبہ دیدنی تھا تقریب میں گھوڑا ڈنس نے سماں باندھ دیا- تقریب کے اختتام پر شاندار آتش بازی کی گئ جو شہر میں دور دور تک دیکھی گئی-

ریسرز اور شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کو پہلی ڈیرہ جات آف روڈ ریلی کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی- ریسرز کی جانب سے سکیورٹی اور ریلی کے تمام تر انتظامات کو سراہا گیااور ڈیرہ جات ریلی کو سا لانہ ریلی کیلنڈر میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا- کہا گیا کہ یہ ریلی مستقبل میں مقامی علاقہ کی سیاحت میں فروغ کا باعث بنے گی-

ڈیرہ جات آف روڈ چیلنج کے چیمپئن قرار پانے والےصاحبزادہ سلطان نے پہلی ڈیرہ جات آف روڈریلی اپنے نام کرکےتاریخ رقم کردی اور اپنی طلسماتی ڈرائیونگ سےآف روڈ فینزکو لطف اندوز کیاجبکہ اپنی چیمپئن ٹرافی کو صاحبزادہ سلطان نے شہدائے پولیس ڈیرہ اسماعیل خان، قانون نافذ کرنےوالےاداروں اور سیکیورٹی فورسزکے شہداء کے نام کیا جن کی قربانیوں کے باعث پُرامن ریلی کا انعقادممکن ہوا-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ