پاکستان میں 800 سی سی گاڑیوں پرٹیکس، مسائل اور وجوہات
Blog Single

پاکستان میں 800 سی سی گاڑیوں پرٹیکس، مسائل اور وجوہات

پاکستان کی آٹو انڈسٹری آہستہ آہستہ انقلابی عمل سے گزر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ نئی کمپنیوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے جوپاکستان میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے کے لئے تیار ہیں- اسی وجہ سے اب گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم ہوئی ہے اورگاڑیوں کے ریٹس تیزی سے نیچے آنا شروع ہو گئے ہیں جسکا فائدہ بلاواسطہ خریدار کو پہنچے گا- کافی عرصے سے پاکستان میں چند مخصوص کمپنیاں ہی کام کررہی تھیں جن میں گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان پر راج کرتی سوزوکی کمپنی کا نام سرفہرست ہے- ہمارے یہاں بڑی گاڑیوں کی نسبت 800 یا اس سے کم سی سی والی گاڑیوں کی مارکیٹ زیادہ بہتر ہے، اسکی وجہ تیل کا خرچ کم ہونے سے لے کر انکے پرزہ جات کا کم قیمت اور باآسانی دستیاب ہونا ہے- پاکستان میں 40 سے 50 فیصد امپورٹ ہونے والی گاڑیاں 800 یا اس سے بھی کم سی سی کی ہوتی ہیں-

حکومت نے 850 سی سی تک کی مقامی طور پر بننے والی تمام گاڑیوں پر جرنل سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کرنے اور فیڈریل ایکسائز ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے- ماہرین نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں 50، کسٹم ڈیوٹی میں 2.5 اور پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے سیلز ٹیکس میں سات فیصد تک کمی کی جائے جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی- گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتی عدم توجہی کے باعث تمام کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں کے معیار میں بہتری لانے کی بجائے ہر سال انکی قیمت بڑھانے پر زور دیا جس سے پاکستان میں اس وقت گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں-

حکومتی اقدامات اور نئی آٹو پالیسی کے بعد مختلف کمپنیاں اپنی نئی اور چھوٹی کاریں پاکستان میں متعارف کرانے کے لئے تیار ہیں- ان گاڑیوں کی قیمت 7 لاکھ سے 8 لاکھ کے درمیان متوقع ہے، یہ کاریں مینول اور آٹومیٹک دونوں ٹرانسمشن کے ساتھ متعارف کرائی جائیں گی- ایک طرف پاکستان میں گاڑیوں کا معیار باقی دنیا کے مقابلے میں سب سے کم تر ہوتا ہے جس سے گاڑی بہت جلد خراب ہو جاتی ہے، لیکن اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں روڈوں کی خستہ حالت ہے جس وجہ سے نہ صرف گاڑیاں بہت جلد اپنا معیار کھو دیتی ہیں بلکہ یہ مختلف حادثوں کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے-

بہتر حکمت عملی نہ ہونے اور حکومتی عدم توجہی کے باعث پاکستان میں کاریں بنانے والی کمپنیاں گاڑیوں کا معیار بہتر کرنے کے بجائے گاڑیوں کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھاتی ہیں جبکہ سیفٹی اور معیار کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے- اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نئی گاڑی خریدتے وقت ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کمپنی کو 50 فیصد رقم ایڈوانس دینی پڑتی ہے جس کے بعد چھ ماہ تک گاڑی کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے- کمپنیاں کسٹمرز کی ادائیگیوں کو ہی استعمال کر کے اپنی پروڈکشن کرتی ہیں- مہنگائی کی ستائی عوام اور خصوصاً مڈل کلاس لوگ ان کمپنیوں کے ذریعے بلیک میل ہوتے رہتے ہیں- ہر سال ماڈل میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے ریٹ بڑھا دیے جاتے ہیں- پاکستان میں مہنگائی اور بےروزگاری کے سبب ایڈوانس دی ہوئی رقم کے چھ ماہ بعد باقی رقم کی ادائیگی میں بھی بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

ایف بی آر FBR))نے سیکنڈ ہینڈ کاروں کے خریداروں اور فرخت کاروں کے ساتھ ڈیلر حضرات کو بھی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، جس کی بڑی وجہ استعمال شدہ کاروں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کا لاگو کرنا ہے- حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس کا یہ فارمولہ کہ خرید و فروخت کے درمیان والی رقم پر 17 فیصد ٹیکس لگے گا بظاہر کار آمد ہوتا ہوا دیکھائی نہیں دے رہا- ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی فروخت کرنے والا شخص اس ٹیکس سے بچنے کے لئے درمیان والی قیمت کم بتائے گا یا نقصان پر فروخت کا بیان دے گا جس پر ایف بی آر ٹیکس نہیں لگا سکے گا- دوسری جانب کرونا وباء کے باعث آٹو موبائل صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے- پاکستان میں مقامی طور پر کاریں بنانے والی کمپنیاں تقریباً بند ہیں، پروڈکشن یونٹ نا چلنے کے برابر کام کر رہے ہیں اور کاروں کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں کمپنیاں بھی زوال کا شکار ہیں- پاکستان میں آٹو موبائل کے کاروبار سے تقریبا ًپانچ لاکھ افراد وابستہ ہیں جس کا مطلب ہے کہ پانچ لاکھ خاندانوں کا گزر بسر اس انڈسٹری سے وابستہ ہے- اس وقت پاکستان میں بننے والی کاروں کے 50 سے 70 فیصد پرزہ جات باہر سے منگوائے جاتے ہیں، گاڑیوں کے لئے آنے والے اس خام مال کی قیمت ڈالروں میں ادا کی جاتی ہے جو کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اور بڑا پہلو ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ