پاکستان میں خستہ حال سڑکیں اورٹریفک کےمسائل
افضل عباس خان
ٹریفک قوانین سے واقفیت رکھنا اور انکی پاسداری کرنا نہ صرف ڈرائیور زبلکہ عام شہریوں کے لئے بھی اِنتہائی ضروری ہے، کیونکہ مروجّہ قوانین اورقواعد وضوابط نہ صرف آپ کو حادثات سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ اس سے خود اعتمادی کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے- ٹریفک قوانین پر عمل کر کے نہ صرف آپ اپنی بلکہ دوسروں کے جان و مال کی بھی حفاظت بھی یقینی بناتے ہیں اور اپنے شہر کے ڈسپلن اور نظم کو مزید نکھارنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے ہیں-
بے ہنگم ٹریفک جہاں کسی بھی ملک کی عمومی بدنظمی کی عکاس ہوتی ہے وہیں شہر کے حسن اور خوبصورتی کو بھی متاثر کرتی ہے اور سفر کو غیر محفوظ و مشکل ودشوار بناتی ہے- ہرآئے دن حادثات میں قیمتی گاڑیوں اور انسانی جانوں کا ضیاع لمحہِ فکریہ ہے- ٹریفک حادثات دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہیں جِس کا معاشروں اور معیشتوں پر گہرا اثر ہے- ٹریفک سے متعلقہ مختلف تنظیموں کی طرف سے روڈ سیفٹی پر ہونے والے اخراجات پر تحقیق سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات پر اوسطا ًسالانہ لاگت ترقی پذیر ممالک میں جی ڈی پی (GDP) کا 1 فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں جی ڈی پی کا 2 فیصد لگایا جاتا ہے- اِس ضمن میں کی گئی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ٹریفک کی بدنظمی کے پیشِ نظر جہاں ٹریفک قوانین سے لاعلمی ایک اہم وجہ ہے وہیں سڑکوں کی بدحالی اور باقاعدہ انفراسٹریکچر نہ ہونا بھی ٹریفک مسائل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتاہے-
عالمی اِدارہ صحت کے تجزیے اور اعدادوشمارکے مطابق دُنیا بھر میں سالانہ تقریباً 1.2 مِلین افراد ٹریفک حادثات میں موت کا شکار ہوتے ہیں اور 50 مِلین زخمی، جِن میں بہت سارے ہمیشہ کے لئے معذوری کی زِندگی جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں- روڑ حادثات کے نتیجہ میں ہونیوالی 90 فیصد سے زائد اموات غریب اور ترقی پذیر ممالک میں رونما ہوتی ہیں جبکہ یہ ممالک دُنیا میں کُل رجسٹرڈ گاڑیوں کا 48 فیصد رکھتے ہیں- ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی رپورٹ کے مطابق اگر ٹریفک حادثات کی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو سال 2030 تک روڈ حادثات میں شرح اموات 5 ویں نمبر پر آجائے گی جو کہ انتہائی خطرناک ہے-
پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ٹریفک مسائل اور سڑکوں کا باقاعدہ اور مضبوط انفراسٹریکچر نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک حادثات معمول کی بات ہے لیکن بدقسمتی سے اِن حادثات کو غیر سنجیدہ لیتے ہوئےان کی چھان بین نہیں کی جاتی- جس کے نتیجے میں ملک کو سالانہ اربوں روپے کا خسارہ ہوتا ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف روڈ حادثات کی وجہ سے سالانہ 200 ارب روپے کا مالی نقصان ہوتا ہے- حکومت ملک بھر میں پھیلے ٹول پلازوں پر ٹیکس میں اضافہ تو کرتی ہے لیکن سڑکوں پر بسوں میں سفر کرنے والوں کے لئے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے جو کہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے-
حکومتی رپورٹ کے مطابق:’’ہر پانچ منٹ کے دوران پا کستان کی سڑکوں پرٹریفک حادثے کا شکار ہوکر ایک شخص یا تو زندگی کی بازی ہار جاتا ہےیا پھر شدید زخمی ہوجاتا ہے‘‘-
گزشتہ سال صرف کراچی میں مذکورہ وجوہات کے سبب تقریباً 1200 سے زائد افرادٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بن گئے-اسی طرح2014ء میں " حب" میں ہونے والا ٹریفک حادثہ بھی سڑک کی زبوں حالی کا واضح ثبوت تھا جِسکی اصل وجہ سڑک میں گڑھا تھی- اَگر اِس پر توجہ دی گئی ہوتی تو اِس حادثہ میں ضائع ہونے والی 35 سے زائد قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا-
مزید صوبہ پنجاب کے مرکز لاہور کی مثال ہی لیجئے جہاں جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جِس وجہ سے عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے- گردوغبار سے لوگوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور اِنہیں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں اور جانوں کا ضیاع ہوتا ہے- خستہ حال سڑکوں کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں- بارش کا پانی اِن میں جمع ہو کر کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے- سڑک پر موجود گڑھوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ڈرائیورز کو گہرائی کا اَندازہ نہیں رہتا اور نتیجہ خطرناک حادثے کی صورت میں نکلتا ہے- ہم آئے روز کئی واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں جِو سیورج مین ہول کا ڈھکن کھلا ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں اور اکثر بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں- خراب سڑکیں ٹریفک کے بہاؤ میں بھی دشواری پیدا کرتی ہیں اور ٹریفک کاجام ہونامعمول بن جاتا ہے- جابجا اور متواتر ٹریفک جام شہریوں کی کاروباری و نجی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے- سڑک کی یہ صورت حال اکثر اوقات حادثات کا بھی باعث بنتی ہے-
اگر پاکستان کے مختلف صوبوں میں ٹریفک حادثات کے اعدا د شمار کی رپورٹ (2019-20)کو دیکھا جائے وہ کچھ اس طرح ہے:
نمبر شمار |
حادثات کی کل تعدا |
مرنے والوں کی کل تعداد |
زخمیوں کی کل تعدا د |
1-صوبہ پنجاب |
4294 |
3102 |
5746 |
2-صوبہ سندھ |
858 |
741 |
741 |
3-خیبرپختونخواہ |
3891 |
1186 |
5069 |
4-بلوچستان |
469 |
289 |
640 |
ٹریفک حادثات میں جہاں ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری نمایاں پہلو ہے وہیں ناقص روڈ
انجینئرنگ بھی سب سے اہم مسئلہ ہےاسکے علاوہ خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں،سڑکوں پرجگہ جگہ مین ہول، اوورلوڈنگ، ٹریفک قوانین سے لاعلمی، ہیوی ٹریفک، سبک رفتاری اورغیر تربیت یافتہ اورناتجربہ کار ڈرائیونگ ٹریفک حادثات کی اہم بنیادی وجوہات ہیں- اس کے علاوہ ٹریفک اتھارٹیز اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت، مرضِ شدیدکی طرح ہے- مثلاًڈرائیونگ لائسنسوں کا سفارشی اجراء، ڈرائیونگ کے دوران نشہ آور ادویات کا اِستعمال، تیز رفتاری، ٹریفک پولیس کی اِنتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مجرمانہ غفلت، تمام بس اڈوں پر بھتہ خوری کی وجہ سے اوور لوڈنگ، غیر معیاری بسیں اور ویگنیں عام سی باتیں ہیں-
تجاویز:
- پاکستان میں روڈ سیفٹی کی ساخت اور ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے- صوبائی حکومتوں کو روڈ انجینئرنگ اور انفرا سٹرکچر کیلئے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدمات کرنے چاہئے-
- پاکستان میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے سخت ٹریفک قوانین کا نفاذ ضروری ہے- ٹریفک اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قوانین پر عمل درآمد کروائیں تاکہ قیمتی انسانی زندگیوں اور املاک کو بچایا جاسکے-
- عوام اور شہریوں میں ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی کا شعور اجاگر کرنے کیلئے ضلع اور تحصیل لیول پر ورکشاپس کا انعقاد ہونا چاہئے اور اس حوالے سے بھر پور آگاہی مہمات چلا ئی جانی چاہئیں
- روڈ ٹریفک حادثات کو کم کرنے کے لئے حکومت اور انفرادی سطح دونوں پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے-