پاکستان آف روڈ ریلیز کا ابھرتا ستارہ آصف فضل چوہدری
رپورٹ ہارس پاور ٹیم
پاکستان میں آف روڈ ریلی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے- آف روڈ ریلی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بڑی وجہ پاکستان کے خوبصورت اور منفرد ٹریکس کے ساتھ ساتھ ماہر ڈرائیور ہیں جنہوں نے اپنی مہارت سے نہ صرف آف روڈ ریلیز کو چار چاند لگائے بلکہ بہت کم عرصے میں فتوحات سمیٹتے ہوئے اپنا نام پیدا کیا-ان ریسرز میں سے ایک ابھرتا نواجوان ریسرآصف فضل چوہدری بھی ہے-
آصف فضل چوہدری کا شمار پاکستان کے بہترین آف روڈ ریلی ڈرائیورز میں ہوتا ہے- اُن کا تعلق اسلام آباد سے ہے، انہوں نے اپنے ریسنگ کیریئر کا آغاز 2015ء میں ہونے والی دسویں ٹی ڈی سی پی ( TDCP)چولستان میں سی کیٹیگری سے کیا اور حیران کن طور پر اپنی پہلی ہی ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کی- 220 کلو میٹر پر مشتمل ٹریک کو انہوں نے 3 گھنٹے، 9 منٹ اور 55 سیکنڈز میں مکمل کیا- یہ وہی سال ہے جب ٹی ڈی سی پی نے چولستان ریلی میں چار اسٹاک کیٹیگریز متعارف کروائیں- اس سے قبل 9 ویں ٹی ڈی سی پی چولستان ریلی میں صرف 2 اسٹاک کیٹیگریز تھیں اور انہیں صرف ایک مرحلہ میں مکمل کرنا ہوتا تھا- اپنی پہلی ریس میں کامیابی کے بعد آصف فضل چوہدری ابھر کر سامنے آئے اور مداحوں میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے-
آصف فضل چوہدری کی فتوحات پر ایک نظر:
دوسری پوزیشن، کیٹیگری سی پری پیئرڈ، گوادر، 2016ء میں حاصل کی-
پہلی پوزیشن، کیٹیگری سی پری پیئرڈ، جھل مگسی، 2016ء میں حاصل کی-
پہلی پوزیشن (اور فاسٹسٹ ڈرائیور آف دی ڈے)، کیٹیگری اے سٹاک، تھل ریلی،2017ء میں فاتح قرار پائے-
دوسری پوزیشن، کیٹیگری اے پری پیئرڈ، جھل مگسی، 2018ء میں اپنے نام کی-
پہلی پوزیشن (فاسٹ ڈرائیور آف دی ڈے)، کیٹیگری اے پری پیئرڈ، تھل، 2019ءمیں حاصل کرکےچیمپئن قرارپائے-
دوسری پوزیشن، کیٹیگری اے پری پیئرڈ، چولستان، 2020ء میں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے-
پہلی پوزیشن، کیٹیگری اے پری پیئرڈ، جھل مگسی، 2020ء میں حاصل کی-
دوسری پوزیشن، کیٹیگری اے پری پیئرڈ، تھل، 2020ءکے ونر ٹھہرے-
مختصر انٹرویو:
آصف فضل چوہدری نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ:
" پہلی بار جب میں نے اس ریس میں حصہ لیا تو مجھے تقریبا ًکوئی اندازہ نہیں تھا کہ کہاں سے شروع کروں اور رہنمائی کے لیے کس سے رجوع کروں؟ پھر میں نے ایک دوست کے رشتہ دار غلام فرید ایس بی صاحب سے رابطہ کیا- انہوں نے دل کھول کر میری رہنمائی کی اور گاڑی اور ریس کے ہر پہلو سے آگاہ کیا- رول کیج کٹ کیا ہے، میڈیکل کٹ کی اہمیت، آگ بجھانے والے آلات کی ضرورت اور ریسنگ دنیا کے دیگر دوسرے پہلوؤں کے بارے میں مجھے مکمل رہنمائی فراہم کی- ان کا مزید کہنا تھا کہ :
"میں نے چولستان ریلی میں رجسٹریشن کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے اشتہار میں دیئے گئے نمبر پر رابطہ کیا اور حیران رہ گیا، عام طور پر آپ توقع کرتے ہیں کہ آپ کو صرف ضروری معلومات ہی ملیں گی لیکن میرے لئے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ جس آفیسر نے فون اٹھایا وہ بہت مددگار، شائستہ اور تکنیکی طور پر مکمل رہنمائی کرنے والے تھے- وہ کوئی اور نہیں بلکہ چولستان ریلی کے ڈائریکٹر فیاض احمد صاحب تھے- انہوں نے مجھے ان تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جنہیں ریلی شروع کرنے کے لیےمیرےلئے جانناانتہائی ضروری تھا- اس رابطے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے میرے اعتماد میں مزید اضافہ کیا- ان کا ایک انجان شخص کی مدد کرنا اور اس پرجوش انداز میں تمام طریقہ کار کی وضاحت کرنامیرے لیے بہت متاثر کن تھا- میں نے تمام متعلقہ چیزوں کو جمع کیا اور چولستان ریلی میں ریس کے لیے اپنا درخواست فارم پُر کرنے کے لیے ٹی ڈی سی پی آفس چلا گیا-"
آصف چوہدری کے چہرے پر ایک حیرت انگیز مسکراہٹ تھی- انہوں نے مزید بتایا کہ:
"میں اللہ کا بے حد شکر گزار ہوں، میں نے مسلسل کوشش جاری رکھی اور ایسے لگتا ہے کہ چیزیں خود بخود ایک کے بعد ایک جگہ پرآ گئی ہیں- مثال کے طور پر ہمارا آغاز بہت ڈرامائی تھا- مڈ پوائنٹ کے قریب ہمارا ائیرفلٹر خراب ہو گیا- ہمارے ساتھ کوئی ٹیم نہیں تھی اور ہم زیادہ نہیں جانتے تھے، کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کیا کریں- لہذا ہم نے صرف ایئر فلٹر کو پھینک دیا اور فنش لائن کی طرف روانہ ہو گئے اور الحمدللہ ہم اس ریس میں پہلے نمبر پر آئے-"
آصف فضل چوہدری نے ایک دلچسپ چیز بتائی اور کہا کہ :
"ہمارے بہترین دوست سعید ٹوانہ کے ساتھ ہمارا سفر ٹی وی شوز، میڈیا اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے جوش و خروش سے شروع ہوا- ہماری دلچسپی جذبے میں بدل گئی، ہم نے اس پر مزید مطالعہ شروع کیا اور اللہ کے فضل سے ہمیں کئی اور بہت اچھے دوستوں سے سناشائی بھی نصیب ہوئی جیسے فیصل شادی خیل، نقوی سجاد اور محسن علی وغیرہ جن سب نے بہت سپورٹ کیا- ایک چیز جو ہم سب میں مشترک ہے وہ جذبہ اور محنت تھی جس میں تازہ ترین رہنا اور معلومات کا تبادلہ شامل ہے-"
آصف فضل صاحب نے جوش اور عاجزی کے کامل توازن کے ساتھ یہ باتیں شیئر کیں- جب ان سے پوچھا گیا کہ تھل ریس 2019ء کے متعلق بتائیں تو انکا کہنا تھا کہ :
"2019 کی تھل ریلی بھی اتنی ہی حیران کن رہی ہے جتنی کہ پہلی ریلی تھی- اس بار بھی چیزیں کافی غیر حقیقی محسوس ہوئی- ایسی چیزیں ہوئیں جن کی وجہ سے ہم نے یقین کر لیا کہ ہمارے جیتنے کا کوئی امکان نہیں، لیکن اللہ ہم پر بہت احسان کرنے والا ہے- میں نے سوچھا کہ اپنی گاڑی کو ایک کے بعد دوسری چیزوں سے تیار کروں گا- مجھے اپنے انجن کو تبدیل کرنا پڑا، میں نے گاڑی میں وی ایٹ 4.6 لیٹر کو انسٹال کروایا اور امریکہ سے ڈی ایم زیڈکِٹ منگوائی اور غیر مستحکم سسپنشن کِٹ کو تبدیل کیا- یہاں تک کہ مجھے اپنی گاڑی میں نئے شاکس لگانے پڑے- میں اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ میں اس کار کو ایک پہیلی کی طرح جوڑ رہا ہوں اور یہ ایک معجزہ ہو گا اگر یہ گاڑی سیدھی چل جائے-"
انہوں نے اپنی ریس سے متعلق مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ:
" کار کو ریس سے پہلے رات تقریبا ساڑھے آٹھ بجے ورکشاپ سے لے کر آئے تھے، ہمارے پاس اس کو جانچنے کا کوئی وقت یا موقع نہیں تھا- پچھلی ایک رات قبل گاڑی کی Alignmentکروائی اور اگلی صبح کوالیفائنگ راؤنڈ میں جانا پڑا- اس ریس میں ہم الحمدللہ مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر آئے- اس کے بعد ہمیں ایک نئی سسپنشن کٹ اور ایک نیا ٹرپٹرونک گیئر انجن ملا- ان تمام چیزوں کی ابھی دوبارہ جانچ نہیں ہوئی تھی کہ ہم نے ریس میں حصہ لے لیا، اللہ تعالیٰ نے ہم پر انتہائی کرم فرمایا اور ہمارا پورا تجربہ انتہائی کامیاب رہا- درحقیقت ایک اور ڈرامائی بات جو ہوئی وہ یہ تھی کہ میرے کو ڈرائیور سعید ٹوانہ کو ریس سے صرف 3 دن پہلے کسی ایمرجنسی کی وجہ سے بیرون ملک سفر کرنا پڑا- مجھے اس بے چینی میں متبادل کی تلاش کرنا پڑی- میں نے اپنے دوست سجاد نقوی کو عرض کی جنہوں نے میری درخواست کو بہت شفقت سے قبول کیا اور مجھے ریس شروع کرنے کا حوصلہ دیا-
الحمدللہ! نتیجہ آپ کے سامنے ہے اور میں اس احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا- یہ خوشی کا ایک ایسا موقع ہے اور میں اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتا- میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ ہم مسابقتی ڈرائیونگ کے اس سفر کو جاری رکھیں اور اللہ ہم سب کو بہترین عزت اور کامیابی عطا فرمائے-"