پاکستان میں الیکٹرک کار اور اسکا مستقبل
محمدماجد
کمپیوٹر ایجاد ہوا اور مقبول ہونے کے بعد تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا اور جلد ہی وہ وقت بھی آیا جب یہ ہر انسان کی ضرورت بن گیاجوآج موبائل اور انٹرنیٹ کی صورت میں ہماری زندگی کا حصہ ہے جسکے بغیر ہم جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے بلکل اسی طرح الیکٹرک کار ایجاد ہوئی اور پھر پوری دنیا کو اسمیں اپنا مستقبل نظر آنے لگا اس لیے دنیا بھر میں الیکٹرک کاروں کی ڈیمانڈ میں آئے روز تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے- ہنڈائی نے گزشتہ سال 2025ء تک الیکٹرک کاروں پر 118 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے- یورپی ملک ناروے الیکٹرک کاروں کی مانگ میں پہلے نمبر پر آگیا ہے- ناروے کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کا ٹارگٹ ہے کہ 2025ء تک وہ تیل سے چلنے والی گاڑیوں سے مکمل طور پر نجات حاصل کر لیں- پاکستان بھی الیکٹرک کار کی دلچسپی میں کسی بڑے اور ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہے- پاکستان کی پہلی میڈ ان پاکستان الیکٹرک کار جو کہ اور سیز پاکستانیوں کی انویسمنٹ اور لگن کا نتیجہ ہے نے اپنا کام شروع کر دیا ہے- یہ میڈ ان پاکستان کار امریکا، کینڈا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں پر مشتمل ڈی آئی سی ای فاونڈیشن کی جانب سے پاکستان میں چلائےجانے والے چار میگا پروجیکٹس میں سے ایک ہے- جسکا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانیوں کی مہارت کو سامنے لانا ہے- اس کار کا ڈیزائن امریکا اور برطانیہ کی گلوبل آٹو کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی ماہرین نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ خدمات رضاکارانہ پیش کیں ہیں- الیکٹرک کار کے ڈیزائن اور پروٹو ٹاپ کی تیاری پر اب تک ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے- یہ کار جلد ہی دنیا کی توجہ اپنی جانب پھیر لے گی اور دنیا کی صف اول کی کاروں کا مقابلہ کرے گی- کار کی اندرونی اور بیرونی ڈیزائن کا کام فیبرکیشن TEVTA میں ہو رہی ہے- الیکٹرک کار کی بیٹری کو پاکستان کے ماحول، آب و ہوا اور ڈرائیونگ کے رجحان کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے- اس بیٹری کی لائف کم ازکم دس سال ہوگی جسکے ایک بار کے ریچارج سے 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جا سکے گا- بیٹری پیکنگ اور فیبری کیشن کا تمام کام پاکستان میں ہو رہا ہےجبکہ سیل بیرون ملک سے درآمد کیے گئے ہیں پاکستانی کمپنیوں نے اس بیٹری کی کمرشل پیداوار میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے میڈ ان پاکستان کار اور بیٹری کو برآمد بھی کیا جائےگا- اس سارے پروجیکٹ میں تیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی-
پاکستان میں الیکٹرک کار رکھنے والوں کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں سے پہلا مسئلہ رجسٹریشن کا ہے- عام طور پر گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے ایکسائز دفتر جانا پڑتا ہے کار کے انجن کے مطابق سالانہ یا تا حیات ٹوکن اور نمبر پلیٹ سمیت مختلف ٹیکس ادا کرنے کے بعد گاڑی رجسٹرڈ ہو جاتی ہے لیکن الیکٹرک کار کا معاملہ اسکے بلکل الٹ ہے اسکا انجن ہی نہیں ہوتا اگر کوئی الیکٹرک کار کا مالک اپنی کار کی رجسٹریشن کے لیے ایکسائز کے دفتر جاتا ہے تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپکی کار کتنے سی سی ہے یعنی اسکا انجن کتنی قوت پیدا کرتا ہے حالانکہ الیکٹرک کار میں انجن نہیں ہوتا اور موونگ پارٹس بھی نہیں ہوتے انکی قوت کا تعین بیٹری کے سائز اور مختلف پہلوؤں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے- عالمی سطح پر الیکٹرک کاروں کے خریداروں کو ٹیکس چھوٹ سمیت مختلف مراعات دی جاتی ہیں جیسے ٹوکن سیلز ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹی میں کمی اسکے علاوہ موٹروے پر ان سے کم پیسے لیے جاتے اور پارکنگ ایریا میں انکو چارجنگ کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں الیکٹرک کار والے دوسرے شہر کا سفر نہیں کر سکتے کیونکہ بیٹری ختم ہونے کی صورت میں راستے میں چارجنگ اسٹیشن نہیں ہیں اس لیے وہ صرف اپنے شہر کے اندر ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں گھر میں چارجنگ کرنے سے ٹائم کے زیادہ لگنے کے ساتھ زیادہ بجلی خرچ ہونے اور بجلی مہنگی ہونے کا مسئلہ بھی شامل ہے- گزشتہ عرصے میں کچھ جگہ لاہور اور ایف سیون اسلام آباد میں چارجنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے جس میں ایک گاڑی کی چارجنگ پوری کرنے میں آدھے گھنٹے کا وقت لگتا ہے لیکن ابھی یہ سروس فری دی جا رہی ہے- رجسٹریشن اور چارجنگ کے ان مسائل تلاش کرنے کی فوری ضرورت ہے-
حکومت پاکستان کی طرف سے الیکٹرک کاروں کے مالکان کو چھوٹ اور سہولیات دینے کے اعلانات کیے گئے تھے تاحال ڈیوٹی میں چھوٹ ضرور دی گئی ہے لیکن سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن میں کوئی رعایت نہیں دی گئی کیونکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن کے سلسلے میں کوئی واضع پالیسی نہیں اگر کوئی پالیسی ہے تو وہ صرف اعلانات کی حد تک ہے- پہلے ایکسائز دفتر میں دو فیصد ٹیکس سے نظام چل جاتا تھا لیکن اب چار فیصد کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے جو کہ کسٹمر کے ساتھ نا انصافی ہے- وزارات موسمیات نے وفاقی حکومت کو الیکٹرک کاروں پر چھوٹ کے سلسلے میں خصوصی درخواست کی تھی کیونکہ یہ ماحول دوست کاریں ہیں پاکستان کا ماحول مزید انجن کا دھواں برداشت نہیں کر سکتا اس وجہ سے حکومت پاکستان کی پوری توجہ ماحول کو صاف کرنے پر ہے اس مقصد کے لیے لاکھوں کے حساب سے درخت لگائے جا رہے ہیں اور اپنی آنے والی نسل کو آلودگی سے پاک اور صاف ماحول دینے کے لیے حکومت پاکستان الیکٹرک کاروں اور موٹر سائیکلوں کی بہتر اور سستی پیداوار کے لیے کوشاں ہے- وزیر مملیکت برائےموسمیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ ہمارے مقاصد میں الیکٹرک کاروں کی امپورٹ کی حوصلہ شکنی کرنا اور انکو مقامی طور پر تیار کرنا شامل ہے- زرتاج گل نے کہا ہے کہ ہم نے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مشاورتی کمیٹی سے الیکٹرک وہیکل پالیسی پاس کرائی ہے لیکن اس پر عملی طور پر عمل کرنا انڈسٹری کا کام ہے- پاکستان میں مقامی طور پر الیکٹرک وہیکل کی پیداوار کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے کوششیں جاری ہیں-
پاکستانی حکومت نے الیکٹرک کاروں کی جو پالیسی بنائی ہیں وہ حوصلہ افزا ہیں لیکن اس پر مزید کام کر کے بہتر بنانے کی ضرورت ہے- پاکستان میں بننے والی الیکٹرک کاروں پر کوئی ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن فیس نہیں ہوگی بلکہ اس مقصد کے لیے خاص رجسٹریشن پلیٹس متعارف کرائی جائیں گی- الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے لیے سپیشل اکنامک زون بنانے کی تجویز زیر غور ہے- آئندہ چار سالوں میں ایک لاکھ گاڑیوں کو برقی ٹیکنالوجی پر لایا جائے گا- موٹر سائیکل اور رکشے بجلی سے چلیں گے- ابتدائی مرحلے میں تین ہزار سی این جی سٹیشن کو الیکٹرک چارجر بنانے کی تجویز ہے- دو سال کے لیے استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی- ابتدائی ہدف کے طور پر 2030ء تک ملک کی تیس فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کر لیا جائے گا جس سے تیل کے امپورٹ بل پر دو ارب ڈالر کی بچت ہوگی- چونکہ الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹری کا مرکزی کردار ہوتا ہے اس لیے قسطوں پر الیکٹرک بیٹری فروخت کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے- عوام کو بیٹری چارجنگ کے لیے جگہ جگہ چارجنگ سٹیشنوں کی سہولت فراہم کی جائے گی یا پہلے سے چارج شدہ بیٹری کے ساتھ خالی بیٹری کی تبدیلی کی سہولت دینے پر غور کیا جا رہا ہے- وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی بیٹری کے لئے لیتھیئم بنانے والی ایک کورین کمپنی نے لاہور میں اپنا پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے-
فرجیل جاوید جو ایس اے پی نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں اور پاکستان میں پبلک سیکٹر ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں، بی بی سی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بہترین حکمت عملی نہ ہونے کے باعث تمام پالیسیوں کے نتائج غیر حقیقی ہیں۔ یہاں لوڈ شیڈنگ بھی ایک مسئلہ ہے اور بجلی بھی مہنگی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی یا بہتری کے حصول کے لئے وزارت موسمیات نے پالیسی بنائی ہے، لیکن پالیسی بناتے وقت صنعت کاروں اور وزارت صنعت کو پوری طرح اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب لاہور میں قائم الیکٹرک موٹر سائیکل کمپنی کے سی ای او عثمان شیخ نے اس پالیسی کو خوش آئند قرار دیا ہے انکا کہنا ہے مجموعی طور یہ پالیسی اچھی ہے مگر کچھ تحفظات بھی ہیں۔ اگر اس پالیسی میں سولر سسٹم کی طرح سیلز ٹیکس کو صفر کر دیا جائے تو اسکے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہونگے، جب تک خریداروں کو فوری اور زیادہ فائدہ نظر نہیں آئے گا تب تک وہ الیکٹرک کاروں کی طرف منتقل نہیں ہونگے- ٹول ٹیکس اور ایکسائز ٹیکس کی معافی سے لوگوں کو ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا آسان ہوگا- انہوں نے کہا کہ تین ہزار سی این جی سٹیشن بند پڑے ہیں گیس کی کمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ان سب کو چارجنگ سٹیشنوں میں تبدیل کرنے سے لوگوں کو راستے میں اپنی بیٹری کی چارجنگ کی سہولت میسر آئےگی جس سے الیکٹرک کاروں میں سفر کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی- انہوں نے کہا کہ الیکٹرک کار کے لیے سب سے اہم اسکے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر ہے ورنہ پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی ناکام ہو جائے گی- اس پالیسی کے تحت لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں یہ منصوبہ متعارف کروایا جائےگااور سی این جی سٹیشن والوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے- انکو سہولیات دےکر مالکان کی حوصلہ افزائی کی جائےگی-
پاکستان میں برقی گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ان پر لگنے والے ٹیکس اور ڈیوٹیز 17 کی بجائےایک فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے- الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھانے اور انجن والی گاڑیوں کی تعداد کم کرنے سے پاکستان کی فضائی آلودگی میں کم از کم 65 فیصد کم ہو سکے گی- الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو کم خرچ میں بجلی کی فراہمی کے لیے پن بجلی اور شمسی بجلی کی پیداوار کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا- لاہور میں ایک نجی کمپنی نے پہلا الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹ لگایا اور عوام کو مفت چارجنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے- دوسرے مرحلے میں لاہور، سکھر موٹر وے پر چھ مزید یونٹ لگانے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے- پاکستان میں چارجنگ یونٹ لگانے والی کمپنی گیس اینڈ آئل چیف آپریٹنگ آفیسر ذیشان طیب نے بتایا کہ الیکٹرک کار کے استعمال سے نا صرف خرچ میں کمی ہو گی بلکہ مقامی طور پربننے سے کار کی قیمت بھی کم ہو گی- بیٹری چارجنگ خرچ کے بارے میں بات کرتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ بڑی بیٹری کی چارجنگ خرچ 1500 سے 2000 تک آئے گا جبکہ چھوٹی بیٹری کا خرچ اس سے بھی کم ہوگا- بڑی بیٹری سے دو سے آڑھائی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے ہو سکے گا جبکہ چھوٹی بیٹری سے ڈیڑھ سے دو سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جا سکے گا- پاکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں الیکٹرک کاروں پر منتقل ہونے میں کافی تاخیر کا شکار ہے- ذیشان طیب کا کہنا تھا کہ ہم اٹلی سے چارجنگ یونٹ درآمد کر رہے ہیں ایک چارجنگ یونٹ ہمیں 50 لاکھ میں پڑتا ہے- پاکستان کی پہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت پاکستان آئندہ چار سالوں میں مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی ایک لاکھ موٹرز کار، پانچ لاکھ موٹر سائیکل اور ہزاروں رکشے پاکستان کی سڑکوں پر موجود ہونگے اور 2040ء تک پاکستانی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاوں کا 90 فیصد حصہ مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر مشتمل ہوگا- چیئر مین کمیٹی مصطفیٰ کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گاڑیوں میں غیر معیاری تیل کے استعمال سے فضائی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے- پاکستان فضائی آلودگی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں پانچویں نمبر پر ہے پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ہلاکتیں ہوتی ہیں- اسی فضائی آلودگی کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لیے کروڑوں کی تعداد میں درخت لگائےجا رہے ہیں اور انجن اور اسکے زہریلے دھویں سے جان چھڑانے کے لیے الیکٹرک وہیکل مقامی سطح پر بنانے اور برآمد کرنے کے عظیم منصوبے کے لیے کوشاں ہے-