نیشنل پالیسی: سافٹ پاور، سپورٹس اور حکومتی لائحہ عمل
Blog Single

نیشنل پالیسی: سافٹ پاور، سپورٹس اور حکومتی لائحہ عمل

آف روڈ کو ریگولیٹ کرنے اور آن روڈ کےلئے ٹریک بنانے کی ضرورت

بدقسمتی سےپچھلی چند دہائیوں سے پاکستان کا نام آنے پر جو دوسراتصورآتا تھا وہ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی وشدت پسندی، سیاسی بحران، غیرجمہوری اورسکیورٹی سٹیٹ جیسے خیالات تھے- باالفاظ دیگر تمام دنیا ہارڈ پولیٹیکس (Hard Politics)کی وجہ سے پاکستان کوجانتی تھی جبکہ سرد جنگ کے اختتام پر بالعموم اور اکیسویں صدی کی ابتداء سے بالخصوص دنیا نے اپنی سٹرٹیجی(Strategy) تبدیل کرتے ہوئےاپنی سافٹ پاور (Soft Power) پر توجہ دی یعنی ہارڈ پولیٹیکس کے مقابلے میں سافٹ پولیٹیکس (Soft Politics)کو ترجیح دی- سافٹ پولیٹیکس میں کھیلیں، سیاحت، کلچراور تعلیمی نظام وغیرہ شامل ہے- اسی بنا پر دنیا  کے  ممالک نے روایتی سکیورٹی (Traditional Security) سے غیر روایتی سکیورٹی (Non Traditional Security) پر توجہ دینی شروع کردی ہے جس سے مراد عوام کی فلاح و بہبود (Human Security/Human Development)ہے-

خوش قسمتی سے ملک ِپاکستان نے بھی دنیا کی ڈائنامکس کو بدلتے ہوئے دیکھ کراپنی توجہ روایتی سکیورٹی سے غیر روایتی سکیورٹی پردی ہے- ہمارے ملک کے اداروں کی کامیابی ہے کہ پاکستان جو کبھی دہشت گردی اور خطرات کا گھر سمجھاجاتاتھا آج وہ امن  و  آشتی کا گہوارہ اور باہمی   ہم آہنگی اور رواداری کو   فروغ دینے  میں پیش پیش ہے- پاکستان اپنا سافٹ امیج دنیا کو دکھانے اور پُرامن ملک ہونے کی کوشش تو یقیناً  کافی عرصہ سے کررہا ہے لیکن اس کا باقاعدہ طورپر آغاز 2018 اور 2019 سے ملتا ہے جب دہشت گردی پر قابو پالیا گیا-

کھیل کسی  بھی  ملک کا سافٹ امیج بڑھاتے ہیں   بلکہ اسکی سافٹ پاور ہوتے ہیں جواس ملک کی سیاحت کے ساتھ  معیشت کو بھی بہتر بنانے میں  بہت بڑا کردار ادا کرتےہیں- یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کرکٹ  کی بحالی کے امکانات مزید  بڑھ گئے ہیں جس کا اعلان حال ہی میں انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (ICC)نے کیا ہے -یہ 1996 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلا بڑا گلوبل کرکٹ ٹورنامنٹ "چیمپئن ٹرافی" ہے جس کی پاکستان 2025ء میں میزبانی کرے  گا-

مارچ2021ءمیں "اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ" کے عنوان سے کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان کے اعلیٰ احکام نے شرکت کی اور یہ بیانیہ دیا کہ پاکستان کااب فوکس جیو پالیٹیکس(Geo-Politics سے جیو اکنامکس (Geo-Economics)کی طرف ہےاوراپنی پالیسی کو Geo-Political Contestation سے Geo-Economic Cooperation پر شفٹ کرتا ہے جس کے لئےکہا گیا کہ پاکستان کی لوکیشن معاشی تعلقات کو بڑھانے اور علاقائی ممالک کو جوڑنے میں بڑا کردار اداکرسکتی ہے- اس پالیسی کے مطابق جہاں پاکستان Economic Cooperation اورKnowledge based Economy کی بات کررہا ہے  وہیں سیاحت کے شعبہ کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے- گوکہ موجودہ حکومت Religious Tourism کو پروموٹ کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سپورٹس پر توجہ دینے کی ضرورت ہےجس  میں بالخصوص آف روڈ کو ٹوورازم انڈسٹری کے   طور پر  فروغ  دینا چاہیے-

آف روڈ پاکستان میں وہ کھیل ہے جس پر توجہ دے کر حکومت کم وقت میں زیادہ ثمرات حاصل کرسکتی ہے جس کےلئے اتنے بڑے پیمانہ پر انفراسٹریکچر اور ادارے بنانے کی  بھی ضرورت بھی  بلکہ اس کھیل کو Ownکرنےکی ضرورت ہے -پاکستان میں  آف روڈ  کو  نیشنل سطح پر ریگولیٹ کرنےکےلئے باقاعدہ اتھارٹی کاقیام ہونا چاہئے-پاکستان میں آف روڈ  ٹورازم کا بڑ ا پوٹیشنل ہے   جس کا اعتراف  دوسرے ممالک سے  آنے والے  ریسرز  بھی کرتے ہیں کہ  ملک پاکستان کے پاس قدرتی ٹریکس موجود ہیں- اسکے علاوہ   دوسرے درجہ پر ملک ِ پاکستان میں آن روڈ ٹریک بننے چاہیئں تاکہ نوجوان نسل اپنی انرجی  مثبت طورپر استعمال کرسکیں اور سٹریٹ ریسنگ سے ہونے والےحادثات سے  بھی بچا جاسکے-

 

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ