گوادرآف روڈ ریلی2021: ریسرز اور گاڑیوں کا امتحان
کئی کامیاب ٹھہرے توکئی ناکام ہوکربھی پُرعزم تھے ،یہی ایک سپورٹس مین سپرٹ کیلئے ضروری چیز ہے
ملک حسن احمد
کرونا وباء نے جہاں پورے ملک کی معیشت اور کاروباری نظام کومتاثر کیاوہیں اس کے ساتھ ہی کرونا وباء کی وجہ سے کھیلوں کے میدان بھی ویران رہے- یاد رہے سال 2019ء ،2020ءکرونا وباء کے پیشِ نظر حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے گوادر ریلی کا انعقاد نہ کیا گیا، اس سال چونکہ پاکستان بھر میں الحمد اللہ کافی حد تک وباء پر قابو پا لیا گیا ہےتو حالات کی بہتری کے پیشِ نظر14، 15، 16، 17 اکتوبر کوگوادر جیپ ریلی کا میگا ایونٹ پورے جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا، اس دفعہ گوادر آف روڈ ریلی میں پچھلے سالوں کی نسبت کافی زیادہ تعداد میں ریسرز نے حصہ لیا اور اپنی قسمت آزمائی کی، پاکستان بھر سے 60 سے زائد ریسرز جبکہ 10ایران کے ریسرز نے حصہ لیا، خواتین کیٹگری میں بھی نئی ریسرز کا اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ سٹاک اور پرو کلاس میں کئی نئے جوان ریسرز شامل تھے- فائنل ریس کےدن پریپیرڈکیٹگری میں 28 گاڑیوں نے حصہ لیا جبکہ سٹاک کیٹگری میں 36 گاڑیوں نے ریس میں حصہ لیا-
گوادر ریس کےلیےریسنگ ٹریک جیونی کی ساحلی پٹی اور مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ بنایاگیا جو گوادر پشکان،گنزاور جیوانی سے ہوتا ہوا واپس گوادر میں اختتام پذیر ہوا-یہ انتہائی کٹھن اور پُر خطر ٹریک125 کلومیٹر کے طویل فاصلہ پر مشتمل تھا- ڈرائیورز نے ہارس میگزین کے نمائندہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس دفعہ کا ٹریک پہلے کی نسبت بالکل مختلف بھی ہے اور مشکل بھی- خطرناک اور کٹھن ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت کم گاڑیاں اپنا فاصلہ مقررہ وقت پر طے کرتے ہوئے فنش پوائنٹ پر پہنچیں، کوالیفائنگ راؤنڈ میں ایرانی ریسر کی گاڑی الٹی جبکہ فائنل ریس ڈےمیں بھی گاڑیوں کو حادثہ پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے ڈرائیورز محفوظ رہے-
14 اکتوبر کو ساحل سمندر گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوئی اور گاڑیوں کی انسپکشن کا مر حلہ ہوا جس کے بعد شام کو ڈرائیور میٹنگ ہوئی جس میں اگلے تین دن کے شیڈول اور ریس کے دیگرقواعد وضوابط کے حوالے سے بتایا گیا- 15 اکتوبرکوادارہ ترقیات گوادر کے فٹبال گراؤنڈ کےپاس صبح 8 بجے کوالیفائنگ راؤنڈ ہوا- کوالیفائنگ راؤنڈکا جنرل آفیسر کمانڈنگ پاکستان آرمی عنایت حسین، کمشنر مکران شاہ عرفان غرشین نے باقاعدہ افتتاح کیا- افتتاحی تقریب کےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر میجر (ر)عبدالکبیر خان زرکون سمیت سرکاری افسران اور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی-گوادر آف روڈ جیپ ریلی کے چیف آرگنائزر طلحہ اقبال رئیس نے کہا کہ ریلی کو کامیاب بنانے میں حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پاک آرمی اور نجی ادارں کی معاونت نےاہم کردار ادا کیا-
16 اکتوبرکو سٹاک کیٹگری کی فائنل ریس ہوئی جبکہ 17 اکتوبر پرو کلاس کا فائنل ریس کا دن تھاجس کے ساتھ پیراگلائڈنگ کاانعقاد بھی کیا گیا، شام گوادر کرکٹ سٹیڈیم میں تقسیم انعامات کی شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں جیتنے والے ریسرز میں انعامات تقسیم کیے گئے- گوادرآف روڈ جیپ ریلی کے اختتام پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا- تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال تھے،اختتامی تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے علاوہ دیگر معززین نے خطاب کیا اورشرکاء کا شکریہ ادا کیا-
گوادر کا علاقہ اپنے اندر انتہائی خوبصورت اور دلکش منظر سمیٹے ہوئے ہے، ساحل سمندر کے کنارے ڈوبتا سورج دل کو چھو لینے والا نظارہ ریسرز اور شائقین کو اپنی طرف مائل کرتا ہے، گوادر کا علاقہ جہاں صحرا، میدان، پہاڑی علاقےاور ساحل سمندر کا حسین امتزاج ہے- جہاں خدا کی قدرت کا نیا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے- گوادرریلی کا انعقادمقامی لوگوں کے لئے تفریح کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کے لئے روزگار کا بھی ذریعہ ہے، گوادر جیپ ریلی گوادر کی ترقی، علاقہ کو بین الاقوامی طور پر مزید مقبول کرنےاور خوشحالی میں بڑا کردار ادا کرتی ہے، گوادر جیپ ریلی میں اس دفعہ غیر ملکی ریسرز کا حصہ لینا انتہائی خوش آئند بات ہے جس سے اس ریلی کو بین الاقوامی سطح کی ریلی کا درجہ حاصل ہوا- اس کے ساتھ ہی پوری دنیا کے لئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان پُرا من ملک ہے جہاں ملکی وغیر ملکی سیاح بالکل محفوظ ہیں- ایسے ایونٹس نوجوانوں میں ایک نیا حوصلہ شوق اور جذبہ پیدا کرتے ہیں اور ان کی توانائی کے مثبت استعمال سے ملک و قوم ترقی کا باعث بنتاہے- پاکستان کی تمام سکیورٹی فورسز، بلوچستان حکومت اور دیگر تمام معاونین مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انتہائی منظم اور پر امن ایونٹ خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہوا-
تھل آف روڈ ریلی میں حصہ لینے والے ریسرز کی پوزیشنز اور مقررہ وقت بالترتیب درج ذیل ہے:
اے پریپیرڈ کیٹگری
اے پریپیرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن زین محمود نے حاصل کی اورتھل آف روڈ ریلی2021ء کے چئمپین ٹھہرے،انہوں نے اپنا مقررہ فاصلہ 02:08:40میں طے کیا،جبکہ دوسری پوزیشن صاحبزاد ہ نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 02:12:02میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن نادر علی مگسی نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 02:14:36 میں مکمل کیا-
اے سٹاک کیٹگری
اے سٹاک کیٹگری کےنتائج بڑے دلچسپ رہے اور بڑا سخت مقابلہ دیکھنے کوملا- پہلی پوزیشن یاسر احمد نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:25:46منٹ میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے عقیل احمد تین منٹ لیٹ ہوئے یوں انہوں نے یہ فاصلہ 02:28:58.منٹ میں مکمل کیا- تیسری پوزیشن بےبرک بلوچ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:30:40منٹ میں مکمل کیا-
بی پریپیرڈ کیٹگری
بی پریپیرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن اسد خان شادی خیل نے حاصل کی انہوں نے اپنا فاصلہ 02:23:38منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن چوہدری سعود مجید نے حاصل کی انہوں نےمقررہ وقت 02:25:57 منٹ میں طےکیا اور تیسری پوزیشن نعمان سر انجام نے مقررہ فاصلہ 02:26:38 منٹ میں مکمل کر کے حاصل کی-
بی سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن ٹیم سلطان کے صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز نے ٹریک کو02:25:57 منٹ میں مکمل کرکے حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن بسمل مگسی نے حاصل کی جنہوں نے ٹریک کو 02:28:07 منٹ میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن عفنان خلیل نے حاصل کی اور ان کا ٹائم 02:30:37 منٹ تھا-
سی پریپیرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن ظہیر حسین شاہ نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:27:35 میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن محمد اسامہ اقبال نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:28:31 تھا - تیسر ی پوزیشن محمود مجید نے حاصل کی اورانہوں نے 02:39:26 منٹ میں ٹریک مکمل کیا-
سی سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن زبیر حیات نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:47:15 منٹ میں کیا جبکہ دوسری پوزیشن راشد عبدالللہ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:47:23 میں مکمل کیا اورتیسری پوزیشن ایم منیر جہاندیر نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:47:53 منٹ تھا -
ڈی پریپیرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن ظفر بلوچ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:30:51 منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن عمر اقبال کانجو نے حاصل کی انہوں نے اپنا فاصلہ 02:33:01 منٹ میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن بےواگ مزاری نے حاصل کی ان کا ٹریک مکمل کرنے کا ٹائم 02:42:09 رہا-
ڈی سٹاک کیٹگری
ڈی سٹاک کیٹگری میں پہلےنمبرپرآنےوالےتاج خان مہر تھےجنہوں نے02:42:42منٹ میں ٹریک مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن فلک شیر بلوچ نے حاصل کی کاٹائم02:43:59 منٹ ہے- تیسری پوزیشن شاہ گل مزاری نے حاصل کی انہوں نے 02:44:07 منٹ میں ٹریک مکمل کیا-
وومن پریپیرڈکیٹگری
ریلی میں خواتین ریسرز نے بھی گاڑیاں دوڑا کر ریسنگ کے شائقین کے دل جیت لیے- پہلی پوزیشن تشنہ پٹیل نے حاصل کی ان کا مقررہ فاصلہ 01:27:13 منٹ میں مکمل ہوا جبکہ دوسری پوزیشن 22 سالہ ماہم شیرازقریشی نے حاصل کی اور انہوں نے 01:32:09 میں ٹریک مکمل کیا -
وومن سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن پلوشہ حیات خان نے حاصل کی اور اپنا مقررہ فاصلہ01:32:34 منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن ندا واسطی نے حاصل کی اور فاصلہ 01:35:46 منٹ میں مکمل کیاجبکہ تیسرے نمبر پردینہ پیٹل اور انہوں نے ٹریک 01:41:00 میں مکمل کیا -
تھل آف روڈ جیپ ریلی 2021 کے اختتام پذیر ہونے پرکئی کامیاب ٹھہرے توکئی ناکام ہوکربھی پرعزم تھے اور یہی ایک سپورٹس مین شپ کےلئے ضروری چیز ہے-