آٹوموبائل سیکٹراور سال 2021: ایک جائزہ
Blog Single

آٹوموبائل سیکٹراور سال 2021: ایک جائزہ

2020ء میں کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مارچ سے جون تک آٹوموبائل انڈسٹری بند رہی- تاہم، یہ صنعت 2021ء کے دوران کھلی تھی اور اس لئے اس کی پیداوار 2020ء کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی- 2021ء کے آغاز سے، کورونا پر کسی حد تک قابو پالینے کے بعدعالمی معیشت بحال ہونا شروع ہوئی جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹوں نے کاروں سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دیا- تاہم، پاکستان میں آٹوموبائل کمپنیوں کے لیے اہم چیلنج فروخت کے حجم کو بڑھانا تھا، جو قیمتوں میں کمی کے ذریعے ہی ممکن تھا-

حکومت پاکستان نے اس شعبے کی مدد کی کیونکہ اس نے2021-22کے بجٹ میں تمام گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو کم کرکے اور 1,000cc یا اس سے کم انجن کی صلاحیت والی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کرکے صارفین کو ریلیف فراہم کیا- حکومت نے 1000cc سے کم انجن کی صلاحیت والی کاروں پر سیلز ٹیکس 17.5 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کر دیا-اس اقدام نے کاروں کی قیمتوں کو کم کیا اور فروخت کے حجم میں اضافہ کیا-

اس فروخت کے اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 2021ء کے دوران ملک میں گاڑیوں کے متعدد نئے ماڈلز لانچ کیے گئے، جنہوں نے سیلز کے حجم کے اضافے میں بے حد اہم کردار ادا کیا- KIA، Honda، Toyota، Proton، Changan اور Hyundai ان فرموں میں شامل تھے جنہوں نے نئے ویریئنٹس کو لانچ کیا- زرعی مصنوعات کی بلند قیمتوں، بڑی فصلوں کی زبردست پیداوار اور بہتر قوت خرید کی وجہ سے دیہی علاقوں میں معاشی حالات میں بہتری نے بھی اس شعبے کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا-

سال 2021ء کے شروع میں ہی پاکستان میں برطانوی کار کمپنی ایم جی لانچ ہوئی- کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تمام تر مشکلات کے باوجود ایم جی پاکستان کی لانچنگ نہ صرف ایک حوصلہ افزا بات تھی  بلکہ نئے سال کی شروعات میں پاکستانی معیشت کے لیے ایک امید کی کرن بھی تھی- سال 2021ءآٹو موبائل سیکٹر کے لیے قابل ذکر ثابت ہوا- 2020ء میں 110,540 یونٹس کے مقابلے میں سال بہ سال کی بنیاد پر فروخت میں 90 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 210,048 یونٹس تک پہنچ گئی-

پاکستان آٹوموبائل سیکٹر نے سال 2021ء میں نمایاں ترقی دیکھی- جبکہ بین الاقوامی سپلائی چین میں خلل، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ اور سخت بینکنگ ضابطوں جیسے کئی عوامل کی وجہ سے یہ نشیب و فراز سے گزرا ہے- مزید برآں منی بجٹ میں کاروں پر ٹیکسوں میں اضافہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا-

امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور منی بجٹ میں کاروں پر ٹیکسوں میں اضافے نے کاروں کی قیمتوں میں کمی کو پلٹ دیا اور وہ دوبارہ بڑھ گئیں- دنیا بھر کے بہت سے ممالک میں صورتحال ایک جیسی ہے لیکن کچھ ممالک میں صارفین کے رویے، ملازمین کی وفاداری اور حکومتی پالیسیوں نے گاڑیوں کی قیمتوں اور طلب کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے-

ایک طرف یہ نہایت ہی خوش آئندبات ہےکہ پاکستان میں آٹوموبائل انڈسٹری بڑھ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی پالیسی تشکیل دی جائے کہ گاڑیوں میں ماحول دوست ٹیکنالوجی لازمی ہواور ماحول دوست گاڑیاں بنائی اور منگوائی جائیں- گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں کاربن کے اخراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ