ٹریکس کا فقدان،ٹیلنٹ کا نقصان
پاکستان میں باضابطہ پیشہ وارانہ ریسنگ ٹریک اور کسی باضابطہ پلیٹ فارمز کے نہ ہونے سے کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے نہیں آرہیں
میدان اور استاد نہ ہونے کی وجہ سےبہت سا ٹیلنٹ ابھرنے کی بجائے تہہ مزار چلا جاتا ہے
محمد رضوان
مشہور مقولہ ہے کہ جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوں وہا ں ہسپتال ویران ہوا کرتے ہیں- کھیل کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکھیل بیماریوں سے چھٹکارے کا باعث بنتے ہیں، تفریح کے مواقع پیدا کرتے ہیں، انسانی جسم کو سنوارتے ہیں، ذہنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں، جذبوں کو اُبھارتے ہیں- پاکستان نے جس طرح کرکٹ کی دنیا میں اپنا نام پیدا کیا بدقسمتی سے دیگر کھیلوں میں اپنا مقام پیدا کرنے میں ناکام رہا- بعض کھیل ایسے ہیں جن میں حکومتی سربراہی نہ رہی لیکن پاکستانی شہریوں نے اپنی حیثیت میں حصہ لیا- پاکستان کھیتی باڑی ہی نہیں بلکہ کھیل کے میدانوں کے حوالے سے بھی زرخیز ممالک کی فہرست میں آتا ہے- جہاں وسیع و عریض میدان و صحرا، بلند و بالا پہاڑ، دلکش و دلنشیں وادیاں، باصلاحیت و ہنر مند کھلاڑی ہیں- خوبصورت و پُر خطر آف روڈ ٹریکس ہیں- پاکستان میں حالیہ چند برسوں میں آف روڈ ریلیز کو فروغ حاصل ہورہاہے نت نئے ٹریکس دریافت ہورہے ہیں، جو کہ خوش آئند امر ہے-
بدقسمتی سے پیشہ ورانہ ریسنگ ٹریکس نہ ہونے کے برابر ہیں اور نہ ہی کوئی ایسے پلیٹ فارمز ہیں جہاں پہ کھلاڑیوں کی صلاحیت کو چمکانے، کھیل پہ اکسانے، ٹیلٹ کو دیکھانے کے مواقع پیدا کئے جاسکیں- جب کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت کے لیے میدان میسر نہیں آتا تو وہ عوامی شاہراہیں ہی کھیل کا میدان تصور کرتے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے لئے بھی خطرےکا سامان پیدا کرتے ہیں- میدان اور استاد نہ ہونے کی وجہ سےبہت سا ٹیلنٹ ابھرنے کی بجائے تہہ مزار چلا جاتا ہے- پاکستان میں موٹرسپورٹس ٹیلنٹ کے بارے میں جب بات کی جاتی ہے تو بہت سے نام سامنے آتے ہیں جو موٹر سائیکل، ڈرفٹ، آف روڈ ریلی، ڈارٹ بائیک اور کارٹنگ میں ٹیلنٹ رکھتے ہیں- جنہوں نے سہولیات نہ ہونے کے باوجود انفرادی کاوشوں سے اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا- اگر پاکستان میں پیشہ ورانہ ٹریک اور اسپورٹس اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے تو نہ صرف باصلاحیت کھلاڑیوں کو بکھرنے سے بچایا جاسکتا ہے، بلکہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کویہاں لانے کے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں-
دو پہیوں پر ٹیلنٹ
پاکستان میں جہاں گاڑیوں کی ریس کا جنون پایا جاتا ہے وہی مہنگی اور نایاب موٹر سائیکلوں کے ساتھ بہت سے اسپورٹس بائیک بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن پہ ریسرز ہلڑ بازی میں مگھن دیکھائی دیتے ہیں- پاکستان میں ان ریسرز کے لئے میدان نہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنے جوہر دیکھانے سڑکوں کا رخ کرتے ہیں- چھٹی کے دنوں میں اور خصوصاً قومی تہواروں پہ ان بائیکرز کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے جو نہ صرف ان کے لئے بلکہ عوام کے لئے بھی جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہےایسے میں ٹریک سے محروم نوجوان مرحوم کہلائے جاتے ہیں- اگر انہیں کوئی میدان میسرآئے تو خون سڑکوں پہ بہنے کی بجائے رگوں میں ہی دوڑتا رہے- ریسنگ اکیڈمیز اور کوچ نہ ہونے کی وجہ سے ان جنونی ریسر کو حفاظتی اقدامات سے آگاہی نہیں ہوتی اور کچھ لاپروہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے ہیلمنٹ کا استعمال نہ کرنا، مجوزہ ریسنگ ٹریک سوٹ نہ پہننا، ایک پہیے پہ دوڑانا- پاکستان میں ایسے ٹریکس اور اکیڈمیز کا قیام ناگزیر ہیں جو ٹیلنٹ کو چمکانے میں اپنا کردار ادا کریں-
اگر کوئی میدان میسرآئے تو خون سڑکوں پہ بہنے کی بجائے رگوں میں ہی دوڑتا رہے
پاکستان میں اسپورٹس بائیکر کا جب تذکرہ کیا جاتا ہے تو واحد نام "عثمان غنی " کا سامنے آتا ہے- موصوف فرد واحد ہے جس کے پاس
فیڈریشن انٹرنیشنل ڈی موٹو سائکلزم (ایف آئی ایم) لائسنس ہے اور جو کہ ایک کوالیفائیڈ کوچ بھی ہوتا ہے- عثمان غنی نے انٹرویودیتے ہوئےکہا کہ وہ پاکستانی ریسرز کےلیےمحسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک ٹیلنٹ ہے جو کہ دوسری قوموں کی ریسرزسےکہیں زیادہ ہے تاہم، ان کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے کھیل کے لیے ضروری پروفیشنل ریسنگ ٹریک اور مقابلوں کی ضرورت ہے- عثمان غنی کاایک عزیز دوست ریس کے دوران حادثے کا شکار ہوا جس کا گہرا اثر غنی کے اعصاب پر سوار رہا- اُن کا کہنا ہے "میں نے سڑکوں پر بائیک چلانے کا بدترین نتیجہ دیکھا ہےلیکن بدقسمتی سے، پاکستان میں ریسرز کے پاس یہی واحد انتخاب ہے- جہاں میں نے اپنے لیے صحیح ریسنگ سرکٹ پایا"-
دبئی میں اپنے تین سالہ ریسنگ کیریئر کے دوران، انہوں نے متعدد پوڈیمز پر قدم جمائے اور اب دنیا کی تمام بڑی ریسوں میں حصہ لینا ٹارگٹ ہے- انہوں نے کہا کہ میں اس مقام پر پہنچا کیونکہ میں نے ایک دوست کھو دیا اور دبئی چلا گیا- "ایک ٹریک زیادہ محفوظ ہے اور اگر میں حفاظتی سامان کے بغیر سڑکوں پر سوار ہوتا تو میں نہ صرف ہڈیاں توڑواتا بلکہ پہلی بار کریش ہونے پر مر جاتا-"
جب ہم پاکستان میں "ڈریگ ریس " کا تذکرہ کرتے ہیں تو بابر ضیاء کو فراموش نہیں کیا جاسکتا- نوعمری میں ہی سڑکوں پر ڈریگ ریس کا آغاز کیا، پاکستان کا پہلا پیشہ ور ڈرائیور ہے جو فیڈریشن انٹرنیشنل ڈی ایل آٹوموبائل لائسنس کا حامل ہے- ریس کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوئے- اس ریس کے دوران وہ گاڑی انتہائی بائیں لائن میں دوڑا رہے تھے جہاں دھول کی تہہ جمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گاڑی کے پہیوں کو ایک جیسی طاقت میسر نہیں تھی جس کے نتیجے میں گاڑی توازن برقرار نہ رکھ پائی اور الٹ گئی- ریسنگ کمیونٹی نے بابر ضیاء کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ گاڑی پر اپنا کنٹرول نہ رکھ پائے- بابر جسمانی طورپر تو محفوظ رہے لیکن گاڑی کا کافی نقصان ہوگیا، بابر ضیا کا مانناہے کہ ڈریگ ریس میں 20 فیصد ڈرائیور کی مہارت باقی 80 فیصد ریس کا انحصار کار پہ ہوتاہے- اس حادثے نے موصوف کو ڈریگ ریسنگ چھوڑنے پر مجبور کر دیاکیونکہ نہ ہی کوئی سپیشل ٹریک تھا اورناہی کوئی ایسی اتھارٹی تھی جو ریسز کو منعقد کروائے- اس حادثے نے موصوف کو ڈریگ ریسنگ چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور بابرضیا اپنی انڈر گریجویٹ ڈگری کے لیے ملائیشیا چلا گیا-
ضیا ء نے ریسنگ چھوڑنے کے حوالے سے کہا" مناسب ٹریکس نہیں ہیں- پیشہ ورانہ ریس کا انعقاد کرنے والا کوئی نہیں"- بابر ضیا ء کو اپنا لائسنس حاصل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگاجب کہ اس کھیل میں کمائی شروع کرنے میں پانچ سال لگے- انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، "کمائی شروع کرنے میں مجھے جو وقت لگا وہ اس لیے تھا کہ میرا تعلق پاکستان سے تھا، جہاں موٹرسپورٹ کے لیے ایک بھی اسپانسر نہیں ہے- ملائیشین کمپنیاں ملائیشین ریسرز کو ترجیح دیتی ہیں"- انہوں نے کہا، "میں نے اپنے قیمتی سال بیرون ملک دوڑ میں گزارے ہیں لیکن ہر کوئی میرے جیسا خوش قسمت نہیں ہے ، جسے اپنے خاندان کی مالی مدد حاصل ہواور اس وجہ سے وہ اپنے موٹرسپورٹس کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ملک جا سکے-" مقامی ریسرز کے لیے مواقع پیدا کریں لیکن پھر ایک مناسب ٹریک ہماری پہلی ضرورت ہے-
اگر بات کی جائے "کارٹنگ "کی تو یہ ایک دلچسپ کھیل ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس قسم کی موٹراسپورٹس سے تعلق رکھتے ہیں، اگر آپ کا آغاز کارٹنگ سے ہے، تو ترقی کی راہ نسبتاً آسان ہوجاتی ہیں -فارمولا ون سٹار بننے میں یہ معاون اکیڈمی کا درجہ رکھتی ہے-
چندمشہور اور کامیاب فارمولا ون ڈرائیورز میں سے سات بارکے فارمولا ون کے عالمی چیمپئن مائیکل شوماکر ، تین مرتبہ فارمولا ون کے عالمی چیمپئن لیوس ہیملٹن نے کارٹنگ سے آغاز کیا- سیبسٹین ویٹل ، جنہوں نے 11 سال کی عمر میں متعدد ریس جیتیں، آسٹریلوی فارمولا ون ڈرائیور مارک ویبر، جنہوں نے چار سال کی عمر میں کارٹنگ شروع کی اور فارمولا ون اور گراں پری میں قدم رکھنے سے پہلے کئی کارٹنگ چیمپئن شپ جیت لی، کمی رایکونن، فارمولا ون کار ریسنگ میں سوئچ کرنے سے پہلے 10 سال تک کارٹنگ کی اورفارمولا ون کی تاریخ میں سب سے کم پوائنٹس اسکور کرنے والے روسی دانییل کووت نے 10 سال کی عمر میں اطالوی ٹورو روسو فارمولاون ٹیم کے ساتھ دستخط سے پہلے کارٹ ریسنگ کی
پاکستان کے پاس2F2Fکارٹنگ کلب کے اسلام آباد اور لاہور میں کئی منظور شدہ کارٹنگ ٹریکس ہیں جو کار ریسنگ کےکھلاڑیوں کو کارٹنگ کے لیے محفوظ ومعیاری ماحول ،حفاظتی سامان اورحفاظتی اقدام سے آگاہی فراہم کرتے ہیں- حال ہی میں ایک "Airmen Recreational Park " میں بنایا گیا ہے جو کہ ڈرفٹنگ کے لیے بھی کھلے رہنے کی توقع ہے- احمد یستور مرزا کے مطابق "پاکستان میں ابھی کارٹنگ کی سطح بہت نیچے ہے-
احمد یستور مرزا ، 2011 میں اسپین کے شہر میڈرڈ میں فارمولا بی ایم ڈبلیو ریس میں پوڈیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تین دیگر فارمولا گلف 1000 ریسوں میں بھی حصہ لیا - یستور انگلینڈ میں اپنے بھائی سے ملنےگیا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا یہیں سے کم سنی ہی میں کارٹنگ شروع کر دی ،جلد ہی یہ اس کا پسندیدہ کھیل بن گیا- پاکستان واپسی پر اپنے آبائی شہر اسلام آباد میں کارٹنگ کلب میں باقاعدگی سے شمولیت اختیار کر لی- یستور کا کہنا ہے کہ "ایک بار جب مجھے ٹریک مل گیا، میں وہاں گیا اور محسوس کیا کہ ٹریک اور کارٹس کی سطح انگلینڈ میں کسی کے قریب نہیں تھی- یہی وجہ ہے کہ مجھے پریکٹس کے لیے انگلینڈ جانا پڑا اور پھر ایک دن وہاں ہی پیشہ ورانہ طور پر ریسنگ شروع کر دی''-
مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا" چونکہ مقامی طور پر کوئی مقابلہ منعقد نہیں ہوتا اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر کوئی نمائندگی ہوتی ہے، اس لیے انہیں اپنے جذبہ کے حصول کے لیے بیرون ملک جانا پڑا- انہوں نے کہا، "مزید ٹریک بنائے جا رہے ہیں ، لیکن اگر ہم پیشہ ور ریسر چاہتے ہیں تو ہمیں معیار کو سامنے لانا ہوگا، کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ تمام پروفیشنل ریسرزکارٹنگ سےبنے ہیں-"
اب بات کرتے ہیں موٹر اسپورٹس میں روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن آف روڈ ریلیز کی - آف روڈ موٹرسپورٹس کی سب سے مشہور و مقبول قسم ہے- پاکستان میں ہر سال کئی آف روڈ رریلیز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جن میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور شرکت ہوتی ہے- پاکستان میں کئی خوبصورت، دلکش و دلنشین، ریسرز کی مہارت اور گاڑی کی پاور کا کڑا امتحان لینے والے آف روڈ ٹریکس موجود ہیں جہاں ہر سال ریس کا کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے چند معروف ریلیز میں چولستان ڈیزرٹ ریلی، گوادر آف روڈ ریلی، جھل مگسی آف روڈ ڈیزرٹ چیلنج، سرفرنگا ڈیزرٹ چیلنج، حب ریلی کراس اورتھل آف روڈ ریلی قابلِ ذکر ہیں- ہر سال نئے ٹریک دریافت ہورہے ہیں حال ہی میں ڈیرہ جات جیپ ریلی کا انعقاد ہوا جہاں کا ٹریک اور مہمان نوازی نے ریسرز کے دل موہ لیے- مٹھی( تھرپارکر ) اور اس جیسے کئی دیگر ٹریک اپنی افتتاحی ریس کے لئے منتظر ہیں –
پاکستان میں آف رود ریلیز کو کافی فروغ حاصل ہورہا ہے، ہر ریس میں ریسرز کی دلچسپی اور تعداد میں اضافہ ہورہا ہے- آف روڈ ریلیز میں میرے ملک نے کئی بڑے نام پیدا کئے، اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے لیجنڈ میر نادر علی خان مگسی، عالمی سطح پہ پاکستان کاپرچم سربلند کرنے وا لے پرکشش مسکراہٹ، نرم و دھیمے لہجے اور مضبوط اعصاب کےمالک "صاحبزادہ سلطان "، پٹیل فیملی سے تعلق رکھنے والےرونی پٹیل، نوجوان ریسر"زین محمود" خطروں کے کھلاڑی "فیصل شادی خیل" تجربہ کار و ماہر"آصف فضل چوہدری" نامورریسر "جعفر مگسی" کم و بیش ہر ریس میں پوڈیم کی زینت ،نوجوان ، ہنس مکھ "سلطان بہادر عزیز "، جارحانہ ریسر"نعمان سرانجام"، اسد شادی خیل، انس خاکوانی اور ظفر بلوچ جیسے کئے ہیرے تراشے ہیں-
دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح آف روڈ ریلی میں بھی خواتین ریسر کی شمولیت خوش آئند ہے- گزشتہ تھل جیپ ریلی میں 8 خواتین ریسر نے شرکت کی جن میں تشنہ پٹیل، ماہم شیراز، دینہ پٹیل، ندا واسطی، رباب سلطان، پلوشہ حیات خان، زلیخا نیازی اور رخشندہ جبین شامل تھیں- یہاں پٹیل فیملی کا تذکرہ کرنا نہایت ضروری ہے کہ جہاں باپ(رونی پٹیل) ریسنگ کے بعد کوچنگ کے فرائض سرانجام دے رہےہیں ،وہیں ماں ( تشنہ پٹیل ) ریسنگ کے ساتھ ساتھ خواتین ریسر کے لئے مشعل راہ ہیں- بیٹا( مہروان پٹیل) صاحبزادہ سلطان کے ساتھ معاون ڈرائیور کے فرائض سرانجام دے رہا ہے تو بیٹی( دینہ پٹیل) باپ کی معاونت سے ریسنگ سیٹ سنبھالے ہوئے ہے-
مذکورہ کھیل کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کو ٹریک کی تعمیر کے حوالے سے بہت زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی- بس صحرا کا رخ کریں پگ ڈنڈیوں کو ہموار کریں اور ایک دلچسپ ٹریک کی نشاندہی کر دیں- پھر ہر سال ٹریک میں اضافہ کرتے جائیں جیسے چولستان کا ٹریک کم و بیش 500 کلومیٹر پر محیط ہو چکا ہے- ان ویرانوں میں شائقین و ریسر کے کئی دنوں تک ڈیرے رہتے ہیں جس سے مقامی کاروبار یوں کومالی طور پر فائدہ پہنچتا ہے- پاکستان میں آف روڈ ریس نے ریسرز کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کردیاہے جہاں نئے آنے والے ریسرز کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہاجاتا ہے، تجربہ کار ریسرز انہیں ریس کی مہارتوں، ٹریک کی بجھارتوں، حفاظت کے معیار اور گاڑی کو تیار کرنے کے حوالے سے پوری دلجمعی کے ساتھ مفید مشوروں سے مستفید کرتے ہیں-
پاکستان میں ہونے والی ریسز میں زیادہ ترکو حکومتی ، یا صوبائی پشت پناہی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کسی بڑی کمپنی کی توجہ اس جانب ہورہی ہے- انفرادی سطح پہ مختلف صاحب ثروت ریلیوں کا اہتمام کرتے ہیں- اگر حکومت پاکستان دیگر کھیلوں کی طرح اس کھیل کی حوصلہ افزائی کرے تو پاکستان اس کھیل میں بھی کسی سے کم نہیں- اس کھیل سے پاکستان کا خوبصورت چہرہ دنیاکے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو یہاں لانے کاسامان کیا جاسکتا ہے-