ٹائروں کی اہمیت، ضرورت اور ترقی کےمختلف مراحل
محمد ماجد
بنیادی تعارف
کسی بھی گاڑی میں ٹائر منفرد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف گاڑی کا وزن اٹھاتے ہیں بلکہ ہر قسم کے راستوں کو عبور کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں- گاڑی کی رفتار یا رفتار کو کنٹرول کرنے میں بھی ٹائروں کا خاصہ اہم کردار ہوتا ہے- ٹائر کی ایجاد یا اسکا استعمال صدیوں پرانے ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ باقی چیزوں کی طرح اس میں بھی جدت آتی رہی اور جدت اس حد تک آ پہنچی کہ گاڑیوں کے ٹائروں کے بیرونی گھیروں کے ساتھ ربڑ لگانے کا عمل سامنے آیا- سب سے پہلے 1800 کی دہائی میں لکڑی اور سٹیل کے ٹائروں کے ساتھ ربڑ کا استعمال کیا گیا لیکن یہ جلدی خراب ہو گیا-
ٹائروں کےبننے کے کیمیائی مراحل: تاریخ تناظرمیں
ابتدائی طور پر ربڑ لگے ٹائروں کا مستقبل زیادہ پر امید نہیں لگ رہا تھا لیکن پھر 1839 میں ایسا عمل دریافت ہوا جس کے ذریعے ربڑ میں گندھک ملا کر اسے آنچ اور پریشر کے ساتھ تیار کیا جانے لگا جس سے ربڑ کو لچک دار اور مضبوط بنانے میں مدد ملی- اس عمل کے بعد ربڑ کے یہ سخت ٹائر مقبول ہونے لگے لیکن دوسری طرف ان سے گاڑی کو جھٹکے لگتے تھے- اس مسئلے کا حل ناگزیر تھا، حیران کن طور پر 1839 میں ایک روز ربڑ، سلفر اور سیسے کا آمیزہ کیمیائی سائنسدان چارلیس گڈائیر کے ہاتھ سے اتفاقاً فائر اسٹوو پر گرا اور آمیزہ پگھلنے کی بجائے ٹھوس شے میں بدل گیا- اسکی بیرونی سطح سخت جبکہ اندر والا حصہ نرم رہا اور یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ویکنلنائزنگ ٹائر بن گیا- اسکے بعد آٹو موبائل کی صنعت میں ایک نیا باب کھل گیا-
جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والے بعض ٹائر 130،000 کلو میٹر یا اس سے بھی زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-
ٹائروں کی دیکھ بھال کےلئے ضروری ہدایات
لکڑی سے شروع ہوا سفر اس قدر جدت اختیار کر گیا ہے کہ اب ایک ٹائر تیار کرنے میں 2000 سے زیادہ خام مصنوعات استعمال کی جاتی ہیں- یہی وجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والے بعض ٹائر 130،000 کلو میٹر یا اس سے بھی زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- ٹائروں کی پائیداری اور ٹریکشن ریٹ گاڑی کے لیے ضروری ہوتا ہے، ٹائر کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے وہ جتنا نرم ہوگا ٹریکشن اتنی زیادہ ہو گی مگر ٹائر جلد خراب ہو جائے گا- اسکے برعکس اگر ٹائر کا میٹریل قدرے سخت ہو تو ٹائر کی ٹریکش کم لیکن زیادہ دیر تک چلے گا- گاڑی میں ٹائر کی اہمیت انجن سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ ٹائروں کی عدم موجودگی میں گاڑی کا چلنا محال ہوتا ہے- اس لیے ٹائروں کی موزوں دیکھ بھال ضروری ہے جس کے لیے ڈرائیور کو تین باتوں کا خیال رکھنا چاہئے-
- ہمیشہ ہوا کے درست دباؤ کا خیال رکھنا،
- باقائدگی سے ٹائروں میں ہوا کا رخ بدلنے کے ساتھ انہیں متوازن رکھنا،
- اگر ٹائر میں ہوا زیادہ ہے تو ٹائر وقت سے پہلے درمیان سے ٹوٹ جائے گا اور اس کے برعکس اگر ٹائر میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے تو ٹائر کناروں سے جلدی پھٹ جائے گا-
ٹائروں پر موسم کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے، گرم موسم میں گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے- اس سلسلے میں ابو ظہبی کی ایک معروف ٹائر کمپنی کے نمائندے یوسف کیانگو نے بتایا کہ ڈرائیور کو چاہئے کو وہ 50,000 کلو میٹر کے بعد گاڑی کے ٹائر ہر صورت میں تبدیل کروائیں- ٹائر بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ٹائر پر چار ہندسوں کا کوڈ لکھا جاتا ہے جس سے ٹائر کی بناوٹ کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے- تاہم کچھ کمپنیاں اپنے ٹائروں پر مینوفیکچرنگ تاریخ یعنی چار ہندسوں والا کوڈ نہیں لکھتیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے- بغیر مینوفیکچرنگ تاریخ یعنی کوڈ نہ ہونا ایسا ہے جیسا ایکسپائری ڈیٹ دیکھے بغیر کوئی دوا خرید لی جائے- ایکسپائری دوا کے استعمال سے آپکی صحت کو یا پھر جان جانے تک کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے- ایسے ہی ایکسپائر ٹائر کے ساتھ سفر آپکی زندگی کے لیے شدید خطرناک ہو سکتا ہے-
ٹائر بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ٹائر پر چار ہندسوں کا کوڈ لکھا جاتا ہے جس سے ٹائر کی بناوٹ کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے- تاہم کچھ کمپنیاں اپنے ٹائروں پر مینوفیکچرنگ تاریخ یعنی چار ہندسوں والا کوڈ نہیں لکھتیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے-
گاڑی کی تیز رفتاری اور مسلسل بریک لگانے سے ٹائر گرم ہو جاتے ہیں- حقیقت میں بریک اور کیلبری کے اردگرد کے علاقے 1200 سے 1500 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہے- اس سلسلے میں ریسنگ ٹیمیں ان جگہوں کو تیزی سے جتنا ممکن ہو ٹھنڈا کرنے کے طریقوں کو یقینی بناتی ہیں لیکن پھر بھی اس گرمی کا ایک حصہ ٹائروں پر منتقل ہو جاتا ہے-
ٹائروں میں ہوا کا پریشر اور اسکی اہمیت
گاڑی کے ٹائروں میں ہوا کا پریشر انتہائی اہم ہوتا ہے تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پریشر ہمیشہ گاڑی میں موجود وزن کے حساب سے ہو، اگر گاڑی میں سامان اور مسافروں کی تعداد زیادہ ہو تو گاڑی کے ٹائروں میں زیادہ پریشر ہونا چاہئے- ٹائروں میں ہوا کا تناسب کسی بھی گاڑی کی کارکردگی اور بریک کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے- ہوا کے کم یا زیادہ ہونے کے سبب مختلف حادثات رونما ہو سکتے ہیں- اس ضمن میں ٹائر کمپنی کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ڈرائیور کو چاہئے کہ وہ ہر 5 ہزار کلو میٹر کے بعد اگلے ٹائر پیچھے اور پچھلے ٹائر آگے لگا دیں، گاڑیوں کے اگلے ٹائر زیادہ گھستے اور استعمال ہوتے ہیں چنانچہ انکی پوزیشن تبدیل کرنے سے چاروں ٹائروں کا استعمال برابر ہو جائے گا اور انکی عمر ایک جتنی ہو گی، بصورت دیگر اگلے ٹائر بہت جلد تبدیل کرنے پڑ سکتے ہیں- عام طور پر ٹائروں میں جو ہوا استعمال کی جاتی ہے اسمیں 21 فیصد تک آکسیجن شامل ہوتی ہے- اسکے مالیکیول بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے ٹائر میں بہت چھوٹے سوراخ جو مائیکرو سکوپ سے نظر آ سکتے ہیں سے ہوا خارج ہوتی رہتی ہے- یہی وجہ ہے کہ ہمیں گاڑی کے ٹائروں میں دوبارہ ہوا بھروانا پڑتی ہے- دوسری جانب نائیٹروجن کے مالیکیول قدرتی طور پر آکسیجن کے مالیکیول سے بڑے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے یہ ٹائر کے باریک سوراخوں سے باآسانی نہیں نکل پاتے اور خارج ہونے میں زیادہ ٹائم لگا دیتے ہیں اس لیے آپ کو بار بار ٹائروں میں ہوا بھروانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی- ٹائروں میں بھرے جانے والی عام ہوا میں پانی کے بخارات شامل ہوتے ہیں جس سے ٹائروں کی اندرونی سطح کو نقصان پہنچتا ہے اور ٹائر وقت سے پہلے خراب ہو جاتے ہیں- یہ بخارات ٹائروں میں موجود سٹیل بیلٹ کو بھی زنگ آلود کر سکتے ہیں- سخت موسمی حالات میں آکسیجن سے بننے والے بخارات ٹائر کا اندرونی درجہ حرارت بڑھا دیتے ہیں جسکے پریشر کے بارے میں پیش گوئی کرنا نا ممکن ہوتا ہے- صحت مند اور بہترین کوالٹی کے ٹائرز ہی گاڑی کو ٹریک پر بھگانے اور کامیابی سے منزل تک لے جانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں-
مقامی اور درآمد شدہ ٹائروں میں فرق
پاکستان میں بننے والے ٹائروں کو درآمد شدہ ٹائروں کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے جو دراصل اسکی کوالٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ اسکی افادیت اور ساخت کے باعث ہے- دوسری جانب ماہرین کے مطابق پاکستانی کمپنی میں بنے ٹائر یہاں کی سڑکوں کے حساب سے بلکل مناسب ہوتے ہیں- پاکستانی ٹائر ٹیریڈ ہوتے ہیں جو کہ حد رفتار 100 پلس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں- اسکے برعکس درآمد شدہ ٹائر بہتر ساخت کے ہوتے ہیں جو ایچ ریٹڈ یا زیڈ ریٹڈ ہوتے ہیں جو 150 پلس سے 200 پلس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے لیے بنے ہوتے ہیں، ٹیکس اور کرائےکے اضافی خرچ کی وجہ سے پاکستانی ٹائروں کے مقابلے انکی قیمت اوسطاً ڈیڑھ گنا زیادہ ہوتی ہے- ماہرین کے مطابق پاکستان کی سڑکوں کے حساب سے پاکستانی ٹائر استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، اگر سفر اندرون شہر زیادہ ہو تو پاکستانی ٹائر ہی گاڑی کو لگوانے چاہیں- تاہم اگر سفر مختلف شہروں کے مابین ہے اور آپ موٹرویز اور ہائی ویز پر سفر کرتے ہیں تو آپکو درآمد شدہ ٹائر ڈلوانے چاہیں-
مطابق پاکستانی کمپنی میں بنے ٹائر یہاں کی سڑکوں کے حساب سے بلکل مناسب ہوتے ہیں
درآمد شدہ ٹائر خریدنے میں احتیاط
پاکستان میں اسمگلنگ کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، دوسرے ممالک سے پاکستان میں سمگل شدہ ٹائروں کو عرف عام میں قابلی ٹائر کہا جاتا ہے- یہ ایسے ٹائر ہوتے ہیں جن پر پالش کر کے انہیں مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے- اس طریقہ کار سے نفع کی شرح کئی گنا بڑھ جاتی ہے- ایسے ٹائرجہاں غیرقانونی اور ملکی معیشت میں نقصان کا باعث ہوتے ہیں وہیں پر بڑے حادثات کا سبب بھی بن سکتے ہیں کیونکہ سمگل کرتے وقت ٹائروں کو ایک دوسرے میں گھسیڑ دیا جاتا ہے جس سے ان کے اندر کی تاریں ٹوٹ جاتی ہیں- انکی پائیداری اور مضبوطی میں بھی کمی آجاتی ہے جس سے مختلف حادثات رونما ہوتے ہیں جو گاڑی اور قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بنتے ہیں-
ماہرین کے مطابق پاکستان کی سڑکوں کے حساب سے پاکستانی ٹائر استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، اگر سفر اندرون شہر زیادہ ہو تو پاکستانی ٹائر ہی گاڑی کو لگوانے چاہیں-
پاکستان میں ٹیوب لیس ٹائروں کا غلط استعمال
پاکستان میں عام طور پر ٹیوب لیس ٹائر جب پرانے ہو جاتے ہیں اور ان میں کافی پنکچر لگ چکے ہوتے ہیں تو ان میں ٹیوب ڈال کر استعمال میں لایا جاتا ہے- خطرناک بات یہ ہے کہ ٹیوب لیس ٹائروں میں ٹیوب ڈالنے کے بعد ان ٹائروں کے پھٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ٹیوب لیس ٹائروں کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ کٹ جانے کے باوجود بھی برسٹ نہیں ہوتے اور اسکی خرابی کا ڈرائیور کو بروقت پتہ لگ جاتا ہے-