ریڈبل ریسنگ ٹیم کی فارمولاون میں کارگردگی پر ایک نظر
بلال شفیع
ریڈبل ریسنگ2004ءمیں ریس جیتنےاورورلڈچیمپئن شپ ٹائیٹلزکواپنےنام کرنےکےعزائم کےساتھ وجودمیں آئی- جلدہی کرسچن ہورمز (Christian Horner) کو ٹیم لیڈر بنا دیا گیا جو ٹیم کی ترقی کے لئے تب سے کام کر رہے ہیں- یہ آسان اور مختصر کام نہیں تھا- اگلے چار سیزنز میں مضبوط بنیادیں قائم کی گئیں- معیار اور مقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید افراد کو شامل کیا گیا- ٹیم کو تب تک وسعت دی گئی جب تک یہ ریس کے مایہ ناز اور مشہور ناموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئی-
2005ءاور2006ءمیں ٹیم نے آسانی سےمڈٹیبل مکمل کیا- ابتدائی ڈرائیورزمیں نوجوان اور تجربہ کار، دونوں طرح کے افراد کو شامل کیا گیا- اس فہرست میں ڈیوڈکولتھارڈ(David Coulthard)، کرسچن کلائن(Christian Klien)، ویٹینٹونیولیزی (Vitantonio Liuzzi) اور رابرٹ ڈورن بوس(Robert Doornbos)شامل تھے- پہلا پوڈیم ڈی سی میں ملا اور گراں پری2006ء میں تیسری پوزیشن ملی-
2007ءمیں مارک ویبر (Mark Webber) ڈی سی کےلئےٹیم میں شامل ہوئے- اس سال ٹیم پانچویں نمبر پر رہی، مگر2008ءمیں ٹیم ساتویں نمبر پر چلی گئی- 2009ءمیں بڑی تبدیلی ہونے والی تھی جیساکہ ڈیوڈکولتھارڈ(David Coulthard)2008ءمیں ریٹائرہوئےاورانکی جگہ سبیسچن ویٹل(Sebastian Vettel)نے لی-شبیسچن جب آئے تو اسی سال سپورٹس ایرو ڈائنامک ریگولیشنز میں تبدیلیاں ہوئیں- نئے اصولوں نے ٹیکنیکل ٹیم کو اپنا لوہا منوانے کا موقع فراہم کیا-سبیسچن ویٹل(Sebastian Vettel)نےٹیم کو پہلی فتح دلوائی- چائنیز گراں پری میں نتیجہ 2-1 رہا- 2009ءمیں ہی ٹیم نے مزید پانچ کامیابیاں حاصل کیں، جن میں مارک ویبر (Mark Weber)کی نوربرگنگ(Nürburgring)فارمولا ون ریس میں ڈیبیو پوزیشن بھی شامل ہے- کنٹریکٹرز چیمپئن شپ میں ٹیم دوسرے نمبر پر رہی، مگر سیزن کی آخری تینوں ریسز ٹیم نے جیتیں- ایک ہی سیزن میں اتنی ساری فتوحات ٹیم کا ھال مارک بنیں، جہاں سے ٹیم کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے-
2010ءکی ریسز میں تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئیں جن میں مارک ویبر(Mark Weber) اور سبیسچن (Sebastian) ٹائیٹل دفاع کے طور پر شریک تھے- انکی مسلسل جیت نے برازیل میں کنسٹرکٹرز چیمپئن شپ کےآخری راؤنڈ میں بھی فتح دلوائی- ڈرائیورکراؤن حاصل کرنے کے لئے دونوں ڈرائیورز دبئی کی ریس میں شامل ہوئے- اس ریس میں ویٹل کو کامیابی ملی اور یوں وہ دنیا کے کم عمر ترین ورلڈ چیمپئن بنے- یہ ریکارڈ ابھی تک قائم ہے-
ریڈ بل(RB) ایک انرجی ڈرنک ہے اور کھیلوں کے ساتھ اس کی وابستگی نے نوجوانوں کی نظروں میں اسے بہت "اچھا" امیج دیا ہے- کھیلوں میں برانڈ کے اثر و رسوخ میں ونڈ سرفنگ، کلف ڈائیونگ، راک کلائمبنگ، فارمولا ون، اور یہاں تک کہ اس کی اپنی ایئر ریسنگ سیریز بھی شامل ہے جس نے دنیا کو طوفان سے دوچار کر رکھا ہے-
ریڈ بل7اورویٹل 2011ءمیں بھی نمایاں رہے- ٹیم کو حاصل ہونے والی12فتوحات میں سے 11 ویٹل نے حاصل کی تھیں اور مزیدیہ کہ تب تک اس سیزن میں ویٹل کی4 ریسز ابھی باقی تھیں اور جب ویٹل نے کنسٹرکٹرز ٹائیٹل حاصل کیا تو تب تین ریسز ابھی باقی رہتی تھیں-
2012ءکے پہلے سیزن کے مقابلوں میں پہلی سات ریسز سات مختلف ٹیموں کے نام رہیں، مگر دوسرے سیزن میں ریڈ بل نے دو ٹائیٹل ڈویلپمنٹ بیٹل (development battle) اور کلنچنگ (clinching)اپنے نام کیے- آسٹن نےآخری ریس میں کنسٹرکٹرز ٹائٹل اپنے نام کیا اور برازیل کے حیران کن فائنل میں ویٹل نے ڈرائیورز ٹائیٹل حاصل کیا-
2013ءمیں ریڈ بل9ایک کلاس لیڈر کے طور پر موجود تو رہی مگر کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی- مگر دوسرے سیزن میں صورتحال بالکل مختلف رہی جس میں ویٹل نے مسلسل 9فتوحات کے ساتھ ریکارڈ قائم کیا اور انڈین گراں پری کے دونوں ایوارڈ حاصل کیے- مزید یہ کہ ابھی ویٹل کی تین ریسز بھی باقی رہتی تھیں-
2014ء میں ٹیم کو تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا جب نئے ہائبرڈ پاور یونٹس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں- ان تبدیلیوں کی وجہ سے ٹیم پہلے جیسی فتوحات تو نہیں حاصل کر سکی بہر حال کار میں ایسی خصوصیات بھی موجود تھیں کہ ڈینیئل ریکیارڈو (Daniel Ricciardo)نے فارمولا ون میں پہلی، دوسری اور تیسری کامیابی حاصل کی- ڈرائیورز چیمپئن شپ میں وہ تیسرے نمبر پر رہے اور کنسٹرکٹرز میں وہ دوسرے نمبر پر رہے- 2014ء میں ہی سبیسچن ویٹل (Sebastian Vettel)ٹیم سے علیحدہ ہوئے اور انکی جگہ ڈینیئل ریکیارڈو(Daniel Ricciardo)نےلی-
2015ءمیں ریڈبل ٹیم کوئی بھی نمایاں کامیابی نا حاصل کر سکی- ناموزوں کارکردگی کی وجہ سے شروع کی ریسز ٹیم کے لئے امتحان بن گئیں- جب مڈ سیزن میں ٹیم نے کار کو بہتر بنایا تب تک ٹیم 2008ءکے بعد نچلے ترین درجے پرپہنچ چکی تھی- دوسری ٹیموں کےمقابلےمیں ریڈبل ٹیم چوتھی پوزیشن پرتھی-
2016ءمیں صورتحال بہتر ہو گئی- کنسٹرکٹرز چیمپئن شپ میں ٹیم دوسرے نمبر پر رہی اور ڈرائیورزریکارڈکے ٹیبل پر پھر سے تیسری پوزیشن پر تھے-اس دوران ایک نام زبان زد عام تھا اور وہ تھا میکس ورسٹیپن (Max Verstappen) ، میکس ورسٹیپن (Max Verstappen)- ایک نوجون تھے جنہیں ٹارو راسو (Toro Rosso) سے پذیرائی دےکرسیزن کی 4ریسزکےبعدکیویات کی جگہ رکھاگیا- میکس نے شاندار آغاز کیا اور سپین میں گراں پری میں پہلی ریس جیتی- اسی دوران ریکیارڈو نے ملائیشیا میں ایک اور جیت حاصل کی-
2017ءکےآغاز میں ٹیم کو مشکلات کا سامنا رہا مگر دوران سیزن ٹیم کی پوزیشن بہتر ہو گئی- ویٹل نے مڈ سیزن میں مسلسل پانچ کامیابیاں حاصل کیں جن میں آزربائیجان ریس کی کامیابی بھی شامل تھی- تاہم سال کے آخر میں کار تیز ترین تب نظر آئی جب میکس نے ملائیشیا اور میکسیکو میں کامیابی حاصل کی- کنسٹرکٹرز چیمپئن شپ میں ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور یہی پوزیشن مزید دو سیزن برقرار رہی-
2018ءمیں بھی یکساں نتائج رہے- پہلے سیزن میں ریڈبل14 کی کارکردگی اور انجن پاور زیر بحث رہی مگر ڈینیئل نے چائنہ اور موناکو میں حیران کن فتوحات حاصل کیں- اس سال میکس نے بھی دو کامیابیاں حاصل کیں- آخر پر ریڈ بل کے ہوم ٹاؤن میں ہونے والی آسٹرین گراں پری کی کامیابی ملی- مزید برآںمیکسیکو میں جیت بھی اس سال کی کامیابیوں کا حصہ بنی-
2019ء میں ایک بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ ٹیم نےرینالٹ کے ساتھ 11سال کے اشتراک کو ختم کر کے ہونڈا کےساتھ کام کرنا شروع کیا- جلد ہی ڈینیئل ریکارڈو نےبھی ٹیم سے علیحدگی کا اعلان کردیا- پیری گیزلی(Pierre Gasly) کو ٹارو راسو(Toro Rosso) میں شاندار کامیابی پر پذیرائی دیتے ہوئے 2019ءمیں سینئر ٹیم میں شامل کر دیا گیا-
انجن پاٹنر کے طور پر ہنڈا کی اشترکیت کا آغاز آسٹریلیا میں میکس کی پوڈیم پوزیشن کے ساتھ ہوا- ہنڈا انجن کے ساتھ پہلی کامیابی میکس نے ریڈبل رنگ میں حاصل کی اور اگلی کامیابی بارش کے دوران جرمن گراں پری میں حاصل کی- آئندہ ریس میں اس نے اپنی پہلی پوزیشن ہنگری فارمولا ون ریس میں حاصل کی- گرمی کی چھٹیوں کے بعد ایلیکس ایلبن(Alex Albon) کو ٹارو راسو(Toro Rosso) سے پروموٹ کیا گیا اور انہوں نے پیری کی جگہ لی- اسی دوران میکس نے پھر سے برازیل میں جیت اپنے نام کی- ایلیکس نے سیزن کے آخر میں روکی(Rookie) آف دا ایئر ٹرافی اپنے نام کی-
2020ء میں دونوں ڈرائیورز ریس کے لئے تیار تھے کہ COVID-19 کی وجہ سے ریس کو روک دیا گیا- سترہ ریسز کا شیڈول جولائی میں شروع ہوا- اس سیزن کی سب سے پہلی کامیابی، COVID-19 جیسی صورتحال میں ریسز کا ہونا تھی- جبکہ یہ سیزن میکس کے لئے بہت اہم تھا- اس سیزن میں میکس پانچ میں سےایک ریس مکمل نہ کر سکے- نہ صرف ہر ریس میں انہیں ٹرافی ملی بلکہ وہ سال کے آخر تک 12 دفعہ پہلی تین پوزیشنز میں سے پوزیشن حاصل کر چکے تھے- ان کامیابیوں میں سلور سٹون (Silverstone)میں گراں پری کی سترویں سالگرہ کی کامیابی اور ابو ظہبی کا فائنل بھی شامل تھیں-
ابو ظہبی کی فتح نے ایک غیر متوقع آف سیزن میں حصہ لینے کے لئے ٹیم کا حوصلہ بڑھایا- اس آف سیزن میں ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کرنا منع تھا- تاہم ڈرائیور لائن میں تبدیلیاں کی گئیں جس میں ایلیکس کی جگہ سرجیو پیریز(Sergio Pérez) کو ٹیسٹ اور ریزرو ڈرائیور بنایا گیا-
ریڈبل 16 نے شاندار آ غاز کیا اور میکس22 ریسزکے کیلنڈر کی 13 ریسز میں سے پہلی ریس میں ہی پول پر جگہ بنا چکے تھے- P2 میں انہوں نے ریس کا شاندار اختتام کیا مگر سیزن کی پہلی جیت انہیں امولا (Imola) میں حاصل ہوئی- یہ میکس کی اس سال کی دس فتوحات میں سے پہلی فتح تھی- جبکہ آخری فتح انہیں ابو ظہبی میں ہونے والے سیزن فائنل میں ایک حیران کن اور دلچسپ مقابلے کے بعد ملی- اسکے نتیجے میں میکس کو ڈرائیور چیمپئن شپ ملی- اسی دوران چیکو(Checo)نےآزربائیجان میں گراں پری کے اعصاب شکن مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور کنسٹرکٹرز چیمپئن شپ میں ٹیم کو دوسرے نمبر پر لانے میں اہم کردار ادا کیا- 2013ءکے بعد ریڈبل ریسنگ کا پہلا ٹائیٹل ٹیم کی مسلسل فنی باقاعدگی کو بھی سراہتا ہے-
2022ءہیرالڈز فارمولاون کےایروڈائنامک نظریات کونہ صرف ایک نئی جہت دکھاتاہے بلکہ اس کھیل کو نیا اندازدینےکابھی دعوی کرتاہے-ریڈبل18 جس میں میکس(Max) اور چیکو(Checo) حصہ لیں گے اپنےسے پہلےوالےمقابلوں سے کافی مختلف دکھائی دیتاہے- اس سال ٹیم نے ہنڈا کے بعدریڈبل پاورپارٹنرز کےساتھ اشترک کیاہےجواپناپہلاہوم بلٹ انجن ٹیم کو دیں گے- سادہ لفظوں میں یہ کہ سکتے ہیں کہ اس سال ہر چیز پہلے سے کافی مختلف ہونے والی ہے-
https://www.redbullracing.com/int-en/about
فوٹوکریڈٹ : https://www.motorsport.com/f1/news/red-bull-launches-new-rb18-with- updated-show-car/8023309/