آٹوموبائل انڈسٹری، پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں اور معیار: مختصرجائزہ
ہارون عزیزاعوان
گاڑی جدید دور میں آمد و رفت کا بہترین ذریعہ ہے جس نے فاصلوں کو سمیٹ لیا ہے ،اب دنوں کے فاصلے گھنٹوں میں اور گھنٹوں کے فاصلے منٹوں میں طے کیے جاتے ہیں- اکیسویں صدی میں جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا مختلف فیلڈز کے اندرتبدیلی لا رہی ہے وہیں پہ گاڑیوں کے نئےماڈلز آئے روز مارکیٹ میں متعارف ہورہےہیں- اس وقت دنیاکےبہت سےممالک گاڑیوں کی پیداوار،خریدو فروخت اور سپلائی سے اپنی ملکی معیشت وتجارت کو بہتر بنارہے ہیں-
پاکستان میں استعمال ہونے والی گاڑیاں:
پاکستان میں کم و بیش تقریباً ہربڑی کمپنی کی گاڑی استعمال کی جاتی ہے، بڑے سے بڑےماڈلز کی گاڑیاں (لیکن ہونڈا،رینج روور، سووزوکی اورٹیوٹاوغیرہ) پاکستان کی سڑکوں پہ دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں- پاکستان میں مختلف ماڈلزکی گاڑیوں کی قیمتوں کا انحصار سیلز ٹیکسFEDاوGSTپر منحصر ہوتا ہے- پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں جہاں اضافہ ہوا ہےوہی پہ گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے- پاکستان میں زیادہ ترماڈلزکی گاڑیاں بیرون ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں اور کچھ گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کیلئےاہم پارٹس بھی بیرون ممالک سےدرآمد کیے جاتے ہیں جو ڈالر بڑھنے کی وجہ سے خاصے مہنگےمارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں-
پاکستانی گورنمنٹ نے2007ءمیں انڈسڑی کی گروتھ بڑھانےکیلئےآٹوانڈسڑی ڈویلپمنٹ پروگرام (اےآئی ڈی پی) کو متعارف کروایا لیکن بد قسمتی سےبجٹ کی کمی کے باعث اے آئی ڈی پی غیرفعال ہےکیونکہ اس کے لیے بنائی گئی پالیسیزکوعملی طور پہ لاگو کرنا بھی ہماری حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج رہا ہے-
پاکستان میں آٹو موبائل کمپنیز کی مارکیٹس:
پاکستان میں آٹو موبائل کمپنیز کی بہت بڑی مارکیٹ موجود ہےجوہرسال ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں فروخت کرتی ہیں- کمپنیاں ہنڈا،ٹیوٹا،سوزوکی وغیرہ پاکستان میں فروخت کے لحاظ سے اولین درجے میں شمار ہوتی ہیں- اس کے علاوہ ڈائی ہاٹسو،ڈائیوو بھی اپنی مارکیٹ قائم کر چکی ہیں- گزرتے دنوں کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے- پاکستان میں گزشتہ سال گاڑیوں کی فروخت کا تناسب 57.7 فی صد رہاہے- بولان اور660سی سی کی آلٹو گاڑیاں سب سے ذیادہ فروخت ہوتی ہیں- مالی سال 2021ء میں بولان کی فروخت میں 65فیصداور آلٹو کی فروخت میں 25فیصداضافہ دیکھنے میں آیاہے- شرح سود میں کمی کے باعث رواں مالی سال میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اورتاخیرسےفراہمی کےباوجودگاڑیوں کی فروخت میں اضافہ نظر آیا ہے-
اگرچہ پاکستان میں آٹو موبائل کی بہت بڑی مارکیٹس ہیں لیکن بدقسمتی سے ملکی آٹو انڈسٹری کےنہ پھیلانے کی وجہ سےمارکیٹ کی ڈیمانڈ کو پورا نہیں کیا جا سکا- دنیا میں آبادی کے لحاظ سےچھٹا ملک ہونے کے باوجودہماری لوکل وہیکل مینوفیکچرنگ بہت کم ہے- آٹو انڈسٹری میں مقابلے کی کمی کی وجہ سے صرف تین ہی مینوفیکچرنگ کمپنیاں جن میں ٹیوٹا،ہیونڈااور سوزوکی قابل ذکر ہیں- گزشتہ سال تک پاکستان میں آٹواسمبل انڈسٹریز چند ایک ہی تھی لیکن اب انٹرنیشنل آٹومیکرز کاپاکستان میں رحجان بڑھنےکی وجہ سےآٹو انڈسٹری کےحالات تبدیل ہوتےنظرآرہےہیں جس کازیادہ ترکریڈیٹ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سےہونے والی چند بڑی تبدیلیوں کاہےجن کی وجہ سے انٹرنیشنل آٹو انڈسٹریز کا کچھاؤ پاکستان کی جانب بڑھا ہے-
پاکستان میں گاڑیوں کاکم معیاراورزیادہ قیمتوں کی وجوہات:
پاکستان میں جہاں گاڑیوں کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں وہیں ان کا معیار نسبتاً کافی کم ہے- جہاں لگژری گاڑیاں ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے وہی پہ اکانومی کاروں تک رسائی بھی ناممکن ہوتی جارہی ہیں- پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں انڈیا اور چائنہ کی نسبت بہت زیادہ ہیں جس کی چنداہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- پاکستان میں فی کس آمدنی دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہے- ہمارے اقتصادی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں فی کس آمدنی 1250 امریکی ڈالرز ہیں جبکہ چائنہ اور انڈیا میں بالترتیب 18013اور2358 امریکی ڈالرز ہیں-
- بجٹ کے فقدان کے باعث ہم آٹو سیکٹر میں بہت کم خرچ کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے آٹو انڈسڑی جی ڈی پی میں صرف 2.8فیصدشامل کر پاتی ہے-
- جاپان سے استعمال شدہ گاڑیوں کوامپورٹ کرنے کی پابندی کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتیں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو صارفین اور ڈیلر دونوں کیلئے پریشانی کا موجب ہے-
- پاکستان میں اکنامک گروتھ یا جی ڈی پی رواں مالی سال 3.9%ر ہاجو کہہ انڈیا اورچائنہ کی نسبت اچھا خاصا کم ہےانڈیا میں رواں مالی سال میں اکنامک گروتھ یا جی ڈی پی کی شرح10.0فیصد اور چائنہ میں 8.5فیصدرہی-
- پاکستان میں زیادہ تر گاڑیاں باہر کے ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں جو ٹیکس لگنے کی وجہ سےیا بڑھنے کی وجہ سے مہنگے داموں میں فروخت ہوتی ہیں جبکہ چائنہ میں بہت کم گاڑیا ں برآمدکی جاتی ہیں اورچائنہ کی آٹو انڈسٹری زیادہ تر گاڑیاں درآمد کرتی ہے-
پاکستان میں گاڑیوں کے ماڈلزاور ان کی قیمتیں:
پاکستان میں عمومی طورپر مڈل کلاس گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں جن کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہے -ان میں سے چند ایک ماڈلز کی مختصر وضاحت اور ٹیبل میں ان کی قیمتیں بیان کی گئی ہیں:
ٹیوٹا:
پاکستان میں زیادہ تر ٹیوٹا کمپنی کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں اور اس میں مختلف قسم کے ٹیوٹا کمپنی برینڈز استعمال کیے جاتے ہیں جیسے ایکسل آئی،جی ایل آئی،ایلٹس اور ٹیوٹا یارس وغیرہ-
سوزوکی:
سوزوکی کمپنی کاروں کی مشہور ترین کمپنی ہے- یہ اپنے پروڈکٹ اورکاروں کے ماڈلز اور دوسرے برینڈز کی وجہ سے مارکیٹ میں خاصی اہمیت رکھتی ہے- سوزوکی سوئفٹ، سوزوکی کلٹس، سوزوکی ویٹارا،سوزوکی جمنی اس میں شامل ہیں-
ہونڈا:
ہونڈا کاریں اپنےآٹومیٹک ماڈلز اورنئی شکل و صورت کی وجہ سےبہت زیادہ استعمال ہوتی ہیں- ہونڈا کمپنی ہر سال اچھے اور نئے کلرزکی گاڑیاں مارکیٹ میں لاتی ہے- ہونڈا سٹی،ہونڈا سوک ،ہونڈا بی -آر وی، ہونڈا سی -آر وی وغیرہ اس میں شامل ہیں-
ہیونڈائی:
پاکستان میں ہیونڈائی کی گاڑیوں کی بھی کافی مانگ ہے اوراس کی مارکیٹ پاکستان میں اچھی خاصی پذیرائی رکھتی ہے- گاڑی چلانے کے یا ڈرائیور کی سکلز کو چیک کرنے کیلئے عموما ہیونڈائی کی گاڑی استعمال کی جا تی ہیں- ہیونڈائی کمپنی مارکیٹ میں بہترین گاڑیاں متعارف کرواتی رہتی ہے- ہیونڈائی IONIQہیونڈائی ٹوسان، ہیونڈائی ٹیراکان، ہیونڈائی کوپے اس میں شامل ہیں-
نسان:
پاکستانی سماج میں جہاں دوسری گاڑیوں کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے وہی نسان اس ڈیمانڈ کوپورا کرنے کیلئے نئی نئی ورائٹی کے ماڈلز کو متعارف کر وا رہی ہے- پاکستان میں نسان کے کچھ ماڈلزکی اعلی سطح پر فروخت ہوتی ہے- نسان کمپنی سمارٹ ماڈلز میں اچھے کلرز مہیا کرتی ہے- نسان جیوک ،نسان نوٹ ،نسان ونگ روڈ،نسان ٹائٹن اور نسان نوارا اس میں شامل ہیں-
مرسڈیز:
مرسڈیز کار جرمنی لگژری آٹوموبائل برینڈہے- اس کی ابتداء1871ء میں ہوئی- 1926ء میں ایک اور کمپنی کے ساتھ انضمام سےموجودہ شکل میں آئی- جرمنی کے علاوہ 13 دوسرے ممالک میں اس برینڈکی گاڑیاں بنتی ہیں- دنیا کی تیز ترین کارمکلیرن McLaren))ایف-1بھی مرسڈیز کی ہےجس کی رفتارتقریباً 334 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے-
معیاری مگر مناسب قیمت گاڑی کیلئےحکومتی سطح پر کیا اقدمات کئے جانے چاہییں؟
حکومت پاکستان کو ایسی پالیسیز بنانی چاہیے جوصارفین کی گاڑیوں تک رسائی کو ممکن بنائے جس کیلئےسیلز ٹیکس اور شرح سود میں بالخصوص کمی ہونی چاہیے-
پاکستان میں ٹیکس بڑھنے کی وجہ سےاستعمال شدہ جاپانی کاروں کی فروخت بند ہو گئی ہےجو انڈسڑی پہ بوجھ کے سوا کچھ نہیں حکومت کو اس معاملے پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے-
منی بجٹ (جو کہہ 10 جنوری 2022 کو قو می اسمبلی میں پیش کیا گیا)میں گاڑیوں پہ بڑھایا گیا ٹیکس نہ صرف کار بنانے والوں کو بلکہ خریدنے والوں کو بھی متاثر کرےگا- گورنمنٹ کو ان ٹیکسز میں چھوٹ کر کےڈیلراورصارفین کی پریشانیوں کا سدّباب کرناچاہیے-
پاکستان میں کاروں کی تیاری کے معاملے میں بھی خام مال درآمد کیا جا رہا ہے- کار کے لیےکوئی مقامی دھاتی شیٹ نہیں ہےاور اسےکئی باڈی پارٹس کے ساتھ درآمد کیا جاتا ہے- جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نظرآتاہے-
پاکستان میں گاڑیوں کے ماڈلز اور قیمتیں ٹیبل میں شامل کی گئی ہیں:
گاڑیوں کا نام |
قیمتیں |
ایکس ایل آئی(XLI) |
3,325,000 |
ٹیوٹا یارس |
3,109,000 |
سوزوکی سوئفٹ |
2,694,000 |
سوزوکی کلٹس |
2,662,000 |
سوزوکی ویٹارا |
6,600,000 |
سوزوکی جمنی |
6,049,000 |
ہونڈا سٹی |
3,129,000 |
ہونڈا سوک |
5,399,000 |
ہونڈا بی -آر وی |
3,165,000 |
ہونڈا سی -آر وی |
10,700,000 |
ہیونڈائی IONIQ |
7,000,000 |
ہیونڈائی ٹوسان |
5,179,000 |
نسان جیوک |
2,350,000 |
نسان نوٹ |
2,750,000 |
نسان ونگ روڈ |
1,400,000 |
نسان ٹائٹن |
9,318,400 |
مرسڈیز بینز ای کلاس ای 180(اے ایم جی) |
1,045,000 |
مرسڈیز بینز ای کلاس ای 180(ایکسکالوسیو ) |
19,000,000 |
مرسڈیز بینز ای کلاس ای 200 |
14,600,000 |
مرسڈیز بینز ای کلاس ای Avantgarde180 |
17,500,000 |