الیکٹرک کار کی ایجاد اور پٹرول و ڈیزل گاڑیوںکا مستقبل
Blog Single

الیکٹرک کار کی ایجاد اور پٹرول و ڈیزل گاڑیوںکا مستقبل

ہر دور میں وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر بہتری کی طرف سفر فطرت کا خاصہ ہے- فطرت نے انسانوں میں بھی یہ صلاحیت ودیعت کی ہے جس کی بدولت انسان ستاروں پہ کمنڈ ڈال سکتا ہے- تجسس اور تخیل کے امتزاج کے ساتھ بنی نوع انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کی ہے- ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی براہ راست سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے جڑا ہوا ہے- دنیا کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کا پہلا ادراک انڈسٹریل ریولیوشن (صنعتی انقلاب ) کی صورت میں ہوا جس کے بعد جدید سے جدید تر گاڑیاں بنتی آئی ہیں

اگرچہ فطرت میں ارتقا اور تبدیلی کی رفتار نہ تو بہت تیز ہے اور نہ ہی بہت سست، تاہم موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدت کی رفتارحیران کن ہے- ہر روز ایسی نئی ایجادات ہو رہی ہیں جو کہ نہ صرف پرانی چیزوں کا نعم البدل ہیں بلکہ پرانی چیزوں کی نسبت ان کی کارکردگی کہیں زیادہ ہے- سب سے پہلے سٹیم انجن سے چلنے والی گاڑیاں بنیں- ابتدائی طور پر تو لوگ بہت محظوظ ہوئے مگر پھر لوگوں نے محسوس کیا کہ سٹیم انجن کی رفتار سست ہے- سٹیم انجن کے بعد ڈیزل انجن بنا لئے گئے- پھر انجن کی کارکردگی اور مزید بہتری کی طرف لے جانے کے لئے پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں بنا لی گئیں- جدت کا یہ سفر چلتا رہا یہاں تک کہ اب مارکیٹ میں الیکٹرک کارز کو آئےتقر یبا ًایک دہائی ہو چکی ہے

تمام بڑی کمپنیاں اور بااثر کاروباری افراد الیکٹرک کارز کو نہ صرف سراہ رہے ہیں بلکہ اس کو فروغ دینے کے لئے وسائل بھی مہیا کر رہے ہیں- عصرحاضر کے ایک بہت بڑے انٹر پرونیور “ایلان مسک” نے دعوی کیا ہے کہ بہت جلد پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں ناپید ہو جائیں گی اور صرف میوزیم کی زینت بنے گی- ایلان مسک بذات خود ایک ٹیسلا نامی الیکٹرک کارز کمپنی کے مالک ہیں- ایلان مسک کا یہ بیان محض ایک دعوی کی حد تک نہیں کیونکہ تقریبا ًتمام یورپین ممالک اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ وہ الیکٹرک کارز کے استعمال کو فروغ دیں گے اور پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں ختم کریں گے- تمام ترقی یافتہ ممالک ، ترقی پذیر ملکوں کو اس بات پر قائل کر رہے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بڑھایا جائے اور پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کو ختم کیا جائے- اسی تناظر میں پاکستان نے بھی پالیسی بنائی ہے کہ 2030ء تک کم سے کم تیس فیصد گاڑیاں الیکٹرک کارز ہونی چاہییں

الیکٹرک کارز کے استعمال کو اس حد تک فروغ دینے کی وجہ سمجھنے کے لئے ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کو سمجھنا ہو گا اور یہ سمجھنا ہو گا کہ کس طرح پٹرول اور ڈیزل انجن ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے جڑے ہوئے ہیں- ماحولیاتی تبدیلی براہ راست فوسل فیول کے جلنے اور کاربن کے اخراج سے جڑی ہوئی ہے- مزید یہ کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کا لیول اوپر ہو رہا ہے- جس کی وجہ سے نیدرلینڈز اور مالدیپ جیسے کئی ملکوں کا سمندر برد ہونے کا خطرہ ہے- پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب بھی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہیں- مختصر یہ کہ تقریبا ہر ملک ہی ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے نقصانات جھیل رہا ہے- انہی تمام مسائل سے نمٹنے کے لئے بااثر بین الاقومی ادارے پالیسیز بنا رہے ہیں- انہی پالیسیز میں سے ایک پالیسی پٹرول اور ڈیزل انجن کی بجائے الیکٹرک کارز کے استعمال کی یقین دہانی ہے- کیونکہ پٹرول اور ڈیزل انجن ماحولیاتی آلودگی کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں جبکہ الیکٹرک کارز ماحول دوست اور بہتر کارکردگی والی ہیں

اب اس بات میں تو کوئی دورائے نہیں رہی کہ پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیاں ختم ہو جائیں گی- بارہا آنے والی قدرتی آفات اور ان سے آنے والی تباہیوں سے بچنے کے لئے اس پالیسی کا حصہ بننا ضروری ہے- لیکن ایلان مسک کی بات کو عملی جامہ پہنانے میں جو مشکلات درپیش ہیں ان کا تجزیہ کیا جائےتو پتہ چلتا ہے کہ الیکٹرک کارز مستقبل میں ٹرانسپورٹ کا مستقل حصہ  توہونگی لیکن ابھی بہت سا سفر باقی ہےاور پٹرول و ڈیزل انجن گاڑیاں ناپید ہونے میں کافی وقت درکار ہےکہ جب یہ گاڑیاں صرف میوزیم میں دیکھنے کو ملیں گی

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ