نویں حب ریلی کراس 2022ء کا سجا میلہ، ساحل سمندر پر دیدنی مناظر
فرحان رضا
پاکستان میں آف روڈ ریلیز کا سیزن عموما اگست یا ستمبرسے شروع ہوتا ہے جوکہ مارچ میں ختم ہوتا ہے-یعنی اس حساب سے حب ریلی کراس2021- 2022ء کے سیزن کی آخری ریلی تھی- بالفاظ دیگر پاکستان میں آف روڈ ریس کے کیلنڈر 2022-2201 ء کی یہ آخری ریلی تھی
پاکستان آ ف روڈ کی سب سے بڑی کیٹگری اے پری پیئرڈ کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے میں "صاحبزادہ سلطان "کی گاڑی کی دھول ناقابلِ حصول ثابت ہوئی، 37:58 میں ٹریک مکمل کرکے "حب 2022ء"کے چیمپئن قرار پائے -
نویں حب آف روڈریلی بلوچستان کے شہر حب میں27 مارچ2022ء بروزاتوارکو منعقد ہوئی - جس میں ملک بھرسے صف اول کے نامور ریسرز نے شرکت کی- ریس کا ٹریک تقریبا50کلومیٹرپر محیط تھا – سانپ کی طرح بَل کھاتا یہ بظاہر دلکش وپرخطر ٹریک جہاں اپنے اندر کئی رعنائیاں سموئے ہوئے تھا وہیں ریسر کے مضبوط اعصاب اورگاڑی کے انجن کے لئے کڑا امتحان بھی تھا -ٹریک ٹیوسٹ، ٹرن اور ہینڈلگ کے لحاظ سےریسر کی مہارت اور گاڑی کی پاور کا امتحان تھا -اس ٹریک کو لمبائی کے لحاظ سے ریس فورمیٹ میں ٹی 20سےتشبیہ دی جاتی ہے ٹریک مختصر ہونے کی وجہ سے غلطی کی گنجائش نہیں، تھوڑی سی سستی پوڈیم سے دور کردیتی ہے
گوادر کے بعد یہ دوسرا ٹریک ہے جو ساحل سمندر کے قریب سے گزرتا ہےجہاں ریس کے دوران بحر و بر کا خوشگوار نظارہ ریسر کی نظروں کو تازگی و شگفتگی بخشتا ہےوہیں ریت گاڑی کے ٹائروں کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ گاڑی کا زور اور انجن کا شور بہت زیادہ ہوتا ہے
واضح رہے کہ گوادر کے بعد یہ دوسرا ٹریک ہے جو ساحل سمندر کے بالکل پاس سے گزرتا ہےریس کے دوران بحر و بر کا خوشگوار نظارہ ریسر کی نظروں کو تازگی و شگفتگی فراہم کرتا ہے - ساحل ِسمندر کا یہ خوبصورت نظارہ ڈیڑھ کلومیٹر پر مشتمل ہے-یہاں کی ریت گاڑی کے ٹائروں کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ گاڑی کا زور اور انجن کا شور بہت زیادہ ہوتا ہے- جہاں گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور و معاون ڈرائیور پسینے میں شرابور ہوتے ہیں وہیں گاڑی کا سائلینسر بھی دھوئیں کی بجائے آگ اگلتا محسوس ہوتا ہے - ریسرز کےمطابق اگر کسی ریسر نے اس دوران ریس سے پاؤں ہٹایا تو خواہ گاڑی کتنی ہی پاور فل ہوگاڑی وہاں کھڑی ہو جائے گی
اس ریلی کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ تمام ریسز میں خواتین کی صرف ایک کیٹگری ہوتی ہے جبکہ یہاں پر خواتین کی پری پیئرڈ اور اسٹاک کیٹگری کو الگ الگ متعارف کروایا گیا- سینئر ریسرز کے لیے ویٹران کے نام سے ایک نئی کیٹگری کو متعارف کروایاگیا
خواتین کی پری پیئرڈ کیٹگری میں ماہم شیرازپہلی نمبر پر رہیں جبکہ خواتین کی اسٹاک کیٹگری میں ندا واسطی فاتح قرار پائیں- ویٹران کٹیگری میں" شجاعت شیروانی"فتح مند رہے-
ریس کا باقاعدہ آغاز خواتین کی پری پیئرڈ کیٹگری سے ہوا- ماہم شیراز نے46:06میں ٹریک مکمل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی- جبکہ خواتین کی اسٹاک کیٹگری میں ندا واسطی نے مقررہ فاصلہ47:07میں طے کیا اور فاتح قرار پائیں- اس کے بعد ویٹران کٹیگری کا آغاز ہوا جس میں" شجاعت شیروانی" 50:35 میں ٹریک مکمل کرکےفتح مند رہے - پاکستان آ ف روڈ کی سب سے بڑی اےپری پیئرڈکیٹگری کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کا آغاز ہواتو "صاحبزادہ سلطان "کی گاڑی کی دھول ناقابلِ حصول ثابت ہوئی- 37:58 میں ٹریک مکمل کرکے"حب 2022ء"کے چیمپئن قرار پائے
پری پیئرڈ بی میں نوید واسطی ناقابلِ شکست رہے،پری پیئرڈ سی میں سرفراز دھانجی نے پہلی پوزیشن حاصل کی- ڈی پری پیئرڈ میں ارباب علی فاتح قرارپائے-
پری پیئرڈ کیٹگری بی میں نوید واسطی 42:48 میں فاصلہ طے کرکے ناقابلِ شکست رہے - پری پیئرڈ کیٹگری سی میں سرفراز دھانجی نے48:28میں ٹریک مکمل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی- پری پیئرڈ کیٹگری ڈی میں ارباب علی 49:14 میں ٹریک مکمل کرکے فاتح قرارپائے
پندرہ منٹ کے وقفہ کے بعد اسٹاک کیٹگری کی گاڑیاں روانہ ہوئیں- اسٹاک کیٹگری میں بھی کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا - اسٹاک اے کیٹگری میں بیبرک بلوچ نے41:31میں ٹریک مکمل کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی- اسٹاک بی کیٹگری میں اویس شہوانی نے مقررہ فاصلہ43:43 میں مکمل کیا اور فاتح ٹھہرے- اسٹاک سی کیٹگری میں اعجاز مری نے48:25 میں ٹریک مکمل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی- جبکہ اسٹاک ڈی کیٹگری میں دوست محمد مہر نے51:55میں حدف حاصل کرتے ہوئے پہلی پوزیشن کی ٹرافی تھامی
اسٹاک اے کیٹگری میں بیبرک بلوچ نے پہلی پوزیشن حاصل کی تواسٹاک بی میں اویس شہوانی فاتح ٹھہرے- اسٹاک سی میں اعجاز مری نےکامیابی سمیٹی جبکہ اسٹاک ڈی میں دوست محمد مہر نےپہلی پوزیشن کی ٹرافی تھامی
شام 5 بجے تقریب انعامات کا آغاز کیا گیا جس کے مہمان خصوصی کور کمانڈر کوئٹہ میجر جنرل تھے- جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے فاتحین کو انعامات سے نوازا- چونکہ مذکورہ ٹریک کو "صاحبزادہ سلطان" نے سب سے کم وقت میں عبور کیا تھا اور یوں اپنی ٹرافی کے ساتھ ساتھ ایف-ٹی-ڈی کی بھی ٹرافی بھی حاصل کی
ریلی میں مٹی میں، اٹےپُرتبسم چہرے، سر پر روایتی پگڑی ، دل میں خلوص، آنکھوں میں مسرت، میری مراد بلوچستان کی غیور عوام کا جوش وجذبہ قابل دید تھا
یوں اس خوبصورت اور یادگار تقریب کا اختتام ہوا- مٹی میں اٹےپُرتبسم چہرے، سر پر روایتی پگڑی، دل میں خلوص، آنکھوں میں مسرت ، میری مراد بلوچستان کی غیور عوام کا جوش وجذبہ قابل دید تھا