خودکاریا ڈرائیور کی معاون ٹیکنالوجی
ٹیکنالوجی کی موجودہ صدی میں دنیا کی ترقی اورانسانی سہولت و آسودگی کیلئے حیران کن ایجادات میں خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی جیسی اہم دریافت شامل ہے جو فاصلوں کو سمیٹنے، وقت اور انرجی بچانے میں معاون ہے
انجن کی ایجاد صنعتی انقلاب (Industrial Revolution)سے ہوئی جس کے آغاز سے ہی گاڑیوں کے بننے کا سلسلہ شروع ہوا تو بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ گاڑیاں بھی تبدیل ہوتی گئیں- سٹیم انجن سے ڈیزل اور پٹرول انجن تک کا سفر ہوا تو ساتھ ہی الیکٹرک کاریں میدان میں آ گئیں جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے باعث گاڑیوں میں بڑی جدت آ گئی حتی کہ اب بنا ڈرائیور کے خودکار چلنے والی گاڑیاں میدان میں آ چکی ہیں- ٹیسلا کمپنی نے اپنی بنائی ہوئی کاروں میں یہ آسائش دی ہے کہ گاڑی بغیر ڈرائیور کے خود بخود منزل تک پہنچ جاتی ہے
خودکار گاڑی کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ گاڑی میں جدید سنسرز لگائے جاتے ہیں جو کہ گاڑی کے گردونواح، سڑک اور سڑک پر موجود ہر چیز کا ہر وقت جائزہ لیتے رہتے ہیں- ساتھ ہی گاڑی انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے جی-پی-ایس لوکیشن سے جڑی ہوتی ہے- مزید یہ کہ سفر کے دوران گاڑی، ٹیسلا کمپنی کے ہیڈآفس کو بھی انٹرنیٹ کے ذریعے تمام ڈیٹا بھیج رہی ہوتی ہے- ہیڈ آفس تمام گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے
ایسی گاڑیوں میں خودکار پارکنگ کی صلاحیت بھی بہت اہم ہے- ریموٹ کنٹرول سے کمانڈ ملنے پر گاڑی خود بخود پارکنگ سے نکل کر مطلوبہ جگہ پر پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح ڈرائیور کے اترنے کے بعد خود پارک ہو جاتی ہے- یہ بہت اچھا فیچر ہے جس سے وقت کی بہت ساری بچت ہو جاتی ہے- یہ فیچر ڈرائیورز کی معاونت کے لئے بنایا گیا ہے- راستے میں اگر کوئی رکاوٹ یا کوئی پیدل چلنے والا آدمی آجائے تو گاڑی رک جاتی ہے اور جب پیدل آدمی گزر جائے تو گاڑی سفر جاری کرتی ہے- سفر کو بہتر بنانے کے لئے گاڑیوں میں ایسی ٹیکنالوجی کا آنا بہت خوش آئند ہے
خودکار گاڑیوں کے موضوع پر بات کے دوران یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ گاڑیوں میں تمام نئے فیچرز ڈرائیورز کی سہولت کے لئے فراہم کیے جا رہے ہیں جو کہ بہت سے حادثات سے بچاؤ کے لئے فائدہ مند ہیں- مثال کے طور پر لانگ ڈرائیو کے دوران بعض اوقات جب ڈرائیور بے اختیار غنودگی میں آ جائے تو خودکار ڈرائیونگ کا فیچر گاڑی کی سپیڈ کو آہستہ کرتے ہوئے بہت آرام سے گاڑی کو سائیڈ لین میں لے جاتا ہے اور پارک کر دیتا ہےتاکہ ڈرائیور بھی محفوظ رہے اور باقی تمام گاڑیوں کے مسافروں کو بھی کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے
یہ بات تو واضح ہے کہ خودکار ڈرائیونگ گاڑیاں انٹرنیٹ سے جڑی ہوتی ہیں اور گاڑی کی تمام کمانڈز پر بھی انٹرنیٹ اثر انداز ہوتا ہے جیسا کہ سڑک کی سمت کا تعین کرنے کے لئے گاڑی کے سنسرزاور جی-پی-ایس استعمال ہوتا ہے- ان دونوں معلومات کا موازنہ کر کے گاڑی کا سسٹم فیصلہ کرتا ہے کہ کس سمت مڑنا ہے- اس بات کو سمجھنے کے بعد سائبر سکیورٹی کو جاننا بھی ضروری ہے اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کیسے سائبر سکیورٹی کو توڑا جاتا ہے- خودکار ڈرائیونگ گاڑیوں کی سائبر سکیورٹی کو بہت جدید رکھنا چاہیئے تاکہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہ ہو سکے
مزیدبرآں! اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ سڑک پر سفر کرتےتمام مسافر اور ڈرائیورز ایسی ٹیکنالوجی پر مکمل طور پر بھروسے کی بجائے خود بھی محتاط رہیں کیونکہ گاڑی کے سسٹم میں کوئی مسئلہ بھی آ سکتا ہے- گاڑیوں میں ایسے فیچرز ڈرائیورز کی معاونت کے لئے بنائے گئے ہیں نہ کہ اس لئے کہ لوگ غیر محتاط ہو کر سفر کریں- ٹیسلا کمپنی کے مقابلے میں اب اور بھی کمپنیز نے اس ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور عنقریب مارکیٹ میں اپنی نئی گاڑیاں صارفین کے لئے لا رہے ہیں- جدید ٹیکنالوجی مہنگی ہے اسلئے ایسے جدید فیچرز والی گاڑیوں کی قیمت بھی دوسری گاڑیوں سے زیادہ ہے- کمپنیز کو چاہیے کہ جدید فیچرز کے ساتھ قیمت بھی متناسب رکھے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے فائدہ اٹھا سکے- مزید یہ کہ ایسی جدت کو سراہا جانا چاہیے اور ان ماہرین کی حوصلہ افزائی ہر طرح سے کرنی چاہیے جو سفر کو آسان اور زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں