پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کا فروغ اور میڈیا
آف روڈ کی ترویج، پھیلاؤ، رجحان، آگاہی اور پروموشن میں میڈیا کا کردار
ملک حسن احمد ایڈووکیٹ
جدید دور حاضر میں جہاں دنیا ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ چکی ہے وہاں اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائےتو مواصلاتی نظام میں بہت زیادہ ترقی دیکھنے کو ملی ہے- پہلےجہاں صرف ایک اخبار اشتہار دیکھنے کو ملتے تھے وہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو کا استعمال دیکھنے کو ملا جس سے ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کی خبروں سے آگاہی ہونے لگی-جس سے لوگوں میں نا صرف شعوربلکہ دیگر شعبہ جات کے بارے میں معلومات میں قدرے اضافہ دیکھنے کو نظر آنے لگا،یوں وقت گزرنے کے ساتھ ریڈیو کی جگہ ٹیلی ویژن نے لے لی-جس میں تصویر اور آواز دونوں ملیں،اسطرح ٹیلی ویژن پر دنیا بھر کی تمام خبروں کے ساتھ ساتھ اشتہارات، کھیل، فیشن، ٹیکنالوجی، نیزدنیاکےہرشعبہ کےبارےمیں تمام حالات ایک تصویر کی شکل میں نظر آنے لگے-
میڈیا دورِ حاضر کا سب سے طاقتور ہتھیار تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ دنیا میں میڈیا کا تیزی سے بڑھتا اثرو رسوخ اوربے پناہ اہمیت و افادیت ہے- درحقیقت ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں جہاں معلومات، خبروں، مباحثوں اور حقائق تک فی الفور رسائی میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہے- باالفاظ دیگر موجودہ دنیا میں میڈیا اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہےجس نے انسان کو ہر لمحہ باخبر رکھنے میں اہم ترین کردارادا کیا ہے- میڈیا کی وجہ سے حالیہ برسوں میں زندگی کے تمام شعبہ جات میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جن میں ایک اہم شعبہ سپورٹس کا بھی ہے جو میڈیا(الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل) کے ذریعے فروغ پارہا ہے
آف روڈ ریسنگ میں جہاں انتہائی طاقتور گاڑیاں پر خطر ریس ٹریک سرکرتی نظرآتی ہیں، ساتھ میڈیا کے لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آف روڈ ریسنگ کے شائقین کو لائیو کوریج دیکھانےاور گاڑیوں کے مختلف مناظر کی عکس بندی کرتے نظر آتے ہیں
مواصلاتی نظام میں جیسے جیسے جدت آتی گئی اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں بھی جدت آگئی-جہاں سال میں ایک بار یا دو بار لوگ علاقائی میلے میں جاتے یا سال بعد کھیلوں کے ٹورنامنٹ دیکھتے اب وہی تمام کھیلیں دنیا بھر سے اپنی ٹیلی ویژن سکرین پر گھر بیٹھے دیکھ لیتے ہیں-اس تمام طرح کے مواصلاتی نظام کو میڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے-میڈیا کے ذریعے کئی نئے تصورات سامنے لائے گئے،اب ٹیلی ویژن کی سکرین سے لوگ موبائل کی سکرین پر پہنچ چکے ہیں-ٹیلی ویژن پر ملنے والی تمام طرح کی معلومات اب باآسانی موبائل کی سکرین پر دیکھی جا سکتی ہیں، میڈیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ معلومات کے ذرائع کو مختلف اقسام سے جانا جاتا ہے،جیسا کے اخبار اور دیگر اشتہارات کو پرنٹ میڈیا کا نام دیا گیا ہے-موبائل پر موجود ذرائع جس میں دو طرفہ پیغامات تصویر یا آواز کی صورت میں موصول کئے جا سکتے ہیں اسکو سوشل میڈیا کا نام دیا گیا ہےجسکی مثال (فیس بک، انسٹا گرام، وٹس ایپ،ٹویٹر،سنیپ چیٹ) ہیں-انٹرنیٹ پر ملنے والے مواد کو ویب میڈیا کا نام دیا گیا ہے
پاکستان میں گزشتہ چندسالوں سے آف روڈ ریسنگ کا رجحان بڑھتا نظر آ رہا ہے جس میں میڈیا کا کردار سب سے نمایاں ہے- یوں کہا جائے توغلط نہ ہو گا کہ آف روڈنگ کی ترویج، پھیلاؤ، رجحان، آگاہی اور پروموشن میں میڈیا کا بنیادی کردار ہے
میڈیا کی جدت نے جہاں لوگوں کی باقی زندگی کے روز مرہ کے شعبہ جات میں بہتری لائی ہے،تووہیں کھیلوں کے میدان میں بہت ترقی دیکھنے کو ملی ہے- جہاں لوگ گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کے شوقین تھے اب وہی لوگ صحراؤں میں دھول اڑاتی گاڑیوں کی ریس دیکھنے لگے ہیں، جدت کے ساتھ دنیا ہارس سے ہارس پاور کی طرف منتقل ہوگئی ہے- پاکستان میں گزشتہ چندسالوں سے آف روڈ ریسنگ کا رجحان بڑھتا نظر آ رہا ہے جس میں میڈیا کا کردار سب سے نمایاں ہے- یوں کہا جائے توغلط نہ ہو گا کہ آف روڈنگ کی ترویج، پھیلاؤ، رجحان، آگاہی اور پروموشن میں میڈیا کا بنیادی کردار ہے-پاکستان کے ایک کونے گوادر میں ہونے والی ریس اور دوسرے کونےدنیا کے سب سے ٹھنڈے اور اونچے صحراسکردو میں ہونے والی ریس سےمیڈیا کی بدولت شائقین گھر بیٹھے بغیر کسی روکاٹ کے با آسانی ریس سے لطف اندوز ہوتے ہیں
آف روڈ ریسنگ میں جہاں انتہائی طاقتور گاڑیاں پر خطر ریس ٹریک سرکرتی نظرآتی ہیں، ساتھ میڈیا کے لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آف روڈ ریسنگ کے شائقین کو لائیو کوریج دیکھانےاور گاڑیوں کے مختلف مناظر کی عکس بندی کرتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ساتھ ریس کی مکمل معلومات بھی باہم پہنچاتے ہیں-اب اگر پاکستان کے کسی بھی حصہ میں کوئی ریس منعقد ہوتی ہے تو سوشل میڈیا پر اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو کہ آف روڈ ریسنگ کے شائقین کوباخبر رکھتے ہیں-یوں سوشل میڈیا پر آف روڈ ریسنگ سے منسلک ادارے اور مختلف ریسنگ ٹیمز کے سوشل میڈیا پر آکاونٹس بنے ہوئے ہیں جس سے ریس کے شائقین کو ہر طرح کی معلومات ملتی رہتی ہیں-ان اکاونٹس اور پیجز پر ریس کے دوران آغاز اور اختتام تک ویڈیوز پیغامات، لائیو کوریج اور تصاویر کے ذریعے ریس ایونٹ کی مکمل معلومات ملتی رہتی ہیں-اس سے ناصرف ریس کے فاتحین کے بارے میں بلکہ ریس کی مشکلات اور اس تمام طرح کی پیچیدگیوں کے بارے میں شائقین کو بخوبی پتہ چلتا ہے
سوشل میڈیا پر معلومات کی بدولت نئے نوجوان ریسرز کی بڑی تعداداس کی طرف مائل ہورہی ہے- جبکہ میڈیا کے ذریعہ نہ صرف ریس سے متعلق آگاہی ملتی ہے بلکہ جس علاقہ میں ریس کا انعقاد ہوتا ہے اس علاقے کی جان پہچان بھی حاصل ہوتی ہے
لوگوں میں کچھ سالوں سے سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بالخصوص پاکستان میں بہت زیادہ ہونے لگا ہے-یوں ان ذرائع سے لوگ ریس میں اپنے پسندیدہ ڈرائیور اور ٹیم کو اپنی تصاویر ساتھ بنا کر سپورٹ کرتے ہیں جس سے ریسرز کا حوصلہ بھی بلند ہو تا ہے- آف روڈ ریسنگ سے منسلک لوگ جو ریس میں حصہ لیتے ہیں انہیں ریس کی گاڑی کے متعلق معلومات بھی میڈیا کے ذریعے ملتی ہیں- بین الاقوامی سطح پر ہونے والی آف روڈ ریسزاور ریسرزکی مکمل معلومات بھی میڈیا سے حاصل کی جاسکتی ہیں- سوشل میڈیا پر معلومات کی بدولت نئے نوجوان ریسرز کی بڑی تعداداس کی طرف مائل ہورہی ہے- جبکہ میڈیا کے ذریعہ نہ صرف ریس سے متعلق آگاہی ملتی ہے بلکہ جس علاقہ میں ریس کا انعقاد ہوتا ہے اس علاقے کی جان پہچان بھی حاصل ہوتی ہے-یوں پاکستان کی خوبصورتی اور سافٹ امیج دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ بنتاہے- پاکستان آف روڈ ریسنگ کی ترقی میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے جس کے ذریعے لوگوں کے شعور میں اس قدر بہتری آئی ہےکہ اب شائقین نہ صرف پاکستان کی مشہور ریسز اور ریسنگ ڈرائیورز بلکہ بین الاقوامی سطح پر منعقد موٹر سپورٹس کےایونٹ کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہیں- نوجوان ریسرز جو اب نئے ریس کی طرف آ رہے ہیں وہ موٹر سپورٹس کی دیگر اقسام اور گاڑیوں کی متعلق مکمل آگاہی نئے ماڈلز اور گاڑیوں کے سپیئرز پارٹس اور دیگر تکنیکی پوائنٹس کے متعلق ویب میڈیا کے ذ ریعے آگاہی رکھتے ہیں
الیکٹرانک میڈیا کی بات کی جائےتو مختلف ٹی وی چینلز کےنمائندے ریس کے مقام پر پہنچ کر لائیو کوریج دیتے ہیں اور ایونٹ کے متعلق مکمل رپورٹ تیا ر کرتے ہیں-کچھ سالوں قبل پاکستان کے لوگ آف روڈ ریسنگ سے آگاہ نہ تھے اب لوگ میڈیا کی بدولت پاکستان بھر میں ہونے والی تمام ریسزز اور نامور ریسرز کے بارے میں جانے لگے ہیں-اگر یوں کہا جائے کے پاکستان میں موٹر سپورٹس (آف روڈ ریسنگ )کے فروغ میں الیکٹرانک میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے تو غلط نہ ہوگا اسی میڈیا کی بدولت اب لوگ پاکستان بھر میں آف روڈ ریسنگ کے متعلق آگاہی رکھتے ہیں
پرنٹ میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے ہارس پاور میگزین کے نام سے موٹر سپورٹس کا پہلا اردو جریدہ شائع ہورہا ہے جس کا مقصد موٹر سپورٹس کی ترویج و اشاعت ہے- ہارس پاور نہ صرف پاکستان آف روڈ ریسنگ بلکہ بین الاقوامی ریسنگ ایونٹ، مختلف ریسرز کے انٹرویوز، ٹریفک کے مسائل اور آگاہی، ریس سے متعلق تمام طرح کی معلومات ٹریک کے متعلق آگاہی، ریس کے اصول و ضوابط اور پاکستان میں نئے آنے والے ریسرزکی حوصلہ افزائی کرنے کا ایک ذریعہ ہے-میڈیا کے مثبت استعمال سے نہ صرف موٹر سپورٹس بلکہ زندگی کے دیگر شعبہ جات کو بہتر گارکردگی دینے والا بنایا جاسکتاہے- میڈیا ہر شعبہ میں نئے آئیڈیاز کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے
میڈیا کی بدولت نہ صرف آف روڈ ریسنگ بلکہ ریس کےدوران پاکستان کےخوبصورت علاقے، سیاحت، ثقافت، معاشرت نہ صرف پاکستان کے لوگوں بلکہ دنیا بھر کے سامنے لانے کا موقع ہوتا ہے-المختصر اگرکہا جائے کہ میڈیا پاکستان میں موٹر سپورٹس (آف روڈ ریسنگ) کے فروغ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے تو غلط نہ ہو گا- موجود دور میں جب ہر شخص میڈیا سے جڑا ہے ایسے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں میڈیا کے بغیر آف روڈ ریسنگ کی ترویج ممکن نہیں ہے- آج تقریباً ہر آدمی آف روڈ ریسنگ کے بارے آگاہی رکھتا ہے تو صرف میڈیا کی بدولت ہی ہے-یہاں میڈیا سے مراد میڈیا کے تمام طرح کے ذرائع جس میں الیکٹرانک میڈیا،سوشل میڈیا اورپرنٹ میڈیا شامل ہیں-میڈیا کی ان ذیلی اقسام کی اپنی اپنی اہمیت اور گارکردگی ہے،جس میں اس وقت سب سے زیادہ رجحان بالخصوص نوجوان نسل میں سوشل میڈیا کا ہے-سوشل میڈیا موٹر سپورٹس کے فروغ کا انتہائی اہم ذریعہ ہے
فوٹو کریڈٹ: https://www.pakwheels.com/new-cars/toyota/hilux/revo/