تشنہ پٹیل :پاکستان کی پہلی خاتون آف روڈ ریسر
Blog Single

تشنہ پٹیل :پاکستان کی پہلی خاتون آف روڈ ریسر

بہادر،دلیر، حوصلہ مند اور پاکستان  میں خواتین کےلئے آف روڈ  میں راستہ ہموار کرنے والی " تشنہ پٹیل" کا ریسنگ کیرئیرمثال

شہبازعزیز

تشنہ پٹیل نے اپنا ریسنگ کیرئر کا باقاعدہ آغاز 2013 ء میں کیا اور اس طرح وہ پاکستان کی پہلی خاتون ریسر بنیں جنہوں نے اس کھیل میں حصہ لیا ،اس سے پہلے یہ کھیل صرف مردوں تک محدود تھا- اب تک تشنہ پٹیل تقریباً تمام پاکستان آف روڈ ریلیز میں شرکت کرچکی ہیں- تشنہ پٹیل کے ریسنگ کیرئیر کی ابتدا ان کی توقعات کے برعکس ہوئی وہ پہلی ہی ریس (جھل مگسی ڈیزرٹ چیلنج )میں cc3000ویگو دوڑاتے ہوئے مردوں کی اس ریس میں چوتھے نمبر پر رہیں- تشنہ کی یہ کامیابی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے فورا ً بعد ہی ایک لوکل موٹر سپورٹس کلب نے ریسنگ میں خواتین کی کیٹگری متعارف کروائی تاکہ تشنہ جیسی باقی خواتین کو بھی ریس کے میدان میں اپنے جوہر دکھا نے کا موقع مل سکے

 تشنہ پٹیل اپنی پہلی ریس کے بارے میں بتاتی ہیں کہ:

مجھے بھرپور مقابلے کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مرد ریسرز بہت تجربہ کار تھے-

تشنہ کا ریسنگ میں کامیاب آغاز ان کی سالوں کی محنت ، شوق اور لگن کا نتیجہ تھا- 2013ء میں اپنے ریسنگ کیرئیر کے آغاز سے قبل تشنہ پٹیل 2005ء سے ریسز میں جارہی ہیں جس دوران وہ ریکیز میں اپنے خاوند کے ساتھ بیٹھتی اور ریس کے فن  سیکھتی رہیں -اگرچہ رونی پٹیل جیسے کامیاب ریسر ر کی بیوی ہونا بھی ان کے لیے کارآمد تھا مگر لوگوں کی توقعات کے برعکس صحرا ئے بلوچستان کی ریس میں حصہ لینے کی بڑی وجہ اس کھیل سے ان کی گیارہ سالہ وابستگی اور اس کھیل کے اہم ایونٹس میں شمولیت تھی جو انہیں ڈرائیونگ سیٹ پر لانے میں کافی کارگر ثابت ہوئی

گزشتہ چند برس سے پاکستان میں نہ صرف مردوں بلکہ خواتین میں بھی آف روڈ ریسنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ریس کے میدان میں اپنی صلاحیتوں اور فن کا بھر پور مظاہرہ کررہی ہیں

فارمولا ون اور موٹو جی پی (MotoGP) میں جہاں میکینکس اور انجینئرز کی ایک ٹیم سٹاپ کی نگرانی کیلئے ہر سٹاپ پر موجود ہوتی ایسی چیزوں کااہتمام بھی تشنہ کیلئے ایک چیلنج تھا-وہ بتاتی ہیں کہ:

میں ریس سے ایک دن قبل مڈ سٹاپ اور اسٹیج بریک( جہاں ڈرائیور ریس کے دن آرام کرتے ہیں ) پر جا کر انتظامات کا خود جائزہ لیتی ہوں 

تشنہ پٹیل ریسنگ کریئر کے ساتھ ساتھ دو بچوں (مہروان پٹیل اور دینا پٹیل ) ایک ذمہ دار ماں بھی ہیں - مزید یہ کہ وہ وینڈی سکول سسٹم کی تین برانچز کی پرنسپل بھی ہیں

جب تشنہ سے پوچھا گیا کہ کہ اسکول کا پرنسپل اور ایک ریسر ہونا ان دونوں میں سے کیا زیادہ بہتر ہے؟ تشنہ نے جواب دیا کہ:

پرنسپل ہونا میرا پیشہ ہے اور ریسنگ میرا شوق ہے

تشنہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کو بہت زیادہ سپورٹ کرتے ہیں اور ریسنگ میں حصہ لینے کے لیے بھی ان کے شوہر نے انہیں بہت زیادہ سراہا - بالکل اسی طرح تشنہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہر مشکل اور آسانی میں برابر کی شریک ہوتی ہیں- وہ کہتی ہیں کہ رونی پٹیل چاہے جیتیں یا ہاریں میں ہمیشہ ان کو سپورٹ کرتی ہوں اور مستقبل میں بھی ان کو اسی طرح سپورٹ کرتی رہوں گی - تشنہ بیان کرتی ہیں کہ:

 2006ء میں بدقسمتی سے دورانِ ریس ان کےسامنے ان کے شوہر (رونی پٹیل ) کی کار الٹ گئی جس کے بعد وہ بہت دل برداشتہ ہوئےاورسوچاکہ اس حادثے کے بعد رونی کے لیے ریس کو دوبارہ شروع کرنا بہت مشکل  ہےمگر وہ رونی کے ساتھ رہیں اور انہیں ریس میں واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا

تشنہ پٹیل کا سکول  پرنسپل ہونا  پیشہ اور آف روڈ ریسنگ شوق ہے

تشنہ اور رونی کا 14 سالہ بیٹا مہروان بھی ریلی ریسنگ میں دلچسپی رکھتا ہے- اس نے حب ریلی میں بھی حصہ لیا- وہ بتاتی ہیں ہیں کہ مہروان نے انہیں ریس کے دوسرے راؤنڈ میں 13 سیکنڈ کے وقفے سے سے شکست دی- اپنی والدہ سے بہتر پرفارم کرنا اس کے لئے ایک خوشی کا موقع تھا- انہوں نے مزید بتایا کے مہروان دو دفعہ سندھ اوپن سوئمنگ چیمپئن رہ چکا ہے اور ایک دفعہ نیشنل گولڈ میڈلسٹ بھی بنا ہے

تشنہ پٹیل آف روڈ ریسنگ میں خواتین کی شمولیت کیلئے کس قدر خواہشمند اور متحرک ہیں؟

مردوں کی اکثریت والے کھیل (موٹر سپورٹس) میں عورتوں کی شمولیت کے لیے تشنہ پٹیل کا کردار بہت اہم ہے، وہ چاہتی ہیں کہ عورتیں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی کامیابیاں سمیٹیں- تشنہ کہتی ہیں کہ:

 جب میں پہلی دفعہ ریس میں شامل ہوئی تو میرا مقصد صرف جیتنا نہیں تھا بلکہ عورتوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور یہ دکھانا تھا کہ عورتیں بھی اس کھیل میں حصہ لے سکتی ہیں

اسی طرح اپنے ایک انٹرویو میں تشنہ پٹیل نے بتایاکہ:

میرا ریلی کرنے کا مقصد خود کو پرموٹ کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں موٹرسپورٹس میں خواتین کی شمولیت کا فروغ تھا کیونکہ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان میں ایسی عورتیں ہیں جو ریس کرسکتی ہیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم ایک محفوظ خطے میں رہتے ہیں جہاں موٹر سپورٹس کو فروغ دیا جاتا ہے

مزید بیان کرتی ہیں کہ :

میری کامیابی یہ ہے کہ اب عورتیں اپنے گھروں سے باہر آکر ریلی ریسنگ میں حصہ لے رہی ہیں اور ان کی فیملی بھی انہیں سپورٹ کر رہی ہے- پچھلے دو سالوں میں حب ریلی اور چولستان ریلی میں بہت سی دوسری خواتین نے بھی شرکت کی

اس سال کی چولستان ریلی میں تشنہ اپنی مدِمقابل جمیلہ آصف سے جیت نا سکیں- اس کے باوجود وہ نہایت خوش ہیں کیونکہ ہر دفعہ جب انہیں ایک نئی حریف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ انہیں اپنے مقصد کےقریب لاتا ہے جو کہ عورتوں کی ریلی ریسنگ میں شمولیت پر مبنی ہے- وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ جمیلہ سے جیت نا سکیں مگر یہ ان کے لیے بہ ہر صورت جیت کی صورتحال ہے

بالفاظ دیگر فیض احمد فیض نے کہا تھا

محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ لیتے ہیں

 ہر دفعہ جب ایک عورت ریس میں شامل ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لوگوں  کا رجحان اس طرف بڑھ رہا ہے- تشنہ پٹیل کہتی ہیں کہ :

وہ تمام عورتیں جو کھیل میں حصہ تو لینا چاہتی ہیں مگر کسی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ،تو تشنہ ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے ہر وقت میسر ہے

تشنہ پٹیل چاہتی ہیں کہ:

 اگر کسی لڑکی میں قدرتی طور پر صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ ان کو بروئے کار لانا چاہتی ہے تو اس کی فیملی کو چاہیے کہ اسے سپورٹ کریں اور اگر کوئی مالی مسائل کا شکار ہے تو جتنا ممکن ہو سکا میں اس کی مدد کروں گی- عورتوں کا ریس میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے

کیا خواتین محتاط ڈرائیور ہیں؟

اسی طرح جب تشنہ پٹیل سے پوچھا گیا کہ کیا خواتین محتاط ڈرائیور ہیں؟ تو وہ بے ساختہ مسکرا دیں اور جواب دیا کہ نہیں! تمام خواتین محتاط ڈرائیور نہیں ہیں بلکہ کچھ خواتین تو ٹھیک سے پارکنگ بھی نہیں کر سکتیں اور نہ ہی گاڑی کو ٹھیک طرح سے ریورس کر سکتی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین Multi-Tasking میں اچھی ہوتی ہیں-

خواتین ریس میں حصہ لینے کیلئے خود کو کیسے تیار کرسکتی ہیں؟

تشنہ پٹیل نے اپنے ایک انٹریو میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ :

سندھ میں” “Sindh Motorsports Association کے نام سے ہمارا ایک موٹر سپورٹس کلب ہے جو خواتین ہم تک اپروچ کرنا چاہتی ہیں ہم انہیں ریس کیلئے گائیڈ کرنے اور ان کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے

آف روڈ ریسنگ کے لیے پاکستان کا جغرافیہ بہت ہی موزوں ہے- ہر پندرہ سے بیس کلو میٹر کے بعد ٹیرین تبدیل ہوتے ہیں- ٹریک میں اچانک تبدیلی مشین(گاڑی) اور انسان دونوں کا اصل امتحان ہوتی ہے- بہت دفعہ گاڑی فنی خرابی کا شکار ہو جاتی ہے- ہمارے معاشرے میں لوگ باصلاحیت تو ہیں مگر انہیں مالی مسائل کا سامنا ہے- یہی وجہ ہے کہ وہ جگاڑ سے کام چلانا چاہتے ہیں- جگاڑ سے کام چلا کر وہ بہت دفعہ کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر یہ بہت ہی کی خطرناک ہوتا ہے- خاص طور پر ایسے ٹریک پر جو کہ بہت ہی چیلنجنگ ہو- موٹر سپورٹس پاکستان کا ایسا کھیل ہے جس کوبہت زیادہ پذیرائی نہیں دی گئی اور نہ ہی گورنمنٹ کی طرف سے اس کو بہت زیادہ سراہا گیا ہے

تشنہ پٹیل نے کہنا تھا کہ آج کل آئل، ٹائر اور بیٹریز کی کمپنیز فیشن شو کو تو سپانسرکر رہی ہیں مگر وہ ریسرز کوسپانسر نہیں کرتیں، موٹر کار سے منسلک کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ انفرادی طور پر ریسرز کو سپانسر کریں

پاکستان میں باقاعدہ موٹر سپورٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا جائے:

تشنہ پٹیل پاکستان میں موٹر سپورٹس کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں- وہ بتاتی ہیں کہ:

ہم جتنا بھی کام کررہے ہیں یہ پاکستان میں موٹر سپورٹس کے فروغ کیلئے ہے-

تشنہ پٹیل چاہتی ہیں کہ پاکستان میں ایک باقاعدہ موٹر سپورٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا جا ناچاہیے جو ریسرز کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ آف روڈ ایونٹس کے انعقاد کی ذمہ داری بھی اٹھائے اور ہمارے لوکل ریسرز کو بین الاقوامی ریسنگ ایونٹس میں شرکت کے لیے اسپانسر کر ے- انہوں نے مزید کہا کہ موٹر سپورٹس فیڈریشن کے قیام سے انٹرنیشنل ریسرز کی پاکستان آمد کے راستے ہموارہونگے کیونکہ بہت سارے بین الاقوامی ریسرز پاکستان کے ایونٹس میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگر حکومت کی طرف سے سہولیات کی عدم فراہمی و عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ شامل نہیں ہو پاتے- اسی طرح تشنہ پٹیل نے کہا کہ آج کل آئل، ٹائر اور بیٹری کی کمپنیز فیشن شو کو تو سپانسرکر رہی ہیں مگر وہ ریسرز کوسپانسر نہیں کرتیں، اس لیے موٹر کار سے منسلک ایسی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ انفرادی طور پر ریسرز کو سپانسر کریں تاکہ موٹر سپورٹس کو مزید ترقی دی جاسکے

سٹریٹ ریسرز کیلئے پیغام:

آخر میں تشنہ پٹیل نے اسٹریٹ ریسرز(Street Racers (کے لیے پیغام دیا کہ ایسے ریسرز کو اسٹریٹ ریسنگ جیسی غیر قانونی سر گرمی میں شریک ہو کر اپنی زندگی خطر ے میں نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ:

"میں چاہتی ہوں کہ نوجوان اسٹریٹ ریسنگ میں حصہ لینے کی بجائے ریلی ریسنگ کا حصہ بنیں کیونکہ ریلی ریسنگ نسبتاً محتاط اور بہت زیادہ منظم ہے"

تشنہ پٹیل کی مختلف ریلیز میں پوزیشنز کی فہرست:

  1. 2017 ء چولستان500 جیپ ریلی(پہلی پوزیشن)
  2.  2017ء گوادرآف روڈ ریلی (پہلی پوزیشن)
  3.  2017ء تھل ڈیزرٹ چیلنج (پہلی پوزیشن)
  4. 2017ء جھل مگسی آف روڈ چیلنج (پہلی پوزیشن)
  5. 2018ء چولستان500 جیپ ریلی(پہلی پوزیشن )
  6.  2018ء بولان آف روڈ چیلنج (پہلی پوزیشن)
  7. 2018ء گوادرآف روڈ ریلی (پہلی پوزیشن)
  8. 2018ء تھل ڈیزرٹ چیلنج(پہلی پوزیشن)
  9. 2018ء جھل مگسی آف روڈ چیلنج(پہلی پوزیشن)
  10. 2019ء حب ریلی کراس(دوسری پوزیشن)
  11.  2019ء چولستان500 جیپ ریلی(پہلی پوزیشن )
  12. 2020ء حب ریلی کراس(پہلی پوزیشن)
  13. 2020ء چولستان500 جیپ ریلی(پہلی پوزیشن)
  14. 2020ء جھل مگسی آف روڈ چیلنج (پہلی پوزیشن)
  15. 2021ء چولستان500 جیپ ریلی(دوسری پوزیشن)
  16. 2021ء حب ریلی کراس(پہلی پوزیشن)
  17. 2021ء ڈیرہ جات میلہ(پہلی پوزیشن)
  18. 2021ء گوادرآف روڈ ریلی (پہلی پوزیشن)
  19. 2021ء تھل ڈیزرٹ چیلنج (پہلی پوزیشن)
  20. 2022ء تھر ڈیزرٹ ریلی (پہلی پوزیشن)

نوٹ: مذکورہ تحریرکوتشنہ پٹیل کےمختلف انٹرویوز میں کئےگئےا ظہارِ خیالات سےمضمون کی شکل دی گئی ہے

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ