پاکستان میں موٹربائیک ریسنگ کے فروغ کی ضرورت
اس وقت دنیا بھر میں موٹر بائیک ریسنگ کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملاہے جس کے باعث مختلف ممالک میں باقاعدہ کلبز اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں جو موٹر بائیک ریسنگ کو پروان چڑھا رہی ہیں
موٹر بائیک ریسنگ دنیا کے مشہور اور دلچسپ ترین کھیلوں میں سے ایک ہے- اس کھیل کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھرمیں نوجوانوں کی اس کھیل میں دلچسپی اور شمولیت ہے- ہوا سے باتیں کرتی ہوئی موٹر بائیکس جب انتہائی تیز رفتاری سے گزرتی ہیں تو بائیک رائیڈرز اور سامعین دونوں میں ایڈرینالین رش(Adrenaline Rush)پیدا کرتی ہیں- نوجوان چونکہ فطرتی طور پر جوشیلے ہوتے ہیں تو موٹر بائیک ریسنگ تقریبا ہر نوجوان شوق سے دیکھتا ہے اور بہت سے نوجوان اس کھیل میں باقاعدہ حصہ بھی لیتے ہیں
بین الاقوامی سطح پر موٹر بائیک رائیڈنگ کے بہت سارے مقابلے منعقد ہوتے ہیں- حتی کہ ایک مکمل ریسنگ کیلنڈر موجود ہے- اس ریسنگ کیلنڈر کے مطابق ہر سال مخصوص جگہوں پر مخصوص دنوں میں ریسنگ ہوتی ہے جس میں دنیا بھر کے لوگ شامل ہوتے ہیں- اس ریسنگ کیلنڈر کی چند ریسز کے نام موٹو جی پی(Moto GP)، ورلڈ ایس بی کے(World SBK) ، آئل آف مین (Isle of Man TT) ہیں - ان ریسوں کی حیثیت باقاعدہ ایک ورلڈچیمپئن شپ کی سی ہے- دنیا بھر کے بہترین ریسرز ان میں شامل ہوتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں
موٹر بائیک ریسنگ کی مختلف ٹیرین(Terrain)پرمبنی ریسزہوتی ہیں- ان کیٹگریز میں زیادہ مشہور ہل کلائمبنگ(Hill Climbing) ڈرٹ بائیک ریسنگ(Dirt Bike Racing) اور مڈ ریسنگ(Mud Racing) شامل ہیں- ہِل کائمبنگ ریسنگ میں ایک اونچی چوٹی تک بائیک کو لے کر جانا ہوتا ہے جو پر خطر اورکافی چیلنجنگ کام ہوتا ہے- مَڈ ریسنگ میں انتہائی گیلی مٹی میں بائیک کو چلانا ہوتا ہے- اس کیٹگری میں بائیک کا کنٹرول بہت معنی رکھتا ہے- پھر ایک اور کیٹیگری جو ڈرٹ بائیک کی ہے اس میں ڈرائیور اورموٹر بائیک دونوں کی مستعدی کا پتہ چلتا ہے- ان تمام موٹر بائیکس کا ڈیزائن، پاور اور موڈیفیکیشن بھی ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہوتی ہے
پاکستان کے نوجوان موٹربائیک ریسنگ میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں مگر قومی سطح پر موٹر بائیک ریسنگ کی ریگولیٹری اتھارٹی یا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے- بائیک رائیڈرز عام سڑکوں اور گلیوں میں سبک رفتاری سے موٹر بائیک چلاتے نظر آتے ہیں- قومی سطح پر ایک گورننگ باڈی بنائی جانی چاہیئے اور اس کھیل کو جس میں نہ صرف نوجوان دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک مقبول کھیل ہے، تاکہ اس کھیل کواچھے طریقے سے پاکستان میں پروموٹ کیا جائے- جوموٹر بائیک ریسنگ کے شائقین افراد کو ایک نظام کے تحت بائیک ریسنگ ٹریک دے جس میں حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے اور ایک ایسا پلیٹ فارم ہوجہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں
حکومتِ پاکستان کے لئے سب سےآسان بات یہ ہے کہ اس کھیل کو پروموٹ کرنے کے لئے بہت زیادہ محنت، فنڈ اور انفراسٹرکچر درکار نہیں ہے- پاکستان میں چاروں موسم اور مختلف طرح کے ریسنگ ٹریکس قدرتی طور پر موجود ہیں- ہِل کلائمبنگ ریسنگ ہو کہ ڈرٹ بائیک ریسنگ ، پاکستان کا موسم اور زمین ان کے لئے بہترین ہے- ہموار میدانی علاقہ بھی موجود ہے جس پر بین الاقومی معیار کے ٹریکس بنائے جا سکتے ہیں- ان باتوں کی بناء پر حکومت بہت ہی معقول وسائل کو استعمال کر کے ایک بہترین شروعات کر سکتی ہے- اسی طرح پاکستان میں اس کھیل کے فروغ کیلئے موٹر بائیک کپمنیز سپانسر کرسکتی ہیں- سب سے اہم اور حتمی بات یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان با صلاحیت اور حد درجہ قابل ہیں بس ضرورت ہے تو ان کو مواقع فراہم کرنے کی کیونکہ اگر انہیں اچھی رہنمائی اور پلیٹ فارم مہیا کیا جائے تو وہ یقیناً اس کھیل میں بھی پاکستان کا نام روشن کریں گے
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئےاس کھیل کے باقاعدہ آغاز کے بہت سے ثمرات ہوں گے- مثلاً عالمی سطح پر موجود موٹر بائیک ریسنگ فیڈریشنز پاکستان سےجڑیں گی جس سے پاکستان کا سافٹ امیج مزید بہتر بنے گا- اس کے ساتھ ساتھ اس کھیل سے ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا کیونکہ غیر ملکی ڈرائیورز جب ایسے ایونٹس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ یقیناً اپنے مداحوں کو بھی ریس ٹریک میں لانے کا باعث بنتے ہیں- مزید پاکستان کے بائیک رائیڈرز یہاں سے تیاری کے بعد انٹرنیشنل ایونٹس میں نہ صرف شریک ہو سکیں گے بلکہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ اور اپنی مہارت دنیا کو دیکھاسکیں گے- مختصر یہ کہ پاکستان کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اس کھیل کے بہتر نتائج ملیں گے