سال 2022ء اورپاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری پر ایک نظر
صنعتی انقلاب جن چیزوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا ان میں آٹو موبائل انڈسٹری کا شمار بھی ہوتا ہے- ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ممالک، سب میں ہی آٹو موبائل انڈسٹری بہت اہم ہے- پاکستان کا شمار تو چاہے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کی مارکیٹ کئی حوالوں سے ترقی یافتہ ممالک کی مارکیٹ جیسی ہے- تاہم پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کنزیومر مارکیٹ(Consumer Market)ہے- جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کے لئے مقامی صنعت بہت جدید نہیں ہے- جو کمپنیز یہاں گاڑیاں تیار کرتی ہیں وہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں ہیں اور جدید ترین گاڑیاں درآمد کر کے پاکستان میں لائی جاتی ہیں
سال 2022ء میں گزشتہ دو سالوں کی نسبت نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں آٹو موبائل انڈسٹری کی کارکردگی بہتر رہی ہے-پاکستان اکنامک سروے(2021-22 )کےمطابق مارچ تا جولائی کے دوران بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (LSM)ہوئی جس میں گزشتہ سال4.24) فی صد) کی نسبت10.4 فیصد اضافہ ہوا اور آٹو موبائل انڈسٹری کا شعبہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے والے شعبوں میں سے ایک رہا-2022ء میں آٹو موبائل انڈسٹری میں بہتری کی کئی وجوہات ہیں- بڑی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ دو سال کرونا وباکی نظر ہونے کی وجہ سے مارکیٹ گیپ(Market Gap)پیدا ہو گیا تھا جس کے ساتھ Supply Chainکا مسئلہ بھی تھا- کرونا کی پابندیاں اٹھتے ہی مارکیٹ میں ایک تیزی دیکھی گئی- یہی صورتحال پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کی بھی رہی کہ جس میں خریدار بہت زیادہ دیکھنے میں نظر آئے- اس کے علاوہ پاکستان کے دوست ملک چائنہ کی آٹو موبائل کمپنیزکی آمد نے بھی پاکستان میں آٹو موبائل انڈسٹری کی پیداوار میں بہت اہم کردارادا کیا ہے - اسی لئے یہ سال آٹو موبائل انڈسٹری سے جڑے بیشتر افراد کے لئے منافع بخش رہا- دوسری طرف ملک میں سیاسی و معاشی بحران و عدم استحکام اور انرجی کے فقدان کی وجہ سے انڈسٹری کوبہت سےمسائل بھی رہے
گاڑیوں کی قیمتیں پاکستان میں آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں- اس کی ایک بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مایوس کن کمی ہے- قیمتوں میں اضافے کی دوسری بڑی وجہ بین الاقوامی طور پر قیمتوں کا زیادہ ہونا بھی ہے- پاکستان میں وقتی طور پر صورتحال اتنی غیر یقینی کی ہےکہ کچھ کمپنیز نے وقتی طور پر پروڈکشن یونٹس(Production Units)کو روک دیا ہے جبکہ جن لوگوں نے ایڈوانس پیسے جمع کروائےہیں انہیں یہ سہولت دی کہ وہ اپنے پیسے چاہیں تو واپس لے سکتے ہیں کیونکہ کمپنی کے لئے طے شدہ قیمتوں پر گاڑیاں بیچنا ناقابل تلافی نقصان تھا
پاکستان میں گاڑیوں کی جو کمپنیز مارکیٹ میں بہترین جگہ بنائے ہوئے ہیں ان میں ہنڈا ، سوزوکی ، کرولا، جی ایم اورKIAجیسے بڑے نام شامل ہیں- یہ تمام کمپنیاں اپنے نئے ماڈل لانچ کرتی ہیں- پاکستان میں اس سال ان کمپنیوں کی طرف سے جو ماڈل متعارف کرانے کی تیاری رہی ان میںHonda HRV-2022 Suzuki Hustler, Suzuki Wagnor Stingray, Suzuki Xbee, اور 12th Generation Corollaزیادہ زیر بحث رہے- پاکستان آٹو موبائل انڈسٹری میں اب الیکٹرک کارز کےلئے گورنمنٹ اور پرائیوٹ بزنسز کی پوری کاوش ہےکہ الیکٹرک کارز کی لوکل پروڈکشن کی جائے
اس کے علاوہ گاڑیوں کی خریدوفروخت کا زیادہ ہونا خوش آئند تو ہے مگر قابل فہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر گاڑیاں غیر ملکی کمپنیز کی ہیں- پاکستان کی کمپنیاں نہ صرف گنی چنی ہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سروسز میں بھی غیر ملکی کمپنیوں کے مقابلے میں پیچھے ہیں- پاکستان کو درآمدات کی زد میں بہت سے پیسے ان غیر ملکی کمپنیز کو دینے پڑتے ہیں- اگر پاکستان مقامی سطح پر اچھی گاڑیاں بنانا شروع کر دے تو نہ صرف قومی خزانہ کو فائدہ ہوگا بلکہ بہت سی نوکریاں بھی میسر آئیں گی
مزید یہ کہ پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوتا جا رہا ہے- پبلک ٹرانسپورٹ ناکافی اور غیر معیاری ہونے کے باعث لوگ زیادہ ذاتی گاڑی خریدنے اور استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں- ضرورت اس امر کی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی، ہیٹ ویوز(Heat Waves)، انرجی کے بحران اور ان جیسے دیگر مسائل پر قابو پایا جا سکے
الغرض! حکومتِ پاکستان کو اپنی آٹو موبائل انڈسٹری کی بہتری پر خصوصی توجہ دینی کی ضرورت ہے کیونکہ آٹو موبائل انڈسٹری ملک کے جی ڈی پی میں 2.8 فی صد کے علاوہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں قومی خزانے میں تقریباً 30 بلین کا حصہ ڈالتی ہے