روئیداد سرفرنگا ڈیزرٹ ریلی2022ء چوتھا ایڈیشن
دنیا کے بلند ترین اور ٹھنڈے ریسنگ ٹریک پر ڈرائیورز کی مہارت اور گاڑیوں کی بہترین کارکردگی کا مقابلہ
ملک حسن احمد ایڈووکیٹ
قدرت نے اپنی تخلیقات کا اظہار مختلف صورتوں میں کیا جو ہرذی شعور انسانوں کو اسکے لطف و کرم کی طرف مائل کرتا ہے - کہیں گھنے جنگل تو کہیں صحرا کہیں بہتے دریا تو کہیں بلند و بالا پہاڑ غرض قادر مطلق کے آثار کی نشانیوں کا مشاہدہ بچشم عیاں کیا جاسکتا ہے-
پاکستان حسن کی دیوی ہے اس کا ہر علاقہ اور ہر قطعہ قابل دید و قابل ستائش ہے اگر بات کی جائے میرے ملک کے شمالی علاقہ جات کی تو یہ بھی انتہائی دلکش و دلفریب ہیں - جہاں دنیا بھر سے سیاح قدرت کے حسین و جمیل نظاروں سے چشم و دل کو سیراب کرنے دوڑے چلے آتے ہیں - پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گلگت اسکردو کی خوبصورتی اور برف سے بھرے پہاڑ سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں -
سکردو کو بلند ترین پہاڑوں کا گھر کہا جاتا ہے- پہاڑوں کے درمیان میں خوبصورت جھیلیں جن کا نیل گو پانی آنکھوں کو لبھاتا ہے - یہ خطہ 10 سے زائد چوٹیوں کو اپنے دامن میں لپٹے ہوئے ہے -
اس میں تین بڑے پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش شامل ہیں- یہ علاقہ کوہ پیمانوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے- محل وقوع کے اعتبار سے گلگت بلتستان کا بارڈر انڈیا ، چائنہ ، افغانستان اور آزاد کشمیر سے ملتا ہے-
اسکردو میں دنیا کا بلند صحرا سر فرنگا ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے - یہ انتہائی بلند ی پر ٹھنڈا صحرا ہے- جسے White Sand Desert کہا جاتا ہے -
اسکردو میں 2300 میٹر کی بلندی پر واقع یہ صحرا جس سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ریلی کہا جاتا ہےجہاں پہاڑ سفید ریت سے ڈھکے ہوئے ہیں- نیلے آسمان کے نیچے بلند پہاڑ سفید ریت کی چادر اوڑھے انتہائی دلفریب منظر پیش کرتے ہیں -
حالیہ چند سالوں میں جہاں آف روڈ ریسنگ میں مقبولیت دیکھنے کو ملی ہے تو وہاں مختلف ٹریکس بھی سامنے آئے ہیں - اب پاکستان بھرمیں آف روڑریسنگ کے ایونٹ منعقد ہوتے ہیں - اسکردو میں 2017ء میں پہلی دفعہ سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ میں آف روڈ ریسنگ کا انعقاد کیا گیا - ٹھنڈے صحرا میں گاڑیوں کا مقابلہ تو ہوتا ہی ہے لیکن اس ٹھنڈے صحرا تک پہنچنے کے لیے بلند ترین پر خطر پہاڑیوں سے گزر کر اس صحرا تک پہنچنا ریسرز اور سیاحوں کےلیے کسی ایڈونچر سے کم نہیں ہے -
امسا ل اکتوبر 2022ء میں ہونے والی چوتھی سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ریلی خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں سیاحوں اور آف روڈ ریسنگ کے شائقین کے لیے توجہ کا مرکز بنی-
سرفرنگا میں نہ صرف آف روڈ ریسنگ ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ علاقائی ثقافت اور دیگر کھیلوں کا بھی انعقاد کیا گیاجیسا کہ نیزہ بازی، پولو، رسہ کشی وغیرہ- مزید براں کوہ پیماوں کی حوصلہ افزائی کےلئے بھی ایونٹ کا انعقاد کیاگیا- دنیا کا بلند صحرا سرفرنگاڈیزرٹ ریلی کے ایونٹ میں دیگر کھیلوں کی نسبت آف روڈ ریسنگ کا مقابلہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز تھا -
سرفرنگا کےٹھنڈے صحرا تک پہنچنے کے لیے بلند ترین پُر خطر پہاڑیوں سے گزر کر پہنچنا ریسرز اور سیاحوں کےلیے کسی ایڈونچر سے کم نہیں-
سرفرنگا آف روڈ ریسنگ ٹریک تقریبا 80 کلو میٹر پر مشتمل تھا- سرفرنگا ٹریک کی انفرادیت یہ ہے کہ اس ٹریک کا زیادہ حصہ شائقین کی نظروں میں آتا ہے - یہ ٹریک باقی صحراؤں میں ہونے والے ٹریکس سے گوکہ لمبائی میں چھوٹا ہے مگر انتہائی کٹھن اور مہارت سے بھر پور ٹریک ہے-
جہاں ریس میں ریسرز اپنے جذبات پر قابو پا کر ریس جیتنے کی کو شش کرتا ہےتو اس کے ساتھ ساتھ گاڑی کے انجن اور اس کی بہترین کارگردگی سے ریس جیتنا ہوتی ہے -
سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ آف روڈ رریلی کو منانے اور سجانے کا سہرا پاک ویلز اور گلگت بلتستان گورنمنٹ کوجاتا ہے جس میں لوگ پاکستان کے ایک کنارے سے دوسرے پر دیکھنے کو آئے اور یوں سارا پاکستان ایک جگہ جمع تھا-
سرفرنگا کا ٹریک چونکہ 2300 میٹر کی بلندی پر ہے اور دیگر صحراؤں کی نسبت یہ بہت بلندی پر ہے اسی وجہ سے آکسیجن کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے -
سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ریلی کے ٹریک کی انفرادیت ہے کہ اس کازیادہ حصہ شائقین کی نظروں میں آتا ہے
سرفرنگا ریس میں تقریبا 70 کے قریب ریسرز نے حصہ لیا- جس میں خواتین ریسرز بھی شامل تھیں- ریس 4 دنو ں پر مشتمل تھی - پہلا دن14اکتوبر2022ء گاڑیو ں کی ٹیکنیکل انسپکشن اور ٹیگنگ کا دن تھا جبکہ15 اکتوبر2022ء دوسرا دن پروڈکشن اور پرو کلاس کی گاڑیوں کے کوالیفائنگ کادن تھا- ریلی کےتیسرے دن 16 اکتوبرکو پروڈکشن کلاس کی فائنل ریس ہوئی جبکہ چوتھے دن اکتوبرکی 17 تاریخ کو پرو کلاس کی فائنل ریس ہوئی -
کوالیفائنگ کے دن سے پہلےکی شام کو ڈرائیورمیٹنگ ہوئی جس میں ریلی کے دوران ملحوظ خاطر رکھےجانے والے پروٹوکولز کو زیر بحث لایا گیا- سرفرنگا ٹریک پر سکیورٹی کے انتہائی اچھے اقدامات کیے گئے تھےیوں سکیورٹی فورسز کا ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار رہاہے -
سرفرنگا کولڈڈیزرٹ ریلی جیسے ایونٹ نہ صرف علاقائی ثقافت کو اجاگر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا باعث بھی بنتے ہیں- یوں پاکستان کا ثقافتی منظر دنیا کو دکھانے اور باہر کے سیا حوں کو پاکستان کی خوبصورتی سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں-
سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ آف روڈ رریلی میں حصہ لینے والے ریسرز کی پوزیشنز اور مقررہ وقت بالترتیب درج ذیل ہے:
اے پری پیئرڈ کیٹگری
اے پری پیئرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن شعیب ملک نے حاصل کی اورسرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ آف روڈ رریلی 2022ء کے چیمپئن ٹھہرے،انہوں نے اپنا مقررہ فاصلہ 00:48:27میں طے کیا،جبکہ دوسری پوزیشن صاحبزاد ہ سلطان نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 00:49:16میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن رضا سعید نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 00:50:43 میں مکمل کیا-
اے سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن عقیل احمد نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 00:51:42 میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے سید آصف امام تین منٹ لیٹ ہوئے یوں یہ فاصلہ 00:54:09 میں مکمل کیا- تیسری پوزیشن امجد وزیر نے حاصل کی جنہوں نے ٹریک 00:59:38 میں مکمل کیا-
بی پری پیئرڈ کیٹگری
بی پری پیئرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن رب نواز جوئیہ نے 00:56:48میں اپنا فاصلہ طے کرکے کی جبکہ دوسری پوزیشن صاحبزادہ منیب سلطان نے حاصل کی جن کاٹائم 00:58:53تھااور تیسری پوزیشن خواجہ محمد اکرم نے مقررہ فاصلہ 01:31:01 میں مکمل کر کے حاصل کی-
بی سٹاک کیٹگری
بی سٹاک میں پہلی پوزیشن ٹیم سلطان کے صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز نےحاصل کی جنہوں نے مقررہ فاصلہ 00:57:39میں مکمل کیاجبکہ دوسری پوزیشن میجر محمد یاسر نصیر نے حاصل کی اور ٹریک کو 01:04:50 میں مکمل کیا- بی سٹاک کیٹگری کی تیسری پوزیشن شعیب ستار نے حاصل کی اور ان کا ٹائم 01:23:48 تھا-
سی پری پیئرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن زوہیرعلی فاروق نے حاصل کی جن کا ٹائم 01:01:10 تھا جبکہ دوسری پوزیشن 01:06:46 میں ڈاکٹر حسن رانا نے ٹریک مکمل کرکے حاصل کی- تیسر ی پوزیشن امیر علی نے حاصل کی اورانہوں نے 01:08:23 کےٹائم میں ٹریک مکمل کیا-
سی سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن شہزاد ستی نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 01:02:34 منٹ میں کیا جبکہ دوسری پوزیشن مہر بشیر نے حاصل کی اور ٹریک کو 01:07:43 میں مکمل کیا اورتیسری پوزیشن غضنفر آغا نے حاصل کی ان کا ٹائم 01:09:23 منٹ تھا
ڈی پری پیئرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن تاج خان مہر نے حاصل کی اوریوں مقررہ فاصلہ انہوں نے 00:57:24 میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن ظفر بلوچ نے 00:57:44 میں ٹریک مکمل کرکےاپنے نام کی اور تیسری پوزیشن علی وقار وڑائچ نے حاصل کی ان کا ٹریک مکمل کرنے کا ٹائم 01:02:20 رہا-
ڈی سٹاک کیٹگری
ڈی سٹاک کیٹگری میں پہلےنمبرپرآنےوالےفلک شیر بلوچ تھےجنہوں نےبڑے اچھےٹائم 00:58:55میں ٹریک مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن مہر مہراب نے حاصل کی اور ان کاٹائم01:00:15 منٹ تھا- تیسری پوزیشن جمیل حمدانی نے حاصل کی انہوں نے 01:00:27 منٹ میں ٹریک مکمل کیا-
وومن سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن ساجدہ حسن نے حاصل کی اور اپنا مقررہ فاصلہ01:12:35 منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن مسز عقیل نے 01:18:16 میں ٹریک مکمل کرکے حاصل کی جبکہ تیسرے نمبر پرزوہا خان رہیں اور انکاٹائم ایک گھنٹہ اکیس منٹ اورچھپن سیکنڈتھا-