رپورٹ تھل ڈیزرٹ چیلنج 2022ء
ملک حسن احمد ایڈووکیٹ
پاکستان ہر قسم کی قدرتی نعمتوں، قدرتی وسائل اور خوبصورت فطری نظاروں کے سبب نہ صرف ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں منفرد اہمیت کا حامل ہے- ان قدرتی نعمتوں میں بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات ،سرسبز وادیاں ، دریا اورسمندر سے لے کر وسیع و عریض صحراشامل ہیں- صحرائی علاقوں میں شہروں کی طرح چہل پہل دیکھنے کو نہیں ملتی -صحرا کی آبادی کا تناسب عموماً کم ہوتا ہے- لوگ قصبوں اور دیہاتوں میں زندگی بسرکرتے ہیں- پاکستان کے تقریباً 10 فی صد رقبے پر مشتمل 4 بڑے صحراؤں ( تھر، بلوچستان، خاران اورتھل ) میں پنجاب کا مشہور صحرائے تھل (تقریباً 306 کلو میٹر لمبا اور 113 کلو میٹر چوڑا ) اپنی مثال آپ ہے- صحرائے تھل کا علاقہ پاکستان بھر میں گندم،سرسوں اور چنے کی فراہمی ممکن بناتا ہے
اگر دیکھا جائے تو حالیہ چند سالوں سے پاکستان میں موٹر سپورٹس کا تیزی سے بڑھتا رجحان ان صحراؤں کی عالمی سطح پر ایک منفرد پہچان کا بڑا ذریعہ ثابت ہوا ہے- آف روڈ میں ہر قسم کی مشکلات اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور ریسنگ ٹریک ہوتا ہے چاہے پہاڑی کراس کرنا ہو، دریا عبور کرنا ہو، صحرائی ٹیلوں یا پتھریلے راستوں سے گزرنا ہو یہ تمام امتحانات آف روڈ ریسنگ ٹریکس میں موجود ہوتے ہیں- آف روڈ ریس میں دوردرازسےآنےوالے شرکاء وشائقین ریسرز کےدرمیان کانٹے دار مقابلہ سے محظوظ ہوتے ہیں-سچ تو یہ ہے کہ ان شائقین اور ریسرز کہ آنے سے صحرا میں ایک میلےکاسا سماں بن جاتاہے
یا درہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران دنیا کے کئی ممالک سمیت پاکستان میں کرونا جیسی موذی وباء نے جہاں ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا وہاں آف روڈ ریسنگ بھی متاثر ہوئی- لیکن رواں سال آف روڈ ریسنگ اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ پاکستان بھر میں جاری ہے جس میں حالیہ منعقد ہونے والی تھل جیپ ریلی ہے- یہ ساتویں تھل جیپ ریلی ہر سال کی طرح اس سال بھی نومبر میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان بھر سے آئے ریسرز کے علاوہ ہمیشہ کی طرح خواتین نے بھی حصہ لیا- تھل کے ٹریک کا شمارپاکستان کے سب سے مشکل ترین ٹریکس میں ہوتا ہے اور یہ ٹریک ڈرائیورز کی مہارت کا امتحا ن لیتا ہے جس میں ہر سال کافی ریسرز اپنی گاڑی کو فنشنگ لائن تک نہیں پہنچا پاتے- مہارت سے بھرپور یہ ٹریک اس سال بھی 192 کلومیٹر کی لمبائی پر مشتمل تھا
تھل کا ٹریک پنجاب کے دو اضلاح( مظفرگڑھ اور لیہ) پر مشتمل ہے- ریس کا آغاز ضلع مظفرگڑھ میں ہیڈ محمد والا سے تقریباً 15 کلومیٹر دور چھانگا مانگا ٹھیلا کے مقام پر ہوا، ٹریک کی کل لمبائی 192 کلومیٹر تھی جبکہ صلح لیہ میں چوبارہ کے مقام پر مڈ پوائنٹ تھا اور ریس ٹریک کا اختتامی پوائنٹ بھی چھانگا مانگا کے مقام پر تھا -اس سال تھل ریس میں شریک ہونے والے ریسرز کی تعداد 100 سے زیادہ رہی جس میں خواتین اور نئے ریسرز نے بھی شرکت کی- تھل کا یہ ٹریک جہاں ریسرز کا پسندیدہ ترین ٹریک ہےوہیں یہ ریسرز کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں- اس سال موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ٹریک میں کافی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں
ساتویں تھل ڈیزرٹ جیپ ریلی کا آغاز 17 نومبر 2022ءکو افتتاحی تقریب کے ساتھ گاڑیوں کی ٹیگنگ، ٹیکنیکل انسپکشن اور ریسرز کے میڈیکل چیک اپ سے ہوا- ریس کے آغاز میں ہونے والی تقریب میں ریسر کو ٹریک کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں
18 نومبر کو تھل آف روڈ ریلی 2022ء کا کوالیفائنگ ہوا تاکہ کم وقت میں کوالیفائنگ کرنے والا ریس ڈے میں پہلے ریس کےلئے روانہ ہوسکے- جس میں سید آصف امام اسٹاک کیٹگری میں سب سے کم وقت میں کوالیفائنگ کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ پری پئیرڈ کیٹگری میں راجہ محمدسعید نے پہلی پوزیشن حاصل کی- 19 نومبر کو اسٹاک کیٹگری کا ریس ڈے تھا جبکہ 20 کو پری پیئرڈ کیٹگری کی ریس ہوئی
تھل کی اس شاندار ریس میں کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 کے 14 پوائنٹ کے ساتھ ویکل ریکوری کا انتظام بھی کیا گیاتھا
بڑی گاڑیوں کی ریس کے ساتھ اس بار موٹر بائیک کی ریس بھی منعقد ہوئی جس میں بہت سے مقامی لوگوں نے شمولیت اختیار کی-موٹر بائیک کیٹگری کی ریس کے علاوہ نیزہ بازی دیگر ثقافتی رقص، میوزک پروگرامزجیسی تقریبات سے اس ایونٹ کی دلچسپی میں انتہائی اضافہ ہوا اور شائقین کولطف اندوزہونے کا موقع میسر آیا- اس شاندار ایونٹ کے اختتام پر مظفر گڑھ کے علاقے میں تقریب تقسیمِ انعامات ہوئی جس میں جیتنے والے ریسرز کو انعامات سے نوازا گیا
تھل کے اس ایونٹ کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سیکیورٹی فورسز نے بھرپورکردار ادا کیا- اسکے علاوہ ایونٹ کو کامیاب بنانےمیں ٹی ڈی سی پی (TDCP) اور ضلعی انتظامیہ کا کردار بھی خراج تحسین کامستحق ہے - تھل کی اس ریس سے نہ صرف ایک شاندار تقریب کا انعقاد دیکھنے میں نظر آیا بلکہ اہل علاقہ اور دور دراز سے آئے موٹر سپورٹس کے شائقین ریس سے خوب لطف اندوز ہوئے- مزید برآں! ا س طرح کے ایونٹس جہاں پاکستان کے صحرائی علاقوں کی مقامی ثقافت دنیا کو دیکھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں یہ مقامی لوگوں کے لیے ذریعہ معاش بھی ہوتے ہیں- مزید یہ کہ ان ایونٹس میں آنے والے بین الاقوامی ریسرز اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان میں آنے والے سیاحوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے
تھل آف روڈ ریلی میں حصہ لینے والے ریسرز کی پوزیشنز اور مقررہ وقت بالترتیب درج ذیل ہے
اے پری پیئرڈ کیٹگری
اے پری پیئرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن میر نادر خان مگسی نے حاصل کی اورتھل آف روڈ ریلی2022ء کے چئمپین ٹھہرے، انہوں نےاپنا مقررہ فاصلہ 02:10:14میں طےکیا، جبکہ دوسری پوزیشن آصف فضل چوہدری نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 02:12:35 میں مکمل کیا اور جعفر مگسی نے مقررہ فاصلہ 02:50:15 میں ٹریک مکمل کرتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کی
اے سٹاک کیٹگری
اے سٹاک کیٹگری کےنتائج بڑے دلچسپ رہے اور بڑا سخت مقابلہ دیکھنے کوملا- پہلی پوزیشن زوہیب اٹھانگل نے حاصل کی، انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:23:13 میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے میر نواز دشتی چارمنٹ لیٹ ہوئے- یوں انہوں نے یہ فاصلہ 02:27:00 میں مکمل کیا- تیسری پوزیشن علی مگسی نے حاصل کی جنہوں نے 02:27:39 میں ٹریک مکمل کیا
بی پری پیئرڈ کیٹگری
بی پری پیئرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن اسد خان شادی خیل نے حاصل کی- انہوں نے اپنا فاصلہ 02:24:59 میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن جیاند ہوتھ نے حاصل کی جنہوں نےمقررہ فاصلہ 02:26:58 میں طےکیا اور تیسری پوزیشن گوہر سانگی نے مقررہ فاصلہ 02:28:48 میں مکمل کر کے حاصل کی
بی سٹاک کیٹگری
بی سٹاک میں پہلی پوزیشن ٹیم سلطان کے صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز نےحاصل کی جنہوں نے مقررہ فاصلہ 02:26:10میں مکمل کیا- جبکہ دوسری پوزیشن بسم اللہ مگسی نے حاصل کی جنہوں نے ٹریک کو 02:28:51 میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن عمر یونس نے حاصل کی جن کا کل ٹائم 02:32:44 تھا
سی پری پیئرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن ظہیر حسین شاہ نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:27:43 میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن محمود مجید نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:36:08 تھا - تیسر ی پوزیشن حمل ہوتھ نے حاصل کی اورانہوں نے 02:39:26 میں ٹریک مکمل کیا
سی سٹاک کیٹگری
پہلی پوزیشن فلک شیر بلوچ نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:38:30 میں کیا جبکہ دوسری پوزیشن راشد عبداللہ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:40:13 میں مکمل کیا اورتیسری پوزیشن جہانزیب امرانی نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:43:25 تھا
ڈی پری پیئرڈ کیٹگری
پہلی پوزیشن ظفر بلوچ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک02:26:41میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن بیوراگ مزاری نے حاصل کی انہوں نے اپنا فاصلہ 02:28:37 میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن عمر اقبال کانجو نے حاصل کی ان کا ٹریک مکمل کرنے کا ٹائم 02:29:40 رہا
ڈی سٹاک کیٹگری
ڈی سٹاک کیٹگری میں پہلےنمبرپرآنےوالےجمیل احمدانی تھےجنہوں نے02:39:30 میں ٹریک مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن حسنین الحق نے حاصل کی اور ان کاٹائم02:46:57 تھا- تیسری پوزیشن اسامہ امیر نے حاصل کی انہوں نے 02:47:27 میں ٹریک مکمل کیا
وومن پری پیئرڈ کیٹگری
ریلی میں خواتین ریسرز نے بھی گاڑیاں دوڑا کر ریسنگ کے شائقین کے دل جیت لیے- پہلی پوزیشن تشنہ پٹیل نے حاصل کی ان کا ٹائم مقررہ فاصلہ طے کرنا کا01:27:13رہا جبکہ دوسری پوزیشن 22 سالہ ماہم شیرازقریشی نے حاصل کی اور انہوں نے 02:32:09 میں ٹریک مکمل کیا
وومن سٹاک کیٹگری
وومن سٹاک کیٹگری میں پہلی پوزیشن رباب سلطان نے حاصل کی اور اپنا مقررہ فاصلہ01:30:43 میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن پلوشہ حیات خان نے حاصل کی اور فاصلہ 01:38:43 میں مکمل کیا