فارمولاون، سیفٹی کی ترجیحات، نئےسیفٹی فیچرزاورضوابط میں تبدیلیاں
Blog Single

فارمولاون، سیفٹی کی ترجیحات، نئےسیفٹی فیچرزاورضوابط میں تبدیلیاں

مترجم:سید عزیزاللہ

ایکF1(فارمولاون ) ڈرائیور کاک پٹ میں اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پاس کافی سامان ہوتا ہےجیسے بائیو میٹرک سینسراوراسے محفوظ رکھنے کے لیے آگ سے بچانے والے اوورآلز جو تزئین و آرائش کےبغیرہوتے ہیں

جب فارمولاون ڈرائیور اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے، تو وہ مختلف قسم کے سامان سےگھیرا ہوتا ہے- جس میں سے زیادہ تر کو فارمولا ون کی گورننگ باڈی F.I.A کے مطالبہ اور ڈیزائن کے مقرر کردہ قواعد کےتحت تیار کیا جاتا ہے حتی کہ زیر جامہ بھی

فارمولا ون میں سیفٹی پہلی ترجیح ہوتی ہے جوکہ بہت سے قواعد کوDictateکرتی ہےخاص طور پر آگ سے تحفظ- اوورآلز، سکی ماسک (Balaclavas)، دستانے، موزے اور جوتے شعلہ مزاحم ہونے چاہئیں

"یقینا ڈرائیور ٹی شرٹس میں گاڑی چلانا چاہیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہے، " جیمز کلارکJames Clark)) جو کہ پوما کےہیڈ آف اسپورٹس مارکیٹنگ موٹرسپورٹ ہیں نے کہاجو مرسڈیز، ریڈ بل، فیراری اور الفا رومیو کو Nomex (آگ مزاحم مواد)سے بنے کپڑے فراہم کرتی ہے

اوورآلز کو گردن سے ٹخنوں تک لازمی ہونا چاہیے اور بازوں کی آسانی سے حرکت کےلیے کندھے کی پٹی ہونے چاہئیں- سب سےاہم وزن کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے

کلارک نے کہا: "جتنا ممکن ہو ہلکا پھلکاہو،"اگرچہ پرانے ضوابط کے تحت ہمارے پاس دو پرتوں والا سوٹ تھا، اور اب یہ ممکن نہیں ہے،" کیونکہ ضوابط بدل گئے ہیں، "لہذا 2022ء میں بھاری ہو گئے-"

ڈرائیورز کے پاس ہر تین روزہ گراں پری(Grand Prix) ویک اینڈ کے لیے کئی سوٹ دستیاب ہوتے ہیں- "لیوس ہملٹن جیسا کوئی شخص چاؤ گوانیوسے زیادہ سوٹ حاصل کرتا ہے- یہ ایک ذاتی ترجیح ہے،" کلارک نے کہا: سنگاپور جیسے مرطوب آب و ہوا میں ڈرائیورز کے پاس پانچ سوٹ ہوتے ہیں جس میں پریکٹس، کوالیفائنگ اور ریس کے لیےایک ایک 

سیزن کے اختتام پر، اوورآلز ٹیمزرکھتی ہیں- جن میں سے کچھ ، جیسے فیراری، خیرات کے لیے انہیں نیلام کرتے ہیں

تاہم، زیر جامہ ڈرائیور کی ترجیح نہیں ہوتے- عام زیر جامہ کو ضوابط کے خلاف سمجھاجاتاہے اور اسے آگ سے بچانے والے مواد (Nomex)سے بنا ہواہونا چاہیے

ریسنگ بوٹ کافی معیاری ہوتے ہیں، لیکن کاربن کاپتاوا(Insole) خاص طور پر سائز اور پیڈل کے احساس (Pedal feel) کے مطابقڈرائیور کےلیے ڈیزائن کیا جائے گا- ڈرائیور عموماً ہر دوسری دوڑ میں جوتے بدلتے ہیں، لیکن "کیمی رائیکونن (Kimi (Raikkonenنے پورے سال کے لیے ایک ہی جوڑا لیا- ہمیں اسے تبدیل کرنے پر مجبور کرنا پڑا- "کلارک نے کہا

دستانوں میں بھی بتدریج تبدیلی آئی ہے- حالیہ متعارف شدہ چیزوں میں ڈرائیور کی حالت پر نظر رکھنے کے لیے ہتھیلی کے اندر تین ملی میٹر یا ایک انچ سے بھی کم بائیو میٹرک ڈیوائس نصب کی جاتی ہے، جو خاص طور پر کسی حادثے میں مفید ہوتی ہے- انکی آگ کے خلاف مزاحمت میں بھی بہتری آئی ہے، جس کا سہرا 2020ء میں بحرین گراں پری میں رومین گروجین(Romain Grosjean) کے حادثے میں جلنے کی حد کو کم کرنے کی صورت میں سامنے آیاہے

سیفٹی سب سے اہم ہے- اس سال زیورات پہننے پر پابندی کے ضوابط کا سختی سے نفاذ کیا گیا ہے، جسے F.I.A. نے کہا کہ دیگر خطرات کے علاوہ جلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے- اس پر کچھ ڈرائیورز کی طرف سے ردعمل بھی آیا، خاص طور پر ان کی طرف سےجو شادی شدہ ہیں یا مذہبی وجوہات کی بنا پر ہار پہنتے ہیں

ہاس (Hass)کے کیون میگنوسن Kevin Magnussen))نے کہا:

"اگر کچھ برا ہونے والا تھا، تو میں اپنی شادی کی انگوٹھی پہننا چاہتا ہوں کیونکہ اسے اتارنا برا لگتا ہے،"

مرسڈیز( Mercedes)کے لیوس ہملٹن(Lewis Hamilton) نے زیورات پر ہونے والے غصے کو "تھوڑا سا احمقانہ" کہا تھا

اوریقیناً، ریس کا بڑا حصہ ہیلمٹ ہیں، جنہیںF.I.Aکےمعیارات میں اثرات(impact)اورتوانائی جذب(energy absorption)پر پورا اترناہوتا ہے

بیل ہیلمٹ(کمپنی)، جو 20 فارمولاون ڈرائیورز میں سے 12 کو ہیلمٹ فراہم کرتی ہے، انہیں ہر ویک اینڈ ریس کے لیے تین ہیلمٹ فراہم کرتی ہے- ایک سیزن میں، ڈرائیور زیادہ سے زیادہ 25 استعمال کر سکتے ہیں- ہیلمٹ کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن "ہر چیز کو ممکنہ حد تک جتنا ہو ہلکا ہونا چاہیے، اس لیے اگر پتھر چپ (Stone Chip)ہے، تو ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے اور وزن میں شامل کریں گے- اسلئے ایک نیا ہیلمٹ استعمال کر لیا جاتا ہے"بیل کی پیرنٹ کمپنی ریسنگ فورس کے چیف ایگزیکٹو سٹیفن کوہن(Stephane Cohen) نے کہا

اور مجموعی طور پر، استعمال شدہ ہیلمٹ بعض اوقات خیراتی کام کے لیے نیلام کیے جاتے ہیں- اس سال آسٹرین گراں پری میں ریڈ بل کے میکس ورسٹاپنMax Verstappen) ( کا پہنا ہوا ایک ہیلمٹ دیگر اشیاء کے ساتھ 250,000 یورو یا تقریباً 243,000 ڈالر میں نیلام ہوا

ایک بنیادی کاربن فائبر فارمولاون ہیلمٹ کی قیمت5,000 ڈالرہوسکتی ہے، لیکن فارمولا 1 ڈرائیورز کے لیے بیل ہر ایک سر کے مطابق ہیلمٹ سائز اسکین کرتا ہے، یعنی یہقیمت15,000ڈالر تک پہنچ سکتی ہے

بیل کو وزبیلٹی کو لازمی مدنظر رکھنا چاہیے- فارمولاون ریس دن، رات اور آدھی رات کے وقت منعقد کی جاتی ہیں، جبکہ موسمی حالات مختلف ہوتے ہیں- اس کا مطلب کہ مختلف حالات کے لیے مختلف ویزر(Visors) ہوتے ہیں، جنہیں دورانِ ریس affixed and removed کیا جا سکتا ہے

"ایک ابر آلود آسمان کے نیچے جزوی طور پر گیلے ریس ٹریک پر گاڑی چلانے کا تصور کریں، پھر خشک لکیر،" جہاں ٹریک سوکھتے ہی قدرے مختلف نظر آئے گا، "آپکو منظرصاف نظرآنے لگتا ہے- ریسنگ ڈرائیور کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ واضح طور پر دیکھے کہ بہترین لائنیں کہاں ہیں اور ٹریک کیسے تبدیل ہو رہا ہے- "کوہن نے کہا- یہ ایک ذاتی انتخاب ہے؛ کچھ ہلکے کو ترجیح دیں گے، کچھ گہرے ویزر(Visors) کو ترجیح دیں گے"

2.5 گرام وزنی کیمرہ ہیلمٹ کے اندر حفاظتی پیڈنگ سے منسلک کیاجاتاہے- یہ آنکھوں کی سطح پرنصب ہوتا ہے اور ڈرائیور کے نقطہ نظر سے ویڈیوشوٹ کرتا ہے

کوہن نے کہا کہ "مقصد ناظرین کو بالکل وہی دکھانا تھا جو ریسر اپنے ہیلمٹ کے ویزر سے دیکھتا ہے، " مثال کے طور پر، کوہن نے کہا: "ویزر پر تھوڑا سا تیل آتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دیکھنے والا اسے دیکھے اور محسوس کرے"

ہینس (Head and Neck Support System)، ہیلمٹ سے منسلک ایک آلہ جو ڈرائیور کی گردن کے گرد فٹ ہوتا ہے، 2003ء سے درکار(required) ہے- یہ ڈرائیور کے سر کو حادثات میں آگے جانے سے روکتا ہے، جس سے سر کی چوٹوں کا خطرہ کم ہوتا ہے

جب ڈیزائن کی بات آتی ہے تو ڈرائیورز کو اپنے ہیلمٹ کی شکل میں ترمیم کرنے کی اجازت ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ جو پینٹ استعمال کرتے ہیں اسکا F.I.A کے سٹینڈرڈ سے مطابقت ضروری ہے- کچھ ہیلمٹ لیوریز(liveries)، جیسے ایرٹن سینا کا پیلا یا مائیکل شوماکر کا سرخ، ان ڈرائیور کے ساتھ جوڑے ہوتے ہیں

میک لارن کے لینڈو نورس( Lando Norris )نے کہا

 "یہ وہ واحد چیز ہے جو ڈرائیور کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے، اظہار خیال کرنے اور اس کے ساتھ لطف اندوز ہونے کا موقع دیتا ہے-" انہوں نے یاد کیا کہ ایک ڈیزائن "جاپان میں 2019 میں ہاتھ سے پینٹ کیا گیا تھا" ان کے پسندیدہ میں سے تھا

فیراری کے کارلوس سینز ((Carlos Sainzنے کہا کہ مخصوص تخلیقات "ڈرائیور کی شناخت کا حصہ ہیں "

ایسٹن مارٹن کے سبسٹین ویٹلSebastian Vettel) (نے اس سال یوکرین کی حمایت میں اسکے پرچم کے رنگوں کو اپنایا

نوٹ: مذکورہ مضمون 20اکتوبر 2022ء کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے آرٹیکل کاچندترامیم کے ساتھ ترجمہ ہے جس کا حوالہ درج ذیل ہے-

https://www.nytimes.com/2022/10/20/sports/autoracing/f1-driver-gear-race.html

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ