سپورٹس ایجوکیشن اور پاکستان میں اسکی ضرورت و اہمیت
کوئی بھی قوم اپنے معاشرے میں صحت مند و توانا افراد کی موجودگی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی- میڈیکل سائنس کی تحقیق بھی یہ بتاتی ہے کہ صرف صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کے حامل ہوتے ہیں- کھیل(Sports) انسانی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بہترین اور قیمتی اثاثہ ہیں- یہ انسان کو بہت سی طبی، جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں سے دور رکھتے ہیں، مشہور مقولہ ہے جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں وہاں ہسپتال ویران ہوتے ہیں- ا سی طرح کھیل پوری دنیا میں نہ صرف انسانی سرمائےHuman Capital)) کو تقویت دیتے ہیں بلکہ امن و حدت، ترقی و خوشحالی، علاقائی روابط وہم آہنگی، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کے علاوہ روز مرہ کے تمام شعبہ جات میں بہتری کا مؤثر ذریعہ ہیں- مزید یہ کہ کھیل اور تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے
تمام اسپورٹس ماہرین کا ماننا ہے کہ کھیل جہاں طلبہ میں تعلیمی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دے کر سیکھنے کے نتائج بہتربنانے میں معاون ہیں وہیں طلبہ میں مائنڈ فل نیس، فوکس اور توجہ کوبھی بڑھاتے ہیں- اسکے برعکس کھیلوں کے مواقع کی عدم دستیابی سے طلباء میں تعلیمی اور سماجی دباوء جنم لیتا ہے اور وہ منشیات کی لت، جرائم اور دیگر سماجی و اخلاقی برائیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سےممالک میں صحت مندافراد کی افزائش اور ان کی جسمانی وذہنی تربیت کا ایک طریقہ اکیڈیمک ایجوکیشن کے ساتھ فزیکل ایجوکیشن( جسمانی تعلیم ) کو تعلیمی نظام میں لازمی حصے کے طور پر شامل کرنا ہے- سپورٹس ایجوکیشن فزیکل ایجوکیشن کا ہی حصہ ہے -اس میں جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے جس کا مقصد افراد کی جسمانی و ذہنی مہارتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ افراد کی ذہنی و فکری و سماجی نشوونما، قائدانہ صلاحیتوں ،نظم و نسق اور احساس ِ ذمہ داری کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہے
UNESCO کی رپورٹ2013ء کے مطابق فزیکل اور سپورٹس ایجوکیشن دنیا کےتقریباً 97 فیصد ممالک میں لازمی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور دنیا بھر کے سکولوں میں اس کی بے پناہ اہمیت ہے- ان ممالک میں کھیل اور تعلیم کےتعلق کولازم و ملزوم سمجھاجاتا ہےاور سپورٹس ایجوکیشن کےطلبہ میں فروغ کیلئے تعلیمی اداروں میں ہی مختلف طرح کے کھیلوں کا انعقاد کروایاجاتا ہے تاکہ طلبہ کی جسمانی نشو ونمااور ذہنی و عملی قابلیت کیلئے کھیل کوایک تعلیمی آلہ کے طور پر استعمال کیا جائے- مزید یہ ممالک کھیلوں میں طلبہ کیلئے، جدید سپورٹس سیلیبس، ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز اور میڈیکل سائنسز کو باقاعدہ فروغ دیتے ہیں
بدقسمتی سے پاکستان میں سپورٹس ایجوکیشن کا تناسب ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے- مثلاً اس وقت امریکہ کی تقریباً 61 یونیورسٹیز ڈاکٹریٹ لیول سپورٹس اور فزیکل ایجوکیشن دیتی ہیں جبکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں (پبلک اور پرائیویٹ) میں سے چند ایک یونیورسٹیز اور کالجز سپورٹس سائنسز اور فزیکل ایجوکیشن کیلئے بیچلر اور ماسٹر لیول کے پروگرام آفر کرتے ہیں اور صرف 3یونیورسٹیز اس میں ڈاکٹریٹ کرواتی ہیں- اس کے علاوہ سکولوں میں سپورٹس ایجوکیشن نایاب ہے- یاد رہے کہ پاکستان میں سپورٹس ایجوکیشن کے پروان نہ چڑھنے کے بہت سےمعاشی، انتظامی اور تعلیمی فیکٹر ز ہیں جن پرکبھی توجہ نہیں دی گئی- 2017ء کے ایک تحقیقی سروے میں لوگوں نے پاکستان میں فزیکل ایجوکیشن کے معیار، نصاب، آگاہی، مواقع و سہولیات اور اس کیلئے مختص حکومتی فنڈز پر واضح عدم اطمینان اور غیر یقینی صورتحال کا اظہار کیا تھا- پاکستان میں سپورٹس سائنسز اور فزیکل ایجوکیشن کی اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شعبہ حکومت اور نظام ِ تعلیم کی عدم توجہی کا شکا رہے اور پاکستان میں اس کیلئے کوئی بنیادی ڈھانچہ یا فریم ورک موجود نہیں ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان، کھیلوں سے متعلقہ اتھارٹیز اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کو وہ تعلیمی نظام میں نوجوان نسل کیلئے دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ فزیکل ایجوکیشن اور سپورٹس کو بھی نصاب کا لازمی حصہ بنائےاور اس کیلئے باقاعدہ فریم ورک تشکیل دے- بالخصوص سکولز اور کالجز میں سپورٹس ایجوکیشن اور کھیلوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے- اس کے علاوہ تمام صوبوں میں ضلع اور تحصیل لیول پر مختلف سپورٹس کے اداروں کا قیام عمل میں لایاجاسکتا ہے جو سپورٹس ایجوکیشن پر باقاعدہ کورسز کروائیں اور سپورٹس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اسکی تعلیم اور جدید کھیلوں سے آگاہی دیں- الغرض! سپورٹس کے میدان میں باصلاحیت اور پیشہ ورانہ و ماہر کھلاڑی پیدا کرنے کیلئے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سپورٹس ایجوکیشن ناگزیر ہے