موٹر سپورٹس کے چند پاکستانی ستاروں کی داستان
Blog Single

موٹر سپورٹس کے چند پاکستانی ستاروں کی داستان

پاکستان میں باقاعدہ ریسنگ ٹریک نہ ہونےسے ٹیلنٹ کے پھلنے پھولنےمیں درپیش مسائل اور بیرون ملک میں ٹریننگ کارجحان

مترجم: رحمت اللہ

یہ سوچنا ناقابل فہم ہےکہ ایک ایسا ملک بھی موٹر سپورٹس کے کھلاڑی تیار کر سکتا ہےجس کے پاس کوئی پیشہ ورانہ ریسنگ ٹریک نہیں ، ایسے لوگ جن کے پاس حفاظت کا بہت کم علم ہے اور نہ ہی کوئی حکومتی تعاون- تاہم پاکستان ایک ایسا ملک جو اپنے تضادات کا ایک سلسلہ نہیں تو کچھ بھی نہیں ،ان تمام مشکلات کے باوجود یہ کرنے میں کافی دفعہ کامیاب ہوا ہے 

پاکستان نے اگرچہ اپنا نام کرکٹ میں بنایا ہے لیکن خاص طور پر موٹر سپورٹس میں جدید رجحانات کے کھلاڑی بنانے میں اپنے ہمسایہ ممالک سے کافی پیچھے رہ گیا ہے

پھر بھی موٹرسپورٹس میں اس رجعت پسند پس منظر کے باوجوداس زمین نے چند بہترین موٹر بائیک،ڈرفٹ، کارٹ،آف روڈ اور موٹو کراس کے کھلاڑی پیدا کئے ہیں- بدقسمتی سے اس ملک کا کردار ان کھلاڑیوں کو بنانے میں لفظی رہا ہے یعنی صرف پیدائشی جگہ دینے تک جبکہ ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو بڑھا کر انہیں پیشہ ورانہ کھلاڑی بنانا کسی اور ملک کا کام رہا ہے

موٹرسپورٹس میں متعدد قسم کے مقابلہ جاتی کھیلوں کےایونٹس شامل ہوتے ہیں جن میں بنیادی طور پر motorised گاڑیاں شامل ہوتی ہیں، چاہے ریسنگ کے لیے ہوں یا غیر ریسنگ مقابلے کے لیے- پاکستان ایک non-motorsportsملک ہے لیکن موٹرسپورٹس کے کھیلوں میں سے کچھ کھیلوں میں اب بھی بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن اس ہنر کو چمکانے اور پھیلانے کے لیے با ضابطہ پلیٹ فارم موجود نہیں ہے- اس لئے! ٹیلنٹ کا یہ شوق انھیں سڑکوں پر لے جاتا ہے اور اس عمل سے اپنی جانوں کے ساتھ دوسرے ڈرائیورز کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں

کچھ موٹر سپورٹس کھلاڑیوں کو دوسرے ممالک میں پیشہ ورانہ ریسر کے طور پر جانے سے پہلےاس thrillingسپورٹس میں indulgeہونے کےلئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے تا کہ وہ اپنے ریسنگ سوٹ پر فخر سے اپنے آبائی ملک کا جھنڈا آویزاں کر سکیں -اس لیے ان ریسرز کا خواب ہے کہ وہ اپنے ملک پاکستان میں مستقبل میں اس کھیل کا پلیٹ فارم بنائیں تا کہ دوسرے کھلاڑی بھی اس میں حصہ لیں سکیں 

پاکستان میں موٹر سپورٹس کی بات کی جائے تو آپ کو بہت سے ایسے نام ملیں گے جو بائیک، ڈرفٹ، آف روڈ ریلی ،ڈرٹ بائیک اور کارٹنگ سپورٹس میں مہارت رکھتے ہیں- جن میں بہت سے اپنے اختیار میں محدود سہولیات کے باوجود ان کھیلوں میں نام کما چکے ہیں

دو پہیوں پر ہنر(بائیک) :

پاکستان میں بہت سے سپورٹس بائیک ریسرزہر قسم کی مہنگی اور منفرد بائیک کے ساتھ موجود ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ سب سڑکوں پر باقاعدہ ٹریفک کے ساتھ چلاتے ہیں

اتوار کے دن، تفریحی بائیکر کافی تعداد میںدوسرے ڈرائیورز کے ساتھ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے کم آبادی والے علاقوں میں سڑکوں پر گھومتے ہیں- ان بائیکرز کے لیے کوئی پروفیشنل ریسنگ ٹریک نہیں ہے- جو نہ صرف ریسنگ کے دوران حادثات میں کافی تعداد میں اموات کا سبب بنتا ہے- اس کے علاوہ ریسرز کو اپنی حفاظت کے لیے ہیلمٹ پہننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جو کہ حفاظتی طریقہ کار کے بارے میں معلومات کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جسے اس صورت میں سکھایا جاسکتا ہے جب ریسنگ ٹریک ہوں جن میں معیاری آپریٹنگ سسٹم میں حفاظتی اقدامات بھی شامل ہوں

جب ہم پاکستان میں سپورٹس بائیکرز کی بات کرتے ہیں تو صرف عثمان غنی کا نام آتا ہے جو پیشہ ور ریسر ہے جن کے پاس Federation international de moto cyclisme (FIM)کا لائسنس ہے جو ایک کوالیفائیڈ کوچ کے لیے ہوتا ہے 

غنی کی بذات خود ایک دلچسپ کہانی ہے لیکن پاکستانی ریسرز کے لیے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس ٹیلنٹ ہے جو کہ دوسری قوموں کے ریسرز سے کہیں زیادہ ہے- ان کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے کھیل کے لیے درکار پیشہ ورانہ ریسنگ ٹریکس اور مقابلوں کی ضرورت ہے جو یہاں موجود نہیں ہیں

27 سالہ بائیکس سپورٹس کے شوق کے ساتھ پاکستان میں ایک خاندان میں پلے بڑھے ریسر نے سڑکوں پر بائیکس ریسنگ شروع کی یہاں تک کہ ریس کے دوران ایک سڑک حادثے میں اپنے عزیز دوست کو کھو بیٹھا

غنی نے کہا:

 "میں نے سڑکوں پر بائیک چلانے کا بدترین نتیجہ دیکھا ہے- لیکن بدقسمتی سے، پاکستان میں ریسرز کے پاس یہی واحد انتخاب ہے"

اس حادثے کے نتیجے میں، بائیک ریسنگ کے اپنے شوق کو آگے بڑھانے کے لیے، غنی دبئی چلے گئے- جہاں اپنے لیے درست ریسنگ سرکٹ تلاش کیا- "یہی وجہ ہے کہ آج میں پاکستان کا پہلا اور واحد پروفیشنل بائیک ریسر ہوں،" غنی نےکہا: جو اپنے ریسنگ کیریئر میں اب تک اپنے جسم کی 22 سے زائد ہڈیاں توڑ چکے ہیں

دبئی میں اپنے تین سالہ ریسنگ کیریئر کے دوران، اس نے متعدد پوڈیمز اپنے نام کئے اور اب وہ دنیا کی تمام بڑی ریسز کوٹارگٹ کئے ہوئے ہیں- انہوں نے کہا، "میں اس مقام پر اس لیے پہنچا کیونکہ میں نے ایک دوست کھو دیا اور میں دبئی چلا گیا- میں نہیں چاہتا کہ دوسرے بھی اسی طرح کی زندگی گزاریں- میں حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں پہلی بار ریسنگ ٹریک بنانے میں مدد کرنا چاہتا ہوں-"

"ایک ٹریک زیادہ محفوظ ہوتا ہے اور اگر میں حفاظتی سامان کے بغیر سڑکوں پر سوار ہوتا تو نہ صرف میری ہڈیاں ٹوٹ جاتیں بلکہ پہلی بار کریش ہونے پر میری موت بھی ہوجاتی"

شوروغوغا کا تھرل (ڈرفٹنگ) :

تقریباً ہر ایک نے ایک دفعہ ٹی وی سکرینوں پر ڈرفٹ ریس دیکھی ہوتی ہے، لیکن ،ایک حقیقی تجربہ ایک اپنی دنیا رکھتا ہے- جس میں سامعین کے سامنے کار کی مخصوص آواز اور سلائیڈنگ کرنےسےٹائروں سےدھواں نکال رہا ہوتا ہے- جبکہ ڈرفٹنگ، کار کوchase کرنے اور 'فاسٹ اینڈ فیورس' فلم سے بہت ہی زیادہ ہے -یہ ایک ایسا کھیل ہے جہاں سامعین تمام ٹریک کو اپنے سامنےدیکھ رہے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ engaging موٹر سپورٹس ہے 

پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ڈرائیورز سڑکوں پر ڈرفٹنگ کر رہے ہوتے ہیں جو بعد میں کسی خوفناک حادثے یا کسی اور واقعے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے -ان میں ایک بابر ضیاء ہیں جو پاکستان کے پہلے پیشہ ورانہ ڈرفٹ ریسر کے طور پہ Federation international de automobile کا لائسنس حاصل کر چکے ہیں -یہ بھی ایک ایسا حادثہ تھا جو کہ غنی کے دوست کے ساتھ ہوا جس نے انہیں بین الاقوامی ریس میں جانے پر مجبور کیا 

ضیا ء جنھوں نے نو عمری میں ہی پاکستان کے روڈز پرڈریگ ریسز کا آغاز کیا،ایک حادثے کا شکار ہوا جس میں وہ جسمانی نقصان سے بچنے میں کافی کامیاب رہا ہے لیکن ان کا پیچھا کیا گیا جس میں گاڑی  کوتحویل میں لےلیاگیا- بابر کا ماننا ہے کہ ڈریگ ریس میں 20 فیصد ڈرائیور کی مہارت اور 80 فیصد کار کا کام ہوتا ہے -وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس حادثے میں کار ہی ذمہ دار تھی

ضیا ءا نتہائی بائیں طرف کار چلا رہا تھا جہاں سڑک پر گردوغبار موجود تھا اور اس لمحہ ایک پہیہ traction نہیں حاصل کررہا تھا-کار جو کہ RX7 تھی اس میں محدودslip differential LSD نصب تھی جو یکساں طور پر طاقت کو پہیوں میں تقسیم نہیں کر سکی جس کے نتیجے میں یہ کئی بار پلٹ گئی 

انہوں نے کہناتھا کہ اس میں ٹریک اور کار سسٹم کی غلطی تھی، لیکن اس کے لیے مجھے ریسنگ کمیونٹی نے مورد الزام ٹھہرایا جس کمیونٹی میں میں بڑا ہوا- "انہوں نے کہا کہ میں کار کی پاورکو نہیں سنبھال سکا، جو درست نہیں تھا"

اس حادثے نے بالآخر اسے ڈریگ ریسنگ چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور ضیا ءاپنی انڈرگریجویٹ ڈگری کے لیے ملائیشیا چلا گیا، جہاں اس کا دوست اسے پیشہ ورانہ ڈرفٹ ریس میں لے گیا اور آہستہ آہستہ وہ واپس موٹرسپورٹس میں چلاگیا

ضیاء نے کہا کہ "ریسنگ چھوڑنے کی وجہ باقاعدہ ٹریک نہ ہونا تھا اور نہ ہی اس کھیل یا کھلاڑی کا کوئی احترام تھا- پاکستان میں  کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو پیشہ ورانہ ریسز کا انعقاد کر رہا ہو،"

"ملائیشیا وہ ملک ہے جس نے مجھ میں ایک ریسر کو نکالا اور مجھے دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ پر واپس لانے کے لیےمددکی-"اسلام آباد کے رہائشی (بابرضیاء)نے کہا

ضیاء کواپنا لائسنس حاصل کرنے میں ایک سال اور اس کھیل میں کمائی شروع کرنے میں پورے پانچ سال لگے جس سے اسے پیار تھا- انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کمانے میں جتنا وقت لگا وہ اس لیے تھا کہ میرا تعلق پاکستان سے تھا، جہاں موٹرسپورٹس کے لیے ایک بھی سپانسر(کمپنی ) نہیں ہے، ملائیشین کمپنیاں ملائیشین ریسرز کو ترجیح دیتی ہیں- میرے اپنے ملک سے کوئی سپانسرشپ نہیں تھی

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی مشتہرین کو اپنی سوچ اور پیسہ خرچ کرنے کا انداز بدلنا ہوگا- ان کا کہناتھا، "میں نے اپنے قیمتی سال بیرون ملک ریس میں گزارے ہیں لیکن ہر کوئی میری طرح خوش قسمت نہیں ہے، جس کے پاس اپنے خاندان کی مالی مدد ہے اور وہ اپنے موٹرسپورٹس کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک جا سکتے ہیں"- "مقامی ریسرز کے لیے مواقع پیدا کریں لیکن پھر وہی ایک مناسب ٹریک ہماری پہلی ضرورت ہے- ضیاء اب پاکستان میں ڈرفٹنگ سیریز لانے کے ارادے سےدوبارہ واپس پاکستان آ گئے ہیں

موٹرسپورٹس میں کامیابی: کارٹنگ

کارٹنگ نہ صرف اپنے طور پر ایک دلچسپ کھیل ہے بلکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس قسم کی موٹرسپورٹس سے تعلق رکھتے ہیں، اگر آپ کا آغاز کارٹنگ سے ہے، توآگے ترقی بہت زیادہ آسان ہے- یہ مستقبل کے کسی بھی فارمولا ون ستارے کے لیے اپنا ہنر سیکھنے کا متبادل اسپرنگ بورڈ بھی ہے

کچھ بہت ہی مشہور اور کامیاب فارمولا ون ڈرائیورز جیسے کہ سات بار فارمولا ون ورلڈ چیمپئن مائیکل شوماکر( Michael Schumacher )، تین بار فارمولا ون ورلڈ چیمپئن لیوس ہیملٹن( Lewis Hamilton )نے کارٹنگ سے شروعات کی- سیبسٹین ویٹل( Sebestian Vettel )، جنہوں نے 11 سال کی عمر سے متعدد ریسیں جیتی ہیں، آسٹریلوی فارمولا ون ڈرائیور مارک ویبر (Mark (Webber ، جنہوں نے چار سال کی عمر میں کارٹنگ کا آغاز کیا اور فارمولا ون اور گراں پری( Grand Prix)میں آنے سے پہلے کئی کارٹنگ چیمپئن شپ جیتیں، کیمی رائکونن (Kimi Raikkonen)نے فارمولا ون ریسنگ میں آنے سے پہلے 10 سال تک کارٹنگ کی اور فارمولا ون کی تاریخ میں سب سے کم عمر پوائنٹس اسکور کرنے والے روسی ڈینیل کیویت( Daniil Kvyat )نے 10 سال کی عمر میں اطالوی ٹورو روسو F1 کےساتھ شامل ہونےسے پہلے کارٹ ریسنگ کی

پاکستان میں 2F2F کارٹنگ کلب کے اسلام آباد اور لاہور میں متعدد منظور شدہ کارٹنگ ٹریکس ہیں جو کار ریسنگ سے محبت کرنے والوں کو کارٹنگ کے لیے محفوظ ماحول اور حفاظتی سامان فراہم کرتے ہیں- ایک اورٹریک حال ہی میں ایئر مین تفریحی پارک میں بنایا گیا ہے جس کے ڈرفٹنگ کےلئےکھلنے کی امید ہے- "ابھی بھی پاکستان میں کارٹنگ کا لیول بہت نیچے ہے" احمد یستور مرزا کہتے ہیں- جو 2011 میں پہلے پاکستانی میڈرڈ، اسپین میں فارمولا BMW ریس میں پوڈیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سوزوکی RFR F1000 کے ساتھ تین دیگر فارمولا گلف 1000 ریسز میں بھی حصہ لے چکے ہیں- یستور، ان اعلیٰ کارٹ ریسرز میں سے ایک ہیں جنہوں نے بین الاقوامی ریسز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے- تاہم، اس کی کہانی غنی اور ضیاء کی کہانی سے مختلف نہیں ہے؛ یستور پاکستان میں رہتا ہے، لیکن اسے بھی بیرون ملک انگلینڈ، پریکٹس اور ریس کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے

یستور نے انگلینڈ میں بہت کم عمری میں ہی قسمت سے کارٹنگ شروع کر دی تھی، جہاں وہ چھٹیوں پر اپنے بھائی سے ملنے گیا تھا- اسے جلد ہی اس کا شوق ہو گیا اور پاکستان واپس آ کر اپنے آبائی شہر اسلام آباد میں کارٹنگ کلب جوائن کر لیا "

انہوں نے کہا کہ جب ایک دفعہ میں ایک ٹریک  پر وہاں گیا اور محسوس کیا کہ ٹریک اور کارٹس کی سطح انگلینڈ جیسی کہیں بھی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ مجھے پریکٹس کے لیے انگلینڈ جانا پڑا اور پھر ایک دن وہاں ہی پیشہ ورانہ طور پر ریس لگانا شروع کر دی، " اس نے مزید کہا

 انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ پاکستان میں مقامی سطح پر کوئی مقابلہ نہیں ہوتا اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر کوئی نمائندگی ہوتی ہے، اس لیے انہیں اپنے شوق کے حصول میں بیرون ملک جانا پڑا- انہوں نے کہا کہ "مزید ٹریک بنائے جا رہے ہیں، لیکن اگر ہم پروفیشنل ریسر چاہتے ہیں تو ہمیں معیار لانا ہو گا، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تمام پروفیشنل ریسرز کارٹنگ سے بنتے ہیں"

آف روڈ کا بڑھتا رجحان:

آف روڈ موٹرسپورٹس کی سب سے مشہور قسم ہے- مقامی اور بین الاقوامی سطح پر زبردست شرکت کے ساتھ ہر سال کئی آف روڈ ریسز منعقد ہوتی ہیں- چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی، گوادر آف روڈ ریلی، جھل مگسی آف روڈ ڈیزرٹ چیلنج اور تھل جیپ ریلی، کچھ سرفہرست ریسیں ہیں، جبکہ مزیدکچھ  اپنی افتتاحی ریس جلد منعقد کرنے کے لیے قطار میں ہیں

اس کھیل میں بڑی کاریں، جیپیں اور ایس یو وی شامل ہیں- ہم دنیا کی سب سے مہنگی SUVs کو یہاں ریس کے لیے آتے ہوئے دیکھتے ہیں، بشمول 2020ء میں نمایاں ہونے والے Ford Raptor، جس نے کئی ریسیں جیتی ہیں- ان ٹریکس پر ریس کے لیے پورے پاکستان اور دیگر ممالک سے ریسرز بھی پاکستان آتے ہیں

آف روڈ ریلیز کے لیے، چیزیں بہت مختلف ہوتی ہیں: نجی سرمایہ کار اور زمیندار ان ریلیزکا اہتمام کرتے ہیں اور اب حکومت نے بھی گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ مل کر پچھلے پانچ سالوں سے تقریبات کا انعقاد شروع کر دیا ہے اس کے علاوہ بھی مختلف جگہ پر حکومت آ ف روڈ ریلیز کا انعقاد کروا رہی ہے جن میں تھل ریلی اور چولستان ریلی شامل ہیں- یہ واحد کھیل ہے جو پاکستان میں international participation کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے- آف روڈ ریسر صاحبزادہ فرحان نے کہا، "ہم گزشتہ 15 برس سے ان ریسز میں حصہ لے رہے ہیں، اور ہر سال ہم زیادہ سے زیادہ شرکاء کو اپنی گاڑیوں کے ساتھ سائن اپ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،"

آف روڈ ریسر صاحبزادہ فرحان نے کہا

"اس کے بارے میں اچھی بات یہ ہے کہ اس کھیل کو ٹریک بنانے کے معاملے میں زیادہ کوششوں کی ضرورت نہیں ہے- آپ کو صرف صحراؤں کی طرف جانا ہے اور ایک دلچسپ ٹریک بنانا ہے- ہر سال ٹریک میں توسیع ہوتی ہے اور 2020ء میں، ہم نے 107 کلومیٹر آف روڈ ریس ٹریک پر دوڑ لگائی" فرحان نے کہا

اس کھیل میں نہ صرف مرد کھلتے ہیں بلکہ کئی خواتین ریسرز ان ریسوں میں حصہ لیتی ہیں- پاکستان کی پہلی خاتون آف روڈ ریسر تشنہ پٹیل نے کہا، "میں نے 2007ء میں ریسنگ کا آغاز کیا، اور اس کے بعد سے میں شروع کئےہوئےہوں- میں نے بہت سی ریسیں جیتی ہیں اور مردوں سے بھی مقابلہ کیا اور انہیں ٹف ٹائم دیاہے"- اس کھیل میں اپنے شوہر رونی پٹیل کی پیروی کرتے ہوئے آئی ہوں

تشنہ پٹیل کا کہنا تھا، "یہ ذہنیت ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اگر مرد آ رہے ہیں، تو انہیں اپنے خاندانوں کو ساتھ لانا چاہیےتاکہ انکی دلچسپی بڑھے- اس طرح میں نے اپنی دلچسپی کو فروغ دیا- ان(خواتین) کے لیے سب کچھ دستیاب ہے، انہیں صرف اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا اور یہاں آناہے

ان ریسز نے ریسرز کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور ان ویران علاقوں کے مقامی کاروبار کو بھی مالی طور پر فائدہ ہوتا ہے جب لوگ ریس کے دوران یہاں آکر کیمپ لگاتے ہیں

ڈرٹ بائیک ریسنگ(موٹو کراس):

آف روڈ ریلیوں کی طرح، ڈرٹ بائیک ریس بھی موٹو کراس ٹریک پر کی جاتی ہے لیکن اسے سرکٹ کی شکل میں بنایا جاتا ہے- اگرچہ پاکستان میں بہت زیادہ آف روڈ بائیکرز نہیں ہیں، لیکن یہ کافی خوش قسمت ہیں کہ لاہور سے 19 کلومیٹر مغرب میں واقع قصبہ کالا شاہ کاکو میں ایک ٹریک موجود ہے- پاکستان کا پہلا آف روڈ ٹریک حکومت نے نہیں بلکہ نجی طور پر معین خان نامی شخص نے بنایا ہے

سان فرانسسکو میں مقیم معین خان کو بائیک کا اتنا شوق ہے کہ وہ سان فرانسسکو سے موٹر سائیکل پر پاکستان آئے اوریہاں اپنا گھر بنا لیا- اسپورٹس بائیک سے ڈرٹ بائیک ریسر معین کو سان فرانسسکو میں ڈرٹ بائیکنگ سے متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا

"جس لمحے میں موٹوکراس ٹریک پر پہنچا، میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا- شروع میں، مجھے موٹر سائیکل چلانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایک بار جب میں نے ا سےسیکھ لیاتو پھر سارا دن میں، میری موٹر سائیکل اور ٹریک ہوتاتھا"

انہوں نے مزید کہا کہ اسپورٹس بائیک سے موٹو کراس کاlearning curve بہت زیادہ تھا- اس وقت اس نے روڈپر سواری روک دی اور ٹریک پر شروع کر دی

موٹو کراس کی طرف اپنی کشش کے بارے میں بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک بار آزمانے کی بات ہے- انہوں نے کہا، "یہ دو پہیوں کا عروج ہے- یہ وہ جگہ ہے جہاں کوئی واقعی اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے"- انہوں نے کہا، "باقی آف روڈ ریسنگ ہو رہی ہیں لیکن بائیک ریسنگ کے لیے، یہ پہلا ٹریک ہے جہاں کوئی بھی آ کر مختلف مہارتیں سیکھ سکتا ہے"- پاکستان میں موٹوکراس کو ترقی دینےکا شوق صرف معین کو ہی نہیں بلکہ ان کی اہلیہ بھی معین جتنی ہی لگن رکھتی ہیں- ٹریک کو2019ء میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا، یہ ٹریک خواتین کو بھی آنے اور دو پہیوں کا تجربہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے

تیزرفتار ٹریک(پیشہ ورانہ ریسنگ ٹریک):

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ کون سا موٹرسپورٹس ہے یا کون سا کھلاڑی، سب کو ایک ہی ضرورت ہوتی ہےاوروہ ہے پیشہ ورانہ ریسنگ ٹریک- ان ٹریکس کے بغیر، ریسرز سڑکوں پرریس کرتے رہیں گے اور اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان بھی خطرے میں ڈالیں گے

غنی حال ہی میں پاکستان میں پہلا ریسنگ ٹریک بنانے کی کوشش میں خیبر پختونخواہ کی حکومت سے بات کرنے کے لیے پاکستان میں تھے- "حکومت کی دلچسپی لینابہت اچھا تھا لیکن ٹریک کی layoutمیں خامیاں تھیں- میں وہاں ان سے ملنے اور اس پر بات کرنے گیا لیکن بدقسمتی سے وہ میٹنگ میں ہی پھنس گئے-میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہےاور امید ہے کہ جلد ہی ایک اچھا ٹریک دیکھنے کو ملے گا"

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بلوچستان حکومت کے ساتھ وہاں بھی ابتدائی طور پر کم لاگت لیکن آمدنی پیدا کرنے والا ریسنگ ٹریک بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں

ضیاء اس تصور سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریسنگ ٹریک سڑکوں پر مقابلہ کرنے سے کہیں زیادہ محفوظ ہے- "تمام ریسرز کو ٹریک پر لایا جانا چاہیے اس سے نہ صرف وہ محفوظ رہیں گے بلکہ انہیں ریسنگ کے مقابلہ کا حقیقی ذائقہ ملے گا،" انہوں نے کہا

معین نے مزید کہا کہ اس کے بہت سے دوست ہیں جو سڑکوں پر دوڑتے ہیں

"ایک بار جب میں ٹریک پر آیا تو مجھے اس سے پیار ہو گیا اور اب مجھے یہ اتنا پسند ہے کہ میں یہاں سارا دن سواری کر سکتا ہوں- یہ تجربہ سڑک سے بالکل مختلف ہے،" انہوں نے کہا

نوٹ: مذکورہ مضمون 8مارچ 2021ء کو ایکسپریکس ٹرئیبون میگزین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کاچندترامیم کے ساتھ ترجمہ ہے جس کا حوالہ درج ذیل ہے

https://tribune.com.pk/story/2287839/the-wheels-keep-turning

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ