حب ریلی کراس2022ء میں دلچسپ لمحات: تین نسلوں کی ایک ساتھ انٹری
پاکستان آف روڈ ریلیز میں ساراخاندان، ایک قبیلہ کے کئی افراد اور میاں بیوی اکٹھے شرکت کرتے نظر آتے ہیں
ترامیم و اضافہ جات: ہارس پاور ٹیم
حب، بلوچستان کے ریگستان میں ہونے والی حب ریلی کراس2022ء میں چیف آرگنائزر شجاعت شیروانی نے پہلی مرتبہ ویٹران کیٹگری متعارف کرائی تو متعدد دلچسپ لمحات دیکھنے کو ملے
ویٹران کیٹگری میں 60 برس سے زیادہ عمر کے ڈرائیورز کو انٹری کی اجازت تھی، اسی وجہ سے فیملیز کے متعدد ممبران ایک ساتھ ٹریک پر کار دوڑاتے نظرآئے، ایک ہی فیملی کی تین نسلیں یعنی دادا، بیٹےاور پوتے نے شرکت کی تو اسی ایونٹ میں باپ، بیٹا اور بیٹی بھی ایکشن میں دکھائی دیئے جبکہ دو بھائی صاحبزادہ سلطان محمد علی اور صاحبزادہ سلطان بہادرعزیز بھی ٹریک پر کار دوڑاتے نظر آئے
ویٹران کٹیگری میں " شجاعت شیروانی" نے 50:35 میں ٹریک مکمل کیااورفاتح ٹھہرے- 73سالہ دادا سید اشرف آغا نے ویٹران کیٹگری میں شرکت کی اور 50 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے تھرڈ پوزیشن حاصل کی
47 سالہ بیٹے غضنفر آغا نے پری پیئرڈ سی میں انٹری دی اور سیکنڈ پوزیشن لی جبکہ 19 سالہ پوتے علی حسن آغا، جو غضنفر آغا کے صاحبزادے بھی ہیں، نے اسٹاک سی میں تھرڈپوزیشن لی
نوید واسطی اور ندا واسطی بہن بھائی ہیں جو اکثر بڑی بڑی کار ریلیز میں نظر آتے ہیں مگر اس بار ویٹران کیٹگری کی وجہ سے انکے 63 سالہ والد شاہد واسطی نے بھی شرکت کی
63سالہ شاہد واسطی نے ویٹران کیٹگری میں تھرڈپوزیشن لی جبکہ ان کے بیٹے نوید واسطی نے پری پیئرڈ بی کیٹگری میں پہلی پوزیشن پر آئے اور ندا واسطی نے ویمنز سٹاک میں پہلی پوزیشن اپنے نام کی
نویں حب جیب ریلی میں باپ بیٹی اور دو بھائی بھی ایکشن میں دکھائی دیئے،پری پیئرڈ کیٹگری میں ماہم شیراز نے میدان مارا اور فرسٹ پوزیشن حاصل کی جبکہ ان کے والد شیراز قریشی ٹریک پر ایکشن میں نظر آئےتاہم ریس مکمل نہ کر سکے- اسی طرح رونی پٹیل اور ان کی صاحبزادی دینا پٹیل نے بھی حب ریلی میں انٹری دی مگر دونوں کار خراب ہونے کے باعث ریس مکمل نہ کر پائے
پٹیل خاندان کی بات کی جائے تو یہ سارا خاندان ہی کسی نہ کسی طرح آف روڈ ریلیز سے جوڑا ہوا ہےبلکہ اس خاندان کو ریسرز سیل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا- یہ پورا خاندان آف روڈ ریسنگ کا شیدائی ہے- پٹیل قوم سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان ریسنگ میں سب سے آگےہے
بیٹا "مہروان پٹیل" کو-ڈرائیور تو باپ "رونی پٹیل" نئے آنے والے ریسرز کو ٹریننگ دینے اور گائیڈ کرنے میں مصروف عمل جبکہ ماں "تشنہ پٹیل" خواتین ریس کیٹگری کی سینئر ریسر شمار ہوتی ہیں تو بیٹی "دینہ پٹیل" پاکستان کی کم عمر ریسر ہونے کا اعزاز رکھتی ہے
کہانی کچھ یوں ہے کہ خود رونی پٹیل جن کا شمار مایہ ناز آف روڈ ریسر میں ہوتا ہے لیکن پچھلے کچھ برسوں سے چند درپیش مسائل کی وجہ سے حصہ نہیں لے پارہے لیکن جوش و خروش وہی اور نوجوانوں کو بڑے اچھے سے ریسنگ کی technical چیزوں سے آگاہ کرتے ہیں جبکہ بیٹا بیرون ملک سے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ریسنگ کا شوق بھی پالے ہوئے ہے اور یہی شوق جب جنون بنا تو پاکستان کے مایہ ناز ریسر "صاحبزادہ سلطان" کاکو-ڈرائیور ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا
البتہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی 2 بھائی صاحبزادہ سلطان محمد علی اور انکے بھائی سلطان بہادر عزیز ٹریک پر اترے- صاحبزادہ سلطان نے ریلی کا سب سے بڑا ٹائیٹل اپنےنام کیا توانکے بھائی سلطان بہادر عزیز نے پری پیئرڈ بی کیٹگری میں تیسری پوزیشن لی
اس کے علاوہ بات کی جائے تو پاکستان آف روڈ ریلیز میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک خاندان کے کئی افراد ریس کرتے ہیں جیساکہ ٹیم ایشیاءسے دونوں بھائی سعود مجید اور مسعود مجیدجبکہ مسعود مجید کے بیٹے زین محمود ریس کرتے ہیں- اس کے ساتھ اگر آف روڈ ریلیز کی بات ہو تو مگسی قبیلہ کاذکر نہ آئے یہ ناممکن ہے جس میں کئی نامورریسرز ہیں جن میں میر نادرخان مگسی، میرعامر خان مگسی، ظفرخان مگسی، جعفر مگسی، طارق مگسی، زرین مگسی اور بسم اللہ مگسی قابل ذکر ہیں، بعین خاکوانی خاندان،بھرچنڈی شریف خاندان اور شادی خیل خاندان بھی ریلیز میں نمایاں نظر آتا ہے
مزید برآں بات کی جائے میاں بیوی کی تو تشنہ پٹیل اوررونی پٹیل کے علاوہ اے سٹاک کیٹگری کے ڈرائیور عقیل احمد اورانکی اہلیہ جبکہ سردارحسن صادق اور ان کی اہلیہ سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ریلی2022ء میں شرکت کرچکی ہیں
نوٹ: مذکورہ آرٹیکل28مارچ 2022ء کو جیو سپر اورنیا ٹائم میں شائع ہوا جسے چندترامیم واضافہ جات کےساتھ شامل کیا گیا ہے- جس کا حوالہ درج ذیل ہے