گوادر آف روڈجیپ ریلی: مختصر مطالعہ
عبد الباسط
= گوادر : تاریخی پسِ منظر
گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا شہر ہے- جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندر گاہ کے باعث عالمی سطح پر مُحتاجِ تعارُف نہیں ہے- تین اطراف سے سمندر میں گھرا ، مکران کے ساحل پر موجود یہ شہر اپنے وجود سے اس خطہ زمین کو ایک خوبصورت و دلفریب بلکہ شاعرانہ منظر بخشے ہوئے ہے- موسمی لحاظ سے یہ علاقہ اپنے معنی ’’ہوا کا دروازہ‘‘ کے عین مطابق بہت ہوادار ہے- آبادی کے لحاظ سےیہ شہر کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جن کا سب سے اہم ذریعہ معاش ماہی گیری ہے- گوادر اور اسکے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے - یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے - اس کا زیادہ رقبہ غیر آباد ہے- یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے خاص اہمیت کا حامل رہا ہے- 1958 ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے اسے اومان سے خرید کر پاکستان کا حصہ بنایا اور اسے تحصیل کا درجہ دیکر ضلع مکران میں شامل کر دیا - 1977 ء میں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی 1977 ء کو تربت ،پنجگور اور گوادر تین اضلاع بنا دئیے گئے-
= تزویراتی اہمیت
گوادرکی بندرگاہ پاکستان کےعلاوہ چین، افغانستان، وسطی ایشیاکےممالک تاجکستان، قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان اورروس کےاستعمال میں آئےگی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا اور مقامی آبادی میں ترقی و خوشحالی کی بہار آئے گی -یہ بندر گاہ خلیج فارس ، بحیرہ عرب، بحر ہند،خلیج بنگال اور اس سمندر ی پٹی میں واقع تمام بندر گاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہو گی اور اس میں بڑے بڑے جہاز با آسانی لنگر انداز ہو سکیں گے- گوادر شہر عالمی منظر نامہ میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔
= ریگ و صحرا کی کشش
گوادر نہ صرف مندرجہ بالا وجوہات کی بنیاد پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ وہاں کی ثقافت اپنی مثال آپ ہے- گوادر کے غیر آباد علاقہ میں باقاعدہ طور پر آف روڈ جیپ ریلی کا اہتمام کیا جاتا ہے-جس میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی ریسرز بھی شرکت کرتے ہیں-یہ جیپ ریلی جہاں لوگوں کو تفریح فراہم کرتی ہے وہیں پاکستان کے تشخص کو پوری دنیا میں اجاگر کرتی ہے-
گوادر جیپ ریلی اَفواجِ پاکستان اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے تعاون سے پاکستان کے میلوں میں سے سب سے بڑے ثقافتی میلے کا روپ دھار چکی ہے- اس سے پاکستان کے خوبصورت نظارے جس میں صحرا ، میدان ، پہاڑی علاقوں ، ساحلِ سمندر کے علاوہ د یہی زندگی کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں- روایات اور ثقافت کی سرزمین گوادر کی ہوا آف روڈ جیپ ریلی میں شریک ڈرائیورز کو مسحور کر دیتی ہے اور اپنی خوشبو کا قیدی بنا لیتی ہے ۔ ملائم اور نرم ریت پہ مبنی طویل ’’آف روڈ ٹریک‘‘ گاڑیوں سے دوستی پیدا کر لیتا ہے اور ڈرائیور جہاں یہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنا ٹریک مکمل کرے وہیں اُس کی یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ کاش ٹریک تھوڑا اور طویل ہوتا تاکہ وہ زیادہ دیر اپنی گاڑی اور ریتلے ٹریک کی دوستی کو انجوائے کرتا ۔
= گوادر - شہرِ امن و محبت
وہاں جا کر ایک عجیب بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ بے لگام میڈیا کے فوری خبر دینے کے نشئیوں(Breaking news addicts) نے محبتوں کے شہر گوادر کو جس طرح خرابیٔ حالات کا مرکز بنا کر پیش کیا وہاں ویسے کچھ حالات نہیں ہیں ۔ وہاں امن ہے ، لوگ سکون سے اپنا روز مرہ کا کام کرتے ہیں اور خوشگوار زندگی جیتے ہیں ۔ گوادر کے باشندے پاکستان کی ترقی ، بلوچستان کی ترقی اور اپنے آبائی شہر گوادر کی ترقی کیلئے دِن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ بعض بد قسمت واقعات اگر ہوئے بھی ہیں تو ان کی تعدادملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے بد قسمت واقعات سے زیادہ نہیں ہے ۔ مستقبل کی اہم تزویراتی لوکیشن ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ازلی اور مکار دُشمن بھارت وہاں دہشت گردی کروانا چاہتا ہے اور وہاں کے لوگوں کی ترقی ، خوشحالی اور سکون کو تباہ کرنا چاہتا ہے جس کیلئے کلبھوشن یادیو جیسے حاضر سروس آفیسرز اُس نے بھیج رکھے ہیں ۔ مگر پاکستان کی جری و بہادر محافظ افواج پوری مستعدی و جانفشانی سے اس خطۂ عظیم کی حفاظت کر رہی ہیں ۔
2016میں ہونے والی گوادر آف روڈ ریلی میں بھی حفاظت کا تمام تر ذِمّہ افواجِ پاکستان نے مقامی انتظامیہ کے تعاون سے اٹھا رکھا تھا اور کمانڈر سدرن کمانڈ (کور کمانڈر کوئٹہ) لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض وہاں خود موجود رہے ، ریلی کی پہلی گاڑی انہوں نے ہی ’’چیک فلیگ‘‘لہرا کر روانہ کی ۔ رات کو ملک بھر سے آئے ہوئے ریلی شرکا کے اعزاز میں انہوں نے عشائیہ بھی دیا اور گوادر (بالخصوص) اور بلوچستان (بالعموم) کے حالات پہ بھرپور بریفنگ دی اور تمام کیٹگریز کے نہ صرف جیتنے والوں بلکہ مقابلہ میں شرکت کرنے والے تمام ڈرائیورز کیلئے دس ملین روپے انعام بھی دیا ۔
= گوادر آف روڈ ریلی 2016
گوادر میں یوں تو پہلے بھی وقفہ وقفہ سے ریسرز کی انفرادی کوششوں سے سرکاری مُعاونت کیساتھ آف روڈ ریلیاں منعقد ہوئی ہیں ۔ لیکن جو ایک ’’لینڈ مارک‘‘ بنی ہے وہ گزشتہ برس (2016) میں ہوئی ہے ۔ جس میں ملک بھر سے پچاس سے زائد ڈرائیورز نے حصہ لیا اور اپنی مہارت و صلاحیت اور اہلیت و قابلیت کے قابلِ تحسین و قابلِ تعریف جوہر دِکھائے اور شائقین سے ’’دادِ واہ واہ‘‘ وصول کی ۔ ریلی میں مقابلہ بہت ہی سخت تھا ایک سے بڑھ کر ایک ڈرائیور موجود تھا ، گاڑیوں پہ بھی بہت محنت کی گئی تھی اور حتی الوسع انہیں ٹریک پہ دوڑنے کیلئے بہتر سے بہتر بنایا گیا تھا ۔ کوالیفائینگ راؤنڈ میں جب مختلف کیٹگریز کی پاور فُل اور رنگ برنگی گاڑیاں میدان میں اکٹھی ہوئیں تو یوں لگتا تھا جیسے ساحل کے کنارے قوس قزح کے رنگ بکھر گئے ہوں ۔ یا ایک گلدستے میں باغیچے کے تمام رنگ کے پھول یکجا کر دیئے گئے ہوں ۔ سروں پہ ہیلمٹ پہنے ، قوی و مضبوط ’’ہارنِس‘‘ باندھے ، گاڑیوں کو نیوی گیشن آلات سے مزین کئے ، ہواؤں سے جھگڑتے ، بے باکی و دلیری سے راہوں کا سینہ چیرتے اور اپنی تیز رفتاری کے پیچھے غبار کا طوفان اُڑاتے ارضِ پاک کے سپوت جب ٹریک مکمل کرکے پویلئن کو پہنچتے تو بلوچستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے شائقین اُن کا بھر پور استقبال کرتے ۔ لوگ منتظر تھے کہ کب اعلان کیا جائے گا کہ ان پچاس شہ سواروں میں کلاہِ فتح کس کے سر سجی اور کون چیمپئن ٹرافی کا حق دار ٹھہرا ۔ رات کو مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں صاحبزادہ سُلطان کی فتح کا اِعلان کیا گیا ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری (سٹیٹ منسٹر برائے کیڈ) تھے ۔ پاکستان کے آف روڈ ریسنگ سٹار میر نادر خان مگسی ، جام کمال خان (سٹیٹ منسٹر برائے پٹرولیم ) اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران سمیت عمائدینِ شہر کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی ۔
ریس میں تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے :
اے پریپئرڈ: (1) صاحبزادہ سُلطان (2) طلحہ رئیس بلوچ (3) فخر عباس مھے
اے سٹاک : (1) طارق مگسی (2) منصور حلیم (3) عُمر سومرو
بی پریپئرڈ: (1) زین محمود (2) فیصل شادی خیل (3) نوابزادہ جعفر مگسی
بی سٹاک: (1) قادر نواز سانگی (2) ملک بلال عاشق (3) نوابزادہ عامر مگسی
سی پریپئرڈ: (1)گوہر سانگی (2) آصف فضل چوہدری (3) ایم عون
سی سٹاک: (1)سُلطان عزیز (2) سردار حسن صادق (3) غضنفر آغا
ڈی پریپئرڈ: عبد الرحمان جوئیہ ڈی سٹاک: سعید شاہوانی کار: مراد جان
ویمن: توشنہ پٹیل
= گوادر آف روڈ ریلی کا روشن مستقبل
اگر حکومتی سرپرستی اس کھیل کو حاصل رہے تو یہ بہت جلد ترقی کرے گی اور پاکستان کے میدانی و صحرائی ، ساحلی و کوہستانی علاقےدُنیا بھر کے آف روڈ ریسنگ شائقین کا مرکز بن جائیں گے ۔ خاص کر گوادر جیسے ساحلی شہر ، جس کے ساحل سے عرب ممالک کی لائٹیں نظر آتی ہیں ، میں بحری جہازوں کے ذریعے بآسانی اپنے ممالک سے اپنی مرضی کی گاڑیاں تیار کروا کر خلیجی ممالک کے آف روڈ ریسر شرکت کر سکتے ہیں ۔ چائنا کے ’’وَن بیلٹ وَن روڈ‘‘ منصوبہ کا پائیلٹ پروجیکٹ ہونے کے ناطے سی پیک میں گوادر ایک انتہائی اہم مقام رکھتا ہے ، جسے تزویراتی زبان میں ’’علاقائی ربط سازی‘‘ (Regional Connectivity) کہتے ہیں اُس کا ایک انتہائی اہم سرا گوادر ہے ۔ اِس لئے گوادر آف روڈ ریلی میں چائنا ، روس اور سنٹرل ایشیا سے ڈرائیورز کی ایک بڑی تعداد کیساتھ اعلیٰ سطحی حکومتی نمائندگان بھی شرکت کر سکتے ہیں ۔ گوادر کو وہ سہولتیں میسر ہیں جو کہ شاید کسی اور آف روڈ ریلی ٹریک کو پاکستان میں میسر نہیں ہیں اِس لئے گوادر آف روڈ ریلی بہت زیادہ توجہ کی مستحق ہے ۔
اگرحکومت پاکستان بین الاقوامی ریسرز کو تحفظ فراہم کرے اور انہیں گوادر جیپ ریلی میں شرکت کے لیے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے یہ ایونٹ بین الاقوامی سطح پر کا میاب ہو اور ہمارے ریسرز کومزیدسیکھنے کا موقع ملے- گوادرجیپ ریلی کوپروموٹ کرنےسےغیرملکی سیاحوں کیلئےپاکستان امن کی ضمانت بنےگی-یہ ریلی گوادرکی ثقافت کواجاگر کرےگی اور پاکستان کی سیرو سیاحت و قدرتی خوبصورتی سے مالا مال علاقے بھی سامنے آئیں گے- ملکی سطح پر اس طرح کے ایونٹس نوجوان نسل میں ہمت، جرأت اور ولولہ پیدا کرتے ہیں اور ان کی توانائیوں کے مثبت استعمال کا اہم ذریعہ ثابت ہوتے ہیں- ایسے ایونٹس کے انعقاد سے سی پیک کی شہ رگ کی اہمیت کا حامل یہ علاقہ نہ صرف اس کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ وہاں کے باسیوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع بھی فراہم کرے گا۔