Blog Single

دامنِ کوہ میں سرد صحرا

سکردو جیپ ریلی رپورٹ 

اسرار احمد

سکردو پاکستان کےشمالی علاقہ جات کاایک خوبصورت ترین مقام ہے جوکہ اپنےخوش نما پہاڑوں ،جنگلات اور دریاؤں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے جس سے پہاڑ اور زمین برف کی پوشاک اوڑھ لیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی موسم بدلتا اور برف پگھلتی ہے تو یہ علاقہ اپنے جوبن پر آ جاتا ہے اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن جاتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں سیرو سیاحت کیلئے آتے ہیں ۔

گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں موٹر سپورٹس کے مقابلے بڑے صحراؤں اور میدانی علاقوں میں تو منعقد کرائے جا رہے ہیں لیکن پہلی دفعہ اس کو ایک نیا انداز دینے کیلئے پاکستان کے شمالی علاقے ’’سکردو‘‘ کے ایک ریگستان کو منتخب کر کے وہاں ایک جیپ ریلی کو منعقد کرایا گیا جس کو’’سرفرنگا جیپ ریلی‘‘ کانام دیا گیا۔ یہ جیپ ریلی سکردو اور شگر کے درمیانی علاقےمیں واقع ریگستان میں کروائی گئی جسے دُنیا کا بلند ترین اور ٹھنڈا صحرا کہا جاتا ہے۔ جو کہ موٹر سپورٹس کے شیدائیوں کیلئے ایک نیا اور اچھوتا آئیڈیا تھا۔ اس صحرا کی بلندی سطح سمندر سے 7500 فٹ ہے۔ پہاڑ پر واقع اس حسین صحراکو ایک طرف سے بلند پہاڑ اور دوسری طرف سے دریائے سندھ منفرد ٹریک بناتے ہیں۔ دریائے سندھ کے زور دار بہاؤ سے پیدا ہونے والا ارتعاش اور ریسنگ وہیکلز کے سائیلنسر سے پیدا ہونے والی طاقتور آواز کے ملاپ نے ایک ایسے نئے نغمے کو جنم دیا ہے جو شمالی علاقہ جات کی فضاؤں کو مزید مسحور کر تا رہے گا ۔  

’’سرفرنگا جیپ ریلی‘‘ کا انعقاد ’’پاک ویل‘‘سکردو اور گلگت بلتستان کی لوکل گورنمنٹ کے اشتراک، سرکاری ونجی اداروں کے باہمی تعاون اور مضبوط روابط سے ممکن ہوا ۔ ریس کا انعقاد 17 سے 20 اگست 2017 کو کیا گیا۔ ریس میں شرکت کرنے والے ریسرز کافی دِن پہلے ہی یہاں پہنچنا شروع ہو گئے تاکہ لمبےاور دشوار گزار راستے کی تھکاوٹ دور کی جا سکے اور ساتھ ریس ٹریک کو دیکھ کر اپنی حکمتِ عملی تیار کی جا ئے۔

پاکستان میں موٹر سپورٹس کے شائقین کو اس منفرد ریس نے اپنی طرف کھینچا۔ پاکستان کے مایہ ناز موٹر سپورٹس ڈرائیورزنےنہ صرف اس ریلی میں شرکت کی بلکہ اسے کامیاب بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان ڈرائیورز میں پاکستان موٹر سپورٹس کے لیجنڈ میر نادر مگسی اور   2016 کی ریسز کے چیمئین صاحبزادہ سلطان سمیت کئی نامور ریسرز  نے بھی شرکت کی ۔ 

ریس کے ساتھ منتظمین نے مختلف ثقافتی پروگرامز کا بھی انعقاد کر رکھا تھا جس میں پولو، زاخ کے مقابلے اور ثقافتی میلہ شامل تھا، تا کہ ریس کے شرکا کو محظوظ کرنےکےساتھ پاکستان کی ثقافت کو بھی اجاگر کیا جا سکے۔

عام طور پرریس میں انجن کی طاقت کے لحاظ سے 4 کیٹگریز کی گاڑیاں دوڑائی جاتی ہیں جن میں A, B, C D کیٹگریز ہو تی ہیں اور ہر کیٹگری کو دو سب کیٹگریز پر تقسیم کیا جاتا ہے جن میں ایک Preparedاور دوسری Stock گاڑی ہو تی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر ایک Prepared کیٹگری میں جو بھی گاڑی تیار کی جائے گی اس میں اُس کیEngine, Gear and suspension modification کے لحاظ سے اس کو Prepared کیٹگری میں ڈالا جا سکتا ہے جبکہ Stock کیٹگری میں گاڑی اپنے Stock انجن میں ہوتی ہے او ر صرف Suspension کی معمولی تبدیلی کی اجازت ہو تی ہے۔ لیکن سکردو جیپ ریلی میں صرف چار کیٹگریز ہی رکھی گئیں اور سب کیٹگریز کو ختم کر دیا گیا۔ کیٹگریز کی اس تقسیم پر جہاں کچھ ریسرز نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا وہیں اس نئی تقسیم نے ریس کو اور بھی چیلنجنگ اور ڈرائیور زکے لئے ایک سخت ریس بنا دیا کیونکہ ایک ہی کیٹگری میں Stock اور Prepared دونوں گاڑیاں آ رہی تھیں۔ stock گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لئے یہ چیلنج سے کم نہیں تھا کہ انہوں نے اسی کیٹگری میں Prepared گاڑی کا بھی مقابلہ کرنا تھا۔

ریس کا ٹریک تقریبا'' 30 کلو میٹر تھا جس میں حصہ لینے کیلئے ایک دن پہلے ڈرائیورز کو اپنی گاڑی چیک کروانی تھی تاکہ گاڑی اپنی کیٹگری کے لحاظ سے سیفٹی کی تمام ضروریات سے مزین ہو۔تاکہ ڈرائیورز اور شائقین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی حادثہ سے بچا جا سکے۔ کوالیفائنگ ٹریک 4 کلو میٹر پر مبنی ایک دائرے کی شکل کا تھا جس میں تمام ریسرز نے اپنے ڈرائیونگ کے جو ہر دکھائے اور سب سے کم وقت میں فاصلہ طے کرنے والے ڈرائیور کو ریس والے دن سب سے پہلے دوڑایا گیا ۔ کوالئفائنگ راونڈ کے ٹاپ 10 ڈرائیورز کا ٹائم کچھ یوں تھا۔

 

Qadir Nawaz Sangi

114

10:44:00.00

11:02:55.92

0:18:55.92

Mir Amer Magsi

220

11:11:00.00

11:29:59.65

0:18:59.65

Mir Nadir Magsi

106

10:20:00.00

10:39:10.11

0:19:10.11

Tariq Hussain Magsi

102

11:08:00.00

11:28:22.52

0:20:22.52

Asif Fazal Chaudhry

118

10:35:00.00

10:55:24.08

0:20:24.08

Shahibzada Sultan

111

10:41:00.00

11:01:25.83

0:20:25.83

Zain Mehmood

226

10:26:00.00

10:47:08.31

0:21:08.31

Jaffar Magsi

120

10:32:00.00

10:53:10.30

0:21:10.30

Sahibzada Fawad Zakori

275

11:56:00.00

12:17:27.33

0:21:27.33

Wasif

116

11:20:00.00

11:41:30.68

0:21:30.68

 

ریس والے دن صبح سے ہی شائقین اور ڈرائیورز میدان میں پہنچ چکے تھے۔ گلگت بلتستان کے لوگ جو کہ محبت ،خلوص اور مہمان نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے صبح سے ہی ڈرائیورز کو اور دور دور سے آنے والے شرکا کودادِ تحسین پیش کرنے اور اُن کا حوصلہ بڑھانے کیلئے پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ شائقین کا ایک جم غفیر سٹارٹنگ پوائنٹ ،اینڈ پوائنٹ اور ریس کے ٹریک کے دونوں اطراف ڈرائیورز کی ڈرائیونگ کے جوہر دیکھنے کیلئے بے تاب تھا۔ 

تمام سر گرمیوں کو Manage کرنے کیلئے اور اس کا انتظام کرنے کیلئے گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے بھر پور طریقے سے کردار ادا کیا اور اس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ٹریک اور اس کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ تاکہ وہاں کے مقامی رہنے والے لوگ دیکھنے کے شوق میں ٹریک پہ آ کے کسی حادثے کا سبب نہ بن جائیں۔ انتظامیہ اور پولیس کے اس بھر پور تعاون نے اس مقابلے کو ایک محفوظ اور دلچسپ مقابلہ بنا دیا۔

     ریس والے دن سب سے پہلے میر نادر خان مگسی جو کہ کوالیفائیڈ راؤنڈ میں سب سے کم ٹائم میں گاڑی بھگا چکے تھے سب سے پہلے نمبر پر سٹارٹنگ پوائنٹ سے گاڑی میں بیٹھ کے نکلے اور شائقین نے اُن کو بھر پور طریقے سے الوداع کہا۔

     اس کے بعد باقی ڈرائیور حضرات بالترتیب مندرجہ ذیل اپنے اپنے نمبرز سے گاڑی میں بیٹھے اور ریس میں دوڑنے کیلئے میدان میں اترتے رہے۔

 

ریس کا ٹریک بلا شبہ ایک چیلنجنگ تھا کیونکہ ٹریک پرموجود صحرا کی ریت جو گاڑی کے ٹائر دھنسا دیتی تھی اور ڈرائیورز کو انتہائی مہارت سے گاڑی کنٹرول کرتے ہوئے اور مناسب گئیر میں رکھتے ہوئے یہاں سے نکلنا تھا ورنہ گاڑی کے دھنس جانے کے خطرات بہت زیادہ تھے۔ ساتھ ہی یہاں ایسی مٹی کا ٹریک بھی تھا جس میں پتھر اور سخت مٹی کی آمیزش تھی اور ڈرائیورز کو سپیڈ کے ساتھ گاڑی کے کنٹرول کا بھی بہت خیال رکھنا تھا۔اگر ڈرائیور نے پہلے سے ان کو مارک نہ کیا ہو یا ٹریک کی مکمل ریکی نہ کی ہو توپریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ۔ اس ریس میں کل اسی (80) کے قریب گاڑیوں نے حصہ لیا۔ 

دُور دراز سے آئے شائقین ریس میں دوڑتی فراٹے بھرتی گاڑیوں کو دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے رہے اور دل کھول کر تالیاں اور سیٹیاں  بجا کر اورنعرے لگا کر ڈرائیورز کا حوصلہ بڑھا یاتا کہ انہیں اور تیز دوڑنے پر اکسایا جائے ۔ ڈرائیورز نے بھی شائقین کا دل موہ لینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور انتہائی مہارت سے گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوئے ریس کا ٹریک مکمل کرتے وقت شائقین کو بھر پور موقع دیا کہ وہ اِس ریس سے لطف اندوز ہو سکیں۔

      اِس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں اگر پاکستان آرمی کا ذکر نہ کیا جائے تو مناسب نہ ہو گا۔ اس علاقے کو محفوظ بنانے عام لوگوں کی طرح یہاں بغیر کسی خوف و خطر کے آنے میں اور اتنے بڑے ایونٹ کو منعقد کرانے کیلئے پاکستان آرمی خراج تحسین کی مستحق ہے۔ریس والے دِن ٹریفک اور لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے سکیورٹی فراہم کرنے میں پاکستان آرمی کا ایک نا قابل فراموش اور قابل تحسین کردار رہا۔

     مقابلے کے شرکاء کیلئے ایک کیمپ لگایا گیا اور ان کے navigators کے لئے ایک خیمہ بستی بسا کے اُن کو وہاں ایک محفوظ اور adventurous قیام گاہ مہیا کی گئی تھی تاکہ ڈرائیورز وہاں پہ آرام بھی کر سکیں اور اس تمام علاقے اور ریس سے لطف اندوز ہو کر ایک بھر پور ایڈوینچر کا مزہ بھی لے سکیں۔

     ریس والے دن مختلف شرکائ نے اپنا اپنا ایک منی کیمپ بھی لگا رکھا تھا جہاں پہ تمام ریسرز حضرات بیٹھ کے ریس کے متعلق گفتگواورمستقبل میں آنے والے ایونٹس کی پلاننگ اور دوسرے معاملات پہ گفتگو کرتے ہوئے ریس اور بھاگتی ہوئی گاڑیوں پے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔

     ریس صبح 9 بجے شروع ہوئی اور شام 4 بجے اختتام پذیر ہوئی ۔ اس ریس میں فتح کا سہرا بابر خان نے فورڈ ریپٹر کو دوڑا کر اپنے سر سجایا اور شائقین کے دل موہ لئے۔ ڈرائیورز کی ریس کی ٹائمنگ کچھ اس طریقے سے تھی                                       

اس ریس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی لوکل انتظامیہ اور پاک وہیل کے منتظمین نے اِس عہد کا اعلان کیا کہ یہ ریس ہر سال منعقد کرائی جائے گی تاکہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ پاکستان کا پر امن تشخص اور خوبصورتی کو تمام دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکے اور پاکستان کے مثبت پہلوؤں کونہ صرف لوگوں بلکہ پوری دنیا کے سامنے اجاگر کر کے سیاحوں کی آمد  ، زرِ مُبادلہ میں اَضافے اور امن کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔         

پوسٹ کو شئیر کریں:

مذکورہ ریلی ویڈیوز

متعلقہ پوسٹ