انٹرویو میر نادر مگسی :پاکستان آف روڑ ریلیز کے درخشاں ستارے
Blog Single

انٹرویو میر نادر مگسی :پاکستان آف روڑ ریلیز کے درخشاں ستارے

ٹیم(ہارس پاور میگزین)

ہارس پاورمیگزین نےاپنےقارئین کومختلف ریسرز کی موٹر سپورٹس سےمتعلق آراء اور ان کی شخصیت سےمتعارف کروانے کےلئے انٹرویوز کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ میگزین کےاس شمارہ میں جس شخصیت کا انٹرویو شامل کیا گیاہےوہ پاکستان میں موٹر سپورٹس کی دنیا میں  ایک ادارے کی حیثیت سے کم نہیں جبکہ تاریخی، سماجی اور سیاسی لحاظ سےایک مشہور قبیلہ 'مگسی' سے تعلق رکھتے ہیں ان کا نامیر نادرعلی خان مگسی ہے۔ جنہوں نے پاکستان میں ریس کی ترویج  کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور اسے ایک نئی پہچان بخشی۔

مگسی قبیلے کا تعارف ؛

مگسی ایک بلوچ قبیلہ ہے جس کی تاریخ حلب سے ملتی ہے۔ کربلا میں یزید کی مدد نہ کرنے کے باعث اس قبیلہ کو حجرت کرنا پڑی۔ نو سو سال قبل ان میں سے اکثر لوگ افغانستان اور پھر وہاں سے بلوچستان میں قیام پذیر ہوئے۔ ان میں بنیادی قبیلے 'رند' اور 'لاشار' تھے اور مگسی لاشار کی چھٹی پشت کوکہتے ہیں۔ دراصل مگسی قبیلہ چھوٹا تھا مگر بہت سی دوسری قوموں کے لوگ اس میں ضم ہوتے چلے گئے۔ میرنادر خان مگسی کےدادا نادر مگسی ہر دل عزیز اور سیاسی لیڈر تھے۔ برٹش راج کے وقت وہ لندن گئے اور ان کے سسٹم کا بغور مشاہدہ کیا کہ اتنا چھوٹا سا جزیرہ دنیا پر راج کیسے کر رہا ہے۔اور پھر واپس آ کر تمام دوسرے قبائل کو اکٹھا کیا۔ اُن کی خدمات کو بلوچستان کے تمام سیاسی لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔

سوال ؛آپ کی فیملی کا سیاسی پس منظر :

جواب؛'مگسی' چونکہ سندھ اور بلوچستان دونوں اطراف موجود ہیں اس وقت ہماری طرف سے میرے والد محترم اور سندھ والی سائیڈ سے میرے چچا MNA کی سیٹ پر الیکشن میں امیدوار تھے اُس وقت ڈائریکٹ MPA نہیں چنے جاتے تھے اور بد قسمتی سے میرے والد کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں میرے دادا اسی سیٹ سے منتخب ہوئے جس پر آج میں منتخب ہوکر فرائضِ منصبی ادا کررہا ہوں ۔

سوال؛ آپ ہمارے قارئین کو اپنے سیاسی کیرئیرسے مطلع فرمائیں؟

جواب؛میں 1979ءمیں ضیا ء الحق  کے مارشل لاء کے دوران انیس سال کی عمر میں امریکہ چلا گیا۔ پھر1984ء کے نان پارٹی بیسز کے الیکشن سے دو ماہ قبل واپس آیا۔ 8 نومبر 1984ء کو میری عمر 25 سال ہوئی اور قانون کے مطابق 25سال کی عمر میں الیکشن میں حصہ لیا اور نیشنل اسمبلی کا سب سے کم عمرممبربنا ۔ تب جونیجو صاحب کی حکومت تھی اور 3 سال بعد جب جونیجو مسلم لیگ بنی تو میں ان چند نان پارٹی  اسمبلی ممبرز میں سے تھا جنہوں نے اُس میں شمولیت اختیار نہیں کی اور آزاد رہنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء صاحب کے پلین کریش کے بعد میں نے 1988ء میں پہلی دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیا ر کی چونکہ بی بی صاحبہ کے ساتھ بہن بھائیوں والا رشتہ تھا  اور ذوالفقارعلی بھٹو صاحب میرے والد کے  بہت اچھے دوست تھے اورہ میرا اور بےنظیر صاحبہ کا حلقہ ایک ہی تھا تو میں وہاں سے MPA بنا جہاں پہلے MNA تھا اور بےنظیر وہاں سے MNA بنیں۔ تب سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی میں ہوں اور کوشش ہے کہ ایک ہی پارٹی میں رہوں ۔الحمداللہ ہمیشہ الیکشن جیتا اور امید ہے اِس بار بھی اللہ پاک کی رضا سے بہتر نتیجہ ہوگا۔  

سوال ؛کیا کبھی کوئی وزارت بھی حاصل کی؟

جواب؛دو دفعہ وزیر رہ چکا ہوں ایک دفعہ 1993ء میں بے نظیر صاحبہ کے ساتھ اوردوسری دفعہ 2008ء میں۔ 1993ء کے دورِحکومت میں میرےپاس دو وزارتیں تھیں۔ایک  کراچی میں پہلےلوکل گورنمنٹ اور پھر ایک سال کے بعد ٹیکسیشن اور ایکسائز پر بطوروزیر فرائضِ منصبی ادا کئے اورحکومت بھی کم و بیش تین سال تک ہی۔ 2008 میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی وزارت تھی اور وہ مکمل پانچ سال رہی۔

سوال ؛آپ نے ذکر کیا کہ ضیاءدور میں الیکشن سے پہلےامریکہ تشریف لے گئے، کیا وہاں بھی ریسسز میں شرکت کرتے رہے ہیں؟

جواب؛مجھے گاڑیوں کا شوق تو بچپن سے ہی تھا مگر ریس کرنا تھوڑا الگ معاملہ ہے۔ وہاں میں نے مختلف گاڑیاں لیں اور کافی ٹریک ریسنگ کی خصوصاً فلوریڈا میں۔ نئے ریسرز کو یہ نصیحت کرنا چاہوں گا کہ وہ کارٹنگ سے سٹارٹ لیں چونکہ دنیا کے جتنے بھی بڑے ریسرز ہیں چاہے وہ فارمولا ون کے ہوں یا آف روڈ ریسرز ہوں انہوں نے اس سفر کا آغا ز کارٹنگ سے ہی کیا ہے کیونکہ کارٹنگ آپ کو ڈسپلن سکھاتی ہے۔ جو کارٹنگ کر سکتا ہے وہ اچھا ڈرائیور بن سکتا ہے۔ دراصل میں نے بڑی عمر میں کارٹنگ شروع کی چونکہ اِدھر کارٹنگ کی سہولت دستیاب نہیں تھی اور ہمیں یہ سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ مگر اب ہم یہ چیزیں لانا چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ان سرگرمیوں کے نہ ہونے کے باعث اُلٹے سیدھے کاموں میں لگ جاتے ہیں اُنہیں اِن کاموں میں لگائیں۔ جیسے کرکٹ ،ہاکی ، فٹبال ہے اُسی طرح یہ وسیع پیمانے پر قابلِ احترام ،نیا اور دلچسپ کھیل ہے مگر اس کے فروغ کیلئے حکومتی سطح سے بہت مدد کی ضرورت ہے۔ پچھلے 12 سالوں سے ہم آف روڈ کو کافی اوپرلے کر آئے جس میں میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے مگر ابھی اس ضمن میں بہت زیادہ انتظامات کی ضرورت ہے۔ میں خصوصاً کہنا چاہوں گا کہ اس سال ہمیں آرمی کی طرف سے بہت زیادہ سپورٹ ملی اور میرا خیال ہے کہ آرمی نے اس کھیل کا مرتبہ ڈبل کر دیا ہے جس کیلئے ہم ان کے شکر گزار بھی ہیں اور ہماری درخواست بھی ہے کہ وہ اس کھیل میں شریک رہیں اور اسے اچھے طریقہ سے قومی سطح پر متعارف کروائیں کیونکہ حکومت اور آرمی کی مدد کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیز کی سپورٹ حاصل ہو گی جیسا کہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔اس سےہماری یوتھ کو مواقع اور سپورٹ ملے گی جو درحقیقت ہم سے اچھا اس سسٹم کو چلا سکتے ہیں اور اپنے ہنر کا پرچار کر سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کھیل سے ریٹائر ہونے سے قبل اس کھیل کو اُس سطح تک لے آئیں کہ یہ ملک و ملت کا نام بلند کرنے کا سبب بن سکے اور ہمارے ریسرز دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

سوال؛امریکہ میں ریسنگ کا کوئی یا د گار واقعہ جو ہمارے قارئین سے شئیر کرنا چاہیں:

جواب؛امریکہ میں وقت کی قلت کے باعث میں شدید خواہش کے  باوجود آف روڈریسنگ نہیں کر پایا اور زیادہ تر کار ریسنگ اور کلب ریسنگ ہی کرتا رہا۔ ریسنگ میں تو الحمدوللہ میرا کوئی ایکسیڈینٹ نہیں ہوا مگر میرے سامنے بہت ایکسیڈینٹس ہوئے۔ البتہ کارٹنگ میں بہت سے زخم ملےجس کے نشان آج بھی ہاتھوں پر موجود ہیں۔ چونکہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے لہذٰا اس کیلئے ایک جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈرائیور کو سب سے پہلے اپنی سیفٹی کاخصوصی خیال رکھنا چاہیے، ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، رول کیج وغیرہ لازمی ہونی چاہیئں تاکہ کسی قسم کے حادثے سے ہر ممکن حد تک بچا جا سکے۔

سوال؛امریکن موٹر سپورٹس اورپاکستا ن آف روڈ ریسنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب؛موٹر سپورٹس میں تو سب کچھ آ جاتا ہے مثلاً کارٹنگ، کار ریسنگ، آف روڈ ریسنگ وغیرہ۔ جہاں تک آف روڈ ریسنگ کا تعلق ہے تو یہ بہت مشکل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو آف روڈ ریسنگ کر سکتا ہے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ کار ریسنگ میں آپ کا ایک مکمل ایسفالٹ ٹریک(Asphalt Track) ہوتا ہےجس کے ساتھ گاڑی چپک کر چلتی ہے اس کے برعکس آف روڈ ریسنگ میں گاڑی سیدھا نہیں چل سکتی چونکہ کوئی واضح ٹریک نہیں ہوتا اور آپ کو ایک کھلے صحرا میں ، اونچے نیچے راستوں پر، بہت سے جمپوں سے گزرنا ہوتا ہےاور ٹریک سیدھا نہ ہونے کہ باعث آپ کے چاروں ٹائر زیادہ تر زمین سے اوپر ہوتے ہیں ایسی حالت میں آپ کو بہت زیادہ ڈسپلنڈ ہونا ہوتا ہےاور اگر آپ ڈسپلنڈ نہیں ہوں گے تو آپ کا بہت زیادہ نقصان ہو گا۔

سوال؛آپ نے پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کب شروع کی؟

جواب؛میں نے پہلی دفعہ 1997ء میں ٹھٹھہ میں ایک ریس میں حصہ لیا مگر اُس وقت ریسز کبھی کبھا رہوتی تھیں۔ پھر 2004ء-2005ء میں آرمی نے چولستان ریس کروائی لیکن اس وقت میں امریکہ تھا تو حصہ نہیں لے سکا البتہ میرے بھائی اور دوست شامل ہوئے۔ اُس ریس میں100 کلو میٹر کی ایک نائٹ لیگ بھی رکھی گئی ۔ چند مسائل کی وجہ سے اگلے سال آرمی نے وہ ریس نہیں کروائی اور وہ پروجیکٹ گورنمنٹ اور ٹی ڈی سی پی نے منعقد کراویا اور میں نے اُس میں حصہ لیا۔ اُس ریس سے لیکرآج تک یہی کوشش ہے کہ تمام ریسز میں حصہ لوں۔ ابھی پاکستان میں چار بڑی آف روڈ جیپ ریسز ہوتی ہیں جن میں جھل مگسی، چولستان ، تھل اور گوادر شامل ہیں۔ ان میں تھل اور گوادر تین سال سے شروع ہوئیں جبکہ جھل مگسی اور چولستان لگاتار 13 برس سے ہو رہی ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ریسنگ میں یہ میرا تیرہواں (13th) سال ہے۔ جھل مگسی اور چولستان دو بڑی ریسز ہیں جن کی وجہ سے یہ کھیل پاکستان میں نہ صرف بہت جلد متعارف ہوا اور اِن بیک ورڈ ایریاز میں بہت فائدہ مند ثابت بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیاجس سے اس کھیل کو فوقیت ملی اور دیگرعلاقے میپ پر آ گئے۔ ہمارا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اُن علاقوں کے رہائشیوں کا فائدہ ہو۔ ابھی ہماری کوشش بھی ہے کہ نئے ٹریکس بنائے جائیں ۔ اس سال سرفرنگا ، گلگت بلتستان میں ریس شروع ہوئی ہے جو جلد میپ پر آ جائےگی۔ ناردرن ایریاز میں ریس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم وہاں گرمیوں میں بھی ریس کروا سکتے ہیں۔ بہت زیادہ گرم موسم کے باعث لوئر پاکستان کے صحراؤں میں ریس ممکن نہیں لہذا ہمیں چار سے پانچ ماہ کے مختصر وقت میں چار بڑی ریسز کروانا ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت نے بہت زیادہ محنت کی۔ ابھی نوشہرہ  میں ایک بہت اچھا ٹریک نظر آیا ہےاور ہماری کوشش ہے کہ اس کو جلد از جلد استعمال کیا جائےاور اس حساب سے چھ بڑی ریسز کیلنڈر پر آ جائیں گی جسکا پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔

سوال؛آف روڈ ریسنگ میں اَپنی کامیابی اور جیت کا احساس کیسا رہا؟  

جواب؛جب ایک دفعہ ریس شروع ہو جائے تو کوشش یہی ہوتی ہےکہ بہترین پرفارمنس دیں اور جیتیں۔ بیرون ممالک تو انعامات اچھے ہوتے ہیں مگر پاکستان میں انعامات اتنے خاص نہیں ہیں  ۔ابھی تک جتنے بھی ریسرز ہیں وہ شوق سے اس کھیل کو اپنائے ہوئے گاڑی دوڑاتے ہیں۔ اور صرف اپنے جذبےاور لگن کے سبب ٹرافی کیلئے محنت کرتے ہیں۔ ریس میں جیتنے والے کو جتنا انعام ملتا ہے اُس سے زیادہ تو وہ پیٹرول کاخرچہ کر کے آتا ہے۔ گاڑیوں کا ٹوٹنا، اپنے قیمتی وقت سے اس کھیل کو ٹائم دینا وغیرہ تو بعد کی بات ہے۔ میں کہوں گا کہ اب تک یہ کھیل پیسوں کیلئے نہیں بلکہ عزت، وقار اور شوق کی وجہ سے کھیلا جا رہا ہے۔

سوال؛آپ کے پسندیدہ ریسرز کون سے ہیں جن کو آپ فالو کرتے ہوں؟

جواب؛آف روڈ میں ڈاکار چیمپئن، پیٹر ہینسل میرا پسندیدہ ریسر ہے اور اُس کی عمر بھی میرے جتنی ہے مگر وہ ابھی بھی ریسنگ کر رہا ہے۔ ابتدامیں یہ موٹرسائیکلسٹ تھے اور چھ دفعہ موٹرسائیکلسٹ چیمپئن رہے اور پھر اب موٹرسائیکل سے کار پر آ گئے۔ وہ بہت کیلکولیٹڈ ریسر ہیں۔ چونکہ ڈاکار میں دنیا کے بہترین ریسرز ہوتے ہیں مثلاً روبی گارڈن وغیرہ، تو وہاں اتنے لمبے ٹریک پر کیلکولیشنز بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کہ کس جگہ پر سپیڈ سے چلنا ہےاور کس جگہ اپنی گاڑی کوبچانا ہے۔ اِس لحاظ سے مجھے لگتا ہے کہ پیٹر بہترین ریسر ہیں اور پاکستان میں بھی وہی ماڈل فالو ہوتا ہےایسا نہیں ہوتا کہ آپ کو بس ریس دینی ہے اور سپیڈ مارنی ہے۔ بلکہ آپ کو مکمل پلاننگ کے ساتھ چلنا ہوتا ہے کیونکہ آخر میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو صحیح سلامت مختصر ترین وقت میں ٹریک مکمل کرے۔

سوال؛کیا آپ کی فیملی میں اورلوگ بھی ریسز میں شریک ہوتے ہیں؟

جواب؛جی بالکل، ریسنگ تو ہمارے خون میں شامل ہے۔ میرے دو بھائی ہیں، عامر مگسی، ظفر مگسی اور ابھی میرا بھتیجا محمد جعفر بھی اس کھیل میں بہت جذبے سے شامل ہوا ہے۔ جہانزیب ظفر بھی بہت اچھا ڈرائیور ہےوہ جیسے ہی امریکہ سے واپس آئے گا اُس کو بھی اسی کھیل میں لگائیں گےجہانزیب اِس سے پہلے یہاں کافی ریسز کر کے گیا ہے۔

سوال؛آپ پاکستان کے بیسٹ ریسر ہیں۔آنے والے وقت میں آپ بیسٹ ریسر کسے سمجھتے ہیں؟

جواب؛دیکھیں میں نہیں جانتا کہ میں بہترین ریسر ہوں یا نہیں کیونکہ مجھ سے بہتر ریسرز بھی موجود ہیں۔ اگر پرانے ریسرز کی بات کروں تو رونی پٹیل ہیں ، محمد اشرف ہیں جو شروع سے ہمارے ساتھ ہیں اور بہت زبردست ریسرز ہیں۔ میرے دونوں بھائی ، عامر مگسی اور ظفر مگسی اور اسد کھوڑو وغیرہ بہت اچھے ریسرز ہیں۔ ہمارے سب سے پرانے ریسر اور ہمارے ریسنگ کے پریزیڈنٹ، سرفراز بھی بہت اچھے ریسر ہیں۔ لیکن چونکہ پاکستان کی ریسنگ فیملی بڑھ رہی ہے اور ہر سال نئے لوگ آتے ہیں۔ صاحبزادہ سلطان صاحب تین سال قبل چولستا ن آئے تھے اور پھر وہاں سے انہوں نے ریسنگ کا آغاز کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بہت کم وقت میں اس کھیل کو سیکھا ۔ دراصل یہ سب ایفرٹ کی بات ہے کہ کون سیکھنے کیلئے کتنی ایفرٹ کرتا ہےجو جتنی زیادہ محنت اور لگن سے سیکھتا ہے وہ اُتنی جلدی اوپر آ جاتا ہےجیسے صاحبزادہ صاحب پورڈیم پر آگئے عموماً لوگ اتنی جلدی پورڈیم پر نہیں آتے۔

سوال؛کیاآف روڈ ریس باقاعدہ رہنمائی  پر منحصر ہے؟  

جواب؛ دراصل جتنے بھی سینئرز ہیں ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہم بالکل صحیح کام بتائیں۔ یہ ایسا کھیل ہے کہ اگر آپ بیرون ممالک جائیں تو کمپیٹیشن کی وجہ سے  آپ کو کوئی اپنی گاڑی کے نزدیک بھی نہیں آنے دیتا کیونکہ گاڑی کی تیاری بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مگر ہم نےاُس کے بالکل برعکس حکمتِ عملی اپنائی ہوئی ہےکیونکہ ہم ابھی بلڈنگ سٹیج پر ہیں اورہم غلط بتائیں گے تو نیا بندہ اپنا پیسہ بھی ضائع کرے گا ، خود کو نقصان بھی پہنچائے گا اور بہت جلد چھوڑ کر چلا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم نئے ریسرز کو صحیح بات بتائیں اور اُن کو مارکیٹ سے صحیح سامان لے کر دیں تاکہ وہ اپنے شوق کو اچھے طریقےسے ملک و ملت کی بہتری کیلئے استعمال کر سکیں۔

سوال؛صاحبزادہ سلطان نے بارہا مرتبہ اظہار کیا کہ کامیابی کاجو سفر وہ 10 سال میں طے کرتےآپ کی راہنمائی سےمختصر وقت میں طے کیا۔ وہ آپ کو ایک اِنسٹیٹیوٹ کا درجہ دیتے ہیں۔اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب؛اِس پر میں صاحبزادہ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ دراصل ایسے اور بھی دوست ہیں جن کو میں نے ایسے ہی گائیڈ کیا لیکن گائیڈینس کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کی اپنی محنت بھی ہوتی ہے۔ اس کھیل کو سیکھنے کےلیے ٹائم دینا پڑتا ہےاور ایک جذبہ چاہئے۔ صاحبزادہ صاحب نے ، جذبے، محنت اور لگن سے اپنا ٹائم دیا اور مختصر سے وقت میں اوپر آگئے ورنہ ان کو بھی اس مقام تک پہنچنے میں پانچ چھ سال لگتے۔

سوال؛کیاہمارے ملک میں موجود آف روڈ کے  ٹریکس عالمی معیا ر کو پورا کرتے ہیں؟

جواب؛میں سمجھتا ہوں پاکستان میں موجود ٹریکس دنیا بھر کے ٹریکس سے بہتر ہیں کیونکہ ہمارا جو ڈیزٹ ہے اور آف روڈ ہے وہ کسی کے پاس بھی نہیں۔ اگر اس کھیل کو آگے بڑھایا جائے تو انٹرنیشنل ڈرائیورز آنکھیں بند کر کے یہاں آئیں گے۔ ایران اور تھائی لینڈ سے پہلے بھی ڈرائیورز آرہے ہیں اور اس سال ہم نے امریکہ سے کچھ لوگوں کو دیکھنے کیلئے مدعو کیا ہے اور پُر امید ہیں کہ وہ آئیں گے ۔

سوال؛موٹر سپورٹس کی ریس موڈیفیکیشن کے لحاظ سے پاکستان میں کس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟

جواب؛چونکہ ہم ابھی ابتدائی سٹیج پر ہیں اس وجہ سے ورکشاپ اور دوسری سہولیات ابھی بہت کم ہیں جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہےمگرہم بہت جلدی یہ سب سیکھ رہےہیں۔ اے ٹی ایس انجینئرنگ، نصرت صاحب اور افضل صاحب چند نمایاں نام ہیں جو آف روڈ کیلئےگاڑیاں بناتے ہیں۔ مگر اس کو عالمی سطح تک لیجانے کیلئے ہمیں جن ذرائع اور آلات کی ضرورت ہوتی ہے وہ بہت کم ہیں۔

سوال؛کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں حکومتِ پاکستان کوئی عالمی ریس منعقد کروانے میں کامیاب ہوسکے گی؟

جواب؛میری گورنمنٹ اورپاک آرمی کو یہ گزارش ہو گی کہ وہ پہلے انٹر پروینشل ریسز کروائیں مثلاً سندھ کےڈیزرٹ، مِٹھی سے لے کر دراوڑ ایک زبردست ٹریک بنتا ہے۔ قومی سطح کی ریس سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ ہمیں ٹریک کی شارٹ کمنگز کا بھی علم ہوجائے گا جس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہےاور پھر ہم انٹر نیشنل لیول کی ریس کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ میں پر امید ہوں کہ عنقریب انٹرپروینشل ریس ہو گی۔

سوال:پاکستا ن میں آف روڈ ریسنگ کو بہتر بنانے کیلئے کون سے اقدامات کرنے چاہیئں؟

جواب:ایریاز اور ڈیزرٹ تو اللہ پاک کی نعمت سے ہمارے پاس موجود ہیں بس کچھ سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔ جن میں وہاں رہائش وغیرہ کے معاملات میں ملٹی نیشنلز اور گورنمنٹ ہمیں سپورٹ کر سکتی ہے۔ لیکن بنیادی چیز ایکویپمنٹ اور لوجسٹیکل(Equipment and Logistics) سپورٹ ہے۔ ابھی خنجراب سے گوادر تک ہونے والی موٹر ریلی کے  کامیاب ہونے کی بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے لوگوں کو کیمپس ، لوجسٹکس اور فیول مہیا کیا۔ اسی سسٹم کو آف روڈ ریلی میں چھوٹی سطح پر لے جانا چاہیے۔ لوجسٹکس اورمالی سپورٹ کے ساتھ ساتھ میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ ٹریک پر آ کر لطف اندوز نہیں ہو سکتے لہذا میڈیا نیشنل لیول پر  لائیو ٹیلی کاسٹ دکھا کر بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہےجس سے نئے ریسرز متاثر ہو کر فیلڈ میں اترتے ہیں ۔ گورنمنٹ مختلف جگہوں پر ریسنگ سرکٹس بنا سکتی ہے جہاں ہمارے نوجوان جا کر سیکھیں جس سے وہ بے راہروی سے بھی بچ سکتے ہیں ۔

سوال؛پچھلے چند سالوں سے میڈیا میں اس کھیل کو بہت پذیرائی ملی ہے اسکی کیا وجہ ہے؟

جواب؛ہمارے بہت سے دوستوں کی انتھک محنت کے باعث یہ کھیل عام لوگوں تک پہنچا ہے اور اب پچھلے چند سالوں سے میڈیا بھی اس کھیل کو عام کرنے کیلیے اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ پہلے صرف ایک سٹاک کیٹگری ہوتی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیورز کم ہونا شروع ہو گئے۔ پھر ہم نے اس کو دیکھتے ہوئے کیٹگریز بڑھا دیں اور اب الحمدللہ کافی بڑی تعداد میں ڈرائیورز حصہ لے رہے ہیں اور نیک نیتی سے اس کھیل کو فروغ دے رہے ہیں۔

سوال:اگر کوئی انٹرنیشنل لیول پر آف روڈنگ کیلئے جانا چاہے تو آپ کونسے اقدامات تجویز کرنا چاہیں گے؟

جواب؛سب سے پہلے سامان جو انٹرنیشنل لیول کا ہو بہت مہنگا ہوجاتا ہےاورسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے  مہنگے ایکویپمنٹس کو فنڈ کون کرے گا؟ اس سطح پر گورنمنٹ اور ملٹی نیشنلز کا کردار چاہیے کہ وہ ہمارے بہترین ڈرائیورز کو باہر سے گاڑیا ں تیا ر کروا کر دیں اور پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیز ڈرائیورز کو فنڈ کرتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر ٹریننگ کا مرحلہ آتا ہے جس پر انٹرنیشنل لیول کے مطابق کافی محنت کی ضرورت ہے۔ ابھی تک یہ کھیل قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا جس کیلئے ہم کام کر رہے ہیں اور پھر قومی سطح پر اس کھیل کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ  فقدان سے بچا جا سکے۔ ہماری  وفاقی وزارتِ کھیل سے بھی درخواست ہو گی کہ وہ بھی ملٹی نیشنلز کو مدعو کریں اور اس کھیل کو ہر ممکن حد تک فروغ دیا جائے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ موٹر سپورٹس دنیا میں تیسرا بڑا کھیل ہے مثلاً ڈاکار ریلی کو ایک ارب  لوگ دیکھتے ہیں ۔

سوال؛کیا آپ پاکستان کی یوتھ کو اس کھیل میں آتا دیکھ رہے ہیں؟

جواب؛جی بالکل! مگر میں اس کو سپورٹ کے ساتھ مشروط کروں گاکہ جتنی زیادہ سپورٹ ہوگی اتنا زیادہ یوتھ اس کھیل میں مشغول ہوگی۔

سوال؛آپ کا یوتھ کیلئے کوئی منصوبہ  ہے؟ کوئی ٹریننگ سکول یا اکیڈمی وغیرہ؟

جواب؛جی ہماری اس پر مختلف جگہوں پر ڈسکشنز ہو رہی ہیں مگر ایسا صرف اُسی صورت ممکن ہو گا جب حکومت ہمیں سپورٹ کرے گی اور اس کھیل کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم جانے سے پہلے اس کھیل کو ہر ممکن حد تک فروغ دے کر جائیں اور نئے ڈرائیورز کیلئے جتنی زیادہ سہولیات کا اہتمام ہو سکے کریں اور ان کی مکمل ٹریننگ کر سکیں مگر ان سب چیزوں کیلئے وسائل درکار ہیں جس کی بناپر یہ تمام منصوبےپایہءِ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

سوال؛موٹر سپورٹس سیاحت کو کیسے فروغ دے سکتی ہے؟

جواب؛اس کھیل سے لطف اندوز ہونے کیلئے آپ کو کم و بیش ایک ہفتہ تک ڈیزرٹ میں رکنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے لوگ معمول سے ہٹ کر بہت زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اپنے ملک کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں جو کہ ایک انتہائی صحت افزاء سرگرمی ہے۔ خصوصاً بہت سے سیاح پاکستان کے دورے پر آتے ہیں تو ہمارے ناردرن ایریاز کے متعلق ان کے ریمارکس انتہائی حیران کن ہوتے ہیں۔ بہت سے بین الاقوامی سیاحوں کا کہنا ہے کہ ایسی قدرتی خوبصورتی انہوں نے دنیا بھر میں نہیں دیکھی۔ اللہ پاک نے ہمیں بے بہا نعمتوں سے نوازا ہے اب ہمیں بس ان نعمتوں کا پرچار کرنا ہے۔

سوال؛آپ ریسنگ میں آنے سے پہلے اور بعد کی زندگی میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

جواب؛میں تو بچپن ہی سے خود کو ریسر سمجھتا ہوں کیونکہ تقریباً دس سال کی عمر میں، لاہور میں اپنی پہلی گاڑی خود تیار کی اور اس پر جنریٹر کا انجن لگایا تھا۔ چونکہ ہمارا علاقہ آف روڈ ہی ہے تو جب بھی لاہور ایچی سن کالج سے چھٹی ملتی تو اپنے آبائی علاقے میں  آف روڈ کی پریکٹس کرتا۔ البتہ اس کو آرگنائزڈ طریقہ سے متعارف کروانے اور سٹریم لائن کرنے میں تمام ریسرز کا بہت بڑا کنٹریبیوشن ہے۔

سوال؛موٹر سپورٹس کے علاوہ بھی کوئی آپ کامشغلہ ہے؟َ

جواب؛موٹر سپورٹس کے علاوہ تیراکی اور گھڑ سواری شامل ہیں۔ ابھی گھڑ سواری بہت کم کرتا ہوں لیکن تیراکی ابھی بھی کرتا ہوں۔

سوال؛کوئی ایسا خواب جو آپ پورا کرنا چاہتے ہوں؟

جواب؛ڈاکار ریلی میں حصہ لینا چاہتا ہوں ۔

سوال؛میگزین ہارس پاور کے پلیٹ فارم سے نئے ریسرزاور اپنے مداحوں کو کیا پیغام دینا چاہئیں گئے؟

جواب:نئے ریسرز کو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ خود کو بھی پر جوش رکھیں اور دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کریں۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں۔ یہ کھیل ایسا ہے کہ اگر کسی کو محسوس ہوا کہ اسے مزا نہیں آیا یا اس کی مدد نہیں کی گئی  اور حوصلہ افزائی نہیں کی گئی تو میں ان سے کہو ں گا کہ وہ چھوڑیں نہیں۔ ہم سب انشااللہ مدد کریں گے۔اپنے فینز کو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ کی سپورٹ کے بغیر اس کھیل کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ کیونکہ اگر فینز ہوں گے تو میڈیا بھی آئے گا۔ حکومت بھی دیکھے گی اور ملٹی نیشنل کمپنیز بھی سپورٹ کریں گی۔ فینز سے درخواست کروں گاکہ ہر ممکن حد تک سپورٹ کریں تاکہ اس کھیل کو فروغ مل سکے۔

 

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ