گوادرچیمپئن صاحبزادہ سلطان کاکراچی میں والہانہ استقبال
فرحان رضا
عظیم صوفی بزرگ حضرت سلطان با ہوؒ کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے، موٹرسپورٹس میں پاکستان کاروشن مستقبل، گوادر آف روڈ ریس کے چیمپئن، رفتار کے سلطان؛ صاحبزادہ سلطان، گھڑسواری میں تابناک ماضی کے ساتھ ،جب گاڑیوں کی دوڑ میں آئے تو چھا گئے۔ انہوں نے2015ء میں موٹر سپورٹس کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنی دوسری ہی ریس میں کامیابی سمیٹتے ہوۓ پاکستانی میڈیا پر 'رفتار کا سلطان' ،صاحبزادہ سلطان کےنام سے مشہورہوگئے۔ انکی اس جیت کو کسی نے سراہا تو کسی نے محض اِتفاق قرار دیا- مگرجب صاحبزادہ سلطان نے ،گوادر، تھل ،چولستان ریسز کو جیت کر ہیٹرک مکمل کی اور ساتھ ہی ایبٹ آباد کے ریسنگ ٹریک کو تسخیر کیا تو حقیقت عیاں ہوگئی کہ رفتار کا سلطان اتفاق سے نہیں رفتار سے فتحیاب ہوتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موٹر اسپورٹس کی دنیا میں طوفان برپا کر دیا۔ اور یوں صاحبزادہ سلطان نےموٹر سپورٹس میں اپنی قابلیت کا نہ صرف لوہا منوایا بلکہ اپنی ڈرائیونگ کی صلاحیت سےسب کو ورطہء حیرت میں مبتلاکردیا۔
گزشتہ برس کی طرح رواں سال بھی گوادر ریلی میں رفتار کےسلطان نے جیت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دھول اڑاتی، ہوا سے باتیں کرتی اورلہو گرماتی ڈرائیونگ سے اپنے ٹائیٹل کا دفاع کیا۔
صاحبزادہ سلطان گوادر جیپ ریلی کا ٹریک سَر کرنےکے بعد جب کراچی پہنچے تو پریس کلب کے باہر والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 02نومبر2017ء بروز منگل " ٹیم سلطان" کے اراکین، شائقین اور مداح صبح سے ہی بینرز اور جھنڈے اٹھائےپریس کلب کے باہر جمع تھے۔ آنکھوں میں تشنگی دیدار ِ سلطان ،سروں پر ٹیم سلطان کی کیپ، ہاتھوں میں جھنڈے، دلوں میں صاحبزادہ سلطان کے لئے نیک خواہشات اور ہونٹوں پر ریس کے سلطان کے حق میں نعرے اورشدت سےرفتار کے سلطان کی جھلک دیکھنےکو بیتاب کھڑے تھے۔ہرشخص منفرد انداز میں گوادر ریلی کے چیمپیئن کوخراجِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔ صاحبزادہ سلطان کی پریس کلب آمد پر پھول نچھاور کئے گئے۔ رفتار کے سلطان کو خوش آمدید کہنے اورخراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تعریفی کلمات پر مبنی پوسٹرزاور بینرز شائقین کے ہاتھوں میں موجود تھے جن پراس طرح کے بہت سارے نعرے درج تھے ۔
پاکستان کی پہچان۔ ٹیم سلطان،
فتح کا نشان۔ ٹیم سلطان،
جیت کا نشان۔ صاحبزادہ سلطان،
تھل، گوادر ہو یا چولستان۔ صاحبزادہ سلطان ،
ایک جھنڈا۔ ایک ٹیم۔ ایک ہی سلطان۔ صاحبزادہ سلطان،
جھنگ کا سلطان ڈاکار ریلی میں بنے گاپاکستان کی پہچان۔
کراچی پریس کلب آمد کے اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، بلند عمارتوں پر اور پریس کلب کے چاروں اطراف میں پولیس کمانڈوز موجود تھے۔ جوں ہی رفتار کا سلطان پریس کلب کی طرف مڑا یکایک ایک ہجوم صاحبزادہ سلطان کی گاڑی کی طرف آمڈ آیا اور لوگوں نے چیمپئن آف پاکستان کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے استقبال کیا۔ چاروں اطراف سے گاڑی پر پھولوں کی بارش میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ صاحبزادہ سلطان گاڑی میں موجود سن روف سے باہر تشریف لائے اور ہاتھ ہلا کر اپنےمداحوں کے نعروں اور جذبات کا جواب دیا۔ 2 منٹ کا فاصلہ لوگوں کے جمِ غفیر کی وجہ سے گھنٹہ بھرمیں طے ہوا ۔ اس تاریخی اورپرتپاک استقبال کے بعد پریس کلب نمائندگان نے ریس کے سلطان سے ملاقات کی اور پریس کانفرنس کی گئ۔ جس میں تمام میڈیا ہاؤسزکے کیمرا مین اور صحافی موجود تھے۔ رپورٹرز نے مختلف سوالات بھی پوچھے جن کے نہایت شائستگی سے جوابات دئیے گئے۔ اورآخر میں رفتار کے سلطان کومختلف چینلز نےانٹرویو کے لئے گزارش کی اور پھر آپ ایکسپریس ، دی نیوزون ، اے آر وائے اور دیگر چینلز پر تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے اس کھیل سے وابستہ ہونے اور مستقبل میں اپنے منصوبوں اور مقاصد سے اپنے ناظرین کو آگاہ کیا۔