خنجراب کے پہاڑوں سے گوادر کے ساحل تک؛ ملک گیرپُر امن پاکستان موٹرریلی
اُسامہ بن اشرف
دیں زمیں سمندر دریا صحرا کوہستان
سب کیلئے سب کچھ ہے اس میں یہ ہے پاکستان
تعارف؛
پاکستان کے 70ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے پاک فوج کے زیراہتمام21 تا 31 اکتوبر 2017ء "پرامن پاکستان" موٹر ریلی کا کامیاب انعقاد کیا گیا جو خنجراب سےشروع ہو کرپاکستان کےتمام صوبوں سےگزرکرتین ہزار(3000) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے گوادر پر اختتام پذیر ہوئی۔ موٹر ریلی مختلف علاقوں خنجراب، چترال، مظفرآباد، سے چشمہ کے راستے اسلام آباد، دریاخاں پُل کے زریعے ڈیرہ اسماعیل خان، رزمک (شمالی وزیرستان)، گومل زام ڈیم، کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر شہروں سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچی۔ جس میں جیپ، کار اور موٹر سائیکل سواروں نےمتعین فاصلہ انتہائی جانفشانی، محنت اور ہمت کے ساتھ گیارہ دنوں میں طے کیا۔
ریلی جس جس شہرسے گزری محبِ وطن پاکستانیوں نے اس کا والہانہ استقبال کیا جس کے باعث ریلی کے ساتھ سینکڑوں کلو میٹرسفر کر کے آنے والوں کی تھکن کا احساس ختم ہوتا گیا اور پاکستان میں موٹر سپورٹس کے شائقین اس منفرد ریس کی طرف کھینچے چلےگئے۔
اس ریلی کے آفیشل سپانرزمیں سوزوکی، شیل اور پی ایس او شامل تھے۔ موٹر ریلی کا انعقاد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات اور سرپرستی میں ہوا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی نگرانی میں موٹر ریلی کو حتمی شکل دی گئی۔ جبکہ ہیڈ آف ریلی سیکرٹریٹ میجر جنرل منظور احمد تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے موٹر ریلی کے تمام شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور یہ ریلی خاص طور پر پاکستان آرمی کا ایک احسن اقدام تھا ۔ پورے پاکستان کے 23 موٹر کلبوں سے منسلک 300 سے زائد جیپیں، 500 ہیوی موٹر بائیک اور 150 نایاب و حسین کاریں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ریلی سے اظہارِیکجہتی کرتے ہوئےاس کی گزرگاہوں کے نزدیکی علاقوں کے کار وموٹر سائیکل سواروں نے بھی شرکت کی۔
ریلی بنیادی طور پر چھ قسم کی کیٹگریز پر مشتمل تھی۔
= لگژری کار
= وینٹیج کار
= کلاسک کار
= سپورٹس کار
= جیپ
= بائیک
ریلی کے مقاصد؛
ریلی کے انعقاد کا مقصد دنیا کو یہ بھی باور کرانا تھا کہ پاکستان اور اُس کے عوام نہ صرف پُرامن ہیں بلکہ خطے میں بھی امن چاہتےہیں۔ اور جذبہِ ملی، یکجہتی و یگانگت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سپورٹس، سیاحت اور ثقافتی ورثے کی ترویج کرتے ہوئے ملک کی حقیقی خوبصورتی کو روشناس کرانا اور ملک میں مختلف سپورٹس کلبوں کے مابین ربط قائم کرنا اور سپورٹس کلچرکوفروغ دینا شامل تھا۔مزید براں امن ریلی کا مقصد پاکستان آرمی کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد آپریشن کے نتیجے میں بحال شدہ امن کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے کی افادیت کو اُجاگر کرنا بھی تھا۔ اس ریلی سے شائقین کو ایک شاندار تفریح ملی۔ یقینا اس طرح کی سرگرمیوں کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا انعقاد انتہائی ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو کھیل اور تفریح کے مثبت ذرائع میسر ہو سکیں ۔
اس امن ریلی کے مختلف پروگرامز کا انعقاد چار مقامات پر کیا گیا۔ جیسا کہ خنجراب میں افتتاحی تقریب، اسلام آباد میں کار شو، ڈیرہ اسماعیل خان (شمالی وزیر ستان" گومل زام ڈیم" ) میں آف روڈ جیپ ریلی، اورگوادر میں آف روڈ ریلی شامل تھیں۔
افتتاحی تقریب؛
پاکستان اَمن موٹرریلی کی افتتاحی تقریب پاک آرمی کے زیر نگرانی اور ضلعی انتظامیہ چترال کے تعاون سے21 اکتوبر کو چترال پولوگراؤنڈ میں پرچم کشائی سے کی گئی۔
اسلام آباد کار شو؛
اسلام آباد پہنچنے پر عوام نے ملی جوش و جذبے سے سرشار ہو کر ریلی کے شرکاء کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان زندہ باد کے پر جوش نعرے بھی استقبال کی زینت بنے رہے۔ ریلی شرکاء کے اعزاز میں 23اکتوبر2017ء کو پریڈ گراؤنڈ میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اہل اسلام آباد کے ہزارواں مقامی شہریوں سمیت کئی سیاحوں نے بھی شرکت کی اور پاکستان کی 70 ہویں یوم آزادی کی خوشیاں منائیں۔ اسلام آباد کے ماحول اور لوگوں کے ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک آرمی نے کار شو کا اہتمام کیا۔ تقریب میں اسلام آباد جیپ کلب، ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب اِن پاکستان، والکس ویگن کلب آف پاکستان، چترال 4*4 اورپاکستان لینڈ روور کلب لاہور کی گاڑیوں نے شرکت کی۔ جبکہ بائیکس کیٹیگری میں کراس روٹ، کلب 46 پاکستان، بائیکس اینڈ ہائیکرز پاکستان، موٹرسائکلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان، پاتھ فائنڈرز کلب، تھروٹل سسٹر، صوبر رائیڈر، کار کرافٹ، پاکستان بائیکرز ایڈونچر کلب اور رَف رائیڈرز کلب کے موٹر سائیکلوں نے شرکت کی۔ جس میں شرکاء کا جوش و خروش دیدنی تھا۔
تقریب میں نایاب موٹرز کی نمائش کی گئی جس میں ہجویری گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین سلطان توقیر اعوان نے 45-50 ونٹیج، کلاسک اور سپورٹس کاروں کے علاوہ 5 سپورٹس بائیکس کی نمائش کر کے ناظرین کو مسحور کیا۔ اس موقع پر کار شو کا زبردست مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ ریلی کچھ حوالوں سے خاص اہمیت کی حامل بھی تھی کیونکہ اس میں بی بی سی کے پروگرام “The making Jinnah”میں دکھائی گئی گاڑی “Packard 1939” بھی موجود تھی۔ اس کے علاوہ نواب آف بہاولپور کی گاڑی بھی موجود تھی جو ان کے پوتے چلا رہے تھے ۔اس موقع پر عاطف اسلم اور شفقت امانت علی نے اپنے فنِ موسیقی سے ہجوم کو تفریح فراہم کی۔
اس رنگا رنگ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم غفور اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ریلی کا مقصد امن و خوشحالی ہےاور پاک فوج پاکستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ ریلی اور نمائش کی تشہیر قومی و بینالاقوامی میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پربھی کی گئی۔اور اس تاریخی تقریب میں سکیورٹی کے فول پروف انتظام کیے گئے۔
گومل زام جیپ ریلی؛
اس عظیم قافلے میںملک بھر سے آئے ہوئے شرکاء نےنئی اور پرانی سینکڑوں گاڑیوں کے ساتھ شرکت کی۔ پاک فوج کے زیر اہتمام پُرامن موٹر کار ریلی کا ڈی آئی خان میں پر تپاک استقبال کیا گیا اور بچوں نے ملی نغمے بھی گائے۔
پاکستان کی سترویں یومِ آزادی کو منفرد طورپر منانےکےلئے پاکستان موٹر ریلی کے تیسرے مرحلےکی شروعات بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوئیں۔ آئی جی ایف سی خالد جاوید، کمشنر عبد الغفور بیگ، برگیڈئرعاطف منشاء، آر پی او سید فدا حسن شاہ کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی اور ریلی کو گومل زام کےلئے روانہ کیا۔
ریلی کا ساؤتھ وزیرستان سے گومل زام، پھر نارتھ وزیر ستان سے ہوتے ہوئے ژوب کے راستےگوادرکی طرف جانا اس بات کی علامت ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد نے جو فساد ہمارے ہاں برپا تھا اسے ختم کردیا ہے۔ سماجی و معاشی سرگرمیاں واپس لوٹ چکی ہیں اور ملکی ترقی کا پہیہ بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔ ایک طرف گاڑیوں دیکھنے لائق تھیں تو دوسری طرف بائیک کی چال نے تو سماں باندھ دیا۔
ملکی سطح پر پہلی بار ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ پاک آرمی کی طرف سے 22 کلو میٹر پر مبنی ریس ٹریک بنایا گیا جو کہ سنگل راؤنڈپر مشتمل تھا۔اس ریس میں ملک بھر سے پچاس سے زائد ڈرائیورز نے حصہ لیا اور اپنی مہارت و صلاحیت اور اہلیت و قابلیت کے قابلِ تحسین اور قابلِ تعریف جوہر دِکھائے اور شائقین سے ’’دادِ واہ واہ‘‘ وصول کی ۔ ریلی میں مقابلہ بہت ہی سخت تھا ایک سے بڑھ کر ایک ڈرائیور موجود تھا ، گاڑیوں پر بھی بہت محنت کی گئی اورانہیں ٹریک پر دوڑانے کیلئے بہتر سے بہترین بنایا گیا تھا ۔
ریس میں تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے :
ریس کے پہلے چار کلومیٹر میں ہی اے پریپئرڈ کیٹگری میں صاحبزادہ سلطان کی گاڑی کا ٹائر برسٹ ہوگیا اور باقی ریس تین ٹائرز پر مکمل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی حیرت انگیز طور پر پہلی پوزیشن سے آپ کے ٹائم کا فرق صرف 23 سیکنڈ تھا جبکہ میر نادر مگسی نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ پاکستان جیپ ریلی پر برسوں حکمرانی کرنے والے نادر مگسی بھی اس کھیل کو اجاگر کرنے پر شاداں دکھائی دیئے۔
صاحبزادہ سلطان نے روز نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا "اس ریلی کا مقصد پاکستان اور سی پیک روٹ محفوظ ہونے کا پیغام دینا ہے۔ جس کاگومل زام بھی ایک حصہ ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے ریسرز کا آنا پاکستان کے ساتھ اور کے پی کے کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے"۔
امنِ پاکستان اور استحکامِ پاکستان کی علامت ،پاکستان کار ریلی ژوب سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پہنچی جہاں پراس کاوالہانہ استقبال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ترقی کا نہ رکنے والا سفر شروع ہو چکاہے۔
گوادرجیپ ریلی؛
پُر امن موٹرریلی پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچی تو لوگوں نے جس گرمجوشی سے استقبال کیا اس سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرکے آنے والوں کو تھکن کا احساس تک نہ رہا۔ یہ ریلی خنجراب کے پہاڑوں سے شروع ہوکر پورا ملک عبور کرتے ہوئے گوادر کے ساحل پر ختم ہوئی۔
اگرگوادر کے محلے وقوع کا جائزہ لیا جائے تو یہ علاقہ پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا شہر ہے- جو اپنے شاندار مستقبل اور جدید ترین بندر گاہ کے باعث عالمی سطح پر مُحتاجِ تعارُف نہیں- تین اطراف سے سمندر میں گھرا، مکران کے ساحل پر موجود یہ شہر اپنے وجود سے اس خطہ زمین کو ایک خوبصورت و دلفریب بلکہ شاعرانہ منظر بخشے ہوئے ہے-
گوادر میں یوں تو پہلے بھی ریسرز کی انفرادی کوششوں سے سرکاری مُعاونت کیساتھ آف روڈ ریلیاں منعقد ہوئی ہیں ۔ لیکن جو ریلی ’’لینڈ مارک‘‘ بنی وہ گزشتہ برس (2016) میں منعقد ہوئی۔
گوادر کے غیرآباد علاقہ میں باقاعدہ طور پر آف روڈ جیپ ریلی کا اہتمام کیا جاتا ہے- یہ جیپ ریلی جہاں لوگوں کو تفریح فراہم کرتی ہے وہیں پاکستان کے تشخص کو پوری دنیا میں اجاگر کرتی ہے- گوادر جیسے ساحلی شہر میں ایسے ایونٹ کا انعقاد دوسرے ممالک کے ڈرائیورز کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک کے آف روڈ ریسر بحری جہازوں کے ذریعے بآسانی اپنے ممالک سے مرضی کی گاڑیاں تیار کروا کر شرکت کر سکتے ہیں ۔ جو سہولتیں گوادر کو میسر ہیں وہ پاکستان میں شاید ہی کسی اور آف روڈ ریلی ٹریک کو میسر ہوں اِس لئے گوادر آف روڈ ریلی بہت زیادہ توجہ کی حامل ہے۔
موٹرریلی کےکوالیفائنگ راؤنڈ کا انعقاد 29 اکتوبر کو ہوا جس میں مختلف کیٹگریز کی پاور فُل اور رنگ برنگی گاڑیاں میدان میں اکٹھی ہوئیں تو ایسے لگتا تھا جیسے ساحل کے کنارے قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے ہوں۔ سروں پہ ہیلمٹ پہنے ، قوی و مضبوط ’’ہارنِس‘‘ باندھے ، گاڑیوں کو نیوی گیشن آلات سے مزین کئے ، ہواؤں سے جھگڑتے ، بے باکی و دلیری سے راہوں کا سینہ چیرتے اورارضِ پاک کے سپوت جب ٹریک مکمل کرکے پویلئن کو پہنچتے تو بلوچستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے شائقین اُن کا بھر پور استقبال کرتے۔ دُور دراز سے آئے شائقین ریس میں دوڑتی، فراٹے بھرتی گاڑیوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتےاور دل کھول کر تالیاں اور سیٹیاں بجا کر اورنعرے لگا کر ڈرائیورز کا حوصلہ بڑھاتے رہے تا کہ انہیں اور تیز دوڑنے پر اکسایا جائے ۔
ریس والے دن میر نادر خان مگسی جو کہ کوالیفائیڈ راؤنڈ میں سب سے کم ٹائم میں گاڑی بھگا چکے تھے سب سے پہلے نمبر پر سٹارٹنگ پوائنٹ سے گاڑی میں بیٹھ کے نکلے اور شائقین نے اُن کو بھر پور طریقے سے الوداع کہا۔ اس کے بعد باقی ڈرائیور اپنے اپنے نمبرز سے گاڑی میں بیٹھے اور ریس میں دوڑنے کیلئے میدان میں اترتے رہے۔
جھنگ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت سلطان باہوؒ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ سلطان محمد علی نے پاکستان موٹر ریلی کی پریپیئرڈ کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ صاحبزادہ سلطان نے یہ فاصلہ ایک گھنٹہ 14 منٹ 20 سکینڈ میں طے کر کے پہلی، میر نادر خان مگسی نے ایک گھنٹہ 14 منٹ 46 سیکنڈ کے ساتھ دوسری جبکہ رونی پٹیل نے ایک گھنٹہ 16 منٹ 12 سیکنڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ریس میں تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے :
تقریبِ تقسیم ِانعامات ؛
خنجراب کےپہاڑوں سے گوادر کےساحل تک چلنے والی اس پُروقار ملک گیرریلی کی اختتامی تقریب 31 اکتوبر2017ءفٹبال اسٹیڈیم گوادر میں ہوئی۔
اختتامی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے بھی شرکت کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم پُرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی ہےاور تمام چیلنجز کے باوجود سر بلند ہونا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب موٹر ریلی پر امن پاکستان کے دعوے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جنجراب سے گوادر ہر پاکستانی امن و ترقی کا خواہاں ہے۔ اور مزید کہا کہ بلوچستان کی اقتصادی و معاشرتی ترقی کے لئے پاک فوج صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
ریلی کےشرکاء پر عزم تھے کہ جہاں ریلی سے سیاحت کو فروغ ملے گا وہیں پاکستان کے قدرتی مناظر اور اب تک بین الاقوامی سیاحوں سے چھپے نظارے بھی سامنے آئیں گئے۔ ملکی سطح پر اس طرح کے ایوینٹس جہاں نوجوان نسل میں ہمت، جرأت اور ولولہ پیدا کرتے ہیں وہیں ان کی توانائیوں کے مثبت استعمال کا اہم ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں- پاکستان موٹر ریلی ایسی کاوش ہے جو ملی یکجہتی کے فروغ اور قومی سوچ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔