صحرائے تھل جیپ ریلی: ریتلے راستے، پتھریلے حوصلے
Blog Single

صحرائے تھل جیپ ریلی:

ریتلے راستے، پتھریلے حوصلے

محمدرضوان

پاکستان کے دلکش صحرا:

یہ حقیقت ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں پوشیدہ ہوتی ہے- کسی کے دل میں نخلستان تو کسی کی روح پر ریگستان  کےٹیلے حکمرانی کرتے ہیں۔ پاکستان  میں جہاں کشمیر، گلگت، بلتستان اورشمالی علاقہ جات کی سرسبز وادیاں ہیں وہیں دلوں کو چھو جانے والے صحرا بھی اپنے اندر خوبصورتی سموئے ہوئےہیں۔ جو اپنے چاہنے والوں کے دلوں کو کیف و سرورمہیا کرتے ہیں۔ وطنِ عزیز "پاکستان" ہر قسم کی قدرتی دولت اور خوبصورتی سے مالامال ہے۔ یہاں جو بھی آیا وہ اِن قدرتی نظاروں کے جمال میں کھو کر رہ گیا اور تخیلات کی نئی دُنیا سے لطف اندوز ہوا- قدرت نے پاکستان کو بہترین آب و ہوا، نایاب درخت، سر سبز وشاداب خوبصورت علاقے، بلند و بالا پہاڑ، گھنےجنگلات، دلفریب جھیلیں، سنگلاخ وادیاں، بہترین جزائر،  دریا وسمندر، وسیع و عریض زرخیز میدان ، دلکش جھیلیں اورپُر کیف  صحراؤں سے نوازا ہے ۔ ان صحراؤں میں صحرائے چولستان، صحرائےتھر، صحرائےتھل، صحرائے وادی سندھ اور خاران موجود ہیں جو اپنی پہچان آپ ہیں۔

صحرائےتھل:

صحرائے تھل پنجاب کے ایک صحرا کا نام ہے جسے زمانہ قدیم  میں ’’دو آبہ سندھ ساگر‘‘ بھی کہا جاتا تھا- جس کا علاقہ پوٹھوہار اور سلسلہ کوہ نمک کے جنوب میں دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان میانوالی، جھنگ، لیہ، بھکر، خوشاب اور مظفر گڑھ پر مشتمل ہے- تھل کا علاقہ ان اضلاع پر مشتمل ایک مثلث بناتا ہے اور مظفر گڑھ جا کر اختتام پذیر ہوجاتا ہے-اس  تھل کی لمبائی 190 میل اور چوڑائی 70 کلومیٹر ہے۔ دریائے سندھ اس کا مغربی کنارہ ہے جبکہ جہلم، چناب اور راوی ملکر اس کی مشرقی سرحد کا تعین کرتے ہیں- اس علاقہ کی زبان کو پنجابی کا تھلوچی لہجہ قرار دیاجاتا ہے- دلکش طلوع آفتاب کا نظارہ ہو یا غروب آفتاب کی دل رُبائی، تصور کیجیئے کہ جہاں تاحدِ نگاہ ریتلےٹیلے، اونٹ، بیل، بھیڑاوربکریوں کے ریوڑموجود ہوں تو  ان کے گلوں میں پڑی گھنٹیوں کی جلترنگ کانوں کے راستے دل میں ایک عجیب کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ مجھے یہاں اقبال کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جو انہوں نے "خضرِ راہ" میں صحرا کیلئے کہے ہیں:

اے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں        گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیل

ریت کے ٹیلے پہ وہ آھُو کا بے پروا خرام         وہ حضر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگ و میل

وہ سکوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب         جس سے روشن تر ہوئی چشمِ جہاں بینِ خلیل

صحرا وُسعت کا استعارہ (metaphor) ہے جو انسان پہ ستاروں کی کہکشاں کی طرح ایک نہ ختم ہونے والے منظر کو ظاہر کرتا ہے۔ صحرائے تھل بھی اُن خوبصورت صحراؤں میں سے ایک ہے کہ صدیوں سے انسان جن کے سحر میں مُبتلا ہیں۔ صحرائے تھل کو یہ اعزاز  بھی حاصل ہے کہ یہاں  جنم لینے والی ادبی و ثقافتی شخصیات نے عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا اور ان لوگوں نے  نہ صرف ادب و ثقافت میں نمایاں کام سر انجام دئیےبلکہ سیاست اور تصوف میں بھی فنِ کمال کو پہنچے- اس علاقے کی خوبصورتی کو نمایاں کرنے کے لئے کچھ عرصہ سےتھل جیپ ریلی بھی منعقد کی جارہی ہےجو ایک خوش آئند بات ہے-

پہلی تھل جیپ ریلی کی مختصر رپوٹ:

گزشتہ برس2016ء میں ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP)اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیر اہتمام تھل جیپ ریلی ضلع مظفر گڑھ کےعلاقے ہیڈ محمد والامیں منعقد ہوئی۔ تھل کے ریگستان میں ہونے والی اس جیپ ریلی کا طویل ٹریک دواضلاع (مظفر گڑھ اور لیہ)  کےمابین  191 کلومیٹرکے فاصلے پر محیط تھا- جسے بہترین معیارات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا- اس ریلی میں مایہ ناز، ناموراور ماہرانہ صلاحیت کے حامل ریسرز نادر مگسی، صاحبزادہ سلطان، رونی پٹیل سمیت چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے چھیاسٹھ ڈرائیورز نے گاڑیوں کی چار مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیا- صاحبزادہ سلطان نے یہ فاصلہ دو گھنٹے چھبیس منٹ اور دس سکینڈ میں طے کرکے پہلی پوزیشن اپنے نام کی-

دوسری تھل جیپ ریلی2017ء:

 گزشتہ برس کی کامیاب جیپ ریلی کے تسلسل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے امسال بھی 17 تا 19 نومبر2017ء کو ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP)، ضلع مظفر گڑھ اور ضلع لیہ کی انتظامیہ نے تھل جیپ ریلی کا میلہ سجایا- جیپ ریلی میں شریک ریسرز نے جہاں بڑے سائز کی گاڑیاں کمال مہارت سےتیارکیں، وہیں انہیں ٹریک پر دوڑانے کیلئے بہتر سے بہتر بنایا گیا۔ حفاظتی اقدامات کو بھی مدنظر رکھا گیا تاکہ ہر طرح کے خطرہ سے نبردآزما ہوا جا سکے۔ گاڑیوں کی خوبصورتی دیکھ کر شائقین عش عش کراٹھےاور داد دئیے بغیر نہ رہ سکے- تین روزہ ریتلےراستوں پر چمکتی، دمکتی گاڑیوں نے  سماں باندھ دیا- ریلی میں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملاجہاں ماہرریسرز نے ایک دوسرے پر سبقت لےجانےکے لیے پُر خطر ریگستانی ٹریک پر مہارت و صلاحیت کے ساتھ گاڑیاں دوڑائیں۔ یوں تھل جیپ ریلی سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز بنی رہی، دوردراز کے علاقوں سے بڑی تعداد میں شائقین اس میگا ایونٹ کو دیکھنے کے لیے آئے- اس جیپ ریلی کو تین روز پر تقسیم کیاگیا- پہلاروز رجسٹریشن اور کوالیفائنگ راؤنڈ کے لئے مختص تھا، دوسرے روز سٹاک گاڑیاں ریس کےمیدان میں اتریں، جبکہ تیسرے اور آخری روز موڈیفائیڈ گاڑیوں کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا-

کوالیفائنگ راؤنڈ :

پہلے دن(17نومبر) گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔ جس میں حفاظتی اقدامات کو بطورِ خاص ملحوظ خاطر رکھتےہوئے گاڑیوں کو ماہر مکینک، ٹیکنیکل ٹیم  اور ریس انتظامیہ کی زیر نگرانی خوب پرکھا گیا ۔ جن میں سے چند چیزیں تو ریس کا جزو لازم ہیں جیسے مضبوط رول کیج، ہارنسز، سپیشل قسم کی سپورٹس سیٹ، ہیلمنٹ، فرسٹ ایڈ باکس اورآگ بجھانے والا سلنڈر، یہ ایسی چیزیں ہیں جن کے بغیرگاڑی کو ریس میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا- حسبِ معمول تلاوتِ کلام الٰہی سے ریس کا باقائدہ آغاز  ہوا- کوالیفائنگ راؤنڈ بھی قابل دید تھا- کوالیفائنگ راؤنڈ میں ٹوٹل ستر (70) ڈرائیورز نےقسمت آزمائی کی- جن میں سے دوگاڑیاں الٹ گئیں خداکے فضل و کرم سے ڈرائیوراور معاون ڈرائیورز محفوظ رہے- جہاں جنون ہوجان کی پرواہ بھلا کون کرتا ہے باہمت ریسرز کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی- ریس کے دن گاڑی دوڑاکر ان نوجوانوں نےشائقین و ریسرز سب کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا- کوالیفائنگ راؤنڈ کا آغاز صبح 9بجے سےہوا جسکا ٹوٹل فاصلہ تین کلومیٹر تھا۔ جیپ ریلی میں سب کی نظریں نادر مگسی اور صاحبزادہ سلطان پر تھیں لیکن وقت تھا دل تھامنے کا۔ ہر کوئی منتظر اور اک عجیب تجسس کا شکار تھا کہ آج کا فاتح کون ہے؟ کون ہے جو سب سے کم وقت میں ٹریک مکمل کرتا ہے ؟ شائقین کا انتظار ختم ہوا اور کوالیفائنگ راؤنڈ کےنتائج کا اعلان ہوا کہ آج کے فاتح صاحبزادہ سلطان ہیں- جنہوں نے 01:35:96 میں پہلی پوزیشن اپنے نام کی- قاسم سیدھی 01:36:74 کے ساتھ دوسرے جبکہ میر نادر مگسی01:38:00 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے- کوالیفائنگ میں دس ٹاپ ڈرائیورز کے نام درج ذیل ہیں:

Seq.

Driver

Category

Rally Num

Final

Sahibzada Sultan

A

111

00:01:35.96

Qasim Saidhi

A

105

00:01:36.74

Nadir Magsi

A

107

00:01:38.00

Asad Khoro

A

109

00:01:38.73

Syed Asif Imam

A

120

00:01:38.89

Qadir Nawaz Sangi

A

108

00:01:38.93

Ronnie Patel

A

103

00:01:39.12

Anas Khakwani

A

102

00:01:39.47

Nauman Saranjam Khan

B

203

00:01:40.85

10. 

Zain Mehmood

B

201

00:01:40.94

ریس کا دن؛

ریس کو دو دنوں پر تقسیم کیاگیا تھا۔ پہلے روز سٹاک کیٹگری جبکہ دوسرے  دن موڈیفائیڈ گاڑیوں کو ریس کےلئےمیدان میں اتارا گیا- اسٹاک کیٹگری میں 29 گاڑیاں حصہ لینے میں کامیاب ہوئیں- 180کلومیڑ کےطویل اورکٹھن  ٹریک پر 12 چیک پوائنٹس بنائی گئی تھی۔ کوالیفائنگ راؤنڈ کم وقت میں طے  کرنے والےریسرز کو ریس کےدن پہلے دوڑنے کا اعزاز دیا جاتاہے- سب سے پہلے میدان میں اترنے والے آصف فضل چوھدری تھے -5 منٹ کے وقفہ سے احمد نوشیر ٹوانہ نے سٹارٹ  لیااسی طر ح ہر پانچ منٹ کےبعد ایک  گاڑی میدان میں دُھول اڑاتی نظرو ں سے اوجھل ہوجاتی-

دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہواؤں کا  بے باکی و دلیری سےسینہ چیرتے  تیز رفتاری کے پیچھےگرد و غبار کا طوفان اُڑاتے  یہ خطروں کے کھلاڑی  ٹریک مکمل کرنے کے لئے جوں جوں  فنشنگ لائن کی جانب بڑھتے شائقین کا جوش و خروش بھی آسمان کو چھونے لگتا۔ سب سے پہلے واپس آنے والے آصف فضل چوھدری، دس منٹ بعد منصور حلیم نے پھر یکے بعد دیگر ریسرزاپنی منزل تک پہنچتے رہے-

تھل جیپ ریلی کا آخری معرکہ بڑا دلچسپ رہا  Prepared پریپئرڈ کیٹگری میں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کوملا- پاکستان موٹر سپورٹس میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے  لیجنڈ  میر نادر مگسی اور   گزشتہ تھل جیپ ریلی کے فاتح  صاحبزادہ سلطان اور رونی پٹیل سمیت کئی نامور ریسرز  نے شرکت کی۔ رنگ برنگی گاڑیاں میدان میں اتریں۔ ریس ٹریک پر  موجود دُور دراز سے آئے شائقین کا جوش و خروش دیدنی تھا-

موڈیفائیڈ گاڑیوں کی ریس کا آغاز کرنے  "صاحبزادہ سلطان " جو کہ کوالیفائنگ راؤنڈ کے فاتح تھے سٹارٹنگ پوائنٹ سے پُر خطر ریتلے ٹیلوں  کے سفر کو نکلنے کے لئے تیار تھے- شائقین و مداحین کا جمع غفیر تھا جو  گزشتہ برس کے فاتحِ تھل کو بھرپور انداز میں الوداع کرنے کے لئے ٹریک کےدونوں اطرف میں موجودتھے،جنہیں فلیگ آف اعجاز بٹ (مینیجر ٹورایزم ڈیولپمنٹ کارپریشن آف پنجابTDCP)نے کیا۔ ریس کے باضابطہ آغازکے بعد یکے بعد دیگرے 5 منٹ کے وقفہ سے ریسرز  جیت کا عزم لئے میدان میں اترتے رہے۔ تیسرے نمبر پر میر نادر مگسی کی گاڑی مقابلے کےلئے روانہ ہوئی۔

وقت  کا بے لگام گھوڑا  برق رفتاری سےدوڑرہا تھا۔ سب کی نظریں بے تابی سے دور سے دور دیکھنے کی کوشش میں تھیں۔ شدتِ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں دور سےنظر آتی  گردو غبار کو دیکھ کرشور اٹھا۔ گاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا سب سے پہلے پہنچنے والے لیجینڈ میر نادر مگسی تھے جنہوں نے اپنا یہ کٹھن سفر 02:17:05:55 میں پایہ تکمیل کو پہنچایا تھا ، فنش پوائنٹ ریلی کے فاتح کے پہنچتے ہی تالیوں کے شور سے گونج اٹھا -ابھی ٹھیک سے منظر صاف نہیں ہوا تھا کہ ایک دفعہ پھر شورِبیکراں بلند ہو ا اور تھل کی خاموش فضاء ٹیم سلطان زندہ باد، صاحبزادہ سلطان زندہ باد کے پُرکیف نعروں سے گونج  اٹھی- صاحبزادہ سلطان نے ڈرائیور سائیڈ کا اگلا ایک ٹائر برسٹ ہونےکے باوجود 40کلومیٹر تک تین ٹائروں پر گاڑی دوڑا کر ماہر ریسرز کوحیران کردیا- کسے معلوم کے آج تھل میں تاریخ رقم ہونے والی ہے شائقین کا ایک ہجوم ورطہ حیرت میں مبتلا جس نے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا- صاحبزہ سلطان نے ثابت کیا کہ حوصلے بلند ہوں تو کچھ ناممکن نہیں - 180 کلو میٹر لمبا ٹریک ڈرائیورز کے لئے انتہائی دشوار اور خطرناک ثابت ہوا، پاکستان موٹر ریلی کے کئی نامور ریسرز کی گاڑیاں دشوار ٹریک کا مقابلہ نہ کرسکیں-

ریس میں تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے :

اے پریپئرڈ: (1) میر نادر مگسی(2) صاحبزادہ سُلطان (3) انس خان خاکوانی

اے سٹاک : (1) آصف فضل چوھدری (2) منصور حلیم (3) بابرخان

بی پریپئرڈ: (1) نوابزادہ عامر مگسی (2)نعمان سرانجام (3) میاں شبیر احمد آف بھرچنڈی شریف

بی سٹاک: (1) میاں شکیل احمد آف بھرچنڈی شریف (2) سجاد قریشی (3) محمد بلال چوھدری

سی پریپئرڈ: (1)میاں رفیق احمد آف بھرچنڈی شریف (2) گوہر سانگی (3) ڈاکٹر نوراللہ قمر

سی سٹاک: (1)احمدنوشیروان ٹوانہ (2) اسداللہ مروت (3) سید مبین احمد

ڈی پریپئرڈ: (1)امین اللہ  (2)ظفرخان بلوچ (3)عبدالرزاق

ڈی سٹاک: (1)ارباب علی(2)مہر حسن داد  (3)مہر عمر حیات

ویمن: (1)توشنہ پٹیل (2)مومل خان

مِڈپوائنٹ:

اِس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں اگر لیہ انتظامیہ  کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی- مِڈپوائنٹ پرہر گاڑی کےقیام کےلئے 20 منٹ کا وقت متعین کیاگیا۔ یہاں رنگا رنگ تقریبات کا پر وقار انتظام تھا- سیکیورٹی کےسخت انتظامات پاکستان آرمی اور پولیس کے نوجوان کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کےلئے چوکس کھڑے تھے- مقامی چھٹی ہونے کی وجہ سے شائقین کی کثیر تعداد یہاں موجودتھی- ریلی کوچار چاند لگانےکےلیے تھل میلے کا انعقادکیاگیا۔ شائقین کے ملی جذبے کو ابھارنے کےلئےقومی ترانہ پڑھا گیا جبکہ پولیس بینڈ کی جانب سےسلامی پیش کی گئی- شائقین نیزہ بازی، گھوڑا ڈانس، اونٹ ڈانس، والی بال میچ اورکبڈی جیسے خوبصورت  و شاندار مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ مختلف یونیورسٹیز ،کالجز اور سپیشل ایجوکیشن سنٹر چوبارہ کے بچوں نے ٹیبلوز ،جھومراور خاکے پیش کیے-

تقریبِ تقسیم  انعامات:

شام کے وقت پوزیشن حاصل کرنے والے ریسرز کے اعزاز میں مظفر گڑھ اسٹیڈیم کے الفیصل حال میں تقریب انعامات کا پروگرام منعقد کیا گیا- ریسرز کے لئے پُر تکلف کھانے کا اہتمام کیاگیا- پاکستان موڑر ریلی میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے ولے لیجنڈ میر نادر مگسی کے سر فتح کا سہرا سجا- 2016 ء کے چیمپئن صاحبزادہ سلطان دوسرے جبکہ انس خاکوانی تیسرے نمبر پر رہے۔

تھل جیپ ریلی کے کامیاب انعقاد پر TDCPاور مظفر گڑھ، لیہ انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ