موٹر سپورٹس کی تاریخ( قسط دوئم)
Blog Single

 

موٹر سپورٹس کی تاریخ( قسط دوئم)

حمزہ افتخار

جیسا کہ گزشتہ قسط میں بھی میں نے کہا تھا کہ الیکٹرک انجن اور پہیے کے ملاپ نے دنیا کی رفتار تیز کر دی ، پہیہ لکڑی سی ربڑ پہ آگیا ۔ اس ترقی نے سفر کی رفتار کیساتھ ساتھ زندگی کی رفتار کو بھی عروج پہ پہنچا دیا ، پیدل دوڑ اور گھڑ دوڑ کیساتھ اب پہیوں کی دوڑ بھی شروع ہونے کو تھی جس سے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہونے جا رہا تھا ۔ دنیاکا سب سے پہلا موٹر ریسنگ ایونٹ  1894ء میں "پیرس سے روین " تک منعقد ہوا،جس کا ذکرآرٹیکل کی پہلی قسط میں کیا گیاتھا۔ ابتدائی ریس سے لے کر آج تک موٹر ریسنگ کےاصول و ضوابط کافی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔ باالفاظ دیگر موٹر سپورٹس بہت سے ارتقائی مراحل سے گزرچکی ہے۔ زیر نظر مضمون میں ہم ان پانچ ریسوں کا ذکر کریں گئے جنہیں موٹر سپورٹس کی تاریخ میں سنگِ میل  (Milestone)کی حیثیت حاصل ہے۔

جن میں مندرجہ زیل شامل ریسز ہیں؛

1.     گورڈن بینٹ  ریسز (Gordon Bennett Races) 1900ء-1905ء

2.     دی وینڈربِلٹ کپ(The Vanderbilt Cup)1904ء-1968ء

3.     تورگا فلوریو(Targa Florio)1906ء-1977ء

4.     پِکنگ پیرس ریس(Peking-Paris Race)1907ء

5.      نیو یارک پیرس ریس(New York-Paris Race)1908ء

Ø    گورڈن بینٹ  ریسز(Gordon Bennett Races)

'گورڈن بینٹ  ریسز'  دنیا کی سب سے پہلی بین الاقوامی ریس  شمارہوتی ہے۔ جن کی شروعات نیو یارک ہیرالڈ “New York Herald” کے کروڑ پتی مالک گورڈن بینیٹ  نے1899ء میں کی۔ یورپ میں ہونے والی اس ریس کا یہ اہم دستور تھاکہ ریس میں حصہ لینے والی تمام گاڑیاں انہیں  ممالک کی ہوں جن کی وہ نمائندگی کر رہی ہیں ۔ اس ضابطے کا اطلاق صرف یہیں تک محدود  نہ تھا بلکہ یہ بھی شرط لگائی گئی تھی کہ گاڑی کا ہر حصہ اسی ملک کا ہو۔ البتہ اس سیریز نے اپنی انفرادیت کےباعث موٹر سپورٹس کی شروعات اور شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔ گورڈن بینٹ ریسز کل چھ منعقد ہوئیں  اورآخری ریس 1905ءمیں ہوئی۔ ان ریسزمیں  برتری حاصل کرنےوالےکامیاب ملک فرانس نے تین ریسزمیں کامیابیاں حاصل کیں، دوسرے نمبر پر برطانیہ ، جبکہ تیسرے نمبر پر جرمنی کی مرسیڈیز رہی۔

Ø     دی وینڈربِلٹ کپ(The Vanderbilt Cup)

بیسویں صدی کے آغاز میں اکثر ریسز یورپ میں منعقد کی جارہی تھیں تو ایک امریکی موٹر سپورٹس کے دلدادہ "ولئیم  کسام وینڈربِلٹ جونیئر(William Kissam Vanderbilt Junior)نے اسی طرح کی ریسزز اپنے ملک میں کروانے کی خواہش ظاہر کی۔جس کےلئےوینڈربِلٹ جونیئرنے دی وینڈربِلٹ کپ(The Vanderbilt Cup) 1904ء میں منعقد کروایا۔ یہ کپ امریکی موٹر سپورٹس کی پہلی تاریخی ٹرافی ہے۔ بہت سارے  سیاسی اور قانونی مسائل کے باوجود وینڈر بِلٹ غالب رہا۔ 1916ء تک یہ کپ امریکہ کے مختلف شہروں میں ہوتا رہا،لیکن 1916ءمیں انسانی تاریخ  میں غضبناک واقعہ  پہلی جنگِ عظیم کی صورت میں رونماہوا جس میں امریکہ کی شرکت کے باعث جنگ کے دوران وینڈربِلٹ کپ روک دیا گیا۔ 1936ء میں وینڈربِلٹ کے بھتیجے ، جارج واشنگٹن وینڈربِلٹ سوئم(George Washington Vanderbilt III)  نے اس کپ میں دوبارہ جان ڈالی اور تین سو میل  لمبی ریس  کو سپانسرکیا۔  بد قسمتی سے امریکہ میں کم دلچسپی اور اندرونی مقابلہ کی وجہ سے یہ کپ زیادہ دیر تک نہ چل سکا اور 1968ء میں اس کپ کوسرکاری طور پر ختم کر دیا  گیااوربریج ہمپٹن سپورٹس کارریسز"Bridgehampton Sports Car Races"میں ضم کردیاگیا۔

Ø    تورگا فلوریو(Targa Florio)

دنیا کی سب سے پرانی انڈیورنس (Endurance)ریسزمیں سےایک تورگا فلوریو(Targa Florio) ہے۔ جسے 1906ء میں اٹلی کے ریس ڈرائیور وِن سنزی فلوریو (Vincenzi Florio) نے منعقد کیا۔ یہ ریس اٹلی کےشہر  Sicilyکے قریب 72کلو میڑ کے فاصلے پر محیط سرکٹ پر منعقد گئی جس میں شریک ڈرائیورز کو پہاڑوں سےگزرتی ،بل کھاتی مشکل اور پرکٹھن سڑکوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ ریس 1925ءتک جب لی مانز24 ہاور(Le Mans 24Hour)اورملی مغلیا(Mille Miglia)کےمتعارف ہونے سے پہلےتک یورپ کی سب سے بڑی اور مشہور ریسز میں سے ایک شمار کی جاتی تھی ۔ (جن دونوں کو اگلی قسط میں زیر بحث لایا  جائے گا ) ۔ تورگا فلوریو کی دیگر ریسز کے مد مقابل ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس ریس میں دنیا بھر سے مختلف ریسنگ چیمپئین  شرکت کرتے تھےجن میں مشہور ترین فارمولا ون چیمپئین جوآن مونئول  فانگیو (Juan Manuel Fangio)اور سٹرلنگ ماس (Stirling Muss) شامل تھے۔ تورگافلوریوکی آخری ریس بین الاقوامی سطح پر 1973ء میں منعقد ہوئی جسے 1977ء میں قومی سطح پہ ایک جان لیوہ حادثے کے بعد بندکردیاگیا۔ اطالوی گاڑیاں  بنانےوالی کمپنی پورشے  (Porsche)نےتورگافلوریو ریس میں کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اپنی گاڑی 911کا نام اسی ریس کے اعزاز میں" تورگا" رکھا۔

Ø    پِکنگ پیرس ریس(Peking-Paris Race)

موٹر  سپورٹس  کی تاریخ  میں سب سے مشہور ریس کی بنیاد پیرس کے اخبار “Le Martin”نے رکھی۔ مذکورہ اخبار میں سوال اٹھایا گیا کہ کون سی گاڑی اس قابل ہے کہ  چین اور فرانس تک  سفر کرسکے؟

"What needs to be proved today is that as long as a man has a car, he can do anything and go anywhere. Is there anyone who will undertake to travel this summer from Peking to Paris by automobile?"

اس ریس کا کل فاصلہ پندرہ ہزار کلومیٹرپر مشتمل  تھا، جسے1907ء میں ایک ناممکن چیلنج سمجھا جاتاتھا۔ موٹر سپورٹس کے ترقیاتی مراحل میں گاڑیاں خود ایک نئی ایجاد تھیں اور لوگوں کا رجحان گھوڑوں  اور اونٹوں کی سواری پر زیادہ ہوتاتھا۔ ان تمام حقائق کے باوجود  ریس میں پانچ بہادر،جگرے والے ، شیر دل اور دلیر ڈرائیورز نے حصہ لیا۔ یہ ریس چین کے شہر بیجینگ ( جس جواُس وقت پیکنگ کہا جاتا تھا) سے شروع ہو کر پورے ایشیاء اور یورپ کو پار کر کے فرانس کے شہر پیرس میں ختم ہوئی۔ ان پانچ گاڑیوں میں ایک ہو لینڈ کی ڈچ اسپائکر،ایک کنٹل 3 ویلر ،  دو فرانس کی دی دیون اور ایک اٹلی کی 120 ہارس پاور اِٹالا(120 HP Itala)جس کو چلانے والےاٹلی کے پرنس اسکائیپیون  بورغیس تھے۔ پندرہ ہزار کلو میٹرپر مشتمل مشکل ترین فاصلہ طے  کرنے کے بعد فرانس تک پہنچنے میں کامیاب صرف دو گاڑیاں ہوئیں جن میں اٹلی  کی اٹالا نےپہلی اور ہولینڈ  کی  ڈچ اسپائکردوسرےنمبر پر رہی۔ جبکہ باقی تینوں گاڑیاں اپنا متعین فاصلہ طے نہ کرسکیں اورریس مکمل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ریس نےموٹر سپورٹس کی گاڑیوں میں مضبوطی کے لئے ایک مثال قائم کر دی۔ موٹر سپورٹس کی تاریخ میں  اس ریس کوآج بھی اعلیٰ مقام  حاصل  ہے جس کے بعد دنیا بھر میں لوگوں کاگاڑیوں پر اعتماد اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔

Ø    نیو یارک پیرس ریس(New York-Paris Race)

پِکنگ ریس کے بعد باقی رہ جانے والے سوال اور شک و شبہات کو1908ء میں منعقدہ ریس "نیو یارک پیرس ریس "نے دور کر دئیے۔ یہ ریس پِکنگ پیرس سے بھی زیادہ مشکل اور طویل تھی۔ اس کی شروعات امریکہ کے شہر نیو یارک سے ہوئی، جس کے بعد ہر گاڑی کو پورا امریکا  کراس کرکےمغرب کی طرف روانہ ہونا تھا جہاں سےجاپان ، روس ، اور پھر فرانس پہنچنا تھا ۔اس طویل سفر کے دوران ڈرائیوروں کو مختلف اور مشکل اقسام کی سڑکوں اور خطرناک قسم کے موسم کا سامنا  کرنا پڑا۔اس ریس میں چار ممالک سے چھ اقسام کی  گاڑیوں  نے حصہ لیا جن میں امریکی ڈرائیور جارج شٹر(George Schuster)فتح سے ہمکنار ہوئے جوامریکی گاڑی یو ایس تھامس فلئیر(US Thomas-Flyer) چلا رہے تھے۔ اس ریس کی  شروعا ت فروری 1908ء اور اختتام جولائی کے آخر میں ہوا۔ اس سےبخوبی  اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ریس کتنی مشکل ،گھمبیر، اعصاب شکن اور طویل تھی۔ مندرجہ بالا پانچ ریسزنے موٹر سپورٹس کو نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن کیابلکہ موٹر سپورٹس سےلوگوں کومتعارف کروایا۔

آئندہ ماہ کےشمارے میں ہم ان پانچ ریسزز کا مطالعہ کریں گئے جنہوں نے موجودہ  آٹو ریسنگ کو تبدیل کیا۔

(جاری ہے)

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ