ریگستان کاچولستان:500آف روڈجیپ ریلی
رپورٹ؛عبدالباسط
چولستان ہماری ثقافتی اور تہذیبی روایات کا عکاس ہونے کی بدولت نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے بھی کشش کا باعث ہے۔ خوبصورتی دیکھنے والی آنکھ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کسی کے دِل میں نخلستان تو کسی کے قلب و روح پر ریگستان چھا جاتا ہے۔ ہرے بھرے شمالی علاقہ جات کی طرح قدرت نے صحرا کو بھی ایک منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے جو اپنے چاہنے والوں کے دِلوں کو اتنا ہی کیف و سرور عطا کرتا ہے جو سر سبز وادیاں اپنے عشاق پر نچھاور کرتی ہیں۔
چولستان کی ایک اپنی ہی نرالی اور اچھوتی دنیا ہے۔ اَیسی دنیا جو دل کی اجڑی ہوئی بستی کو آباد کر دیتی ہے اور روح کے سوتے ہوئے تاروں کو چَھیڑ دیتی ہے۔ چولستان میں چاندنی راتوں کے نظارے بہت دیدنی ہوتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے انسان کے چاروں طرف نور کا ایک جہاں بِکھرا ہو۔ غروبِ آفتاب کا منظر ایسے لگتا ہے جیسے صحرا آنکھیں بند کر رہا ہے۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ نے اپنی زندگی کے اٹھارہ سال اِس صحرا میں گزارے۔
صحرائے چولستان کا تعارف؛
صحرائے چولستان جیسے خوبصورت خِطے اپنی پہچان آپ ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں موجود صحرائے چولستان کو مقامی آبادی " روہی" کے نام سے پکارتی ہے۔ مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ نے بھی اپنی شاعری میں اِس خطے کو 'روہی' کا نام دیا ہے۔ آپ ؒنے ریت کی مناسبت سے اپنی شاعری میں جِس خوبصورت انداز سے لفظ ' روہی' کا اِستعمال کیا ہے، ہر سننے اور پڑھنے والا اُس کے سحر میں جَکڑا جاتا ہے اور اپنے آپ کو اُسی صحرا میں محسوس کرتا ہے۔ جیساکہ آپ فرماتے ہیں؛
وچ روہی دے رہندیاں
نازک نازو جٹیاں
راتیں کرن شکار دِلاں دے
ڈینہاں ولوڑن مٹیاں
خطہ کی مقامی بولی میں " روہ " پہاڑ کو کہتے ہیں۔ چونکہ چولستان میں جدھر بھی نظر دوڑائی جائے تو ریت کے ٹیلے پہاڑوں کا سا منظر پیش کرتے ہیں اِس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اِسے اِسی حوالے سے " روہی " کا نام دیا گیا ہو۔
لفظ " چولستان" تُرکی لفظ 'چول' سے لیا گیا ہے جِس کے معنی "صحرا" کے ہیں۔ اِس لفظ کے بارے کئی توجیہات پیش کی گئی ہیں جِن کے بارے مختلف روایات ملتی ہیں۔ کِسی زمانے میں اِسے " چولن " بھی کہا جاتا تھا۔ کیونکہ تندو تیز آندھیاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو ایک جگہ سے اُڑا کر دوسری جگہ لے جاتی تھیں۔ اکھاڑ بچھاڑ کے اِس عمل کو چولن کہا جاتا ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ لفظ چولستان ایک عراقی لفظ ' چیلستان ' کی بگڑی ہوئی شکل ہے جِس کے معنی ہیں ' بے آب و گیاہ وادی' ۔ مقامی زبان سرائیکی میں "چھول" لہر کو کہتے ہیں اِسی انداز سے اَگر لفظ 'چھولیاں' ادا کیا جائے تو وہ اَپنے آہنگ کے اعتبار سے لفظ ' چولستان ' کے قریب تر ہے۔
اِسی طرح مقامی روایات کے مطابق لفظ چولستان کا ماخذ 'چولی' ہے جِس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چولستان کی عورتیں چونکہ گھاگرے پر کَسی ہوئی چولی پہنتی ہیں جو کہ شکل و شبہات میں اِس خطہ کے رَیت کے ٹِیلوں سے ملتی ہیں اس لئے اِسے چولستان کہا جاتا ہے۔
چولستان کا محلِ وقوع؛
چولستان بہاولپور سے جنوب مغرب میں کم و بیش 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ جِس کا رقبہ سولہ ہزار (16000) مربع کلو میٹر ہے۔ یہ علاقہ صحرائے تھر (جنوب مشرق میں بھارتی ریاست راجھستان اور مغرب میں سندھ) سے جا ملتا ہے۔ چولستان تین اضلاع پر مشتمل ہے جس میں بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان شامل ہیں۔
تاریخِ چولستان ؛
مورخین کے مطابق چولستان کے صحرا میں کِسی زمانے میں 400 قلعے موجود تھے جِن کی تین قطاریں تھیں۔ پہلی قطار پھولرا سے شروع ہو کر لیرا تک، دوسری رکن پور سے اسلام گڑھ جبکہ تیسری بیکنار سے کپو تک تھی۔ اِن کی دیواریں جپسم اور گارے سے تعمیر کی گئی تھیں۔ جِن میں کچھ کا وجود ایک ہزار قبل مسیح کا پتہ دیتا تھا۔ اِس کا مشہور و معروف مقام قلعہ دیراوڑ (ڈیراول) ہے جسے قلعہ ڈیر اور سنگھ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے 49 کلومیٹر کی مسافت پر صحرا کے وسط میں موجود ہے۔ 220 میٹر کے اِس چوکور قلعہ میں 40 برج ہیں۔ اِس قلعہ میں ایک سرنگ بھی موجود ہے جو اپنے عروج کے زمانہ میں براستہ جیسلمیر، دہلی تک جاتی تھی۔ قلعہ کی دیوار کے ساتھ ایک نالہ موجود ہے جس کے بارے مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ دریائے ستلج کی ایک شاخ تھی۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہ قلعہ ریاست جیسلمیر کے راجہ کی ملکیت تھا جِسے اُس کے بھانجے نے تعمیر کروایا۔ جبکہ اِس قلعہ کی دوبارہ تعمیر نواب محمد بہاول خان اول نے 1733 میں کروائی اوراِس قلعہ کو پوری طرح اَپنی عمل داری میں لینے کے بعد اِس کے اندر اور باہر دو عالیشان مساجِد تعمیر کروائیں۔ نواب کی دین سے محبت کا عالم یہ تھا کہ مرکزی داخلی دروازے کے عین سامنے وسیع و عریض مسجد کا محراب بنوایا اور قلعے کے قریب واقع قبرستان بھی اگر تعمیرات کا نادر نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
یہاں موجود ڈیر اور مسجد کم و بیش سو برس قبل تعمیر کی گئیں ہیں جِن میں ماربل استعمال ہوا جبکہ اِن کا طرزِ تعمیر لال قلعہ اور کِسی قدر بابری مسجد سے مشابہت رکھتا ہے۔ اِس کے علاوہ یہاں موجود چنڈر پِیر کا مزار پورے علاقے میں ایک روحانی مقام کا درجہ رکھتا ہے۔
بودوباش؛
چولستان میں پانی کی قِلت رہتی ہے اور لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ پانی اور جانوروں کے چارے کی تلاش میں نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ بیشتر آبادی کا انحصار اِن جانوروں سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہوتا ہے۔خاص طور پر فروری اور جولائی کے درمیان لوگ پانی کی تلاش کے لئے ٹوبوں (جوہڑوں) کا رُخ کرتے ہیں جو بارش کا پانی اِکٹھا ہونے سے وجود میں آتے ہیں۔
چولستانی معیشت کا انحصار زیادہ تر گائے، بکریوں، بھیڑوں پر کیا جاتا ہے مگر موسم سرما میں مختلف قسم کی دستکاریاں اور مٹی کے برتن بنائے جاتے ہیں جِن کے لئے احمد پور شرقیہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
چولستانی خواتین بھی خاص قسم کے زیورات سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں جِن میں نتھ، کٹ مالا، کنگن اور پازیب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ چولستان میں بولا جانے والا لہجہ مارواڑی ہے جو اَپنے اندر بہت سارے تاریخی اور جغرافیائی عوامل کو ظاہر کرتا ہے۔
علاقائی خصوصیات؛
چولستان کےزِیریں علاقے کو " ہاکڑہ" کہتے ہیں جہاں خود رو جھاڑیاں اور پودے مثلا سر، تیلے، سرکانے، سروٹ اور ملھے جیسے نباتات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اِس علاقے کے ٹیلوں کی بلندی دو سو فٹ تک ہوتی ہے۔ آندھیوں اور طوفانوں سے ٹیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سرکتے اور مختلف شکلیں اختیار کرتے ہیں جن میں ایک شکل ' برخان ' کہلاتی ہے۔ اِس قسم کے ٹیلے شکل و شباہت میں پہلی تاریخوں کے چاند سے مماثلت رکھتے ہیں۔
چولستان میں ہرسال قلعہ دیراوڑ کے قریب منعقد ہونے والی جیپ ریلی پاکستان سمیت دُنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے اور لوگ اِن خوبصورت، دِلفریب، تاریخی اور حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں۔
چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی
صوبہ پنجاب کے صحرائے چولستان کی علاقائی ثقافت اور تاریخی مقامات کو پوری دنیا میں دکھانے اور سیاحوں کو اِن ریت کے ٹیلوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) کی طرف سے یہاں طرح طرح کے ایوینٹس منعقد کئے جاتے ہیں۔ جِن میں ہر سال قلعہ دیراوڑ پر منعقد ہونے والی جیپ ریلی اپنی نوعیت کی ایک خاص تقریب ہے جِس میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی ریسرز بھی شرکت کرتے ہیں اور ڈرائیونگ کے جوہر دکھاتے ہیں۔
اِس سال بھی یہ ریس 16 تا 19 فروری چولستان کے قلعہ دیراوڑ کے قریب منعقد ہوئی جِس کا ٹریک 450 کلومیٹر لمبا اور تین اضلاع (بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان) پر مشتمل تھا۔ اِس ریس میں ملک بھر سے 100 سے زائد جبکہ کینیڈا اور تھائی لینڈ سے بھی غیرمُلکی ریسرز نے حصہ لیا۔
تیرہ برس قبل ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) نے افواجِ پاکستان کی مُعاونت سے اِس کام کا بیڑہ اُٹھایا، تب سے اَب تک یہ ریلی نہ صرف کامیابی سے جاری ہے بلکہ اِسکی مقبولیت اور اَثر انگیزی میں مسلسل اِضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری سطح پر یہ ریلی ایک روایت اور چولستان کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔
جیپ ریلی کوالیفائنگ راؤنڈ؛
پہلے دن گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔ جس میں حفاظتی اقدامات کو بطورِ خاص ملحوظ خاطر رکھتےہوئے گاڑیوں کو ماہر مکینک، ٹیکنیکل ٹیم اور ریس انتظامیہ کی زیر نگرانی خوب پرکھا گیا ۔ جن میں سے چند چیزیں تو ریس کا جزو لازم ہیں جیسے مضبوط رول کیج، ہارنسز، سپیشل قسم کی سپورٹس سیٹ، ہیلمنٹ، فرسٹ ایڈ باکس اورآگ بجھانے والا سلنڈر، یہ ایسے لوازمات ہیں جن کے بغیرگاڑی کو ریس میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا- حسبِ معمول تلاوتِ کلام الٰہی سے ریس کا باقائدہ آغاز کیا گیا - کوالیفائنگ راؤنڈقابل دید تھا۔ جیپ ریلی میں سب کی نظریں سٹار ڈرائیورز خاص طور پہ میر نادر مگسی اور صاحبزادہ سلطان پر تھیں۔ ہر کوئی منتظر اور اک عجیب تجسس کا شکار تھا کہ آج کا فاتح کون ہے؟ کون ہے جو سب سے کم وقت میں ٹریک مکمل کرتا ہے؟ شائقین کا انتظار ختم ہوا اور کوالیفائنگ راؤنڈ کےنتائج کا اعلان ہوا جِس میں دس ٹاپ ڈرائیورز کے نام درج ذیل ہیں:
نادر خان پہلے، ملک قادر نواز سانگی دوسرے، زین محمود تیسرے، صاحبزادہ سلطان چوتھے، اسد کھوڑو پانچویں، آصف فضل چوہدری چھٹے، نعمان سرنجان خان ساتویں، قاسم سَیدِھی آٹھویں، جعفر مگسی نویں اور میاں شکیل احمد دسویں نمبر پر رہے۔
جیپ ریلی کےنتائج؛
چولستان جیپ ریلی کا آخری معرکہ بڑا دلچسپ رہا Prepared پریپئرڈ کیٹگری میں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کوملا- پاکستان موٹر سپورٹس میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے لیجنڈ میر نادر مگسی اور گزشتہ کئی ریلیز کے فاتح صاحبزادہ سلطان اور کئی نامور ریسرز نے شرکت کی۔ جب رنگ برنگی گاڑیاں میدان میں اتریں تو ریس ٹریک پر موجود دُور دراز سے آئے شائقین کا جوش و خروش دیدنی تھا-
موڈیفائیڈ گاڑیوں کی ریس کا آغاز کوالیفائنگ راؤنڈ کے فاتح سے ہوا جو کہ سٹارٹنگ پوائنٹ سے پُر خطر ریتلے ٹیلوں کے سفر کو نکلنے کے لئے تیار تھے- ریس کے باضابطہ آغازکے بعد یکے بعد دیگرے 5 منٹ کے وقفہ سے ریسرز جیت کا عزم لئے ٹریک پر رواں دواں دکھائی دیے ۔
وقت کا بے لگام گھوڑا برق رفتاری سےدوڑرہا تھا۔ سب کی نظریں بے تابی اور دور سے ہی دیکھنے کی کوشش میں تھیں۔ شدتِ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور گاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے پہنچنے والے لیجنڈ میر نادر مگسی تھے جنہوں نے اپنا یہ کٹھن سفر دورانِ ریس گاڑی اُلٹ جانے کی وجہ سے بمشکل طے کیا جبکہ کچھ ہی سیکنڈ کے فرق سے صاحبزادہ سلطان نے بھی فنشنگ لائن عبور کر کے دوسری پوزیشن اپنے نام کی۔ 450 کلو میٹر لمبا ٹریک ڈرائیورز کے لئے انتہائی دشوار اور خطرناک ثابت ہوا، پاکستان موٹر ریلی کے کئی نامور ریسرز کی گاڑیاں دشوار ٹریک کا مقابلہ نہ کرسکیں-
ریس کی تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے :
اے پریپئرڈ: (1) میر نادر مگسی (2) صاحبزادہ سُلطان (3) جعفر مگسی
اے سٹاک : (1) منصور حلیم (2) نوشیروان ٹوانہ (3) نور نبی
بی پریپئرڈ: (1) فیصل شادی خیل (2) محمد اویس خاکوانی (3) اسد شادی خیل
بی سٹاک: (1) زارین مگسی (2) میاں افضل حق (3) سجاد قریشی
سی پریپئرڈ: (1) میاں رفیق احمد (2) گوہر سانگی (3) عامر انور
سی سٹاک: (1) سید مبین احمد (2) حسن جھاندر (3) حارث خان
ڈی پریپئرڈ: (1) ظفر خان بلوچ (2) شاہین اقبال (3) فلک شیر
ڈی سٹاک: (1) اریب حیدر (2) غلام فرید (3) مجاہد فرید جوئیہ
ویمن کیٹگری: (1) توشنہ پٹیل (2) عاصمہ رضا صدیقی (3) مومل سعید
تقسیمِ اِنعامات؛
جِیپ ریلی کے اِختتام پر رنگارنگ تقریب منعقد ہوئی جِس کے آغاز پر تقریبا نصف گھنٹہ آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہر طرف رنگوں کی بہار دیکھنے کو ملی۔ تاریخی قلعہ دیراوڑ کو رنگ برنگے برقی قمقموں سے سجایا گیا اور اِس کے صدر دروازے کے سامنے کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جِس میں علاقائی و ملکی لوک فنکاروں اور گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر انفارمیشن اینڈ کلچر تھے۔ اِس موقع پر ڈپٹی کمشنر بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور، مینیجنگ ڈائریکٹر ٹی ڈی سی پی، تحصیل اور ضلعی افسران سمیت شائقین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جِن کی موجودگی میں جیتنے والے ریسرز کو انعامات اور ٹرافیاں دی گئیں۔ پاکستان آرمی، پنجاب رینجرز اور پنجاب پولیس کے سینکڑوں جوان ٹریک کی 11 چیک پوسٹوں اور شاہراؤں پر عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے مصروفِ عمل رہے جس کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جو کہ واقعی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ریلی کے یہ دن عید کا سا سماں باندھے ہوئے تھے، ہر چہرہ کِھلا کِھلا، ہر رنگ نِرالا، مسکراہٹیں اور قہقہے جو یادگار کے طور پر آنے والوں کے دلوں پر ثبت ہو کر رہ گئے۔ اِس ریلی کی وجہ سے مقامی باشندوں کو جہاں معاشی سرگرمیوں کے مواقع میسر آئے وہیں خِطے کی ثقافت بھی قومی منظر نامے پر نمایاں ہوئی۔ پاکستان کے مثبت اور خوبصورت چہرےکو دنیا میں متعارف کروانے اور لوگوں کو سستی اور معیاری تفریح فراہم کرنے کیلئے چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی جیسے فیسٹیول اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔