ٹریفک اور روڈ سیفٹی (قسط سوئم)
سردیوں میں دھند اور حادثات کااضافہ
افضل عباس خان
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں دیگرمسائل کے ساتھ ٹریفک کے مسائل بھی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ پاکستان کےہر صوبہ میں ٹریفک پولیس موجود ہونےکےباوجود ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہوتا نظرنہیں آتا۔ عموماً ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عادی مجرم اس بات سے مطمئن نظر آتے ہیں کہ پولیس اہلکارکو رشوت دے کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سےبچ نکلیں گےجبکہ حقیقت بھی مذکورہ صورتِ حال سے مختلف نظر نہیں آتی۔ یہی لوگ بعض اوقات اوور سپیڈ اور اوور لوڈنگ (Over speed or over loading) پر قوانین کی دھجیاں اُڑانے کے عوض پولیس اہلکاروں کو معمولی سا معاوضہ ادا کرنےسے نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہیں بلکہ سڑکوں کی توڑ پھوڑ کے علاوہ سنگین حادثات کا سبب بھی بنتے ہیں۔ لہذا! ٹریفک پولیس کا نظام ہمارے ملک میں توجہ طلب ہے۔ جن ممالک میں قانون کی بالادستی ہو اس ملک میں جرائم اور حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہو تی ہے۔ مہذب قومیں قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں کہ کسی بھی صورت میں قانون سے رعائت اوراستثنیٰ ملنا ناممکن ہےاور خلافِ جرم عمل پرانہیں سزا ضرور ملے گی۔ ایسی صورتِ حال میں ہرشہری قانون کے نفاز کویقینی بناتا ہے۔ مگر رشوت کے ناسور اور سفارش کے کلچرنےہما رےنظام کو تباہ کردیا ہےاور پولیس کی بے بسی پررونا آتا ہے جب بغیر نمبر پلیٹ مو ٹر سائیکل سوار فون پر بات کروا کر پولیس والے کو ڈانٹتا ہوا چلا جاتا ہے ۔
(آئے ہے بے بسی ء عشق پہ رونا غاؔلب)
کوئی بھی قوم صحیح معنوں میں ترقی پذیر سے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑی نہیں ہو سکتی جب تک مکمل طورپر قانون کی بالادستی پریقین اوراسے نافذالعمل نہ کرلے۔ باالفاظ دیگرقوموں کے تہذیب یافتہ اورترقی یافتہ ہونےکا انحصارقانون کی پاسداری پر ہے۔ بالادستیِ قانو ن کے لئے ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے جرم کی سزا سے خلاصی پانےکیلئے قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ اور اپنا جرم چھپانے اور سزا سے بچنے کیلئے سفارش، رشوت اور دیگر اوجھے ہتھکنڈوں کے استعمال سے گریزکریں۔
ملکِ پاکستان میں ٹریفک کے دیگر مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ دھند ((Fog کا بھی ہے۔
پاکستان میں موسمِ سرما کے آغاز اور اختتام میں کچھ عرصے کیلئے دھند پڑتی ہے۔اس محدود دورانیےمیں ٹریفک کے حادثات میں کافی اضافہ ہوتاہے۔ زیر نظرمضمون میں اس موضوع پر تفصیلاً بحث کی جائے گی کہ دھند کیا ہے؟ کن حالا ت میں پیدا ہوتی ہے؟ اور دھند میں دوران ِسفر ٹریفک حادثات سے ہم خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟
دھند((Fog؛
دھند کونشیبی فضا میں تیرتے ہوئے بادلو ں کی ایک قسم سمجھا جا تا ہے جو اپنے قریبی آبی اجسام سے متاثر ہوتے ہیں ۔ سطح زمین کے بالکل قریب آبی بخارات اور بادلوں کی وجہ سے حدِ نظر بے حد کم ہوجاتی ہے۔ جامع تعریف میں دھند اس ابر آلود موسم کو کہتے ہیں جس میں حدِ نظر 100میٹر سے کم ہوتی ہے اور بادل دھوئیں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر فضا میں پھیل جاتے ہیں ۔ بادلوں میں شامل مرکبات، آبی بخارات اور برف کے ذرات ایک ہی حالت میں آجاتے ہیں ۔ اس حالت میں آبی بخارات کا انحصار پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں پر ہوتا ہے۔ سردی سے منجمد ٹھوس پانی سے نکلنے والے یہ قطرے دھوئیں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہ آبی قطرے دھند کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور یہ ہوا جب کسی گرم علاقے کے اوپر سے گزرتی ہے۔ تو یہ بخارات سطحِ زمین کے قریب آجاتے ہیں اور دھند کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔اس سے نہ صرف فضا ابر آلود ہو جاتی ہے بلکہ نیو کلیاتی مرکبات بھی فضا میں بڑھ جاتے ہیں جس سےدھند شدت اختیارکرلیتی ہے۔ دھند کی اس شدت سے حل پذیر گیسوں کا بھی فضا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور سلفیورک ایسڈ آپس میں مل کر کمزور محلول بنا لیتے ہیں جس سے فضا میں موجود حرارت میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
1۔ اس سے فضا کو ٹھنڈا کرنے میں مدد ملتی ہے
2۔ اس کے ملاپ سے ایسا محلول بنتا ہے جس سے گیسوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فضا میں دھند کے بننے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب گرم ہوا کسی نمی والے علاقے) (Wet Groundکے ساتھ ملتی ہے۔ یا پھر پانی کی سطح جو مختلف درجہ حرارت پرہو ان علاقوں کی ہوا اس سے ملتی ہے اور اس کے بعد گہری دھند اس وقت شروع ہوتی ہے جب پانی کا درجہ حرارت اوپر کی ہوا سے زیا دہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت کی وجہ سے دھند اور گہری ہو جاتی ہے۔ دھند اس وقت بھی آتی ہے جب ٹھنڈی ہوا گرم سطح سے حرکت کرتی ہوئی گزرتی ہے۔ اور یہی ہوا جب گیلی سطح سے گزرتی ہے تو بہت زیادہ آبی بخارات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور نیچے والی سطح میں دھند کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ تاہم یہ دھند آہستہ آہستہ بھاپ یا دھوئیں کی صورت میں اوپر اٹھنا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں تبدیلی آہستہ آہستہ دھند کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے اور اس تبدیلی سے حرکتِ ہوا میں بھی دباؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جب گرمی کی شدت میں کمی ہو تو ہوا زمین پر موجود شبنم کے قطروں پر اثر انداز ہو تی اور ان پر پھیل جاتی ہے۔ جس سے درجہ حرارت میں خاطر خواہ تبدیلی پیدا ہو تی ہے جو سردی کا سبب بنتی ہے۔
جدید ائر کرافٹ کو عام طور پر اگر ون وے کے اردگرد 600 میٹر سے کم یا زیادہ فاصلے پر دھند پھیلی ہو تو رن وے پر اترنے یا اُڑنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کم درجہ حرارت رکھنےوالے اکثر علاقوں میں دھند کے باعث سال کےکئی دنوں تک ذرائع آمد و رَفت متاثررہتی ہے۔ اگرچہ دھند کی درجہ بندی ایک مشکل عمل ہے۔ بحر حال اس کی ہوا میں موجودگی سیر شدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ عام طور پر روایتی عمل ایک ہی وقت میں بہت سےعوامل میں مصروف ہو تے ہیں اوران کی اہمیت مختلف اوقات اورمختلف ہو تی ہے۔ دھند کوختم کرنابہت مشکل عمل ہے۔ بہت سےعلاقوں میں دھند کی رفتا ر کا انحصار موسمی حالا ت پر ہو تاہے۔ وسطی علاقوں میں ہوا کے زیا دہ دباؤ کی وجہ سے وہاں پربھی صاف آسما ن اور واضح ہوا میں اکثر دھند ہو تی ہے۔
پاکستان میں دھند کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک کے مسائل :
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی سر زمین کو جہاں بے پناہ معدنیات کے ذخائر، زرخیز زمین، سر سبز لہراتے کھیت، بہتے دریا عطا فرمائے وہیں چار موسموں سے بھی نوازا ہے۔ جن سےیہاں کےباشندے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ موسمِ گرما میں لوگ گرمی سے بے پناہ گھبراتے ہیں تو وہیں موسمِ سرما کی سردی سے محظوظ ہوتے نظرآتے ہیں۔ لیکن قبل ازموسمِ سرما پاکستان میں چند ہفتوں پر محیط دُھند کا بھی راج ہوتا ہےجس میں منچلےلطف اندوز ہوتے ہیں اور شاعر اپنی شاعری سے مزید رنگ بھرتے ہیں؛
دھند کے گہرے سمندر سے نکل آیا میں
سب نے دیکھا مجھے، خود کو بھی نظر آیا میں
جہاں دُھند کےموسم میں حادثات کی شرح بڑھ جاتی ہے وہیں اس سر زمین پرلوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔ دُھند کے موسم میں پیش آنے والے ٹریفک کے مسائل کی وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:-
(1) آئی کیٹس ( (Eye Cats
دُھند میں حدِ نظر نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ آئی کیٹس نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کے کنارے صحیح نظر نہیں آتا جس سےگاڑی سڑک سے نیچے اُترنے پرحادثے کا شکار ہوجاتی ہے۔ اِن حادثات کی سب سے بڑی وجہ سڑک کنارے پر آئی کیٹس کا نہ ہونا ہے۔
(2) تیز رفتاری (Fast Drive)
دھند میں حادثات کی دوسری بڑی وجہ تیز رفتاری ہے۔ بعض منچلے ، دل جلے اور چٹکلے ڈرائیوردُھند میں اپنی سپیڈ کو کنٹرول نہیں کرتے اور معمول کی ڈرائیونگ کرتے ہیں جس سےنہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی حادثہ میں مبتلا کرتے ہیں ۔
(3) بغیر لائٹ کے گاڑیاں (Vehicle without lights) ؛
بعض اوقات سڑک پر ایسی گاڑیاں بھی سفر کررہی ہوتی ہیں جن کی لائٹس خراب یا پھر ان کی بیک پر((Reflection lights نہیں ہوتیں۔ جن کے نہ ہونے سے پیچھے آنے والی گاڑیاں دُھند میں دیکھ نہیں پاتیں اورحادثہ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ خصوصاً گدھا گاڑی، تانگہ، ٹرالی ٹریکٹر وغیرہ۔
(4) سڑک کنارے گاڑیوں کو کھڑا کر نا؛
موسمِ سرما میں جہاں دُھندشروع ہوتی ہے وہیں پر شوگر ملز کا سیزن بھی شروع ہو جاتا ہے۔ جس سے اکثر سڑکیں گنے کی ٹرالیوں سےبھر جاتی ہیں اورٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ جب دُھند پڑتی ہے تو سڑک کنارے کھڑی گاڑیاں خطرناک حادثات کا موجب بنتی ہیں۔ اکثر شوگر ملز مالکان کسی نہ کسی طرح حکومت میں شامل ہیں اس لئے وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں جو کہ ایک ایک قومی و اخلاقی جرم ہے ۔ اصولی طور پہ گنے کی ٹرالیوں کیلئے ملز کے قریب مل مالکان کو اپنے خرچے پہ الگ ٹریک بنانا چاہئے ۔ اور ان سے ٹیکس دہندگان کی قومی دولت سے بنائی گئی سڑکوں کا جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی اُن مل مالکان سے وصول کرنا چاہئے ۔
(5) سڑک کنارے جانوروں کی آمدورفت ؛
دُھند میں اکثر حادثات سڑک پر جانور سامنے آنے یا روڑپر ان کی موجودگی سےپیش آتے ہیں ۔ جس سےنہ صرف ایک جانور کی زندگی ضائع ہوتی ہے بلکہ حادثے کی وجہ سے گاڑی میں موجود جانیں بھی حادثے کا شکار ہوجاتی ہیں اور نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
(6) اندھا دُھند پیروی کرنا؛
دُھند کے دوران اکثر دَیکھنے میں آیا ہے کہ ایک گاڑی کے پِیچھےدوسری گاڑیاں قطار کی صورت میں چلتی ہیں ۔ جس کے باعث کافی حد تک گاڑی چلانے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ اِسی سہل پسندی کوبرقرار رکھنے کے لئےڈرائیورز گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ نہیں رکھ پاتے اور جب ایمرجنسی میں کسی گاڑی کی بریک لگتی ہے تو حدِ نظر کم ہونے کیوجہ سے اُس کے پیچھے آنے والی گاڑیاں حادثے کا شکارہو جاتی ہیں۔
(7) وِ نڈ سکرین؛
اکثر گاڑیوں کی وِ نڈ سکرین پر خراشیں اور دراڑیں ڈرائیورز کو دیکھنے میں دِقت پیدا کرتی ہیں۔ دُھند کےموسم میں ایسی گاڑیوں کی حالت اوربھی خراب ہو جاتی ہے۔ جس سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے جبکہ گاڑی میں ماحول کافی گرم ہونے کی وجہ سےصورتحال اوربھی ابتر ہوجاتی ہے جس سے سکرین بالکل دُھندلا جاتی ہے اور ایسی حالت میں حادثے کے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
دُھند میں مندرجہ بالا ٹریفک حادثات کے اسباب سے بچنے کے لئے چند بنیادی عوامل کو خاطر میں لانا ضروری ہے
(1) آئی کیٹس؛
مصروف شاہراؤں پر نہ صرف درمیان میں بلکہ کناروں پر بھی آئی کیٹس لگائے جائیں۔ جس سے دُھند کے دوران ڈرائیورز باآسانی سڑک کے کنارے کا اندازہ لگا سکیں۔
(2) تیز رفتاری؛
ٹریفک پولیس کودورانِ دُھند تَیز رفتار گاڑیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئےاورحد رفتار سے تجاوزکرنے والے ڈرائیورز کے لائسنس معطل کرنے کے ساتھ ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کئے جائیں۔ تا کہ تیز گاڑی چلانے والا کسی دوسرے کو اپنی تیز رفتاری سے حادثےکا شکار نہ کر سکے۔ مزید اس حوالے سے آگاہی سیمینارز کروا کر لوگوں پرتیز رفتاری کے نقصانات واضح کئے جا ئیں ۔
(3) لائٹس؛
معمول کے مطابق بالعموم اور دُھند میں بالخصوص گاڑیوں کی لائٹس کا درست حالت میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ دُھند میں بغیر لائٹس کے گاڑی چلانا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ٹریفک پولیس ایسی گاڑیوں پر دُھند کے دوران سڑک پر چلنے پر پابندی لگائے تا کہ ایسی گاڑیوں کی وجہ سے حادثات پیش نہ آئیں۔ گدھا گاڑیوں، ٹریکٹر ٹرالیوں اور دیگر ایسی گاڑیوں کی بیک سائیڈ پر ریفلیکٹ لائٹس لگوانی چاہئیں۔
(4) سڑک کنارے گاڑیاں کھڑی نہ کی جائیں؛
اکثر حادثات دُھند میں سڑک کنارے گاڑیوں کے کھڑا کرنے سے پیش آتے ہیں۔ تکنیکی خرابی کے باعث کھڑی گاڑی کےڈرائیورکوچاہیئے کہ پارکنگ لائٹس کو آن رکھے تا کہ پیچھے آنے والی گاڑیوں کو گاڑی کا ادراک ہو سکے۔ بغیر ریفلیکٹ لائٹس والی گاڑیاں سڑک سے دور کھڑی کی جائیں۔ شوگر ملز اپنے یارڈ میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کرنے کا معقول بند و بست کریں۔ دُھند میں گاڑیوں کو سڑک پر کھڑا کرنے پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں تا کہ حادثات پر قابو پایا جا سکے ۔
(5) سڑک پر جانوروں کی آمد کی روک تھام؛
عام شاہراہوں کے کناروں پر جانوروں کی آمد کوروکنے کےلئےباڑ لگائی جائےتا کہ جو حادثات اُنکی وجہ سے ہوتے ہیں اُن پر قابو پایا جا سکے۔ دوسری صورت میں اگر کوئی جانور مردہ حالت میں سڑک پر موجود ہو تو اُس کو فوری طورپر سڑک پر سے ہٹایا جائے تا کہ کوئی گاڑی حادثہ کاشکار نہ ہو۔ جانوروں کے سڑک پر آنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ مسافروں کا کھانےکی اشیاء کوسڑک کنارے پھینکنا ہےایسے افراد پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ دورانِ سفر ایسی چیزیں سڑک پر نہ پھینکیں اور ذمہ دار فرد ہونے کا ثبوت دیں ۔
(6) اندھا دُھند پیروی سے اجتناب؛
دُھند کے دوران گاڑی چلانا بڑا مشکل اور کٹھن عمل ہے۔ دُھند میں رفتار سے جانے والی گاڑی کے پیچھے مناسب فاصلہ رکھ کر چلنا چاہئے تا کہ ایمرجنسی بریک کی صورت میں حادثہ سے بچا جاسکے۔ ایسی صورت میں پیچھے آنے والی گاڑی کو بھی خیال رکھنا چاہیے اور آگے والی گاڑی میں موجود ڈرائیور پر اعتماد کرنے کے ساتھ خود بھی ٹریفک قوانین اور حفاظتی اقدام کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔
دُھند میں حادثات سے بچنے کے لئے کم سے کم سفرکرنا چاہیے۔ انتہائی ضرورت کے علاوہ سڑک پر پیدل چلنا کسی جانی حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا!سڑک پر غیر ضروری چلنےسے پرہیز کیا جائے۔ دُھند میں انتہائی ضروری سفرکی صورت میں اپنی گاڑی کی لائٹس پر پیلا پیپر یاپیلی لائٹس استعمال کریں۔ گاڑی کی وِ نڈ سکرین اچھی حالت میں صاف شفاف ہوجبکہ سکرین دُھندلی ہونے سے بچانے کے لئے آپکی گاڑی کا A-Cچالو حالت میں ہو۔ گاڑی چلاتے وقت سڑک کے کنارے پر پوری توجہ رکھیں۔ سڑک کے درمیان میں گاڑی ہر گز نہ چلائیں۔ دور سے آتی گاڑی کی لائٹس دیکھ کر اُس کے سامنے سے ہٹ جانا چاہیے۔ ہمیشہ اپنی سمت میں رہ کر سفر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں نا گہانی حادثات سے محفوظ رکھے آمین ۔