پاکستان میں موٹرسپورٹس کا فروغ اور ٹی جےایم
Blog Single

 

پاکستان میں موٹرسپورٹس کا فروغ اور ٹی جےایم

رپورٹ؛ٹیم ہارس پاور

گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں آف روڈموٹر سپورٹس کا فروغ قابل ستائش ہےجس کا اندازہ  پاکستان میں تواتراور تسلسل سے منعقد ہونے والی ریلیز سے لگایا جاسکتا ہے۔ماضی کی طرح یہ ریلیز ریسرز کمیونٹی اب خود منعقدنہیں کرواتی ہے، بلکہ حکومتی سربراہی اور افواجِ پاکستان کی نگرانی میں ایسے بےشمار ایونٹ ملک بھر میں منعقد کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ہرصوبے میں ریلی منعقد کی رہی ہے ، چاہےسکردو کے سرد صحراہوں یا ایبٹ آباد کے سرسبز پہاڑ، تھل کا صحرا ہو یا پھر چولستان کا ریگستان ، بلوچستان کا وسیع میدانی علاقے ہوں یا پہاڑی ٹریک۔ الغرض  ملکی سطح پر ریلیز کروائی جا رہی ہیں۔

ان ریلیز کے بڑھتے ہوئے تسلسل میں  ریسرز کو جن مسائل کا سامنا تھا وہ پاکستان میں آف روڈ کے سامان کا میسر نہ ہونا تھا جس کےلئے ٹی جے ایم  کمپنی کا پاکستان میں اپنی برانچ  کا افتتاح کرنا خوش آئند ہے ۔

آسڑیلوی کمپنی "ٹی جےایم"ریس میں آنے والےنئے ڈرائیورزکےلئے بھی ایک بنیادی معلومات کے حاصل کرنے کا بھی ایک پلیٹ فارم ہے ۔ جہاں سے نہ صرف سستے داموں آسانی سےایک جگہ سےسامان خریداجاسکےگا بلکہ  مزیدلوگ جوریس کا  شوق رکھنےکےباوجودسامان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنا شوق پورانہیں کرپاتے تھے ان کےلئے آسانی ہوگی اوراس سے مزید بہتری ہوگی ۔ جتنی آسانی سے اور جتنا اچھا سامان ملےگا اتنا ہی اچھی ریلیز کو فروغ ملےگااورمقابلہ دیکھنےکوملےگا ۔ اتنی اچھی گاڑیاں بھی چلیں گی۔پُر خطر راستوں پرریلیز کا ہونا اور اس کےلیےحفاظتی اقدام بھی ضروری ہوجاتے ہیں، سیفٹی کا سامان اور آف روڈ کےلئے اسیسریز باآسانی دستیاب ہو گی ۔

پاکستان میں پہلی بار مشہور و معروف ریسرز جناب سرفراز دھانجی اور نعمان سر انجام کی باہمی شراکت سے کراچی میں سرفراز دھانجی کے سامز آٹوز (Sams Autos) نامی شوروم جو کہ شاہدرہ فیصل نزد عوامی مرکز پر واقع ہے میں باقاعدہ طور پر متعارف کرایا گیا۔ 23 اپریل بروز سوموار شام 6 بجے اِس کی باقاعدہ اوپننگ سرمنی (Opening Ceremony) کی گئی جِس میں صفِ اول کے تمام ریسرز نے شرکت کی اور اوپننگ رِبن جناب صاحبزادہ سُلطان اور میر نادر مگسی صاحب سے کٹوایا گیا۔

ٹی جے ایم نارتھ امریکہ اور آسٹریلیا میں فور وہیل ڈرائیو (Four Wheel Drive) کی ایسیسریز (Accessories) کے حوالے سے ایک بہت بڑا نام ہے۔ جو کہ روڈ سسپینشن (Road Suspension) اور ریس کار بارز (Race Car Bars) کے حوالے سے پوری دُنیا میں مشہور ہے جو ریس گاڑیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

شرکاء نے کمپنی کا پاکستان میں قیام کو خیر مقدم کیا۔جہاں یہ ڈرائیورز کےلئے،کمیونٹی کےلئے اورآف روڈ ڈرائیورز کےلئے،ریسرزکا خوش آئند ہے۔ ایک سروس انڈسٹری کو ترویج   دینا اور پاکستان میں آنا ایک مثبت عمل ہے۔

اافتتاحی تقریب کے موقع پر"رفتارکےسُلطان" صاحبزادہ سُلطان محمد علی نے ٹی جے ایم TJM کو پاکستان  میں نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ آف روڈ موٹرسپورٹس اور اِس میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی موڈیفیکیشن (Modification) کو درپیش مسائل کےحل کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اَپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

اِس پر مسرت موقع پر جناب میر نادرعلی  خاں مگسی صاحب نے اپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ، TJM آف روڑ موٹرسپورٹس کی پروموشن کے لئے ایک اَہم قدم ہے۔

جام کمال خان صاحب نے ٹی جے ایم کی پاکستان میں آمدکومثبت تبدیلی قرار دیا،جبکہ جناب رونی پٹیل صاحب نے کہا کہ ٹی جے ایم سے ریس میں شامل سٹاک Stock گاڑیوں کو تومدد مِلے گی لیکن یہ پریپئرڈ گاڑیوں کے لئے ناکافی سہولیات رکھتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نوجوان ریسرنعمان سر انجام نے کہا کہ آنے والے دِنوں میں کے پی کے میں TJM کے تعاون سے ایک خوبصورت آف روڑ ریس ہونے جا رہی ہے۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ