اداریہ
Blog Single

ایڈیٹوریل:

موٹرسپورٹس کی ٹیکنالوجی میں ترقی

ٹیکنالوجی کے اِس دور میں جہاں ہر چیز تیزی سے جِدّت کی طرف جا رہی ہے وہیں اِنسان دُنیا کو جوڑنےاورفاصلےکم کرنے کیلئےایسے نِت نئےطریقے متعارف کروا رہا ہے کہ ذہن دنگ رہ جاتا ہے- اِنسان نے ایسےایسےکمالات کردکھائےکہ حیرانگی ہوتی ہے- جنگلوں اور غاروں کے دور میں جب انسان کو بنیادی ضروریات کاحصول بھی ممکن نظرنہیں آتا تھا اُس وقت اِشاروں اور زبان کا وجود میں آناوقتی ضرورت تھا- جبکہ وقت گزرنے کےساتھ انسانی معاشرہ ترقی کرتاچلاگیا-

تاریخِ انسانی میں اگرجھانکاجائےتوہرچیز"ضرورت ایجادکی ماں ہے" کےتحت بنتی ہوئی نظرآتی ہے- اِسی طرح پہیےکی ایجادکوبھی ایک بہت بڑی ایجادسمجھاجاتاہے- عہد عتیق(زمانہ قدیم)میں انسان  حیوانوں کو اپنے اسفارکےلئے استعمال کرتا تھا۔ اورہروہ چیزجوروڈپرچلنےکی صلاحیت رکھتی تھی چاہےوہ گدھا گاڑی ہو، بیل گاڑی یا تانگہ گھوڑا، پہیےکی ایجادسےاُس میں خاطرخواہ بہتری آئی اور بے شمارفوائدہ حاصل کیےجانےلگے۔ پہیے کی ایجاد کے بعد 1880ء میں انٹرنل کمبسچن combustion انجن کی ایجاد نے انقلاب برپاکردیا- یوں دُنیا کوگھوڑے، اونٹ اورہاتھی سےبالکل مختلف ایک ایسی سواری میسر آئی جو کسی جاندارکی بجائےمعدنی ذریعہ سےچلنےوالی تھی- اسی انجن کی ایجادکےتھوڑےہی عرصہ بعدموٹر ریسنگ ایک پیشہ ورانہ آٹو موبائل ریسنگ کھیل کی شروعات ہوئیں-

ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ دُنیا ’’ہارس سے ہارس پاور‘‘کی طرف چل پڑی- جانوروں کےذریعے کئے جانے والے کام گاڑیوں سے ہونا شروع ہو گئے- جانوروں کی ریسز کے مقابلے اپنی جگہ چلتے رہے لیکن اِسی طرز پر نئی ایجاد (یعنی ہارس پاور/انجن)کی ریس کاآغازہوا- دنیاکاپہلامنظم ریسنگ مقابلہ 1894ء میں فرانس میں منعقدہوا- درحقیقت یہ ایک منظم ریس کم اورریلائبلٹی ٹیسٹ  (Reliability test)زیادہ تھاجوکہ80کلومیٹرکےفاصلہ پرمحیط تھا- اس سفرکا آغازفرانس کےشہرپیرس اوراختتام دوسرے شہر روین میں ہوا- جیتنے والی گاڑی کی رفتاراوسطاً 16 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی-

ایجادات کےمیدان میں ٹیکنالوجی نےتیزرفتارگاڑیاں بنانےمیں بھی کوئی کسرنہ چھوڑی- ایک زمانے میں 16 کلومیٹر فی گھنٹہ سفر کرنےوالی گاڑی آج کے جدید دور میں ہرن سی تیزی، ہوا کا سینہ چیرنے اور ریگستانوں کو سر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو آف اورآن روڈ کومدنظررکھتےہوئے مختلف قسم کے کچے، پتھریلے، کیچڑوالے، نوکیلے اور ریتیلے ٹریکس  کےلئے بنائی گئیں- عہد حاضرمیں گاڑیاں تیزرفتاری میں یوں مقابلے پہ ہیں کہ کوئن سیگ اگیرا، جوفی زمانہ 14.53 سیکنڈ میں صفر سے445 کلومیٹر کی رفتارتک کاریکارڈرکھتی تھی جبکہ ہینسی کمپنی نےدعویٰ کیا ہے کہ وہ 485 کلومیٹرکا ریکارڈ قائم کرنےوالی گاڑی تیار کر رہی ہے-

گاڑیوں کی رفتارمیں تبدیلی کےساتھ اِنکےڈیزائن میں بھی تبدیلی رونماہورہی ہے- مزید صارفین کےسفرکوآسان، تیز ترین ،آرام دہ بنانےکےساتھ مختلف سہولیات  کومدِ نظررکھتےہوئےگاڑیوں کے ماڈل تیارکئے جارہےہیں- گاڑیوں میں جس تیزی سےجدت آرہی ہےوہ آج ہم اپنی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ