سحرانگیزصحرائے تھل،تیسری آف روڈجِیپ رَیلی
Blog Single

سحرانگیزصحرائے تھل،تیسری آف روڈجِیپ رَیلی

رپورٹ:عبدالباسط

ثقافت، تہذیب وتمدن اور روایات ہر علاقے کی مختلف اور دلچسپ ہوتی ہیں- 'صحرائے تھل' ادّب اور ثقافتی اعتبار  سےامیرترین خطہ ہے- جہاں جنم لینے والی شخصیات نے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے- تھل اس حوالے سے بھی خوش بخت ہے کہ یہاں کے باسیوں نے نہ صرف ادب و ثقافت میں نمایاں  کام کیا بلکہ سیاست اور تصوف میں بھی کمالِ عروج حاصل کیا- دُنیا میں جہاں مذہب، سیاست، سیاحت، صحت، تعلیم اور کھیل وغیرہ کے مختلف شعبوں میں جِدّت پیدا ہوئی تو وہیں علاقائی ثقافت اور کھیلوں میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے- ہر علاقے کا مخصوص روایتی کھیل ہوتا ہے کسی میں نیزہ بازی تو کسی میں پہلوانی، جبکہ بعض علاقوں میں کُشتی اور کبڈی جیسے دلچسپ کھیل عوامی تفریح کا سبب بنتے ہیں- جن سے  عوام جوش و جذبے اور ولولے سے محظوظ ہو تی ہے- 'تھل' میں مختلف میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے- جن میں  اونٹوں کے میلے، نیزہ بازی، کبڈی، جِیپ رَیلیز اور دیگر تہوار اِس علاقے کی پہچان تصور کیے جاتے ہیں-

صحرائے تھل محل وقوع:

صحرائے تھل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک صحرا کا نام ہے- جو اپنے تاریخی، سیاسی، سماجی اور ادبی اعتبار سے ایک بہت خوبصورت اورمردم خیز علاقہ ہے- صحرائے تھل کا یہ سلسلہ کوہِ نمک کے جنوب میں دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان سرائیکی دھرتی کے  چھ اضلاع (جھنگ، خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ اور مظفرگڑھ) پر مشتمل مثلث نما خطہ ہے جو کہ ضلع مظفرگڑھ میں ختم ہوتا ہے- اِسکا زیادہ علاقہ ضلع بھکر اور ضلع لیہ کی حدود میں آتا ہے- 'صحرائے تھل' ضلع خوشاب کے صدر مقام جوہرآباد سے ہوتے ہوئے قائدآباد سے نشیب اور پھر ضلع میانوالی میں ہرنولی کے قریب سےاس کا آغاز ہوتا ہے- خوشاب سے میانوالی کو ملانے والی ریلوے لائن کے جنوب کی جانب سارا علاقہ صحرائے تھل ہے-

ایک وقت میں 'تھل' کو "دوآبہ سندھ ساگر" بھی کہا جاتا تھا لیکن اب یہ نام 'تھل' کے اُوپر والے علاقے پوٹھوہار کیلئے استعمال ہوتا ہے- خوشاب سے کندیاں کو ملانے والی ریلوے لائن 'دوآبہ سندھ ساگر' کو 'صحرائےتھل' سے جُدا کرتی ہے- اگر ہم اِس مقام کو 'تھل' کی اِبتدا مان لیں تو صحرائے تھل کی لمبائی 190 میل اور چوڑائی زیادہ سے زیادہ 70 میل بنتی ہے- دریائے جہلم، چناب اور راوی ملکر اِسکی مشرقی سرحد تعمیر کرتے ہیں اور دریائے سندھ اِسکا مغربی کنارہ بنتا ہے- ہزاروں سال پرانی تاریخ کا حامل یہ علاقہ اَب سرسبز ہو رہا ہے مگر افسوس کہ عدم توجیہی کی وجہ سے اِس کی اصل ثقافت روبہ زوال ہے اور اکثر علاقوں سے مٹتی جا رہی ہے-

بودوباش:

تھل کا علاقہ بارانی اور یَک فصلی ہے یہاں زیادہ تر چنے کی فصل کاشت کی جاتی ہے جِس کا سارا دارومدار بارانِ رحمت پر ہوتا ہے- جِس سال بارشیں بروقت ہو جائیں تو فصل خوشحال ہوتی ہے اور دور دور تک سبزے کی چادر بچھی نظر آتی ہے جو کہ دَیکھنے والے کو اپنے سحرمیں جکڑ لیتی ہے- عام حالات میں ہر طرف ریت کے ٹیلے (ٹِبّے) نظر آتے ہیں جبکہ آبادی اور پانی کم ہے- صحرائی پودے اور جانور پائے جاتے ہیں- تاریخی اعتبار سے تھل کے لوگوں کا رہن سہن بہت خوبصورت اور قدیمی ہے- لکھاری صحرائےتھل کی خوبصورتی اور سحر انگیزی کے بارے لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ جَیسے لکھنو کی شامیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں اسی طرح 'تھل' کی رات بھی اِنتہائی پُر سکون اور دلفریب ہوتی ہے-

صحرائے تھل کےکھیل:

پاکستان میں صحرائی علاقے حکومتی توجہ سے محروم اور بہت پسماندہ ہیں- اِن علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان نظر آتا ہے جبکہ کئی علاقے بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں- یہاں کے باشندے کسمپرسی کی زندگی گزاررہےہیں- یہ علاقے زیادہ تر وڈیروں اور جاگیرداروں کی ملکیت میں آتے ہیں ایسے حالات میں چھوٹے کسانوں اور باسیوں کو تفریح کا میسر آنا کسی نعمت سے کم نہیں- تفریح کا سب سے اچھا اور بہترین ذریعہ کھیل ہیں جو ذَہنی، جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا حل تصورکیےجاتے ہیں اور انسانی صحت کے لئےبہت ضروری ہیں- ویسے تو ان علاقوں میں بہت سےکھیل کھیلےجاتےہیں لیکن دورِجدید میں آف روڑ ریسز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے یہاں کی ثقافت اور روایات کو ابھارنےاوردنیاسےمتعارف کروانےمیں اہم کرداراداکیاہے- جیپ ریلی نسبتا ایک جدید کھیل ہے لیکن اس کو قدیم بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں یہ کھیل اونٹوں اور گھوڑوں پر  کھیلا جاتا تھا- جبکہ آج مضبوط، تیز رفتار اور جدید گاڑیوں کو وقت کے گھوڑے تصور کیا جاتا ہے- لوگوں کی دہلیز پر اس طرح کی تفریح فراہم کرنا قابلِ تحسین ہےجو کہ لوگوں کو ایک سَستی اور جدید تفریح فراہم کرنے کے ساتھ دیگر علاقوں سے آئے لوگوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے- جیپ ریلی واحد کھیل ہے جِس کا گراؤنڈ کئی کِلومیٹرز پر مشتمل ہوتا ہے- ایک عام آدمی کِسی بھی جگہ کھڑا ہو کر اِس کھیل سے لطف اندوز ہو سکتا ہے- اِسی طرح کی ایک جیپ ریلی پنجاب کے دو ملحقہ اضلاع (لیہ اور مظفرگڑھ) کے 'تھل' میں منعقد ہوئی جس میں سو کے قریب ڈرائیورز نے شرکت کی-  

تھل جیپ ریلی:

صحرائی علاقے میں ریت کے ٹیلوں پر دوڑتی، موڑکاٹتی، ہوا سے باتیں کرتیں  اور دھول اُڑاتی گاڑیوں کو دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے- صحرائے تھل میں تیسری جیپ ریلی کا آغاز ٹوورازم ڈیویلپمینٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی )اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے16نومبر جبکہ اِختتام 18 نومبر کو ہوا- ریلی مظفرگڑھ کے علاقہ ہیڈ محمد والا کے قریب چھانگا مانگا کے ٹِیلہ ( ٹِبہ ) سے شروع ہوئی جبکہ مڈ پوائنٹ ضلع لیہ کے شہر چوبارہ کے قریب بنایا گیا اور ریلی کا اختتام بھی چھانگا مانگا کے ٹِیلہ پر ہوا- ریس ٹریک 191 کلومیٹر پر مشتمل تھا جِس پر 10چیک پوسٹیں قائم کی گئیں جبکہ خواتین کا ٹریک 100 کلومیٹر تک محدودرکھا گیا- ریلی تین دنوں پر مشتمل تھی؛ 16 نومبر کو کوالیفائنگ راؤنڈ،17 نومبر کو اسٹاک گاڑیوں کے درمیان مقابلہ جبکہ 18 نومبر کو پریپئرڈ گاڑیوں کا مقابلہ ہوا- گاڑیوں کی ساخت اور طاقت کے اعتبار سے بنیادی طور دو گروپس (اسٹاک اور پریپئرڈ) میں تقسیم کیا گیا- اسٹاک کیٹگری میں 46 گاڑیوں نے حصہ لیا جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں جبکہ پریپئرڈ کیٹگری میں 43 گاڑیوں نےشرکت کی- دونوں کیٹگریز کو پاور کے اعتبار سے مزید چار چار حصوں (اے، بی، سی اور ڈی) میں تقسیم کیا گیا -

ریس کے ہر راؤنڈ میں ڈرائیورز نے کمال جوہر دکھائے اور دشوار گزار راستے کو ماہرانہ ڈرائیونگ سے عبور کرتے ہوئے ریس مکمل کی- ریلی میں جہاں نامور ڈرائیورز کی موجودگی لوگوں کے لئے خوشی کا باعث تھی وہیں ریلی کے شرکاء لیجنڈ میر نادر مگسی اور انٹرنیشنل ڈرائیور صاحبزادہ سلطان محمد علی کے درمیان کانٹے دار مقابلے کے بھی منتظر تھے- صاحبزادہ سلطان نے قلیل عرصے میں پاکستان موٹرسپورٹس میں نہ صرف جان ڈال دی بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کے پازیٹیو امیج کو ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا- گزشتہ برس دوسری تھل جیپ ریلی میں صاحبزادہ سلطان نے ریس کے دوران گاڑی کا ٹائر برسٹ ہو جانے کے باوجود تین ٹائروں پر 40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پوزیشن حاصل کی اور نیا ریکارڈقائم کیا-

امسال ریلی کے حتمی نتائج کے مطابق پریپئرڈ ' اے' کیٹگری میں میر نادر مگسی نے مطلوبہ فاصلہ 2 گھنٹے 16 منٹ 51 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، صاحبزادہ سلطان یہ فاصلہ صرف 8 سیکنڈ کے فرق سے 2 گھنٹے 16 منٹ 59 سیکنڈ میں طے کر کے دوسری جبکہ قادر نواز سانگھی نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 22 منٹ 22 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' بی' کیٹگری میں اسد شادی خیل نے مطلوبہ فاصلہ 2 گھنٹے 35 منٹ 55سیکنڈمیں طے کر کے پہلی، نعمان سرانجام نے 2 گھنٹے 36 منٹ 26 سیکنڈ میں طے کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ اویس خاکوانی نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 40 منٹ 52 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' سی' کیٹگری میں حارث خان نے مطلوبہ فاصلہ 2 گھنٹے51 منٹ 58 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، نوراللہ قمر نے 2 گھنٹے53منٹ 10سیکنڈمیں طےکر کےدوسری، جبکہ عبدالرحمان جوئیہ نے مذکورہ فاصلہ 2 گھنٹے57 منٹ 10 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

پریپئرڈ ' ڈی' کیٹگری میں ظفر بلوچ نےمندرجہ بالا مذکورہ  فاصلہ 2 گھنٹے 38 منٹ 7 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی، امین اللہ شادی خیل نے 2 گھنٹے 41 منٹ 35سیکنڈ میں طے کر کے دوسری اورشاہین اقبال نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 51 منٹ 5 سیکنڈ میں طے کر کےتیسری پوزیشن حاصل کی-

اسٹاک ' اے' کیٹگری میں ظفر مگسی پہلےجبکہ ندیم نعیم دوسرے  نمبر پر رہے-

اسٹاک ' بی' کیٹگری کا مقابلہ بڑاہی کانٹے دار رہااورریسرز نے اپنا مطلوبہ فاصلہ چند سیکنڈ کے فرق سے طے کیا جس میں  فخر سلطان پہلے، زرین مگسی دوسرے اور سلطان بہادر عزیز تیسرے نمبر پر رہے-

اسٹاک ' سی' کیٹگری میں راشد علی  پہلے، اسداللہ مروت دوسرے اور سید مبین احمدتیسرے نمبر پر رہے-

اسٹاک ' ڈی' کیٹگری میں بیوراگ مزاری پہلے، رانا عمر کانجو دوسرے اورمہرحسن تیسرے نمبر پر رہے-

 ویمن کیٹگری میں نامور ریسررونی پٹیل کی شریکِ حیات تشنہ پٹیل نے پہلی، سلمیٰ مروت نے دوسری جبکہ جمیلہ آصف نے تیسری پوزیشن حاصل کی-

دریں اثناء ریلی کے اختتام پر فیصل اسٹیڈیم مظفرگڑھ میں جیپ ریلی کے فاتحین کو انعامات اور ٹرافیز دی گئیں- جس میں حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور ضلعی انتطامیہ کے سربراہان نے شرکت کی- اِس ریلی میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی ڈرائیورز نے بھی شرکت کی- سعودی عرب سے راشدالزبیر ریلی میں شرکت کے لئے خاص طور پر تشریف لائے جبکہ دیگر پارلیمنٹیرنز نے بھی بطور ڈرائیور شرکت کی اور اس ایونٹ کو مزید شاندار اور کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا- سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے اور سکیورٹی اداروں کی ان تھک محنت نے اِس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا- نہ صرف انتظامیہ بلکہ مقامی افراد نے بھی مہمانوں کی خاطر مدارت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی- اس طرح کے میلوں اور ریلیز کا انعقاد بلاشبہ مقامی افراد کے روزگار کا باعث بنتا ہے اور انہیں معاشی طور پر بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے- ملکی سطح پر اس طرح کے ایوینٹس پاکستان کے تشخص کو اُبھارنے اور دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں بھی کارگر ثابت ہوتے ہیں- حکومتی سر پرستی کے ساتھ بڑے بڑے سٹیک ہولڈرز کا ایسے ایونٹس کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ڈرائیورز کے لئے بھی حوصلہ مند ثابت ہوتا ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ