فارمولاون چیئمپین 'لیوس ہملٹن' :انٹرویو (سریناویلیمز) ترجمہ وترتیب: مہر عقیل احمد ہملٹن سٹونیج انگلینڈ کا باشندہ ہے اوربچپن ہی سے ریسنگ کا شوقین تھا- اُس نے کارٹ ریسنگ کا آغاز آٹھ سال کی عمر میں کیا- 2007ء میں 22 سال کی عمر میں ہملٹن نے اپنے شاندار فارمولا ون کیرئیر کا آغاز کیا جس میں انہوں نے اس سیزن کی کُل 17 میں سے 4 گرینڈ پری جیتیں اور مجموعی طور پر چیئمپین شپ میں دوسرے نمبر پر رہے-جبکہ اگلے سال انہوں نے موجودہ اپنی تیسری فارمولا ون چیئمپین شپ کی پہلی ریس جیتی اور یہ پہلے کم عمر ترین کامیاب سیاہ فام ڈرائیورٹھہرے- اس ضمن میں انہوں نے کئی کامیابیاں سمیٹیں، مقابلے جیتے اور بہت حد تک نسل پرستی کا بھی سامنا کیا- پچھلی آخری دہائی میں ہملٹن سب سے بہتر F1 ڈرائیور کے طور پر سامنے آئے ہیں لیکن مستقبل میں 32 سال کی عمر میں پہنچ کرریس کےمیدان کوخیرآباد کہہ دینے کےبعدہملٹن ریسنگ سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں- جس میں ڈیزائننگ، چندہ دینااورمیوزک بنانا شامل ہیں- اِن دنوں اگر اِن کی زندگی ریسنگ سے ہٹ کر توجہ حاصل کر رہی ہے تو اسکی وجہ ہملٹن کا اپنے فارمولا ون ریس کے گانوں کے سٹیٹس کو بنانا ہے جبکہ انکی نجی زندگی سے سرخیاں (مونٹ کارلو ہوم ٹاؤن میں دو ملین ڈالر کی گاڑی کریش کرنا اور اپنے گرینڈ پری مقابلوں کی زیادہ ترکمائی تفریحی بحری جہازوں میں یا ماڈلز کے ساتھ ٹائم گزارنے میں صرف کرنا) حیران کر دینے والی باتیں ہیں- سریناویلیمز:ہائے ،لیوس - ہملٹن: ہائے سرینا،میں نے اِنسٹا گرام پر ابھی تمہاری تصویر دیکھی- ویلیمز: میں نے بھی سانٹا سوٹ میں تمہاری تصویر دیکھی (مسکراتےہوئے )-میں جانتی ہوں ایک ہی طرح کا سوال پوچھا جانا کتنا عجیب ہے- لہٰذا میں نے کچھ اور کرنے کی کوشش کی- ایک چیز جس پر میں توجہ مرکوز کرنا چا ہوں گی کہ چیئمپین کس طرح بنا جاتا ہے؟ اِس میں کئی عناصر شامل ہوتے ہیں جن میں ایک اپنے خوف پر قابو پانے کی صلاحیت ہے- میں نے تمہاری ریس دیکھی ہے- کیا تمہیں ڈر یا خوف محسوس ہوتا ہے؟ ہملٹن: میں اپنے کھیل میں ڈر محسوس نہیں کرتا- میں نہیں جانتا کہ خوف کیا ہوتا ہے- جب میں بچہ تھا تو میرے والد کہا کرتے تھے کہ یہ بچہ کریزی ہے یہ کچھ بھی کرنے میں ڈر محسوس نہیں کرتا- جب ہم بوڑھے ہونا شروع ہوتے ہیں توخوف بھی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے- لیکن میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا اور جہاں تک ریسنگ کا تعلق ہے تو یہاں یہ چیز معنی رکھتی ہے کہ کون آگے نکلنا چاہتا ہے- کون مزید قدم اُٹھانے پررضامند ہے- میں ہمیشہ جیتنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیاررہتا ہوں - ویلیمز:ہمارے کھیل بہت مشکل ہیں- کیا آپ محسوس کرتےہیں کہ آپ کوایک بڑا ایتھلیٹ مانا جاتا ہے یا کہ نظر انداز کیا جاتا ہے؟ ہملٹن: میں اپنے کام (ریسنگ)کےلئے مسلسل اپنے وزن پر نظر رکھ رہا ہوں اور اِس سال میں نے بہت سخت ٹریننگ کی ہے خاص طور پر اِس سیزن کے لئے- ویلیمز: خواہش کا اظہارکرتےہوئےمیں آپ کو Sports Illustrated میگزین کے فرنٹ پیج پر دیکھنا چاہتی ہوں- ہملٹن: میں اپنی پوری کوشش کروں گا- ویلیمز: کیا آپ کو یاد ہے کہ آپکو کیسا لگا تھا جب آپ نے پہلی دفعہ ریس جیتی؟ ہملٹن:2007ءمیں کینیڈا کے شہر مونٹریل کی بات ہے- میں پوڈیم سے نیچے جھک کر اپنے والد کی طرف دیکھ رہا تھا اور اُنکے چہرے پرمسکراہٹ کو دیکھ رہا تھا- وہ بہت فخر محسوس کر رہےتھےاورمجھےلگاکہ میں نے اُنکے لئے وہ سب کر دیا جووہ چاہتےتھے- ہاں ایک نوجوان کھلاڑی کے طور پر بہت دباؤتھا- میرے والد چاہتے تھے کہ میں قدرے بہتر زندگی گزاروں- اُنکی شدید خواہش تھی کہ میں کامیاب ہو جاؤں اور میں نے کبھی اُنکی اِس خواہش کو گرنے نہیں دیا- ویلیمز: کیا تمہیں ہر ریس کے دوران یہ لمحات یاد آتے ہیں یا بھول گئے ہو؟ ہملٹن: اَب سفر کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے- ریس کے دوران آنے والی مشکلات کو خودمنظم کرتا ہوں اور گاڑی کی سمت کو درست رکھتا ہوں- یہی میرے لئے اِطمینان کا باعث ہے- ویلیمز: کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ہر دفعہ جیت حاصل کریں گے؟ ہملٹن: میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ لوگ اب یہ چاہتے ہیں کہ میں ہار جاؤں لہٰذا میں خود سے جیتنے کی کوشش کرتا ہوں - بالکل آپ کی طرح ہر کوئی اپنے متعلق جانتا ہے کہ آپ کتنے بہتر ہیں اور انکو بس یہ انتظار ہے کہ آپ کب ہارتے ہو- ویلیمز: جیتنا آپ کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ ہملٹن: یہ بہت عجیب صورت حال ہوتی ہے- آپ ہی محسوس کر رہے ہوتے ہیں کیو نکہ آپ نے ٹریننگ کی ہوتی ہے آپ نے غلطیاں کی ہوتی ہیں- ہارنے سے میری بہت عجیب حالت ہوتی ہے میرے لئے کور کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بہت پریشان ہو جاتا ہوں(ہیجان کی کیفیت )- ایک دفعہ تو چار دِن، میں اپنے ہوٹل سے باہر نہیں نکلا لیکن آپ میں عمر کے ساتھ ساتھ سمجھداری آتی جاتی ہے- اَب احساس ہوتا ہے کہ بس جیتنا ہی سب کچھ نہیں- اِس کا زیادہ تر تعلق میرے کھیل کے سفر سے ہے میری ٹیم میں بہت سے لوگ ہیں جِن پر مجھے نظر رکھنا ہوتی ہے- جیتنا یقیناً ہمارا گول ہوتا ہے- لیکن ہار کر بہت سارے سبق سیکھنے کو مِلتے ہیں اور میں مزید طاقتور ہوتا ہوں- ویلیمز: یہ میرا اَگلا سوال تھا کہ کیاہارنا آپ کو مزید بہتر بناتا ہے؟ ہملٹن: مجھے ہارنے سے نفرت ہے- یہ معنی نہیں رکھتا کہ میں ریس لگا رہا ہوں یا پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس )کھیل رہا ہوں-یا تو تم پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہو یا آخری (مطلب جیت صرف پہلی پوزیشن کا نام ہے ورنہ آپ آخری پر ہو) ویلیمز: آپ کا بھائی آپ کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے- مجھے آپ کے اِس رِشتے سے بہت پیار ہے- آپ کیسے اِس کی دیکھ بھال کرتے ہیں؟ ہملٹن: میں دو بہنوں کے ساتھ بڑا ہوا ہوں- میں ہمیشہ بھائی کا ساتھ چاہتا تھا تو مجھے بھائی مِل گیا- وہ ایک چھوٹا، موٹا، گول گپا، گٹو کی طرح تھا- اسکواعصابی خرابی کی شکایت تھی لیکن مشکلات نے کبھی اسکے حوصلے پست نہیں کیے- اُسے بتایا گیا تھا کہ وہ چل نہیں سکتا، کار نہیں دوڑا سکتا اور اُس نے وہ سب چیزیں کردکھائیں- اُس نے اَن ہونی کو ہونی کر دکھایا- میں اس کی طرف دیکھتا ہوں تو بہت متاثر ہوتا ہوں- یقیناّ کوئی ایسا کام نہیں جو آپ نہیں کر سکتے- میرے بھائی نے یہ ثابت کر دِکھایا- وہ ہمیں یاد دہانی کرواتا تھا کہ اِردگرد گھومنا، ریکٹ گھمانا، فٹ بال کھیلنا یا کار چلانا کتنا آسان ہے- جب ہم فٹ بال کھیلتے تو وہ گِر جایا کرتا تھا- لیکن وہ پھر سے کھڑا ہو جاتا تھا وہ کبھی نہیں اُکتایا- اَب وہ بڑا ہو گیا ہےاورریسنگ کرتا ہےاوربہت سے لوگوں کو متاثرکرنےکا ذریعہ ہے- اوریہی اُس کی زندگی کامقصد بن چکاہےکہ اُن لوگوں کوحوصلہ دیاجائےجو اِس طرح کی صورتحال سے گزرتے ہیں کہ "میں نہیں کر سکتا" کا لفظ اُنکی ڈکشنری میں نہیں ہونا چاہیے- ویلیمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپکا خدا پر یقین آپکے کھیل اور جاب میں کام آتا ہے؟ ہملٹن: میں اِس امر سے متعلق اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک کیتھولک ہوں اور میرا خُدا کے ساتھ ایک رِشتہ ہے- فارمولا ون تک پہنچنے تک ایسا نہیں تھا- Marianne Williamson کی کہاوت میں نے سینے پہ چسپاں کر رکھی ہےکہ " ہم خُدا کی عظمت کا پرچار کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ہم میں سے چند ایک نہیں بلکہ سب کے سب اور جب ہم اپنے اندر کی روشنی کو جلاتے ہیں تو پھر ہم دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے ہیں جیسا کہ ہم خود کے خوف سے آزاد ہوچُکےہوتےہیں-" ویلیمز: شکریہ- (واپس موضوع پر آتے ہوئے) کیا آپ نے ریسنگ کے دوران رنگ و نسل کی رُکاوٹ کو عبور کر لیا؟ ہملٹن: جی ہاں یقیناّ- ویلیمز: جب میں آپ کودیکھتی ہوں تو میں یہ تصور نہیں کرتی ہوں کہ آپ ایک سیاہ فام کار ریس ڈرائیور ہیں- میں صرف فارمولاون چیئمپین لیوس ہملٹن کو دیکھ رہی ہوتی ہوں یا لیوس ہملٹن ایک میوزیشن- آپ اپنا ایلبم کب ریلیز کر رہےہیں؟آپ یقیناّ اچھا گاتے ہیں- ہملٹن: میں نہیں جانتاکہ ایسا ہو- میری میوزک ٹیم اگلے پیر کو آسٹریلیا میں مجھے مل رہی ہے- اگلا پورا ہفتہ دورانِ ریسنگ، میں میوزک پرکام کروں گا- میں اِس کام کابہت شوقین ہوں اورمیں سمجھتاہوں کہ مجھےاب کچھ ریلیزکرنےپر توجہ دینی چاہیے- ویلیمز: میں نہیں جانتی کہ لوگ اس بات کو سمجھیں گےیا نہیں-پس میں کہہ دیتی ہوں کہ لیوس ایک زبردست سنگر ہے- ایک عظیم لکھاری ہے - ہملٹن: ایسا کہنے کا شکریہ- یہ بہت عجیب لمحات ہوتے ہیں جب آپ کسی کےلئےگاتےہیں- لہٰذا یہ بہت اچھا ہے کہ آپ اس امر کےحمایتی ہیں- ویلیمز: آپ کا ایک اور مشغلہ، فیشن بھی ہے- آپ تمام فیشن شوز میں مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں اور اِن فیشن شوز کی تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہیں- ہملٹن: جب میں اپنی بچپن کی تصاویر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ میں نے کیا پہن رکھا ہے- میں یقین کرتا ہوں کہ آپ کا بھی یہی خیال ہو گا- پھر میں نے اسکو ایک مشن بنا لیا کہ فیشن کو مکمل طور پر سمجھا جانا چاہیے جو کہ بہت اچھا لگتا ہے- جیساکہ مجھے تخلیقی کام بہت پسند ہے لہٰذا میں اُن فیشن ڈیزائنرز کو ملتا ہوں اور یوں ردعمل کرتا ہوں کہ آپ ایسے آئیڈیاز کہاں سے لاتے ہیں اور ایسا کیسے سوچ لیتے ہیں- میں بھی ایسا بننا چاہتا ہوں کیونکہ ریسنگ سے ریٹائر ہونے میں چھ سال رہ گئے ہیں اور اِسکے بعد میں کوئی منیجریا تماشائی نہیں بننا چاہتا- ویلیمز: کیا آپ خود کو کپڑوں کی لائن میں دیکھتے ہیں یا گاڑیوں کی ؟ ہملٹن: میں لوگوں کےساتھ منسلک ہونا پسندکرتا ہوں لہٰذا میری اپنی لائن کا انتخاب مشکل ہے- مگر مختلف فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا سوچ سکتا ہوں- آج کل میں ایک نیا موٹر سائیکل ڈیزائن کر رہا ہوں- جوپچھلے سال کے ایک محدود ایڈیشن کا تسلسل ہے- میں اسےمزید واضح کرنا چاہتا ہوں اور شاید یہ کام ہو جو میں اپنے کھیل کے بعد کروں- ویلیمز: اچھا میری یہ نصیحت ہو گی کہ آپ اس پر کام کریں کیونکہ آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ ایک کام شروع کرتے ہی بند کر دیں- آپ ابھی بہت متحرک ہو لہذا مجھےیقین ہےکہ آپ کی بہت سی چیز مسلسل جاری ہونگی۔ یقینا آپ اپنے کیرئر پر توجہ دیں لیکن دوسری چیزوں میں بھی خود کو شامل رکھو جیسا کہ اِنویسٹمینٹ وغیرہ کرنا- ویلیمز:اچھا پھر - اب پسند پرمشتمل دوسرا مرحلہ شروع کرتےہیں: آپ کی پسندبلی یا کُتا؟ ہملٹن: کُتا ویلیمز: اِنسٹا گرام یا سنیپ چیٹ؟ ہملٹن: اِنسٹا گرام ویلیمز:واقعی! آپ تو ہمیشہ سنیپ چاٹ پر دیکھائی دیتے ہو-برف یا جزیرہ؟ ہملٹن: جزیرہ- ویلیمز: اوہ! مجھے لگا آپ برف کہیں گے- گوشت یا مچھلی؟ ہملٹن: مچھلی- ویلیمز: آپ مجھے حیران کر رہے ہیں؟ ہملٹن: میں نے دو سال سے گوشت نہیں کھایا- ویلیمز: واہ! میں نے بھی نہیں کھایا(مسکراتے ہوئے)- وِلن یا ہیرو؟ ہملٹن: ہیرو- ویلیمز: واقعی! آخری آپ کا ہیلووین کوسٹوم(Halloween Costume) کون سا تھا؟ ہملٹن: سچ پوچھیں میں نے وِلن کا کردار اداکیا- وِلن ہمیشہ بہتر دکھائی دیتے ہیں- انکے اچھے آلات اور اچھی ٹیم ہوتی ہے- ویلیمز: کیک یا چپس؟ ہملٹن: چپس- بشکریہ: www.interviewmagazine.com/culture/lewis-hamilton تصاویر کریڈٹ: www.lewishamilton.com
فارمولاون چیئمپین 'لیوس ہملٹن' :انٹرویو

متعلقہ پوسٹ
