موٹر سپورٹس شائقین کی یقینی حفاظت
Blog Single

موٹر سپورٹس شائقین کی یقینی حفاظت

 

ہر خطہ اپنی ثقافت، رسم ورواج اور سماج کے مطابق مختلف قومی و بین الاقومی کھیلوں کا انعقاد کرواتا ہے کیونکہ کھیل انسان کی جسمانی و ذہنی صحت و تندرستی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں- کھیلوں سے ممالک کی آبادی میں یکجہتی، خوشحالی اور امن کی فضا پیدا ہوتی ہے اور باہم میل جول (Socialization) کو فروغ ملتا ہے- کسی بھی کھیل میں جہاں کھلاڑی اہمیت رکھتا ہے وہیں تماشائی (شائقین ) بھی اپنی جگہ یقینی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں- کھیل تفریح و تسکین کا اہم ذریعہ تصور کیے جاتے ہیں- لوگ کھیلوں سے محظوظ ہونے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے میلوں سفر طے کرکے میدانوں، ریگستانوں، دریاؤوں، پہاڑوں اور سمندروں کا رُخ کرتے ہیں جس سے کثیر آمدنی حاصل ہوتی ہے اور سیاحت کو بھی فروغ ملتا ہے- کچھ کھیل خطرناک ہوتے ہیں جو کھلاڑی اور شائقین دونوں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں- ایسا ہی ایک زبردست، دلچسپ اور خطروں سے پرُکھیل آف روڈ ریسنگ ہے جہاں ایک طرف ڈرائیور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر گاڑی دوڑاتا ہے تو دوسری طرف ٹریک پر موجود شائقین اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اس کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں- کب فراٹے بھرتی گاڑی بے قابو ہوکر شائقین کوروند ڈالے کچھ پتا نہیں ہوتا- آف روڈ ریسنگ کی تاریخ ایسےکئی واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں ریس کے دوران گاڑی کے اُلٹ جانے یا بے قابو ہونے کی صورت میں موقع پر موجود شائقین نہ صرف زخمی ہوئے بلکہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے-

 

پاکستان میں آف روڈ ریسنگ (Off-Road Racing) ایک اُبھرتا ہوا کھیل ہے جو مختلف علاقوں میں کھیلا جاتا ہے- جس میں تیز رفتار ڈرائیور زندگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے گاڑیاں دوڑا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں - اگر دیکھا جائے تو دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں موٹر سپورٹس کا نظام زیادہ ایڈوانس نہیں ہے جس وجہ سے کئی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے- اسلئے دیگر کھیلوں کی طرح موٹر سپورٹس میں بھی پیش رفت کی ضرورت ہے جس کیلئے حکومت ِ پاکستان اپنا کردار ادا کرسکتی ہے- حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ریسنگ کمیونیٹیز اور موٹر سپورٹس کلبز کے ساتھ تعاون کرے جبکہ بہتر اور جدید انتظامی سہولیات کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ دیگر کھیلوں کی طرح شائقین کی موٹر سپورٹس کی طرف بھی رغبت اور دلچسپی مزید بڑھے-

 پاکستان میں اگر ریسنگ ٹریکس پر موجود شائقین کو میسر سہولیات اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں غیر یقینی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے- اس ضمن میں سب سے اہم ذمہ داری ریس منعقد کرنے والے اداروں اور ریسنگ کمیونیٹیز کی ہے کہ وہ شائقین کے لئے ہر طرح کے ممکنہ حفاظتی اقدامات کریں-

 شائقین کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے مندرجہ ذیل چند اقدامات کیے جاسکتے ہیں:

 

         ریس ٹریک کے اطراف میں مضبوط حفاظتی باڑ لگائی جائے-

         رسک فیکٹر ز کا جائزہ لے کر رہائشی علاقوں سے گزرنے والے ٹریکس کو کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی فراہم کی جائے تا کہ ریس کے دوران کوئی غیرمتوقع واقعہ پیش نہ آ سکے-

         ریس میں آنے والے شائقین کو ٹریک سے متعلق بھر پور آگاہی فراہم کی جائے جس کیلئے آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے جاسکتے ہیں-اس کے علاوہ ٹریک پر جگہ جگہ حفاظتی قوانین اور ہدایات کے بورڈزبنصب کیے جانے چاہییں-

         شائقین کےلئے ٹریک پر چیک پوائنٹس بنانے چاہئیں جہاں ریسکیو اور بنیادی طبی امداد اور علاج کی سہولیات موجود ہوں -

         دوران ِ ریس ٹریک کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے اور عام ٹریفک کو متبادل روٹ فراہم کیا جائے-

         سوشل میڈیا ٹیمز (ویڈیو اور تصاویر بنانے والوں) کیلئے مخصوص جگہیں متعین ہوں جن کا ڈرائیورز کو بھی علم ہو تا کہ ڈرائیونگ کے دوران اُن کا خیال رکھا جا سکے-

         اسی طرح شائقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریک سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں اور ٹریک کے گرد غیر ضروری نقل و حرکت سے پر ہیز کریں-

اِن حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوئے شائقین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ڈرائیورز کے لئے آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں تا کہ وہ بے خوف ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ