ڈاکارریلی چیمپئن :پیٹر ہینسل
عبدالباسط
دنیا کے مشہور آف روڈ ریسر اسٹیفن پیٹر ہینسل(Stephane Peterhansel) کا تعلق فرانس سے ہے- اسٹیفن دنیا کی سب سے بڑی آف روڈ ریس ڈاکار ریلی کے چیمپئن ہیں- اسکیٹ بورڈ) (Skateboard سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے چیمپئن نے اب تک ڈاکار ریلی کے 14 ٹائٹل اپنے نام کیے، جن میں سے 6 موٹر بائیک جبکہ 8 مرتبہ کار ریلیز کے مقابلے جیت چکے ہیں- فرانسیسی ریسر کے شوق کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بچپن میں گھنٹوں اسکیٹ بورڈ پر پریکٹس کرتے تھے-صرف 12 سال کی عمر میں باقاعدہ کیرئیر کا آغاز کیا اور ایک سال کے مختصر عرصہ میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ 13 سال کی عمر میں فرانس کے اسکیٹ بورڈ چیمپئن بن گئے۔
اسٹیفن پیٹر ہینسل نے اسکیٹ بورڈ سے موٹر بائیک میں اپنا لوہا منوانے کی ٹھانی تو ان کا یہ سفر ابتداء ہی میں دشوار ہو گیا- انہوں نے جب موٹر بائیک ریسنگ کا آغاز کیا تو اس وقت وہ صرف 16 سال کے تھے- اسٹیفن کو ریسنگ کا اس قدر شوق تھا کہ 17 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا اور موٹر بائیک ریسنگ میں اپنا سکہ منوانے کے لئے محنت شروع کر دی- اسٹیفن کے والد پلمبر کا کام کرتے تھے، سکول چھوڑنے پر والد نے اسٹیفن کو ایک سال کا وقت دیا اور کہا کہ اگر وہ کامیاب نہ ہوئے تو انہیں اپنے والد کے کاروبار(پلمبری )کے میں ہاتھ بٹانا پڑے گا- اسٹیفن نے اپنے والد کی یہ شرط قبول کرتے ہوئے بھرپور محنت جاری رکھی اور بل آخر ایک سال کے بعد 18 سال کی عمر میں فرانس موٹر بائیک مقابلے جیت کر چیمپئن شپ اپنے نام کر لی-
1980ء میں اسٹیفن پیٹر مکمل طور پر موٹر بائیک ریسنگ سے منسلک ہو گئے- ان کی مہارت کو دیکھتے ہوئے مشہور موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی یاماہا موٹر فرانس کے سی ای او نے انہیں ڈاکار ریلی کی موٹر بائیک ریسنگ کیٹگری میں شامل ہونے کا کہا- تب 1988 میں اسٹیفن پیٹر نے یاماہا (YZE750) موٹر بائیک پر پہلی بار شاندار طریقے سے ڈاکار ریلی میں حصہ لیا، اسٹیفن پیٹر اسی عرصے میں ورلڈ چیمپئن بھی بنےـ یہاں سے انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی آف روڈ ڈاکار ریلی میں قدم جمانا شروع کیے اور 1991 میں پہلی بار ڈاکار ریلی کے چیمپئن بن گئے- اس کے بعد انہوں نے 1992، 1993، 1995، 1996، 1997 اور 1998 کی ڈاکار ریلیز میں فتح حاصل کر کے 6 ٹائٹل اپنے نام کیے- 1999ء میں انہوں نے اپنے کار ریسنگ کیریئر کا آغازکرتے ہوئے ڈاکار ریلی کی کار ریسنگ کیٹیگری میں پہلی مرتبہ حصہ لیا-
اب اسٹیفن پیٹر کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہو گیا- وہ اس سے قبل ڈاکار ریلی میں موٹر بائیک ریسنگ میں 6 مرتبہ فتح یاب ہو کر کافی تجربہ حاصل کر چکے تھے- مسلسل فتوحات سے پیٹر یہ جان گئے کہ مشکل ٹریک اور رکاوٹوں کی موجودگی میں گاڑی کی رفتار اور اعصاب کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہر رکاوٹ کو کس طرح حیران کن اور درستگی کے ساتھ عبور کرنا ہے- پیٹر ہینسل کے اندر ریسنگ کے حوالے سے ایک نظم و ضبط تھا اوراسی بنا پر وہ اپنے حریفوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہےـ اس تجربے کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کار ریسنگ کے میدان میں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا- سال 2014ء میں اسٹیفن پیٹر کو ڈاکار ریلی 2015 کے لئے ٹیم میں شامل کیا گیا جہاں مشہور ڈرائیور سیریل ڈیسپرس اور کارلوس سینسز بھی ان کے ہمراہ تھے-ان تینوں لیجنڈری ڈرائیورز کا گروپ تشکیل پایا جو کہ ہر طرح سے اپنی ایک الگ پہچان اور الگ حیثیت رکھتے تھے- اس ریس میں پیٹر ہینسل نے 11ویں پوزیشن حاصل کی- اس کے بعد 2015ء میں ہی چائنہ سلک روڈ ریلی میں پیٹر اور انکے کو ڈرائیور نے 30 منٹ میں ریس مکمل کرتے ہوئے ایونٹ جیت کر اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی- اس کامیابی سے ٹیم میں اعتماد کی فضأ قائم ہوئی جس کے بعد ان کی ٹیم نے جنوبی امریکہ جانے کی تیاری شروع کی- وہ 1990ء کے بعد پہلے فرانسیسی ریسر تھے جنہوں نے بارہ ٹائٹل اپنے نام کیے ہیں-
اسٹیفن پیٹر ہینسل نے اپنی چھٹی ڈاکار ریلی کی ونگ لائن کو عبور کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے کہ" دباؤ بہت زیادہ تھا، لیکن ہم گزرتے گئے، میری یہ جیت باقیوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ گنی جائے گی اور یقینی طور پر ٹاپ 3 میں شامل ہو گی-" اسکے بعد پیٹر ہینسل 2017ء میں ٹیم پیگوئٹ(Peugeot) میں واپس آئے اور ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ساتھی ریسرزکے ساتھ ریس لگائی اور فتح حاصل کی -متعدد فتوحات اور مہارت دکھانے کے بعد انہوں نے 2019ء میں منی کار ریسنگ میں قدم جمائے- واضح رہے کہ اس سے قبل انہوں نے جرمن ایکس رائیڈ ٹیم کے ساتھ مل کر 2012ء اور 2013ء میں فتح حاصل کرنے میں ٹیم کی مدد کی تھی- 2020ء میں ایک اور ریس کامیابی سے مکمل کی اور سعودی عرب میں ہونے والے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی-
2021ء سے پیٹر ہینسل منی مشین کے ساتھ ہی منسلک ہیں- 2021ء کی ڈاکار ریلی سعودیہ عرب میں منعقد ہوئیتو عرب کے صحرا میں ہونے والی اس ریس میں پیٹر ہینسل نے اسٹیج ون سے لے کر آخر تک اپنی ٹیم کی قیادت کی -یہ ریس 7646 کلو میٹر (4751 میل) پر مشتمل تھی جس کا ٹریک جدہ سے شروع ہو کر ملک کے بیشتر حصوں سے ہوتا ہوا دوبارہ جدہ میں ہی اختتام پذیر ہوا- یہ ریس جیتنے کے بعد پیٹر ہینسل نے بتایا کہ "اس سال کی یہ ریس واقعی بہت مشکل تھی اور جب آپ اتنے عرصہ تک ریسنگ میں اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہوں تو دباؤ اور بھی زیادہ ہوتا ہے- ہمارے پاس ہارنے کے لئے سب کچھ ہے، لیکن جیتنے کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ ہے ہمت، حوصلہ اور ایڈورڈ بولینگر کا میرے ساتھ ہونا"۔ اس فتح کے بعد پیٹر ہینسل نے اپنے 30 سالہ کیرئیر کی یہ 14ویں ڈاکار ریلی اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی-